کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں ،اپنی نبوت اور حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی گواہی دیتے تہے؟

کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں ،اپنی نبوت اور حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی گواہی دیتے تہے؟

 

چونکہ اس سوال میں دو سوال پوچہے گئے ہیں اس لئے ہم جواب دو حصوں میں دیں گے۔

الف ) کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں اپنی نبوت کی شہادت دیتے تہے؟

اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے ،که معتبر روایات کی رو سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں اپنی نبوت کی شہادت دیتے تہے۔ کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باقی افراد کے مانند احکام اور شرعی تکلیف پر عمل کرنا چاہئے۔ مگر یہ کہ کوئی خاص دلیل ہو جو ثابت کرے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی خاص حکم کے بارے میں کوئی شرعی تکلیف نہیں رکہتے تہے۔

اذان کے بارے میں نہ صرف اس طرح کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں، کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں خدا کی وحدانیت اور اپنی نبوت کی گواہی دیتے تہے۔

ب) کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی شہادت دیتے تہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی کوئی دلیل موجود نہیں، جو روشن اور واضح الفاظ میں یہ بیان کرے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی گواہی دیتے تہے۔

جو روایات ائمہ طاہرین علیہم السلام نے اذان کے اجزاء کے بارے میں ارشاد فرمائی ہیں ان میں شہادت ثالثہ کی جزئیت پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ اگر چہ غیر اذان کے بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام مبارک کے بعد حضرت علی علیہ السلام کا نام لینے سے ثواب حاصل ہونے کا ذکرکرتی ہیں۔

اس لئے شیعہ علماء کہتے ہیں :

چونکہ اذان عبادت ہے اور یہ امکان موجود ہے کہ شہادت ثالثہ اس کا حصہ نہ ہو بلکہ اس کو صرف قصد قربت کی نیت سے کہا جائے نہ که جزء ہونے کے قصد سے۔

تفصیلی جوابات

چونکہ اس سوال میں دو چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا ہے لہذا جواب دو حصوں میں دیا جائے گا۔

الف ) کیا پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں اپنی نبوت کی گواہی دیتے تہے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ روایات کے مطابق یہ بات قطعی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان میں اپنی نبوت کی شہادت دیتے تہے، کیونکہ پیغمبر بہی باقی افراد کے مانند احکام اور تکلیف شرعی پر عمل کرتے ہیں، مگر یہ کہ کوئی خاص دلیل موجود ہو کہ جو ثابت کرے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی خاص حکم کی نسبت کوئی شرعی تکلیف نہیں رکہتے تہے۔

اذان کے سلسلے میں نہ صرف ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ بہت سی روایات کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اذان میں خدا کی وحدانیت اور اپنی نبوت کی واضح طور پر گواہی دیتے تہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: شب معراج میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المعمور کی طرف تشریف لے گئے ، تو نماز کا وقت ہوا جبرئیل نے اذان اور اقامہ کہی آنحضرت آگے کہڑے ہوئے، انبیاء اور ملائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچہے صفوں میں کہڑے ہوئے اور نماز ادا کی ، کسی نے آنحضرت سے پوچہا : جبرئیل نے کس طرح اذان دی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابتدا اللہ اکبر ، اشہد ان لا الہ الا اللہ۔ اشہد ان محمدا رسول اللہ ۔۔ اور اذان کے آخر تک پڑہا” [1]

 

اس حدیث سے زیاده واضح ایک اور حدیث موجود ہے جس میں آیا ہے :حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: میں نے اپنے با با حضرت علی ابن ابیطالب ( علیہ السلام ) سے سنا کہ آپ نے فرمایا : خداوند متعال نے ایک فرشتے کو بہیجا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج پر لے گئے ، وہاں پرایک ایسے فرشتے نے جو آسمان پرپہلے کبہی نہیں دیکہا گیا تہا ، اذان اور اقامہ کہی۔

اس کے بعد جبرئیل نے پیغمبر سے کہا[2] اس طرح نماز کیلئے اذان کہئے ، یہ جملہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اذان اور اقامت بالکل دوسروں کی اذان اور اقامہ کے مانند ہے۔

 

ب ) کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اذان میں حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی گواہی دی ہے؟

اس سوال کے جواب میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اس سلسلے میں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کی ولایت کی شہادت دی ہو ، کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے ۔

اگر چہ کتاب ” السلافۃ فی امر الخلافۃ ” میں آیا ہے کہ سلمان فارسی نے اپنی اذان میں شہادت ثالثہ کا اضافہ کیا ہے اور یہ بات سبب بنی کہ بعض اصحاب نے پیغمبر کے پاس جا کر انکی شکایت کی۔

لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اعتراض کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔

اور حضرت سلمان کے کام پر مہرتائید لگادی ، اس طرح اس کتاب میں آیا ہے کہ غدیر خم کے واقعہ کے بعد ابو ذر غفاری نے اپنی اذان میں ولایت علی کی شہادت دی، بعض منافقین اس کو پسند نہیں کرتے تہے ، اور جو کچہه انہوں نےد یکہا اس کو اعتراض کی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “اما وعیتم خطبتی یوم الغدیر لعلی بالولایۃ” ، پس طولانی خطبہ جو میں نے تمہارے لئے صحرا کی شدید گرمی میں پڑہا ، کیا اس کے معنی علی امیر المؤمنین کے خدا کے والی ہونے کے علاوه کچہه اور ہے؟

پہر آگے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا کہ ہم نے کہا کہ آسمان نے اس پر اپنا سایہ نہیں ڈالا اور زمیں نے اپنے اندر جگہ نہیں دی ہے،جو ابی ذر سے زیاده سچا ہو اور آخر کار اس اعتراض کرنے والی جماعت کی سازش کو طشت از بام کرکے فرمایا : انکم لمنقلبون بعدی علی اعقابکم ” [3] ( تم میرے بعد پیٹہه پیچہے پہیرلو گے)

 

لیکن اس روایت کی سند نقل نہیں ہوئی ہے یا ساتویں صدی سے پہلے کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں آیا ہے کہ اس کی سند کے بارے میں اظہار نظر ہو۔ اس کے علاوه جو روایات ائمہ اطہار علیہم السلام سے اذان کے اجزاء کےبارے میں نقل ہوئی ہیں ان میں شہادت ثالثہ کے جزء ہونے کی طرف اشاره نہیں ہوا ہے اور یہ روایات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی اذان کو بیان کرسکتی ہیں۔

البتہ بہت سی روایات خداوند متعال کی وحدانیت اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی شہادت کے بعد شہادت ثالثہ ( اشہد ان علیا ولی اللہ ) کے ذکر کرنے کے ثواب میں وارد ہوئی ہیں کہ ہم نمونے کے طورپربعض کی طرف اشاره کریں گے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خداوند متعال نے زمین اور آسمان کی خلقت کے بعد امر کیا کہ منادی ان تین کی شہادتوں کی ندا دیں۔ [4]

ان ہی امام علیہ السلام سے ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ خداوند نے عرش و کرسی کے خلق کرنے کے بعد۔۔۔ ان پر لکہا “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی امیر المومنین” ۔ پہر فرمایا: فاذا قال احدکم لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ فلیقل علی امیر المومنین ولی اللہ ۔۔ [5]

بعض نبوی روایات سے یہ سمجہا جاسکتا ہے کہ ذکر امام علی علیہ السلام ذکر خدا اور حضرت رسول اللہ کے ذکر کے بعد کرنا ، اذان میں ہو یا غیر اذان میں جائز ہے اور یہ عمل خداوند متعال کے پاس محبوب ہے۔ [6]

بہر حال چونکہ اذان عبادت ہے اور یہ امکان موجود ہے کہ ولایت حضرت امیر المومنین علیہ السلام اس کا جزء نہ ہو ، اسی لئے فقہای شیعہ اس کو اذان کا جزء نہیں جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کو قصد قربت یا تبرک کے طور پر پڑہا جائے نہ کہ جزء ہونے کی نیت سے۔ [7]

حواله

[1] تہذیب الاحکام ، شیخ طوسی ، دار الاضواء، بیروت ، ج ۲ ص ۶۰ ، ح ۳۔

[2] دعائم الاسلامی قاضی نعمان بن محمد ، تمیمی ، دار المعارف ، قاہره ، ج ۱ ص ۱۴۳۔

[3] رجوع کریں ، السلافۃ فی امر الخلافۃ ، شیخ عبد اللہ مراغی جو ساتویں صدی کے علمای اہل سنت میں سے ہیں ، ان کی کتاب ان خطی کتابوں میں سے ہے جو ظاہریه لائبریری دمشق میں موجود ہے۔

[4] بحار الانوار ج ۳۷ ، ص ۲۹۵ حدیث ۱۰ اب ۵۴۔ امالی صدوق مجلس ، ۸۸ ظاہری طور پر یہ ندا ان لوگوں کی اجابت کے لئے تہی جو عالم ذر میں موجود تہے ، امام باقر علیہ السلام نے ایک حدیث میں فرمایا: ان اللہ اخذ من بی آدم من ظہورہم ذریتہم فقال الست بربکم و محمد رسولی و علی امیر المومنیں قالوا بلی۔

[5] بحار الانوار ، ج ۳۷ ص ۱ باب ۱۔

[6] بحار الانوار ، ج ۳۸۔ صفحہ ۳۱۸، اور ۳۱۹، حدیث ۲۷۔ باب ۶۷ اور جلد ۳۷ صفحہ ۸ جلد ، ۱۶ باب ۱۰ اور ایضا باب ۱۔

[7] توضیح المسائل المحشی للامام الخمینی ج ۱ مسئلہ ۹۱۹، ص ۵۱۹ ، ” اشہد ان علیا ولی اللہ ” اذان اور اقامت کا جزء نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ اشہد ان محمدا رسول اللہ کے بعد قصد قربت کے طور پر پڑہا جائے۔

( حضرت آیۃ اللہ زنجانی ) البتہ امیر المومنین کی ولایت اور ائمہ معصومیں علیہم السلام کی ولایت ایمان کے ارکان میں سے ہے ، اور اس کے بغیر اسلام صرف ظاہر داری کے علاوه کچہه نہیں ہے، اور ایسے قالب کے مانند ہے جو خالی ہو ، اور بہتر ہے کہ اشہد ان محمدا رسول اللہ ، کے بعد تیمن اور تبرک کے قصد سے ، حضرت امیر المومنیں اور باقی ائمہ معصومین علہیم السلام کی ولایت اور امامت کی شہادت اس طرح دی جائے کہ وه اذان اور اقامت کے جملوں کے مانند نہ ہوجائے ۔

(حضرت آیۃ اللہ مکارم شیرازی ): قصد تبرک سے کہا جائے، البتہ اس طرح کہ معلوم ہوجائے یہ ان کا جزء نہیں ہے۔

تبصرے
Loading...