کیا خداوند متعال عورتوں کے لئے نامحرم هے که انھیں نماز کے دوران پرده کرنا چاهئے ؟

کیا خداوند متعال عورتوں کے لئے نامحرم هے که انھیں نماز کے دوران پرده کرنا چاهئے ؟

 

هم نے آیات و روایات میں ایسی کوئی چیز نهیں پائی جس میں اس موضوع کے فلسفه کی طرف اشاره کیا گیا هو-

اصولی طور پر عبادی و احکام شرعی کے مسائل تعبدی پهلو رکھتے هیں اور ان مسائل میں صرف تعبد اور شارع مقدس کی چاهت کو قبول کر نا اهم ترین معیار اور مصلحت هو سکتی هے ، اگر چه دوسری مصلحتیں بھی ان میں مضمر هوں گی که ان کے بارے میں همیں معلوم نهیں هے – صرف بعض روایات میں ، بعض احکام کی مصلحتوں اور فلسفه کے بارے میں اشاره کیا گیا هے، علم ، فهم و ادراک میں ترقی کے پیش نظر احکام کے فلسفه کے بارے میں کچھـ اور ابعاد آشکار هو ئے هیں – البته کلی طور پر اور خاص کر نماز میں پرده کے بهت سے آثار ، برکات اور فوائد هیں اور بعید نهیں هے که خداوند متعال کی طرف سے اسے واجب قرار دینے میں مزید حکمتیں مضمر هوں-

یهاں پر هم ذیل میں نماز میں پر دے کے بعض فوائد کی طرف اشاره کرتے هیں ;

١- مکمل لباس زیب تن کر نا انسان کے ظاهری وقار کو بڑھا تا هے – جس قدر انسان کے لباس سے کم هو جائے ، اس سنت سے اس کے وقار اور اجتماعی شان میں کمی واقع هو تی هے اور وه دوسروں کی نظروں میں گر جاتا هے- پرده کو ایک قسم کا ادب سمجھا جاسکتا هے – ادب کا تقاضا هے که انسان دوسروں اور بزر گوں کے سامنے مکمل لباس میں ظاهر هو جائے- تمام ادیان بلکه دنیا کے تمام عقلاء کے نزدیک مذهبی محافل اور مراسم میں پردے میں شرکت کر نا مطلوب هے – خاص کر اسلام میں ، ایک مسلمان خاتون کے اجتماعات میں حاضر هو نے کا باضابط لباس مکمل پرده هے-

انسان ، نماز کی حالت میں خداوند متعال کی بار گاه میں حاضر هو تا هے، جبکه وهاں پر عرش الی کے ملائکه حاضر هو تے هیں، وه ایک باضابط مجلس میں خدا کی عبادت کرتا هے –چونکه نماز حقیقت میں بارگاه الهی میں حاضر هو نا هے ، اس لئے اس مجلس میں جس قدر لباس مکمل تر اور پاک وصاف اور خوشبو دار هو، مطلوب وپسندیده هے، یهاں تک که مردوں کو بھی اس بات کی سفارش کی گئی هے که بارگاه الهی میں مکمل لباس اور ادب کے ساتھـ حاضر هو جائیں-

امام جعفر صادق علیه السلام فر ماتے هیں: ” خدا کی اس طرح عبادت کر نا که گویا تم اسے دیکھـ رهے هو اور وه تجھے دیکھـ رها هے-” [1]

٢- نماز میں پرده کی دوسری مصلحتوں میں سے یه بھی ایک  مصلحت هے که یه پرده کے تحفظ کے لئے ایک قسم کی روز مره مشق هے- اس کے علاوه یه ایک ایسا عامل هے جو عورت کا اسلامی پرده کی رعایت اس کے تحفظ میں کلیدی رول ادا کرتا هے- اگر هم یه قبول کریں که اسلام همیشه عورتوں کے پرده کے تحفظ کی تا کید کرتا هے اور ان کی عفت و پاک دامنی کی سفارش کرتا هے ، تو همیں معلوم هوگا که نماز میں مکمل پرده کرنا اس نظریه کے مطابق هے که اسلام نماز میں اس مسئله کی تاکید نماز کے لئے شرط جانتا هے- حقیقت میں یه نماز کے ساتھـ عفت اور پردے کا درس هے تاکه مسلمان عورت کے طرز عمل اور کردار کا نمونه پیش کیا جائے – اس کے علاوه شب وروز کے دوران پانچ مرتبه نماز میں پردے کی رعا یت کرنا مسلمان عورت کے لئے پردے کی ایک مسلسل مشق هے-

٣- لوگوں کے سامنے ، عام جگهوں ، مساجد اور کھلےاجتماعات میں نماز پڑھنے کے دوران مکمل پردے کی ضرورت هوتی هے خاص کر عورتوں کے لئے اس کی زیاده تاکید کی گئی هے تاکه وه دوسروں کی نظروں سے محفوظ رهیں اور نماز گزاروں کے سکون و آرام میں کوئی خلل ن پڑے اور عام عفت کا تحفظ کیا جاسکے-

جوکچھـ بیان کیاگیا ، وه کچھـ ایسے نکات هیں جوذهن میں آتے هیں لیکن اس کی اصلی دلیل اور فلسفه تعبد اور خدا کے حکم کی تعمیل کر نا هے-

در دائره  هستی  ما نقطه  تسلیمم

رای آنچه تواند یشی ، حکم آنچه توفرمائی

 


[1] – الکافی ،ج٢،ص٦٨،” اعبد الل کانک تراه فان کنت لا تراه فانه یراک- ”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More