میت پر گریہ کرنے میں اختلاف

میت پر گریہ کرنے میں اختلاف

میت پر گریہ کرنے میںاختلاف اور اس کی وجہ
میت اور بالخصوص شہداء پر گریہ و بکاء کرنا سنت رسول(ص) ہے جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید، جعفراور ابن رواحہکی شہادت کی خبر لوگوں تک پہنچنے سے پہلے ان کی موت کی اطلاع دے دی تھی۔ آپ نے فرمایا:
زیدنے پرچم اسلام اٹھایا اور شہید ہو گئے پھر جعفرنے پرچم اٹھایا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس کے بعد ابن رواحہ نے اٹھایا اور وہ بھی مارے گئے۔ اس وقت آپ(ص) کی دونوں آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ,۱
کتب معاجم صحابہ یعنی استیعاب، اسدالغابہ اور الاصابہ میں حضرت جعفرکے حالات کے بارے میں اور کتب تاریخ میں سے تاریخ طبری وغیرہ میں جنگ موتہ تک کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
جب جعفراور ان کے ساتھی درجہ شہادت پر فائز ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہوئے اور جعفرکے بیٹوں کو جمع کیا اور ان کو دیکھتے ہی آپ(ص)کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ دیکھ کر ان کی زوجہ اسماءنے عرض کیا:
یا رسول اللہ! میرے والدین آپ(ص) پر فدا ہوں، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا آپ(ص) کو جعفراور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کوئی خبر پہنچی ہے؟
فرمایا:
ہاں آج وہ شہید ہو گئے ہیں۔
جناب اسماء  بیان کرتی ہیں کہ میں چلاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور عورتوں کو جمع کرنے لگی۔ پھر میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے پاس گئی تو وہ رو رو کر کہہ رہی تھیں:
ہائے میرے چچا!
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
علیٰ مثل جعفر فلتبک البواکی
رونے والیوں کو جعفرجیسے انسان پر رونا چاہئے۔
 
 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گریہ اپنے بیٹے ابراہیم پر

حضرت انس بن مالک نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ داخل ہوئے، جبکہ ابراہیم کی روح نکل رہی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ یہ دیکھ کر عبد الرحمان  بن عوف نے عرض کیا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بھی روتے ہیں؟
فرمایا:
اے عوف کے بیٹے! یہ رحمت ہے۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور جملے کا اضافہ کیا اور ارشاد فرمایا:
آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل حزن و غم کرتا ہے۔ لیکن ہم صرف وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ اے ابراہیم! ہم تیرے فراق سے رنجیدہ خاطر اور غم و حزن میں ہیں۔
سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے: پس آپ(ص) ابراہیم کے اوپر جھک گئے اور روئے۔,2
 
 

رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے چچا حضرت حمزہپر رونے کی دعوت دینا

جب حضور بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ احد کے بعد انصار کے گھروں سے اپنے مقتولین پر رونے کی آوازیں سنیں تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ(ص) روئے اور فرمانے لگے:
حمزہپر کوئی رونے والا نہیں ہے؟
حضرت سعد  نے جب یہ بات سنی تو وہ بنی عبد الاشھل کی عورتوں کے پاس آئے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر لے گئے۔ پس وہ عورتیں حضرت حمزہپر روئیں۔ جب آپ(ص) نے ان کی آواز سنی تو ان کے لئے دعا فرمائی,3  پھر انہیں واپس لوٹا دیا۔ اس دن کے بعد سے اب تک انصار کی کوئی عورت کسی میت پر نہیں روتی تھیں مگر یہ کہ پہلے حمزہ پر روتی ہیں پھر اپنے میت پر۔ 4
 
 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر روئے اور آپ نے اردگرد موجود لوگوں کو بھی رلایا

آپ نے اپنی ماں کی قبر مبارک کی زیارت کی بعد ازاں آپ(ص) روئے اور وہاں موجود لوگوں کو بھی رلایا۔,5
 
 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مصیبت زدہ لوگوں کو کھانا بھیجنے کا حکم دیا۔

جب جناب جعفرکی موت کی خبر آئی تو آپ نے فرمایا:
جعفر  کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کرو کیونکہ وہ مصیبت زدہ ہیں۔,6
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میت کی موت پر سیاہ لباس پہننے کی حد معین کی ہے۔
پیغمبر السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تواتر کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ آپ(ص) نے عورت کے لئے شوہر کے علاوہ دوسروں کی موت پر سیاہ لباس پہننے کی حد تین دن مقرر کی ہے اور شوہر کی موت پر چار ماہ دس دن۔ جیسا کہ قرآن میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۳۴ میں فرمایا گیا ہے:
وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْھُرٍ وَعَشْرًا۔
اور تم میں جو وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار ماہ دس دن اپنے آپ کو انتظارمیں رکھیں۔,7
 
 
 

میت پر رونے میں اصل وجہ اختلاف

          گزشتہ سطور میں ہم دلائل کے ساتھ تحریر کر چکے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرنے سے قبل اور مرنے کے بعد گریہ کیا خاص کر شہید پر، اور شہید پر رونے کا حکم بھی دیا ہے۔ علاوہ اس کے آپ(ص) اپنی ماں کی قبر پر روئے اور آپ نے ارد گرد کے لوگوں کو بھی رلایا۔ میت کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کرنے کا بھی حکم دیا اور عورت کے لئے شوہر کے علاوہ دیگر مرنے والوں کے سوگ میں سیاہ کپڑا پہننے کی حد معین کی۔ بنا بریں میت پر رونا اس کے سوگ میں سیاہ لباس پہننا اور اس کے خاندان کے لئے کھانا تیار کرنا سنت رسول(ص) میں داخل ہیں۔ پھر اس مسئلے میں اختلاف اور میت پر رونے سے منع کرنے کی وجہ کیا ہے؟ اگر ہم صحیح بخاری اور مسلم کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ رونے سے منع کرنے والی روایت حضرت عمرسے مروی ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رونے سے منع کیا ہے لیکن ام المومنین عائشہ  اس روایت کو غلط ٹھہرا رہی ہیں۔
حضرت ابن عباس  سے مروی ہے:
جب حضرت عمرزخمی ہوئے توصہیب روتے ہوئے داخل ہوئے اور کہنے لگے: ہائے میرا بھائی ! ہائے میرا ساتھی!۔ پس حضرت عمر نے کہا:اے صہیب! کیا تم روتے ہو؟ جبکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: بیشک میت پر اس کے گھروالوں کے رونے سے میت عذاب میں مبتلا ہوتی ہے۔
حضرت ابن عباسکہتے ہیں:
جب حضرت عمرکی وفات ہوئی تو میں نے اس کا ذکر حضرت عائشہسے کیا۔ حضرت عائشہنے کہا: خدا عمرپر رحم کرے۔ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ خدا مومن پر اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب کرتا ہے، بلکہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافر پر اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب سے عذاب کرتا ہے۔ پھر حضرت عائشہنے کہا: تمہارے لئے قرآن کا یہ فرمان کافی ہے:
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔,8
اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
پھر ابن عباس  نے کہا: اللہ کی قسم اس نے رلایا بھی اور ہنسایا بھی۔ ,9
حضرت عائشہکے پاس اس بات کا تذکرہ ہوا کہ ابن عمرنبی اکرم(ص) سے یہ روایت کرتے ہیں کہ جب میت پر اس کے اہل خانہ روتے ہیں تو اس پر قبر میں عذاب نازل ہوتا ہے۔ حضرت عائشہنے فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایاتھا کہ وہ اپنی خطاؤں یا گناہوں کے سبب سے عذاب میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر روتے ہیں۔
اس سے پہلی روایت میں ہے کہ جب حضرت عائشہ  کے پاس ابن عمر  کا یہ قول نقل ہوا کہ میت کے اہل خانہ جب اس پر گریہ کرتے ہیں تو اس کے سبب سے میت پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ حضرت عائشہبولیں:
خدا ابو عبدالرحمان پر رحم کرے اس نے ایک چیز سنی اور اسے یاد نہیں رکھی۔ بات اتنی سی ہے کہ ایک یہودی کا جنازہ جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا وہ لوگ اس پر رو رہے تھے۔ اس وقت آپ نے فرمایا: تم لوگ رو رہے ہو جبکہ اس پر عذاب ہو رہا ہے۔,10
امام نووی(متوفی ۱۷۷ ئھ) صحیح مسلم کی شرح میں ان روایات کے بارے میں کہ جن میں میت پر رونے سے منع کیا گیا ہے، کہتے ہیں: یہ روایات عمر بن خطاب  اور ان کے بیٹے عبداللہ سے مروی ہیں حالانکہ حضرت عائشہنے ان کی نفی کی ہے اور اس بات کو ان دونوں کے سہو و نسیان اور غلطی پر محمول کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ نبی نے ایسا فرمایا۔,11
جو حدیث ہم بعد میں بیان کرنے والے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اختلاف
رائے کا سبب رونے کے جواز پر سنت رسول(ص) کے مقابلے میں نہ رونے کی حمایت میں حضرت عمر  کا ذاتی اجتہاد تھا چنانچہ حدیث میں مذکور ہے کہ آل رسول میں سے ایک شخص انتقال کر گیا تو عورتیں روتی ہوئی جمع ہو گئیں۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر  اٹھے اور انہیں منع کرنے لگے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
دعھن یا عمر فان العین دامعة و القلب مصاب والعھد قریب۔12
اے عمر انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھیں گریاں ہیں، دل مصیبت زدہ ہیں اور (میت کی ) یادتازہ ہے
بنا بریں میت پر رونے کے مسئلے میں اختلاف کی وجہ اس سلسلے میں کتب صحاح میں مروی متعارض اور متضاد روایات ہیں دراصل رونے سے ممانعت کے حق میں حضرت عمرکا ذاتی اجتہاد میت پر گریہ کی ممنوعیت پر مشتمل روایات کا سر چشمہ ہے۔ اسی لئے مذکورہ روایات کے علاوہ کچھ اور روایات بھی حضرت عمرکے اجتہاد کی تائید کے لئے نقل کی گئی ہیں۔ اختصار کے پیش نظر یہاں ان روایات کی وجوہات کو بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ جو کچھ ہم بیان کر چکے ہیں وہ ہمارے موضوع بحث یعنی گریہ والے مسئلے میں اختلاف کی وجہ معلوم کرنے کے لئے کافی ہے۔
 
 
حوالہ جات
۱ صحیح بخاری باب مناقب خالد بن الولید ج۲ صفحہ ۲۰۴ طبع عیسیٰ البابی الحلبی مصر
2 صحیح بخاری، باب قول النبی انا بک لمحزونون ج۱ صفحہ ۱۵۸، صحیح مسلم باب رحمتہ بالصبیان و العیال حدیث نمبر ۶۲، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النظر الی ا لمیت ج۱ صفحہ ۴۷۳ حدیث نمبر ۱۴۷۵، طبقات ابن سعد ج۱ صفحہ ۸۸، مسند امام احمد ج۳ صفحہ ۱۹۴ طبع مصر
3        آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کی عورتوں کے لئے جو دعا فرمائی تھی شاہ عبد الحق محدث دہلوی نے اپنی تصنیف ”مدارج النبوة“ میں ان عربی الفاظ میں نقل کی ہے۔
          رضی اللہ عنکن و عن اولاد کن و عن اولاد اولاد کن۔ ”اے میرے چچا شہید پر ماتم کرنے والی انصار مدینہ کی عورتو! اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو، تمہاری اولاد کی اولاد سے بھی راضی ہو“ (مدارج النبوة ج۲ صفحہ ۱۸۲ طبع کانپور)
4       طبقات ابن سعد ج۳ صفحہ ۱۱، امتاع الاسماع ج۱ صفحہ ۱۶۳، مسند امام احمد ج۲ صفحہ ۴۰
5       سنن نسانی باب زیارة قبر المشرک ج۱ صفحہ ۲۶۷، سنن ابی داؤد باب زیارة القبور ج۳ صفحہ ۲۱۸ حدیث نمبر ۳۲۳۴، سنن ابن ماجہ باب ما جاء فی زیارة قبور المشرکین ج۱ صفحہ۵۰۱ حدیث نمبر ۱۵۷۲۔
6        سنن ابن ماجہ باب ا جاء فی الطعام یبعث الی اھل البیت ج۱ صفحہ ۵۱۴ حدیث نمبر ۱۶۱۰،۱۶۱۱۔ سنن ترمذی ج۴ صفحہ ۲۱۹ باب ما جاء فی الطعام، امام ترمذی اس حدیث کے ذیل میں فرماتے ہیں ہذا حدیث صحیح ۔ سنن ابی داؤد باب صنعة الطعام لاھل ا لمیت ج۳ صفحہ ۱۹۵ حدیث نمبر ۳۱۳۲، مسند امام احمد ج۱صفحہ ۲۰۵، ج۶ صفحہ ۳۷۰
7        صحیح بخاری باب حداد المرأة علی غیر زوجہا ج۱ صفحہ ۱۵۴، صحیح مسلم باب وجوب الاحداد فی عدة الوفاة حدیث نمبر ۱۴۸۶،۱۴۸۷، ۱۴۹۰،۱۴۹۱۔ سنن ابی داؤد باب حداد المتوفی عنھا زوجھا ج۲ صفحہ ۲۹۰ حدیث نمبر ۲۹۹، سنن ترمذی باب ما جاء فی عدة المتوفی عنھا زوجھا ج۵ صفحہ ۱۷۱، مسند امام احمد ج۵ صفحہ ۸، ج۶ صفحہ ۱۸۴،۲۴۹
8        سورة الانعام ۱۶۵
9        صحیح بخاری باب قول النبی یعذب ا لمیت ببکاء اھلہ علیہ ج۱ صفحہ ۱۵۵، صحیح مسلم باب ا لمیت یعذب ببکاء اھلہ علیہ صفحہ ۶۴۱۔
10        صحیح مسلم باب المیت یعذب ببکاء اھلہ صفحہ ۶۴۲، سنن ترمذی باب ماجاء فی الرخصة فی البکاء علیٰ المیت ج۴ صفحہ ۲۲۵، سنن ابی داؤد کتاب الجذائز ج۳ صفحہ ۱۹۴ حدیث نمبر ۳۱۲۹
11        شرح النووی بھامش صحیح مسلم ج۶ صفحہ ۲۲۸ المطبعة المصریہ ۱۳۴۹ھ۔
12        سنن نسائی باب الرخصة فی البکاء علی ا لمیت، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی البکاء علی المیت صفحہ ۵۰۵ حدیث نمبر ۱۵۸۷، مسند امام احمد ج۲ صفحہ ۱۱۰،۲۷۳

http://shiastudies.com/ur/301/%d9%85%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%da%af%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%81/

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.