2022 - 09 - 25 ساعت :
امام علی علیه اسلام - رمضان المبارک - نبی اور اهل البیت

حضرت علی علیه السلام ،رسول اکرم ص اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی نگاہ میں

2022-04-20 02

حضرت علی علیه السلام ،رسول اکرم ص اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی نگاہ میں

بتول حسین نگری

امام علی علیہ السلام تاریخ بشریت کی وہ عظیم شخصیت ہے جن کے فضائل اس قدر بیان ہوئے ہیں کہ اگر دنیا کے تمام سمندر سیاہی بن جائے اور تمام درخت قلم تو بھی آپ کی فضیلت کو بیان نہیں کرسکتے۔

امام علی علیہ السلام کے بعض ایسے مخصوص فضائل و کمالات ہیں جن میں کوئی بھی آپ کا مقابلہ نہیں اور انسانی تاریخ میں آپ کی جو قدر و منزلت ہے اس میں کوئی بھی آپ کی برابری کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آپ رسول ص کے بھائی ہیں اور آپ کی ہی ذات با برکت نے سب سے پہلے نبی کریم پر ایمان کا اعلان کیا آپ شہر علم کا دروازہ اور حضور اکرم کے بعد ہر مومن و مومنہ کے ولی و سرپرست اور حاکم ہے ۔۔۔

امام علی علیہ السلام کے فضائل کے بارے میں جتنا کچھ لکھنا آسان ہے اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام فضائل و کمالات کا ایک ایسا سمندر ہے جس میں انسان جتنا غوطہ لگایا گا اتنے زیادہ فضائل کے موتی حاصل کرتا جائے گا اور اس سمندر کی گہرائی تک پہنچنا ناممکن ہے۔۔۔
کیا خوب کہا ہے خلیل بن احمد نے جب ان سے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا :
*کیف آصف رجلا تم اعادیة محاسنه و حسدا و أحيانه خوفا و ما بين الكلمتين ملا الخاءفين*
میں کیسے اس شخص کی توصیف و تعریف کروں جس کے دشمنوں نے دشمنی اور دوستوں نے دشمنوں کی خوف سے اس کی فضایل کوچھپایا۔ان دو کرداروں کے درمیان مشرق سے مغرب تک فضایل کی دنیا ہے ۔(1)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کے علم کے فضیلت کو بیان کرتے ہوہے فرماتے ہیں۔
أعلم امتي من بعدي على ابن الي طالب
میری امت میں سب سے زیادہ دانا اور عالم شخص علی ابن ابی طالب ہے(2)
وہ پیغمبر جنہوں نے علی علیہ السلام کی شناخت کا اعتراف کیا انہوں نے آپ(ع) کے فضائل کو شمار سے باہر بتلایا کہ علی کے فضائل اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی انہیں شمار میں نہیں لا سکتا۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «لو انّ الفیا(3) اقلام و البحر مدادٌ و الجنّ حسّابٌ و الانس کتابٌ مااحصوا فضائل علیّ بن ابی طالبٍ؛4)
اگر تمام درخت قلم، تمام دریا سیاہی، تمام جن حساب کرنے اور تمام انسان لکھنے بیٹھ جائیں تو بھی علی علیہ السلام کے فضائل کا شمار نہیں کر سکتے۔
اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا: «انّ اللّه تعالی جعل لاخی علیٍّ فضائل لاتحصی کثرة فمن ذکر فضیلةً من فضائله مقرّابها غفر اللّه له ما تقدّم من ذنبه و ماتأخّر ‘‘
بے شک خداوند عالم نے میرے بھائی علی کے لیے بے شمار فضائل قرار دئیے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں سے ایک فضیلت کو عقیدت کے ساتھ بیان کرے تو اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔
و من کتب فضیلةً من فضائله لم تزل الملائکة تستغفرله ما بقی لتلک الکتابه رسم، و من استمع فضیلةً من فضائله کفّر اللّه له الذّنوب الّتی اکتسبها بالاستماع و من نظر الی کتابٍ من فضائله کفّر اللّه له الذّنوب الّتی اکتسبها بالنّظر،(5)
اور اگر کوئی شخص ان فضائل میں سے کسی ایک کو لکھے تو جب تک وہ نوشتہ باقی رہے گا ملائکہ اس کے لیے استغفار کرتے رہیں گے اور اگر کوئی ان فضائل میں سے کسی ایک کو سنے تو خدا وند عالم اس کے ان تمام گناہوں کو جو اس نے کان کے ذریعے سے انجام دئے ہوں گے معاف کر دے گا۔ اور اگر کوئی شخص علی کے فضائل کی تحریر پر نگاہ کرے گا تو خدا اس کے ان تمام گناہوں کو جو اس نے آنکھ کے ذریعے انجام دئیے ہوں گے معاف کر دے گا۔

علی (ع) کی عبادت اور بندگی
امیر المومنین علی علیہ السلام کی عبادت ’’شہرہ آفاق‘‘ ہے۔ علم لدنی کے مالک خداوند عالم کی جتنی معرفت رکھتے ہیں اسی مقدار میں اس کی عبادت اور اس کی بارگاہ میں راز و نیاز اور راتوں کو جاگ جاگ کر مناجات کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ خداوند عالم ملائکہ کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کی عبادتوں پر فخر کرتا ہے۔
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:ایک دن صبح سویرے جبرئیل انتہائی خوشی کے ساتھ میرے پاس آئے میں نے پوچھا: میرے دوست کیا بات ہوئی ہے کہ آج آپ اتنے خوش نظرآ رہے ہیں؟ کہا: اے محمد! کیونکر خوش نہ ہوں جبکہ خداوند عالم نے جو اکرام و انعام آپ کے بھائی، جانشین اور امام امت علی بن ابی طالب پر کیا ہے اس نے میری آنکھوں کو نورانی کر دیا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: کیسے خدا نے میرے بھائی اور امام امت کو اکرام سے نوازا ہے؟
«قال: باهی بعبادته البارحة ملائکته و حملة عرشه و قال: ملائکتی انظروا الی حجّتی فی ارضی علی عبادی بعد نبیّی، فقد عفر خدّه فی التّراب تواضعاً لعظمتی، اشهدکم انّه امام خلقی و مولی بریّتی؛(6)
فرمایا: خداوند عالم نے علی کی گذشتہ رات کی عبادت پر ملائکہ اور حاملین عرش کے سامنے اتنا فخر کیا ہے اور فرمایا ہے: اے میرے فرشتو! دیکھو میرے نبی کے بعد میرے بندوں پر میری حجت کو، کہ کس طرح سے اس نے اپنا چہرا اور رخسار خاک پر رکھا ہوا ہے میری عظمت کے سامنے اس کے اس تواضع کی وجہ سے میں تمہیں گواہ بناتا ہے کہ وہ میری مخلوق کا رہبر ہے اور میرے بندوں کا وارث اور سرپرست ہے۔

شیعہ کتب میں علی علیہ السلام کی عبادت کے بارے میں اتنے واقعات نقل ہوئے ہیں کہ جن کو بیان کرنے کے لیے ایک مفصل کتاب کی ضرورت ہے۔ اس مختصر مقالہ میں صرف ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیاجاتاہے۔:
ضرار بن ضمرہ معاویہ کے دربار میں علی علیہ السلام کے بارے میں کہتا ہے: میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے علی کو کئی مربتہ دیکھا جب رات ہر چیز کو اپنی گھٹا میں ڈبو دیتی تھی اور آسمان پر ستارے سامنے آ جاتے تھے تو اس وقت میں دیکھتا تھا کہ علی محراب عبادت میں کھڑے ہوتے تھے اور اپنی داڑھی کو ہاتھ میں لیے ہوتے تھے اور اس شخص کی طرح تڑپ رہے ہوتے تھے جس کو سانپ نے کاٹ دیا ہو اور اس شخص کی طرح گریہ و زاری کرتے تھے جس کو شدید غم لگ گیا ہو۔۔۔ ( علی کے گریہ و زاری کی آوازیں ابھی بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں جو وہ کہتے تھے)
آہ آہ قلت الزاد و طول السفر (زاد سفر کتنا تھوڑا اور سفر کتنا طولانی، راستہ کتنا کٹھن اور منزل کتنی دور)۔
یہ ماجرا سن کر معاویہ کے آنسو بھی نکل آئے اس نے آستین سے آنسو پوچھے اور سننے والے دوسرے لوگ بھی آنسو پوچھنے لگے۔ پھر معاویہ نے کہا: ہاں ابو الحسن ایسے ہی تھے۔(7)
جو شخص تمام اوصاف حمیدہ کا مالک ہو وہ تمام دلوں کا محبوب ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) جو خود تمام کائنات کے محبوب ہیں وہ علی علیہ السلام سے عشق و محبت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس لیے کہ آیت مباہلہ سے یہ ثابت ہے کہ علی (ع) نفس پیغمبر ہیں ’’ انفسنا‘‘ اور ہر انسان کو اپنی جان سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ لہذا جب علی علیہ السلام نفس و جان پیغمبر ہیں تو یقینا ان کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
عائشہ کہتی ہیں: پیغمبر اکرم (ص) جب حالت احتضار میں تھے تو فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ میرے دوست کو میرے پاس بلاو۔ میں ابوبکر کی تلاش میں گئی اور انہیں بلا کر لائی۔ جب ابوبکر پیغمبر اکرم (ص) کے پاس آئے تو پیغمبر اکرم (ص) ان سے اپنی نگاہیں موڑ لی اور پھر فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ حفصہ عمر کی تلاش میں گئیں اور عمر کو بلا کر لائیں جونہی پیغمبر کی نگاہ عمر پر پڑی تو آپ نے فورا منہ پھیر لیا۔ پھر فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ عائشہ کہتی ہیں: میں نے کہا وائے ہو تم لوگوں پر رسول خدا (ص) علی بن ابی طالب کو بلوانا چاہتے ہیں۔ خدا کی قسم وہ صرف علی کو چاہتے ہیں۔ اس کے بعد علی علیہ السلام کو بلوایا گیا جب پیغمبر اسلام (ص) نے علی کو دیکھا تو انہیں سینے سے لگایا، اس کے بعد انہیں ایک ہزار حدیثیں تعلیم کی کہ جن میں سے ہر ایک ہزاروں حدیثوں کا باب تھی(8)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی علی علیہ السلام سے محبت کسی غرض کے تحت نہیں تھی بلکہ آپ میں موجود فضائل و کمالات کی بنا پرآپ سے محبت تھی جو فضائل و کمالات خود پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی زبان مبارک سے گاہ بگاہ بیان فرمائے تھے۔

حضرت فاطمہ زہراء کے کلام خطبہ فدکیہ میں فضیلت امام علی علیہ السلام
حضرت فاطمہ زهرا سلام الله علیھا اس عظیم خاتون کا نام ہے جو اصول و قوانین اسلامی سے آگاه نیز اخلاقی آداب سے آشنا تھیں، آپ قرآنی آیات اور ان کی تلاوت کی حلاوت کے ساتھ ساتھ، ان میں غور و فکر اور تفکّر و تدبّر سے مانوس تھیں، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آله وسلم کی سیرت اور نورانی کلام کے ذریعہ پسندیده اخلاق و اطوار سے آگہی رکھتی تھیں اور بچپن ہی سے تمام خواتین و انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ اور کامل نمونہ تھیں، اصل اسلامی اخلاق و آداب کی اقدار ۔کے متعلق کثیر معلومات اور معارفِ دین کے متعلّق مختلف اعتبار سے بہت عمیق و گہری نظر ۔کی وجہ تمام جوانب و اطراف پر وسیع نظریہ کی حامل تھیں ۔ اس طرح کہ آپ کی سیرت و کلام میں سبق آموز اور معرفت کے نکتے پائے جاتے ہیں
جب بھی دین کو آپ کی ضرورت پڑھی آپ نے کبھی بھی اپنے آپ کو پیچھے نہیں رکھا یہاتکہ جب امام علی علیہ السلام کی امامت کا سوال آیا تو ایک بہادر شیرنی کی مانند میدان میں اتر آئی اور امامت کا دفاع کیا جہاں پر بھی موقع ملتا آپ سلام اللہ علیہا لوگوں کو امام علی علیہ السلام کے فضائل سے آگا کرتی ۔
اسی طرح آپ نے خطبہ فدکیہ میں آپ کی خصوصیات و کمالات کو بیان کرتے ہوئی نظر آتی ہے
جب اپنے زمانے کے امام حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کلام کر رهی تھیں تو آپ کی عمیق نظر اور بصیرت مخالفوں کے تمام حیلوں کا نظاره کر رہی تھیں اور دشمن کے کردار کو مختلف میدانوں میں پوشیده اور ظاهری طورپر دیکھ رهی تھیں اسی لئے امامت کے مقام و مرتبہ کو سماج کے سیاسی میدان میں خوب اچھے انداز میں بیان کی۔ پہلے تو کوتاه فکروں اور ساده لوح انسانوں کے سامنے مسئلہ امامت بڑے روشن طریقہ سے پیش کیا۔ اس کے آغاز میں اهل بیت علیھم السلام کی امامت کو “اتحاد اور تفرقہ سے امان کا سبب۔بتایا، اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو ” ائمہ معصومین علیھم السلام میں سب سے بزرگ” ہونے کا لقب دیا۔۔۔۔۔۔
خطبہ فدکیہ کے ذیل میں آپ نے حضرت علی علیہ السلام کے خصوصیات کو کچھ اس طرح ذکر فرمایا

كُلَّما اَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ اَطْفَأَهَا اللَّـهُ اَوْ نَجَمَ قَرْنُ الشَّیطانِ، اَوْ فَغَرَتْ فاغِرَةٌ مِنَ الْمُشْرِكینَ، قَذَفَ اَخاهُ فی لَهَواتِها، فَلاینْكَفِیءُ حَتَّی یطَأَ جِناحَها بِأَخْمَصِهِ، وَ یخْمِدَ لَهَبَها بِسَیفِهِ، مَكْدُوداً فی ذاتِ اللَّـهِ، مُجْتَهِداً فی اَمْرِ اللَّـهِ، قَریباً مِنْ رَسُولِ اللَّـهِ، سَیداً فی اَوْلِیاءِ اللَّـهِ، مُشَمِّراً ناصِحاً مُجِدّاً كادِحاً، لاتَأْخُذُهُ فِی اللَّـهِ لَوْمَةَ لائِمٍ. وَ اَنْتُمَ فی رَفاهِیةٍ مِنَ الْعَیشِ، و ادِعُونَ فاكِهُونَ آمِنُونَ، تَتَرَبَّصُونَ بِنَا الدَّوائِرَ، وَ تَتَوَكَّفُونَ الْاَخْبارَ، وَ تَنْكُصُونَ عِنْدَ النِّزالِ، وَ تَفِرُّونَ مِنَ الْقِتالِ
آنحضرت کو بہادر کافروں کے ذریعہ سے آزمایا گیا اور عرب کے ڈاکوؤں اور اہل کتاب کے سرکش افراد سے ان کو پالا پڑا البتہ جب کبھی انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی تو خدا نے اسے بجھا دیا یا جب کبھی شیطان نے سر اٹھایا اور مشرکین کی شرارت کے اژدہے نے منہ کھولا تو آنحضرت نے اپنے بھائی علی کو ہی اس بلا کے منہ میں بھیجا۔ پس اس بہادر علی کی شان یہ تھی کہ وہ اس وقت تک نہ پلٹتے تھے جب تک اپنے پیروں تلے ان بلاؤں کے سر کچل نہ دیتے اور فتنہ کی آگ کو اپنی تلوار سے نہ بجھا دیتے۔ وہ خدا کے بارے میں مشقت برداشت کرنے والے ہیں۔ امر خدا میں کوشش کرنے والے ہیں اور ہر بات میں رسول خدا سے قریب ہیں اور وہ اولیائے خدا کے سردار ہیں۔ اس عرصے میں میرے شوہر ہدایت پر کمر بستہ، بندگان خدا کے خیر خواہ، کوشش اور سعی بلیغ کرنے والے تھے۔

حوالہ جات
1-روضة المستعیں ج 13 ص 265
2_المناقب ص 82روایت67
3_ـ بحارالانوار، ج 28، ص 197 و بحار ج 35، ص 89 ـ.
4_ المناقب، الموفق بن احمد الخوارزمی، قم، جامعه مدرسین، چاپ چهارم، ص 32، ابن شاذان، مأة منقبه، قم مدرسة الامام المهدی(ع)، ص 177، حدیث 99، یہ حدیث اہلسنت کے عسقلانی، لسان المیزان، ج 5، ص 62، ذهبی، میزان الاعتدال، ص 467و…میں آئی ہے۔
5_ المناقب، وہی، ص 32، حدیث 2؛ فرائد السمطین، ج 1، ص 19، ینابیع المودة، قندوزی باب 56، مناقب السبعون، حدیث 70.
6_ بحارالانوار، داراحیاء التراث العربی، ج 41، ص 21 ذیل روایت 28.
7- اشک شفق، ص 182.
8_خصال صدوق، جامعه مدرسین، ج 2، ص 651.

sikandar

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت