اشاعرہ اور خدا شناسی

0 6

اشاعرہ نے خدا شناسی کے مسائل کے سلسلے میں اسلامی مذاہب کے مقابلے میں خاص قسم کی آراء پیش کی ہیں۔

وہ ابتداء میں وجود خدا کے اثبات کے سلسلے میں صرف نقلی براہین (کتاب و حدیث) سے استفادہ کرتے تھے لیکن آخرکار “عدلیہ” (خدا کو عادل جاننے والوں) کی طرح کی طرح تینوں ـ یعنی نقی، عقلی اور قلبی ـ روشوں سے استفادہ کرنے لگے۔

ذات خدا کی شناخت کے سلسلے میں امام الحرمین جوینی اور ابو حامد غزالی سمیت بعض افراد اللہ کی شناخت کے عدم امکان کے قائل ہوئے تاہم اکثریت کا قول و اعتقاد ہے کہ ذات کی شناخت (معرفت ذات) ایک ممکنہ امر ہے۔

وجہ (چہرے)، ید (ہاتھ) اور عرش پر متمکن ہونے وغیرہ جیسی صفات کے سلسلے میں ان کا عقیدہ ہے کہ خدا مستوی القامہ ہے اور عین (آنکھ)، وجہ (چہرے)، ید (ہاتھ) وغیرہ کا مالک ہے لیکن ان صفات کی کیفیت ہمارے لئے نامعلوم ہے اور ہمیں قبول کرنا پڑے گا کہ یہ صفات “بلا کیف” [= بےکیفیت] ہیں اور ماننا پڑے گا کہ خدا کی صفات بنیادی طور پر انسان کی صفات سے مختلف ہیں۔

کلام الہی (قرآن) کے حدوث[1] کلام الہی (قرآن) کے حدوث و قِدَم کے بارے میں معتزلہ کلام خدا کے حدوث کے قائل ہوئے ہیں؛ حشویہ اور حنابلہ نے انتہاپسندانہ رویہ اختیار کرکے کلام خدا کی اصوات (صداؤں) اور حروف ہی نہیں بلکہ اس کی جلد کے قدیم ہونے کے نظریئے پر اصرار کیا؛ اشعری نےکلام اللہ کو کلام لفظی اور کلام نفسی میں تقسیم کیا اور کلام لفظی کو حادث اور کلام نفسی کو قدیم قرار دیا۔

اللہ کی ذات کا مشاہدہ کرنے کے سلسلے میں معتزلہ نے رؤیت کی نفی کی اور اشاعرہ ابتداء میں “ان ہی دو آنکھوں کے ذریعے رؤیت” کے قائل ہوئے، بعد میں “رؤیت بغیر کیفیت کے”، (عرفانی کیفیات کے ساتھ) کے مرحلے پر پہنچے اور آخرکار “عرفانی کشف تامّ” کے قائل ہوئے۔

ذات خدا اور اس کی صفات سے ربط و تعلق کے سلسلے میں معتزلہ کا کہنا ہے کہ اللہ کی ذات اس کی حقیقی صفات کی نیابت کرتی ہے اور امامیہ فلاسفہ اور متکلمین کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات عینی اور یگانہ ہیں (اور ان میں کوئی فاصلہ نہیں ہے اور صفات ذات سے اور ذات صفات سے جدا نہیں ہے) جبکہ اشاعرہ ابتداء ہی سے اللہ کی صفات حقیقی اور اس کی ذات کے درمیان دوگانگی اور صفات کے ذات پر عارض اور اضافہ ہونے کے نظریئے کے قائل اور مدافع ہیں؛ تاہم متاخر اشاعرہ اور ماتریدیہ کا عقیدہ ہے کہ صفات خدا نہ تو عین ذات ہیں اور نہ ہی غیر خدا!۔ (یعنی یہ ہے صفات ذات کا حصہ بھی نہیں ہیں اور اس سے جدا بھی نہیں ہیں)۔

بحث خلقت میں اشاعرہ کہتے ہیں کہ:

  1. یہ عالمی وقت اور زمان کے لحاظ سے حادث ہے سوائے ذات اللہ کے؛ (یعنی خدا کے سوا دوسرے موجودات وقت کے لحاظ سے حادث ہیں)۔
  2. وہ خلقت میں وسائط کی نفی کرتے ہیں اور کہتے ہیں خداوند متعال نے اپنی لامتناہی قوت سے مادی اور مجرد مخلوقات کو براہ راست خلق کرتا ہے۔

اشاعرہ عدلیہ (یعنی شیعہ) اور معتزلہ کے برعکس قائل ہیں کہ اللہ کے افعال عقلی معیاروں کے ذریعے قابل تجزیہ نہیں ہیں اور ان کی کوئی غرض اور غایت نہیں ہے۔ اللہ کے افعال اس “باید” (ہونا چاہئے) اور “نباید” (نہیں ہونا چاہئے) کی حدود سے بالاتر ہیں جو صرف حیات انسان کی حدود میں معنی رکھتی ہیں؛ نہ ہی خداوند متعال پر “لطف” کرنا واجب ہے نہ ہی صالح و اصلح (قابل اور قابل تر) کی رعایت کرنا، اس پر لازم ہے؛ نہ وفائے وعد و وعید اس کے لئے ضروری ہے اور نہ ہی “عدم تکلیف مالایطاق” (کسی پر اس کی طاقت سے بوجھ نہ ڈالنے) کو ملحوظ رکھنا۔ خدا جو چاہے انجام دیتا ہے اور جو کچھ انجام دیتا ہے وہی خیر و صواب ہے۔

عدلیہ کا عقیدہ ہے کہ خداوند متعال نے انسانی عقل کو کچھ اس طرح سے بنایا ہے کہ وہ اچھے اور برے کا تجزیہ کرسکتی ہے اور اس کے بارے میں آگہی بخشی کا کام کرسکتی ہے۔ اسی بنا پر وہ ان امور کو عقل کے ادراک کی حدود کے اندر قرار دیتے ہیں جو اشاعرہ کے نزدیک عقل کے ادراک کی حدود سے خارج ہیں۔

فہرست

  • 1 خداشناسی کی تین روشیں
    • 1.1 وجود خدا کے اثبات کے براہین
  • 2 ذات خداوند کی معرفت کا امکان
    • 2.1 اللہ کے وجود و ماہیت کے درمیان رابطہ
  • 3 انسانوں کی مانند صفات
  • 4 کلام خدا، حادث یا قدیم؟
  • 5 کیا ذات خداوند کا دیدار ممکن ہے؟
  • 6 ذات اور صفات کا تعلق
    • 6.1 افعال
  • 7 متعلقہ مآخذ
  • 8 بیرونی ربط
  • 9 حوالہ جات
  • 10 مآخذ
  • 11 بیرونی ربط

خداشناسی کی تین روشیں

نقلی روش:

اس روش میں وحی خدا کی شناخت اور اس کے وجود کے اثبات کا واحد ذریعہ ہے اور خداشناسی کے اصول اور قوانین کو کلام اللہ اور کلام نبوی سے اخذ کیا جاتا ہے۔ ظاہریہ، حنابلہ اور من حیث المجموع اصحاب حدیث (اہل حدیث) اور سنت کو بنیاد سمجھنے والے اسی روش پر زور دیتے ہیں۔

عقلی روش

اس روش میں عقل معرفت حق تعالی کا وسیلہ ہے اور یہ روش درحقیقت وہی منطقی اور استدلالی روش ہے چنانچہ اس روش کو “نظری منطق” میں زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اشعری متکلمین نے ـ عقل کی طرف پلٹ آنے کے بعد ـ عقلی روش پر تاکید کی اور عقلی استدلال سے شریعت کے موافق و مطابق استفادہ کیا۔

قلبی روش

قلبی روش میں قلب خالص اور انسان کی فطرت سلیم معرفت رب کی طرف رواں دواں ہے۔ قلبی روش کی دو ذیلی قسمیں ہیں: 1۔ صوفیانہ (عارفانہ) روش اور 2۔ فطرت و بداہت کی روشوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ صوفیانہ روش کے مطابق دل زہد و ترک دنیا یا عشق برتنے کے بعد خلوص و صفا پاتا ہے اور کشف حق پر نائل ہوتا ہے۔ مکتب اشعری کے دو اکابرین _ ابو حامد غزالی اور فخر رازی _ صوفیانہ روش کی طرف مائل ہوئے۔

غزالی کے تصوف کی طرف مائل ہونے کی حکایت ہم ان کی تالیفات ـ منجملہ “احیاء علوم الدین”، “کیمیائے سعادت اور بالخصوص ان کے رسالے المنقذ من الضلال ـ میں تلاش کرسکتے ہیں۔ مؤخر الذکر رسالے میں ان کا کہنا ہے کہ “تصوف تک رسائی درحقیقت گمراہی سے چھٹکارا ہے” اور فخر رازی اپنے بعض آثار میں ـ عقلی براہین سے اکتانے کے بعد ـ صوفیانہ کشف و شہود کو زیر بحث لاتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ فلسفی تفکر توحید تک نہیں پہنچاتا اور عقل جس قدر کہ غیر حق کی معرفت میں مصروف ہوتی ہے اتنی ہی معرف حق میں مگن ہونے سے محروم رہتی ہے۔[2] فطرت و بداہت کی روش کے مطابق انسان کی فطرت سلیم اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اس عالم کا ایک عالم و طاقتور اور حکیم خالق ہے۔ اشعری مکتب کے اکابرین میں سے شہرستانی اسی طرز فکر کی طرف رجحان ظاہر کرتے ہیں۔[3] اور فخر رازی خدا شناسی کے براہین و دلائل کے ساتھ ساتھ اس موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بعض مفکرین معرفت پروردگار کو ایک بدیہی معرفت و شناخت سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے انسان جب بلا اور مصیبت میں مبتلا رہتا ہے، محسوس کرتا ہے کہ ایک طاقتور وجود ہے جو اس کو بلاؤں اور مصائب سے چھڑا سکتا ہے۔[4]

وجود خدا کے اثبات کے براہین

فخر رازی نے ـ جو اشعری کلام کے فلسفی مکتب کے بانی سمجھے جاتے ہیں ـ ایک تخلیقی روش کے ذریعے وجود خدا کے فلسفی اور کلامی براہین کی زمرہ بندی کرکے ان کے لئے نام منتخب کئے ہیں۔ اس زمرہ بندی کا ثمرہ دو فلسفی براہین ـ یعنی “برہان امکانیتِ اجسام [=ذوات]” اور “برہان امکانیت اَعراض [= صفات اشعری]” ـ اور دو کلامی براہین ـ یعنی “برہان حدوث اجسام” اور “برہان حدوث اعراض” ـ ہیں۔[5] فخر رازی کے آثار و تالیفات پر مبنی کلامی براہین یوں بیان کئے گئے ہیں:

  1. برہان حدوث ذوات (= اجسام): اس برہان کے مطابق، یہ “عالم” اس لحاظ سے کہ “نہ تھا اور پھر موجود ہوا”، حادث ہے؛ [یعنی نہ تھا اور وجود میں آیا ہے] اور ہر حادث کے لئے چونکہ ایک مُحْدِث” [وجود میں لانے والے] کی ضرورت ہے اس عالم کو بھی ایک “مُحْدِث” کی ضرورت ہوگی۔ فخر رازی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حضرت ابراہیم خلیل(ع) نے اپنے استدلال “… لا أُحِبُّ الآفِلِينَ“‌(ترجمہ: میں ڈوبنے والوں کو دوست نہیں رکھتا)؛[6] میں اسی روش سے استفادہ کیا ہے اور چاند اور سورج کے غروب ہونے سے ـ جو ان کے حادث ہونے کی دلیل ہے ـ وجود خداوندی کے اثبات کے لئے مدد لی ہے۔
  2. برہان امکانیت صفات (= اَعراض): اس برہان کے مطابق ـ جس کو دلیل آفاق و انفس اور برہان اِحکام و اِتقان بھی کہا گیا ہے ـ نطفے کے علَقے [جمے ہوئے خون] اور مُضغے [گوشت کے لوتھڑے] میں بدلنے کے مراحل خود بخود انجام نہیں پاتے اور ایک بدل دینے والے اور مؤثر کے محتاج ہیں (دلیل نفس)۔ نیز اسی برہان کی بنیاد پر موسموں کے اختلاف، ہوا کی تبدیلی، رعد و برق (گرج چمک)، بارش اور بادل کی موجودگی اور نباتات و حیوانات کے احوال و کیفیات کی تبدیلی، ایک برتر علت (سبب) اور ایک بے مثل مؤثر کی موجودگی کی عکاسی کرتی ہے (دلیل آفاق [7]۔[8] آفاق و انفس کی دلیل یا صفات کے حدوث کے برہان کو اشعری کی بعض تالیفات[9] نیز اشاعرہ کی بعض کتب میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔[10]
مزید  حسن بن علی حذاء عمانی

ذات خداوند کی معرفت کا امکان

بعض اشاعرہ کہتے ہیں کہ خدا کی ذات قابل شناخت ہے اور بعض دوسرے اس امر کو ناممکن سمجھتے ہیں:

  1. منفی نظریہ: اس نظریئے کے مطابق، ذات خداوندی اس دنیا میں پہچانی جاتی ہے نہ ہی آنے والی دنیا میں؛ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اولاً انسان کے شناخت والے اوزار و وسائل محدود ہیں جبکہ خداوند متعال کی ذات لامحدود و لامتناہی ہے؛ ثانیاً خداوند متعال کی شناخت کے دوران بعض صفات سلبیہ اور اضافی صفات سامنے آتی اور جان لی جاتی ہیں جبکہ ذات حق صفات سلبیہ ہے نہ صفات اضافیہ۔ اشاعرہ کے بزرگوں میں امام الحرمین جوینی اور غزالی نے اس نظریئے کی طرفداری کی ہے جیسا کہ معتزلیوں میں ضرار بن عمرو اور فلاسفہ میں فارابی اور ابن سینا اس نظریئے کے پیروکار ہیں۔[11]۔[12]۔[13]۔[14]
  2. مثبت نظریہ: اس نظریئے کے مطابق ذات خدا کی شناخت و معرفت اس دنیا میں بھی اور آنے والی دنیا میں قابل شناخت و معرفت ہے: زیادہ تر اشاعرہ اور اکثر معتزلی اور ماتریدی ذات خدا کو اس دنیا میں قابل شناخت سمجھتے ہیں کیونکہ ان تصور کے مطابق خداوند متعال کا وجود عینِ ماہیت (یا عینِ ذات) ہے اور وجود خدا کی شناخت حاصل کرکے اس کی ذات کی معرفت بھی ممکن ہوتی اور انجام پاتی ہے۔ ان کے خیال کے مطابق، اگر وجود خدا کو پہچان لیا جائے اور اس کی ذات کی معرفت انجام نہ پائے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ ایک شیئے ایک ہی لحاظ سے پہچانی بھی جائے اور ناشناختہ بھی ہو۔[15]۔[16] ادھر اشعری متکلم الباقلانی، کا قول ہے کہ ذات خدا کی معرفت اس دنیا میں نہیں بلکہ اگلی دنیا (آخرت) میں ممکن ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ مؤمنین حق کا دیدار (اللہ کی ملاقات) کرسکتے ہیں! [17]۔۔[18] فخرالدین رازی اپنی کتاب لوامع البینات[19] میں اسی دنیا میں اللہ کی ذات کی معرفت کے امکان کی جانبداری کرتے ہیں اور بعض دیگر آثار میں کہتے ہیں کہ خدا کی ذات کی معرفت صرف آخرت میں ممکن ہے۔[20]۔[21]۔[22]۔[23]۔[24]

اللہ کے وجود و ماہیت کے درمیان رابطہ

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ “کیا وجود کا مفہوم اور ماہیت کا مفہوم ایک ہی ہے یا وجود کا مفہوم ماہیت کے مفہوم سے مغایرت رکھتا ہے؟[25] کیا یہ عمومی مسئلہ اور یہ کلی سوال اللہ کے وجود اور اس کی ماہیت کا بھی احاطہ کرتا ہے یا نہیں:

  1. نظریۂ وحدت: ابوالحسن اشعری کا عقیدہ ہے کہ وجود کا مفہوم اور ماہیت کا مفہوم واجب الوجود (خدا) اور ممکن الوجود (مخلوقات) میں ایک ہی ہے اور ان میں وحدت و یگانگت قائم ہے۔ حالانکہ فلاسفہ نیز معتزلی متکلمین کی رائے کے مطابق یہ یگانگی اور وحدت صرف واجب الوجود کا احاطہ کرتی ہے اور ممکن الوجود کا احاطہ نہیں کرتی۔[26]۔[27]
  2. نظریۂ دوگانگی: زیادہ تر اشعری متکلمین واجب اور ممکن کے مفہوم وجود اور مفہوم ماہیت کی دوگانگی کے قائل ہیں۔ ان کے خیال میں ذہن یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ ممکن الوجود کو بھی اور واجب الوجود کا بھی دو مختلف معانی میں ـ یعنی وجود کے معنی میں اور ماہیت کے معنی میں ـ تجزيہ کرے۔ بعض فلاسفہ کا خیال ہے کہ یہ دوگانگی اور یہ تجزیہ ممکنات تک محدود ہے اور واجب الوجود اس میں شامل نہیں ہے اور واجب مجرد الوجود ہے اور بالفاظ دیگر اس کی کوئی ماہیت نہیں ہے اور بالفاظ دیگر اس کا وجود عینِ ماہیت ہے۔[28]۔[29]۔[30]۔[31]۔[32]

انسانوں کی مانند صفات

بعض آیات میں خداوند متعال کی توصیف ایسی صفات سے ہوئی ہے جن سے عام طور پر انسان کی توصیف ہوتی ہے۔ یہ صفات ـ جو تجسیم اور تشبیہ کے شبہے کا سبب بنتی ہیں ـ وہ صفات ہیں جن میں خداوند متعال کو صاحب عین (آنکھوں والا)[33] صاحب ید (ہاتھوں والا)،[34] اور صاحب وجہ (چہرے والا)، قرار دیا گیا ہے یا[35] ذات باری کو عرش پر استوا (بیٹھنے)؛[36] کی نسبت دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان صفات و خصوصیات سے مراد کیا ہے؟ یہ اہم ترین سوال تھا جس نے مسلم علماء کے اذہان کو مشغول و مصروف کیا اور آخر کار اس کے لئے دو جوابات پائے گئے اور کئی آراء معرض وجود میں آئیں: ظاہری رائے، باطنی رائے اور اشاعرہ کی رائے۔

آراء:

  1. ظاہری (= تشبیہی) رائے: اس رائے کے مطابق خداوند متعال کے لئے آنکھوں، ہاتھوں، چہرے کے مالک ہونے اور بیٹھنے کی صفات در حقیقت اس کے ظاہری اور انسانی معنی میں آئی ہیں۔ صفاتیہ، مُجَسِّمہ اور مُشَبِّہہ اس نظریئے کے حامی ہیں۔
  1. باطنی (=تنزیہی) رائے اس رائے کے مطابق ذات باری تعالی ظاہری اور انسانی صفات سے پاک و منزہ اور برتر و بالاتر ہے چنانچہ اس قسم کی صفات کو تاویل کرنا چاہئے۔ اس رائے کے حامی معتزلی اور فلاسفہ ہیں۔ اس رائے کے حامیوں کے مطابق آنکھ اللہ کی عنایت ہے، ہاتھ اس کی قدرت و طاقت ہے، کھلا ہاتھ (ید مبسوطہ) سخا و بخشش و رحمت ہے؛ وجہ (چہرہ) ذات اور وجود ہے اور استوا (بیٹھنا) تملک، احاطہ اور تسلط و استیلاء ہے۔[37]۔[38]۔[39]
  2. اشاعرہ کی رائے: اشعری افراط اور تفریط سے دور کی رائے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہوئے ابتداء میں مذکورہ بالا دو نظریات و آراء پر تنقید کرتے ہیں اور اور پھر ایک اعتدال پسندانہ رائے پیش کرنے کی کوشش کے نتیجے میں اس بات کو قبول کرلیتے ہیں کہ اولاً ذات خداوندی استوا، عین، وجہ، اور اس طرح کی صفات کی مالک ہے؛ ثانیاً ان صفات کی کیفیت ہمارے لئے واضح و روشن نہیں ہے چنانچہ ہمیں ان صفات کو “بلا کیف (بغیر کیفیت کے) قبول کرنا پڑے گا؛ ثالثاً ہمیں اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ اللہ کی صفات بنیادی طور پر انسان کی صفات سے مختلف ہیں۔ اس بنیادی اختلاف و تفاوت کو “نظریۂ مخالفت” کا نام دیا گیا ہے۔[40] یہ نظریہ “نظریۂ تعطیل صفات” کے عنوان سے مشہور ہے لیکن یہ تفسیر و تشریح کچھ زيادہ دائمی اور پائیدار نہ تھی۔

مکتب اشعری کی حرکت ظاہر سے باطن اور عقلیت کی نفی سے عقلیت پسندی کی طرف تھی۔ وہ خداوند متعال کو استوا، عین، وجہ اور ید جیسی صفات سے متصف کرنے کے حوالے سے تاویل کے قائل ہوئے اور “نقل” (= حدیث اور سنت) کا دفاع کرتے ہوئے عقلیت پسندوں میں بدل گئے اور ان کی عقلیت پسندی فلاسفہ اور معتزلیوں سے کچھ کم نہ تھی۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں استوا، عین، وجہ، ید کی تاویل میں فلسفیوں اور معتزلیوں کی تعریف کی طرف لوٹے اور استوا، عین، ید اور وجہ کو تسلط، عنایت، قدرت اور ذات سے تعبیر کیا اس وضاحت کے ساتھ کہ فخر رازی نے کہا: “جو چیز عقل کے نزدیک ناقابل قبول ہو اس کی تاویل ہونی چاہئے”۔[41] یہی تاویل کلام اور بالخصوص رؤیت کے سلسلے میں بھی بروئے کار لائی گئی۔

کلام خدا، حادث یا قدیم؟

معتزلی تعلیمات کے غلبے کے دور میں دو مسئلے ـ “1) کلام خدا اور 2) اللہ تعالی کی رؤیت (دیدار)” ـ کلامی اور فلسفی حوالے سے بھی اور عملی (سیاسی ـ سماجی) لحاظ سے بھی نمایاں انداز میں زیر بحث تھے۔ اسی بنا پر یہ دو مسائل دیگر کلامی مسائل پر غلبہ پاچکے تھے، وہ یوں کہ “حدوث کلام” اور “نفیِ رؤیت”، معتزلہ کا بیان اور اس پر یقین و اعتقاد، معتزلی مذہب کی طرف رجحان کی علامت سمجھا جاتا تھا:

  1. کلام:

معتزلیوں کا عقیدہ تھا کہ کلام خدا حادث ہے[42] ابن کلّاب پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کریم کو غیر مخلوق” (=قدیم) قرار دیا،[43]۔[44] احمد بن حنبل نے تصریح کردی کہ کلام خدا اس کا علم ازلی سے ہے اور قدیم ہے،[45] حشویہ اور حنابلہ نے انتہا پسندانہ انداز سے کلام خدا کی اصوات و حروف حتی اس کی جلد کی قدامت پر اصرار کیا[46]۔[47]۔[48]۔[49] اور اشعری نے درمیانی راستہ تلاش کرنے کے لئے ابن کلاب کی طرح قرآن کو غیر مخلوق قرار دیا اور اس کے حدوث کے نظریئے پر تنقید کرنے اور اس کی نفی کرنے کے لئے بہتیری کوششیں کیں۔[50]۔[51] اور کلام کو “حادث لفظی کلام” اور “قدیم نفسی کلام” میں تقسیم کرنے کے نظریئے کے ظہور کے لئے ماحول فراہم کیا؛ “لفظی کلام” جو دالّ (دلالت کرنے والا) شمار کیا جائے اور “نفسی کلام” جو “مدلول” سمجھا جائے، اشعری متکلمین نے اس رائے کی توصیف و تفصیل و تشریح میں سعی وافر انجام دیا۔[52]۔[53]۔[54]۔[55]۔۔[56] آخر کار فخر رازی نے کلام نفسی اور کلام لفظی کا مسئلہ پیش کرکے اس کی تشریح کی اور اپنی تالیفات میں معتزلی نظریئے اور اشاعرہ|اشعری نظریئے کے درمیان مصالحت کرادی اور اعلان کیا: یہ جو معتزلی کہتے ہیں کہ کلام اللہ حادث ہے اس سے ان کی مراد لفظ کلام ہے اور یہ جو اشعری کہتے ہیں کہ کلام خدا قدیم ہے اس سے ان کی مراد کلام نفسی ہے۔[57]۔[58]۔[59]

کیا ذات خداوند کا دیدار ممکن ہے؟

  1. رؤیت : معتزلہ نے کہا تھا کہ ذات خدا کی رؤیت و ملاقات ممکن نہیں ہے۔ مکتب اشاعرہ ابتداء میں رؤیت (اور دیدار) کا قائل ہوا، بعد ازاں فاصلات رؤیت کا قائل ہوا اور الفاظ کی متابعت کرکے آیات کی ظاہری تاویل کردی اور اس سلسلے میں اس نے تین مراحل طے کئے:
    1. ظاہری تفسیر: اشعری سے غزال تک جارہی رہنے والے اس مرحلے میں کہا جاتا تھا کہ خداوند متعال کو سر کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے لئے حضرت رسول اکرم(ص) سے منقولہ اس حدیث کو بطور گواہ لایا جاتا تھا کہ “مؤمنین اپنی آنکھوں سے آخرت میں خداوند متعال کو دیکھتے ہیں کامل و مکمل، بالکل اسی طرح، جس طرح کہ چودھویں کے چاند کو آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے”۔[60] اسفرائنی،[61] الباقلانی[62] اور غزالی کے استاد امام الحرمین جوینی[63] بھی واضح و آشکار طور پر آخرت میں آنکھوں سے خدا کے دیدار کے قائل ہوئے ہیں۔
    2. بلاکیف رؤیت: اشعریوں کے بڑے اور نامور متکلم غزالی نے تاویل کی طرف قدم بڑھایا اور “استوا، عین، ید اور وجہ” کے بارے میں اشعری کے پیش کردہ “نظریۂ بلاکیف” کو رؤیت سے جوڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالی کی بلاکیف (اور بےکیفیت) ملاقات و دیدار و رؤیت کا نظریہ پیش کرتے ہیں جو عرفانی کیفیات میں امکان پذیر ہے۔[64] اور یوں رؤیت کو “کشف تامّ” میں تاویل کرنے کا امکان فراہم کرتے ہیں۔
    3. رؤیت، کشف تام کے ذریعے: آخر کار فخر رازی عقلیت پسندانہ روش سے تاویل کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں اور تصریح کرتے ہیں کہ “رؤیت اگر کشف تامّ کے معنی میں ہو تو خداوند متعال آخرت میں قابل رؤیت ہے”۔ وہ کہتے ہیں” “خداوند متعال کا دیدار وہ ہے کہ اللہ کی ذات مخصوصہ کے انکشاف اور جلا و ظہور کی کیفیت معرض وجود میں آئے، اس طرح سے کہ اس کیفیت کی نسبت اس ذات مخصوصہ سے مرئیات جیسے ہو مبصرات کی نسبت۔ (یعنی ذات اللہ دکھائی دینے والی اشیاء کی مانند ہو دیکھنے والی چیزوں کے سامنے)۔[65]۔[66]
مزید  8 محرم

ذات اور صفات کا تعلق

معتزلہ کا کہنا ہے کہ ذات صفات حقیقیہ کی نائب ہے اور شیعہ فلاسفہ و متکلمین عینیت یا ذات و صفات کی یگانگی اور وحدت پر یقین رکھتے ہیں
معتزله از نیابت ذات از صفات حقیقی سخن می‌گویند و فلاسفه و متکلمان امامیه به عینیت یا یگانگی ذات و صفات باور دارند، [67]۔[68]۔[69]۔[70] لیکن اشاعرہ ذات و صفات حقیقی کی دوگانگی کے قائل ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ صفات ذات پر عارض ہیں اور صفات کا ذات میں اضافہ ہوا ہے۔ اشاعرہ کا نظریہ ـ جس کو سید حیدر آملی نے بھی بیان کیا ہے[71] اجمال و تفصیل کے دو مراحل میں میں بیان کیا جاسکتا ہے:

  1. مرحلۂ اجمال : اس مرحلے میں کہا جاتا ہے کہ خدا کی صفات اس کی ذات پر زائد ہیں؛ اور وہ یوں کہ “خداوند متعال عالم ہے علم کو واسطے سے، قادر ہے قدرت کے واسطے سے اور حیّ ہے حیات کے واسطے سے؛ اور اگر ہم نہ مانیں کہ خدا ـ مثلا ـ عالم ہے علم کے واسطے سے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم مانتے ہیں کہ خدا عالم ہے لیکن صاحب علم نہیں ہے!؛ بالکل اسی طرح کہ ہم مان لیں کہ ایک جسم سیاہ ہے لیکن سیاہ رنگ کا حامل نہیں ہے۔[72]۔[73]۔[74] اس مرحلے کو، مرحلۂ اجمال کہا گیا ہے کیونکہ واضح نہیں ہے کہ کیا زیادت سے مراد، واقع میں زیادت ہے یا عقل میں، یا ذہن یا خارج میں؟
  2. مرحله تفصیل : اس مرحلے میں اشاعرہ ذہن اور خارج میں یعنی مفہوم اور مصداق میں فرق کے قائل ہوجاتے ہیں اور اسی فرق و تفاوت کی بنیاد پر مسئلے کو منطقی انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس فرق اور جدائی کی بنیاد پر اشاعرہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ذہنی نگاہ میں اور مفہومی تجزیئے میں، ذات اور صفات دو الگ الگ چیزیں ہیں اور اصطلاحاً صفات زائد ہیں ذات پر یا صفات غیرِ ذات ہیں لیکن عالم خارج اور واقع (مصداق) میں ہمیں ایک حقیقت کا سامنا ہے جو ذات خداوندی ہے۔ اس نگاہ میں صفات غیر ذات نہیں ہیں اور اس طرح اشاعرہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ “صفات خدا نہ تو عین ذات ہیں اور نہ ہی اس کی ذات سے الگ ہیں؛ بالفاظ دیگر صفات ایک لحاظ سے عین ذات ہیں اور ایک لحاظ سے غیر ذات ہیں۔

سید حیدر آملی مختلف قسم کے نظریات اور نگاہوں کو پیش کرتے ہیں اور وضاحت کرتے ہیں کہ متاخر اشاعرہ اور ماتریدیہ کا عقیدہ ہے کہ صفات خدا نہ تو عین خدا ہیں اور نہ ہی غیر خدا[75] اور کہتے ہیں کہ عالم خارج (اور مصداق) میں خدا کی ذات پر صفات زائد کا اثبات، اشاعرہ کے جُہال کا گمان ہے۔[76]

افعال

خدا کے افعال کے ضمن میں دو مسئلوں کا جائزہ لیتے ہیں: مسئلۂ خلقت اور مطلق آزادی۔

الف – خلقت: خلق یا خلقت کے معنی ایجاد کرنے اور ہستی یا وجود دینے کے ہیں۔ جو کچھ اللہ کی طرف سے ایجاد ہوتا ہے اس کو اصطلاح میں “ما سویٰ اللہ” یا “عالَم” یا “جہان” (یا کائنات) کا نام دیا جاتا ہے۔ فلاسفہ مجرد موجودات یعنی عقول کی خلقت (یعنی ابداع)، افلاک کی خلقت (یعنی تکوین) اور مادی اشیاء کی خلقت (یعنی اِحداث) پر بحث کرتے ہیں۔ وہ عقول اور افلاک کو زمانے کے لحاظ سے قدیم سمجھتے ہیں اور انہیں مادی مخلوقات ـ یعنی زمانی اور وقتی موجودات ـ کی خلقت کا واسطہ سمجھتے ہیں اور انہیں وسائط کا عنوان دیتے ہیں۔[77] اور ان کی رائے ہے کہ خلقت کا سبب “تعقل” ہے۔[78]

اشاعرہ اولا جہان (ما سویٰ اللہ) کے “زمانی حدوث” ہے اور جہان و کائنات کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

  1. مجرد یا روحانی موجودات، یعنی وہ موجودات جو زمانے (وقت) میں واقع ہیں لیکن مادے میں نہیں ہیں۔
  2. مادی یا جسمانی موجودات، یعنی وہ موجودات جو زمانے (وقت) میں بھی ہیں اور مادے میں بھی ہیں اور چونکہ غالبا انسان کی حقیقت کو جسم سمجھتے ہیں انسان کو بھی مادی موجودات کی حدود میں قرار دیتے ہیں۔

ثانیاً، وہ وسائط کی نفی کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ خداوند متعال اپنی لامحدود قوت و طاقت کے ذریعے خود براہ راست مادی اور مجرد موجودات کو خلق کرتا ہے۔[79]۔[80]

ثالثاً، خلقت لفظ “‌کُنْ” (ہوجا، یا موجود ہوجا) کے ساتھ ہی انجام پاتی ہے۔ اور اس طرح موجودات
عدم (نیستی) سے وجود (ہستی) میں آجاتے ہیں اور اصطلاح “خلقت عدم سے” انجام پاتی ہے۔ متکلمین کی تشریح کے مطابق “خدا کا امر بےشک ایجاد و خلقت ہی ہے”۔ یہ معانی قرآن کی پانچ آیتوں میں “‌کُنْ فَیَکُوْنُ” کے ہمراہ آئے ہیں۔[81]۔[82]۔[83]۔[84]۔[85]۔۔[86]

رابعاً، اس امر پر تاکید کے حوالے سے کہ یہ عالم وقت کے لحاظ سے حادث ہے اور صرف خدا زمان اور وقت کے لحاظ سے قدیم ہے، عقلی اور نقلی دلائل و براہین پیش کرچکے ہیں اور ان کا مشہور ترین و معروف ترین عقلی برہان “حرکت و سکون” کا برہان ہے۔ اس برہان کے مطابق حرکت اور سکون دو حادث موجودات ہیں اور دو اعراض ہیں جو جسم سے وابستہ ہیں اور جسم چونکہ حادث موجودات کا محل و مقام ہے لہذا خود بھی حادث ہے۔ نقلی لحاظ سے اشاعرہ کا اس حدیث سے استناد ان کے دیگر نقلی براہین و دلائل سے زیادہ مشہور ہے کہ “کان الله ولم یکن معه شیءٌ” (خدا تھا اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی)۔ [87]۔[88]۔[89]۔[90]۔[91] اور یوں، اشاعرہ کی رائے کے مطابق، عالم اور انسان ـ خدا کی لامحدود طاقت اور ارادے سے حکم و لفظ “‌کُنْ” کے ذریعے، زمانے (وقت) میں، بغیر کسی واسطے کے، معرض وجود میں آتے ہیں۔

ب – خدا اور مطلق آزادی: کیا کہا جاسکتا ہے کہ کوئی چیز یا کوئی فعل خدا پر واجب ہے؟ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ کوئی چیز خدا کے لئے جائز یا ناجائز ہے؟ کیا خدا کے افعال عقلی معیاروں کے مطابق اور غرض و غایت کے حامل ہیں؟

معتزلہ ان سوالات کا جواب مثبت (ہاں میں) دیتے ہیں اور قائل ہیں کہ بعض افعال خدا پر واجب ہیں اور وضاحت کرتے ہیں کہ “لطف”، “اصلح (صالح تر و قابل تر) کی رعایت کرنا”، “اچھوں کو انعام اور بروں کو سزا دینا” اور عدم تکلیف ما لا یُطاق (یعنی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہ ڈالنا) خدا پر واجب ہے۔[92]۔[93]۔[94]۔[95] معتزلی تاکید کرتے ہیں کہ خدا کے افعال کو عقلی معیاروں پر استوار ہونا چاہئے اور ان کے لئے غرض و غایت کا ہونا بھی ضرورت ہے کیونکہ کوئی بھی فعل غرض و غایت کے بغیر بےمقصد ہوگا۔[96]

اشاعرہ معتزلیوں کے نظریئے پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “وہ اپنی عقل کو خداوند متعال پر حاکم قرار دیتے ہیں اور خدا پر اپنا حکم نافذ کرتے ہیں۔[97] وہ نتیجہ لیتے ہیں کہ یہ نظریات اور خداوند متعال کی مطلق آزادی اور لامحدود طاقت کے منافی ہیں اور اللہ کے افعال پر وجوب کا اطلاق اس کے لئے کی آزادی اور اختیار کے لئے محدودیت کے قائل ہونے کے مترادف ہے۔ چنانچہ عقلی طور پر کوئی بھی فعل خداوند متعال پر واجب نہیں ہے۔[98]

مزید  نیابت خاصہ

اس بنیاد پر اشاعرہ دو نتائج اخذ کرتے ہیں:

  1. خدا کے افعال نہ تو عقلی معیاروں کی روشنی میں قابل تحلیل و تجزیہ ہیں اور نہ ہی ان کے لئے کوئی غرض و غایت ہے؛ اور یہ اس لئے ہے کہ:
    الف: غرض و غایت والا (بامقصد) فعل ایسے فاعل کا فعل ہوتا ہے جو اس کو انجام دے کر اپنی کمیوں اور کمزوریوں کا ازالہ کرتا ہے جبکہ ذات حق کمال مطلق ہے چنانچہ نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے کرداروں کا بامقصد و غرض ہونا، مہمل اور بےمعنی ہے۔
    اللہ کے افعال کے غایت مند اور بامقصد ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ کوئی غایت و مقصد اس کی ذات سے باہر، اس کے افعال کو سمت اور رخ دےگا اور امر مسلم ہے کہ یہ امر اللہ تعالی کی لامتناہی آزادی سے ناسازگار و ناہمآہنگ ہے۔
  2. اللہ کے افعال اس “باید (=ہونا چاہئے) اور “نباید” (=نہیں ہونا چاہئے) سے بالاتر اور ماوراء ہیں جن کے معنی انسانی حیات کے قلمرو میں قابل تصور کئے جاسکتے ہیں۔ اور یہ اس لئے ہے کہ “باید (=ہونا چاہئے) اور “نباید” (=نہیں ہونا چاہئے) اصولی طور پر اللہ کی لامحدود آزادی اور اختیار کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ اس رو سے اشاعرہ نتیجہ لیتے ہیں کہ:
    اولاً خدا کے کرداروں پر وجوب کا اطلاق نہیں ہوسکتا؛ نہ تو “لطف” خدا پر واجب ہے نہ ہی صلاح اور اصلح کی رعایت، نہ وفائے وعد و وعید اور نہ ہی عدم تکلیف ما لا یطاق اس پر واجب ہے۔
    ثانیاً: خدا جو چاہے انجام دیتا ہے اور جو بھی انجام دے وہ اچھا اور نیک اور درست اور عین صواب اور خیرِ محض ہے۔
    [[ابن رشد[ ان خیالات و آراء پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: اشاعرہ کے نزدیک انسان کے فعل کوعدل اور جور میں تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن خداوند متعال ان معانی اور ان حدود و تقسیمات سے بالاتر اور ماوراء ہیں اور اس کے تمام تر افعال عدل کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔[99]

متعلقہ مآخذ

  • اشعریہ
  • اشاعرہ اور عقلیت پسندی

بیرونی ربط

  • مذہب اشعری کے راہنما

حوالہ جات

  1. حدوث = (Occurrence): فلسفہ میں حدوث “شیئے کے ہونے” کے معنی میں آیات ہے “نہ ہونے” کے بعد۔ اور عرف و لغت میں ہر گاہ ایک شیئے کی گذری ہوئی عمر دوسری چیز کی عمر سے زیادہ ہو، پہلی چيز دوسری چیز کی نسبت “قدیم” (پرانی) اور دوسری چیز حادث (یعنی تازہ اور جدید) ہے۔ اصطلاح میں ہر موجود جس کا وجود دوسرے موجود سے متاخر (مسبوق بہ غیر) ہو یا اس کا وجود اس کے عدم کے بعد واقع ہوا ہے اس کو حادث کہتے ہیں اس کے مقابلے میں “قدیم” ہے جس کا وجود دوسری چیز سے متاخر (اور مسبوق بہ غیر) نہ ہو۔ حدوث و قِدَم وجود کی ذاتی خصوصیات میں سے ہیں جن کا جائزہ فلسفہ میں لیا جاتا ہے(ترجمہ: طباطبائى، محمدحسین، نهایة الحكمه، قم 1362ہجری شمسی، ص230)۔
  2. فخرالدین، لوامع…، 104، التفسیر…، 4/199۔
  3. نهایة…، 124- 125۔
  4. المباحث…، 2/451۔
  5. التفسیر، 17/9، «‌لباب… »، 254۔
  6. سورہ انعام آیت 76۔
  7. فخرالدین، المباحث، 2/450-451، کتاب الاربعین، 90-91، البراهین، 1/69-75، التفسیر، 17/10۔
  8. نصیرالدین، 242-245۔
  9. اللمع، 6
  10. شهرستانی، الملل…، 1/94۔
  11. ابن سینا، 488-491۔
  12. ابن حزم، 2/359۔
  13. نصیرالدین، 314- 316۔
  14. تفتازانی، 2/124-125۔
  15. نصیرالدین، 314۔
  16. تفتازانی، 2/124-125۔
  17. الباقلانی، التمهید، ص 263-264۔
  18. تفتازانی، 2/124-125۔
  19. ص 99-100
  20. فخر رازی، المباحث، 2/495-497۔
  21. فخر رازی، التفسیر، 1/112-114۔
  22. فخر رازی، کتاب الاربعین، 218- 219۔
  23. فخر رازی، البراهین، 1/200- 206۔
  24. طوسی، نصیرالدین،تلخیص المحصل، 315۔
  25. وجود کی حقیقت کیا ہے؟ ماہیت کیا ہے؟۔
  26. جامی، الدرة الفاخرة، 2۔
  27. سبزواری،‌منظومة حکمت، 21۔
  28. جامی، ص2۔
  29. سبزواری، ص21۔
  30. ابن سینا، 491؛ شهرستانی، نهایة، 213۔
  31. فخرالدین، کتاب الاربعین، 100، البراهین، 1/39-40، 83، المباحث، 1/18- 25، 34، التفسیر، 12/173۔
  32. نصیرالدین، 97۔
  33. سورہ قمر آیت 14۔
  34. سورہ ص آیت75۔
  35. سورہ رحمن آیت27۔
  36. سورہ طہ آیت5۔
  37. زمخشری، الکشاف، ج3 ص52-53، ج4 ص105، 434- 435، 446۔
  38. بغدادی، الفرق بین الفرق، 334۔
  39. جرجانی، شرح المواقف، 8/44- 45؛ جامی، 194۔
  40. اشعری، الابانة، ص9، مقالات…، ص213- 218۔
  41. التفسیر، 17/12-14، 22/5 -7۔
  42. قاضی عبدالجبار، شرح الاصول الخمسة، 528۔
  43. اشعری، مقالات، 517، 586 -587۔
  44. علامة حلی، انوار الملکوت، 98۔
  45. ابن حزم، 3/11۔
  46. شهرستانی، الملل، 1/96۔
  47. بغدادی، 337۔
  48. باقلانی، 251۔
  49. غزالی، احیاء…، 1/91، 109
  50. اشعری، الابانة، 10، 20-21۔
  51. اشعری، اللمع، 15-23۔
  52. شهرستانی، نهایة، 268- 269، 279-280، 320-324۔
  53. ابن خلدون، 2/946۔
  54. ذهبی، 11/511۔
  55. نصیرالدین، 289۔
  56. علامة حلی، وہی ماخذ، 265-266۔
  57. التفسیر، 1/31۔
  58. کتاب الاربعین، 176-177۔
  59. البراهین، 1/158۔
  60. اشعری، اللمع، 32، الابانة، 10۔
  61. التبصیر فی الدین، ص138- 139۔
  62. التمهید، ص266-267
  63. الارشاد، 174- 185
  64. غزالی، کیمیائے سعادت، 1/125، نصیحة الملوک، 6۔
  65. البراهین، 1/166، 206۔
  66. نصیرالدین، 316۔
  67. بغدادی، الفرق بین الفرق، 334۔
  68. غزالی، مقاصد…، 226۔
  69. جرجانی، شرح، 8/44- 45۔
  70. جامی، 194
  71. جامع الاسرار و منبع الانوار، ص 644
  72. ابن مرتضی، المنیة و الامل، 23، 110۔
  73. جامی، 12۔
  74. علامة حلی، انوار، 65 -66؛ تبصرة…، 109۔
  75. ص 644
  76. ص 138-139۔
  77. جرجانی، التعریفات، 3
  78. غزالی، مقاصد، 288، 296۔
  79. شهرستانی، نهایة، 54 -56، 77- 78۔
  80. فخرالدین، کتاب الاربعین، 43۔
  81. سورہ انعام، آیت 73۔
  82. سورہ نحل آیت 40۔
  83. سورہ مریم آیت 35۔
  84. سورہ یس آیت 82۔
  85. سورہ غافر (مؤمن) آیت 68۔
  86. اشعری، الابانة، ص9۔
  87. بغدادی، 328۔
  88. الباقلانی، 22-23۔
  89. جوینی، الارشاد، 17- 18۔
  90. غزالی، الاقتصاد…، 31۔
  91. نصیرالدین، 200۔
  92. قاضی عبدالجبار، 134۔
  93. علامة حلی، کشف…، 391۔
  94. جرجانی، شرح، 8/201-202۔
  95. کستلی، مصطفی، حاشیة علی شرح العقائد، 123۔
  96. نصیرالدین، 343-344۔
  97. لاهیجی، گوهر مراد، ص348
  98. کلاتی، لباب العقول، ص302۔
  99. ابن رشد، ‌الکشف عن مناهج الادلة، 128- 129۔

مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • آملی، حیدر، جامع الاسرار و منبع الانوار، به کوشش هانری کربن و عثمان اسماعیل یحیی، تهران، 1347ہجری شمسی۔
  • ابن حزم، علی، الفصل، به کوشش محمد ابراهیم نصر و عبدالرحمان عمیره، جده، مکتبات عکاظ۔
  • ابن خلدون، مقدمه، ترجمة محمدپروین گنابادی، تهران، 1353ہجری شمسی۔
  • ابن رشد، محمد، «‌فصل المقال »، «‌الکشف عن مناهج الادلة »، فلسفة ابن رشد، بیروت، دارالا¸فاق الجدیده۔
  • ابن سبعین، عبدالحق، بدالعارف، به کوشش جورج کتّوره، بیروت، دارالاندلس۔
  • ابن سینا، الهیات شفا، چ سنگی۔
  • ابن مرتضی، احمد، المنیة و الامل، به کوشش محمدجواد مشکور، بیروت، 1399ہجری قمری / 1979عیسوی۔
  • اسفراینی، شاهفور، التبصیر فی الدین، به کوشش محمدزاهد کوثری، قاهره، 1374ہجری قمری /1955عیسوی۔
  • اشعری، علی، الابانة، به کوشش محمد منیر عبدوه، قاهره، 1348ہجری قمری۔
  • اشعری، اللمع، به کوشش مکارتی، بیروت، 1953عیسوی۔
  • اشعری، مقالات الاسلامیین، به کوشش هلموت ریتر، ویسبادن، 1400ہجری قمری /1980عیسوی۔
  • باقلانی، محمد، التمهید، به کوشش مکارتی، بیروت، 1957عیسوی۔
  • بغدادی، عبدالقاهر، الفرق بین الفرق، به کوشش محمد محیی الدین عبدالحمید، قاهره، مکتبة محمدعلی صبیح و اولاده۔
  • تبصرة العوام، منسوب به مرتضی بن داعی، به کوشش عباس اقبال، تهران، 1364ہجری شمسی۔
  • تفتازانی، عمر، شرح المقاصد، چ سنگی، استانبول، 1305ہجری قمری۔
  • جامی، عبدالرحمان، الدرة الفاخرة، به کوشش نیکولاهیر و علی موسوی بهبهانی، تهران، 1358ہجری شمسی۔
  • جرجانی، علی، التعریفات، قاهره، 1357ہجری قمری /1938عیسوی۔
  • جرجانی، حواشی بر شرح مطالع، چ سنگی۔
  • جرجانی، شرح المواقف، به کوشش محمد بدرالدین نعسانی، قاهره، 1325ہجری قمری /1907عیسوی۔
  • جوینی، عبدالملک، الارشاد، به کوشش محمدیوسف عبدالمنعم، قاهره، 1369ہجری قمری / 1950عیسوی۔
  • جوینی، لمع الادلة، به کوشش فوقیه حسین محمود، قاهره، 1385ہجری قمری /1965عیسوی۔
  • ذهبی، محمد، سیر اعلام النبلاء، به کوشش شعیب ارنؤوط و صالح سمر، بیروت، 1406ہجری قمری / 1986عیسوی۔
  • زمخشری، محمود، الکشاف، بیروت، 1366ہجری قمری / 1947عیسوی۔
  • سبزواری، ملاهادی، «‌منظومة حکمت »، شرح منظومه، قم، انتشارات مصطفوی۔
  • سهروردی، یحیی، مجموعة مصنفات، به کوشش حسین نصر و هانری کربن، تهران، 1372ہجری قمری۔
  • شهرستانی، عبدالکریم، الملل و النحل، به کوشش محمد کیلانی، بیروت، 1395ہجری قمری / 1975عیسوی۔
  • شهرستانی، نهایة الاقدام، به کوشش آلفرد گیوم، پاریس، 1934عیسوی۔
  • علامة حلی، حسن، انوار الملکوت، به کوشش محمد نجمی زنجانی، تهران، 1338ہجری شمسی۔
  • علامة حلی، کشف المراد، قم، انتشارات مصطفوی۔
  • غزالی، محمد، احیاء علوم الدین، بیروت، دارالمعرفه۔
  • غزالی، الاقتصاد فی الاعتقاد، به کوشش محمد مصطفی ابوالعلاء، قاهره، 1392ہجری قمری / 1973عیسوی۔
  • غزالی، تهافت الفلاسفة، به کوشش موریس بویژ، بیروت، 1927عیسوی۔
  • غزالی، کیمیای سعادت، به کوشش حسین خدیوجم، تهران، 1361ہجری شمسی۔
  • غزالی، مقاصد الفلاسفة، به کوشش سلیمان دنیا، قاهره، 1960عیسوی۔
  • غزالی، نصیحة الملوک، به کوشش جلال الدین همایی، تهران، 1351ہجری شمسی۔
  • فخرالدین رازی، محمد، البراهین، به کوشش محمدباقر سبزواری، تهران، 1341ہجری شمسی۔
  • فخرالدین رازی، التفسیر الکبیر، بیروت، داراحیاء التراث العربی۔
  • فخرالدین رازی، جامع العلوم، به کوشش محمدحسین تسبیحی، تهران، 1346ہجری شمسی۔
  • فخرالدین رازی، کتاب الاربعین، حیدرآباد دکن، 1353ہجری قمری۔
  • فخرالدین رازی، «‌لباب الاشارات »، همراه التنبیهات و الاشارات ابن سینا، به کوشش محمود شهابی، تهران، 1339ہجری شمسی۔
  • فخرالدین رازی، لوامع البینات، به کوشش طه عبدالرئوف سعد، بیروت، 1396ہجری قمری /1976عیسوی۔
  • فخرالدین رازی، المباحث المشرقیة، قم، 1411ہجری قمری۔
  • فخرالدین رازی، النفس و الروح، به کوشش محمد صغیر حسین معصومی، تهران، 1365ہجری شمسی۔
  • قاضی عبدالجبار، شرح الاصول الخمسة، به کوشش عبدالکریم عثمان، قاهره، 1384ہجری قمری / 1965عیسوی۔
  • قوشجی، علی، شرح تجرید الاعتقاد، چ سنگی۔
  • کستلی، مصطفی، حاشیة علی شرح العقائد، استانبول، 1310ہجری قمری۔
  • کلاتی، یوسف، لباب العقول، به کوشش فوقیه حسین محمود، قاهره، 1977عیسوی۔
  • گلدسیهر، ایگناتس، درسهایی دربارة اسلام، ترجمة علینقی منزوی، تهران، 1357ہجری شمسی۔
  • لاهیجی، عبدالرزاق، گوهر مراد، به کوشش زین العابدین قربانی، تهران، 1372ہجری شمسی۔
  • نصیرالدین طوسی، محمد، تلخیص المحصل، به کوشش عبدالله نورانی، تهران، 1359ہجری شمسی۔

بیرونی ربط

دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.