2022 - 11 - 28 ساعت :
قرآن

توحید کا فطری ہونا

2020-12-18 068

خلاصہ: ہواوہوس اور اپنی فضول خواہشات کے پیچھے پڑے رہنے کی وجہ سے انسان اللہ کی یاد سے اتنا دور ہوجاتا ہے کہ صرف زبان پر اللہ کا نام لیتا ہے، جبکہ دل کی گہرائی سے نہیں پکارتا، جب حالات نازک ہوجائیں اور انسان کسی ایسی مشکل میں پھنس جائے جس سے اپنے آپ کو نجات نہ دے سکے اور مخلوق کی مدد سے بھی ناامید ہوجائے تو اس وقت اللہ کو دل کی گہرائی سے پکارتا ہے، یہ پکار اس بات کی دلیل ہے کہ توحید فطری ہے۔

توحید کا فطری ہونا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بت پرست، توحید اور وحدانیت کو عجیب بات سمجھتے ہوئے کہنے لگے: أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِداً إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ، “کیا اس نے بہت سے خداؤں کو ایک خدا بنا دیا؟ بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے”، یہ لوگ اس بات سے غافل تھے کہ توحید تو فطری چیز ہے۔ ہشام بن سالم کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت امام صادق (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ فِطْرَتَ اللهِ الَّتى فَطَرَ الناسَ عَلَیهاسے مراد کیا ہے؟ حضرتؑ نے فرمایا: “توحید”۔ (البرہان فی تفسیر القرآن، ج4، ص343)۔
توحید اور اللہ کی پہچان کا فطری اور ذاتی ہونا اتنی بڑی حقیقت ہے کہ جب انسان کسی ایسی مشکل میں پھنس جاتا ہے جس سے اسے کوئی نجات نہیں دے سکتا تو اس وقت وہ ایک ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس پر اسے امید ہوتی ہے کہ وہ اسے نجات دے سکتا ہے۔ سورہ اسراء، آیت 67 میں ارشاد الہی ہے: وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُوراً، “اور جب تمہیں سمندر میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ تو اس کے سوا جس جس کو تم پکارتے ہو وہ سب غائب ہو جاتے ہیں اور جب وہ تمہیں (خیریت سے) خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم روگردانی کرنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے”۔
زندگی کے عام حالات میں کیونکہ انسان لوگوں، چیزوں اور اپنی توانائیوں کا سہارا لیتا رہتا ہے تو سمجھتا ہے کہ انہی لوگوں نے اور انہی چیزوں نے مجھے سنبھال رکھا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو وسیلہ بنایا ہے اور اصل میں خود اللہ نے انسان کو ہر لحاظ سے سنبھالا ہوا ہے، کیونکہ جب یہی وسائل انسان کو سنبھالنے سے عاجز ہوجاتے ہیں تو اس وقت انسان سمجھ جاتا ہے کہ یہ کچھ نہیں کرپاتے، اگر اضطرار اور مجبوری کی حالت میں انسان اس بات کا ادراک کرلیتا ہے تو اختیار اور عادی حالات میں بھی اس کا ایمان اور عقیدہ یہی ہونا چاہیے کہ مجھے ہر لحاظ سے سنبھالنے والا اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں، حتی میرا اپنا وجود بھی مجھے تب تک نہیں سنبھال سکتا جب تک اللہ اسے اذن نہ دے، اسی لیے بعض اوقات انسان دیکھتا ہے کہ اس کا بدن، حرکت نہیں کرپارہا، اس حالت میں انسان جتنی کوشش کرے، اپنے عجز و ناتوانی کا سامنا کررہا ہوتا ہے۔ ایسے نازک حالات میں یقین ہوجاتا ہے کہ کوئی اور ذات ہے جو انسان کو زندہ اور سلامت رکھے ہوئے ہے تو یہ وہی فطری توحید ہے۔
کبھی انسان کسی مرض کے علاج کے لئے کتنے بڑے بڑے ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے، صحت یاب نہیں ہوتا، لیکن کسی غیرمشہور حکیم کی معمولی سی دوا کھاتا ہے تو بالکل صحت یاب ہوجاتا ہے، جس کی دوا سے شفایابی کی امید بھی نہیں تھی۔ اس مریض کو جو درس حاصل کرنا چاہیے یہ ہے کہ طبیب کے پاس جانا ضروری اور لازمی ہے، مگر طبیب پر امید نہ ہو کہ یہ شفا دے گا، بلکہ امید صرف اللہ پر ہو کہ شفا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔
بنابریں ایسا نہیں کہ اگر انسان سمندر میں ڈوب رہا ہو تو صرف تب اللہ کو پکارے اور صرف اُسی وقت اس میں فطری توحید پائی جاتی ہے، نہیں بلکہ فطری توحید ہمیشہ ہوتی ہے، مگر انسان اس سے غافل رہتا ہے اور عموماً جب تک سب لوگوں اور سب چیزوں سے ناامید نہیں ہوتا تب تک اللہ کو دل کی اتھاہ گہرائی سے نہیں پکارتا، حالانکہ اسے چھوٹی سی مشکل کے لئے بھی اللہ کو اخلاص کے ساتھ اور دل کی گہرائی سے پکارنا چاہیے اور اسی چھوٹی سی مشکل میں بھی لوگوں سے ناامید رہنا چاہیے اور ساتھ ساتھ جائز وسائل اور اسباب کو استعمال بھی کرنا چاہیے۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت