علمائے اہل سنت سے مناظرے

علمائے اہل سنت سے مناظرے

امام جعفر صادق علیہ السلام کی پیروی کیوں نہیں کرتے؟
حسین بن عبد الصمد کہتے ہیں: جب میں شہر حلب میں وارد ہوا تو وہاں پر ایک حنفی عالم جو بہت سے علوم وفنون میں ماہر تھا اور اس کا شمار محققین میں ہوتا تھا اور وہ دھوکا دھڑی سے پاک تھا۔اس نے مجھے اپنے گھر پر ہی ٹھہرا لیا۔
بات چیت ہوتے ہوتے تقلید کی بات چھڑ گئی اور پھر ہوتے ہوتے یہی موضوع ہمارے مناظرہ کا محور ہوگیا۔
حسین: ”تم لوگوں کے نزدیک کیا قرآن ،احادیث یا سنت میں سے کوئی ایسی دلیل موجود ہے جس کے ذریعہ ثابت ہو سکے کہ ابو حنیفہ کی تقلید اور پیروی ہم پر واجب ہے ؟“
حنفی: ”نہیں اس طرح کی کوئی آیت یا روایت وارد نہیں ہوئی ہے“۔
حسین: ”کیا مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہم ابو حنیفہ کی پیروی کریں ؟“
حنفی عالم: ”نہیں اس طرح کی کوئی آیت یا روایت وارد نہیں ہوئی ہے“۔
حسین: ”تو پھر کس دلیل کی بنا پر تمہارے لئے ابو حنیفہ کی تقلید جائز ہے ؟“
حنفی عالم: ”ابو حنیفہ مجتہد اور میں مقلد ہوں اور مقلد پر واجب ہے کہ وہ کسی ایک مجتہد کی تقلید کرے“۔
حسین: ”جعفر بن محمد علیہ السلام جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے نام سے مشہور ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟“
حنفی عالم: ”جعفر بن محمد علیہ السلام کا مقام اجتہاد میں بہت اونچا ہے اور وہ علم و تقویٰ میں سب سے زیادہ بلند تھے ان کی توصیف ممکن نہیں ہمارے بعض علماء نے ان کے جن چارسو شاگردوں کے نام گنا ئے ہیں وہ سب کے سب نہایت پڑھے لگے اور قابل اشخاص تھے انھیں لوگوں میں سے ابو حنیفہ بھی تھے“۔
حسین: ”تم اس بات کا اعتراف کر رہے ہو کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مجتہد تھے ،پائے کے عالم دین اور صاحب تقویٰ تھے ہم شیعہ اسی لئے ان کی تقلید کرتے ہیں ان باتوں کے باوجود تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم گمراہ ہیں اور تم ہدایت کی راہوں پر گامزن ہو؟
جب ہمارا عقیدہ یہ بھی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام معصوم تھے اور غلطی نہیں کر سکتے ، ان کا حکم خدا کا حکم ہوتا ہے اور اس بارے میں ہم بہت سے دلائل متفقہ بھی رکھتے ہیں وہ ابو حنیفہ کی طرح قیاس اور استحسان کی بنیاد پر فتویٰ نہیں دیتے تھے، ابو حنیفہ کے فتوے میں غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کے فتوی میں ایسا کوئی امکان نہیں پایا جاتا تھا،بہر حال امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کے متعلق بحث چھوڑتے ہوئے اس وقت میں صرف آپ کی ایک بات پر کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے خود کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مجتہد تھے لیکن ہمارے پاس ایسے دلائل موجو دہیں جن کے ذریعے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ مجتہد صرف امام جعفر صادق علیہ السلام تھے“۔
حنفی عالم: ”اس انحصار کے لئے تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ مجتہد صرف امام جعفر صادق علیہ السلام تھے۔
حسین: ہماری چند دلیلیں ہیں:
۱۔ ہماری پہلی دلیل یہ ہے کہ اس بات کا تو آپ نے بھی اعتراف کیا ہے اور آپ کے علاوہ اسلام کے چاروں مشہور فرقے یہ بات قبول کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام علم و تقویٰ اور عدالت میں تمام لوگوں سے افضل و برتر تھے میں نے اس بات میں کسی کو اعتراض کرتے ہوئے نہیں سنا،تمام اسلامی ادیان کی احادیث وروایات کی کتابوں میں کوئی کہیں یہ نہیں دکھا سکتا کہ کسی نے امام علیہ السلام کے کسی عمل پر اعتراض کیا ہو جب کہ وہ لوگ شیعوں کے حد درجہ دشمن تھے اور حکومت وقت ہمیشہ ان کے ہاتھوں میں رہنے کے باوجود کسی دشمن نے بھی آپ کی طرف کوئی ایسی بات منسو ب نہیں کی (۲) یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو ان کے علاوہ کسی اور مسلک کے امام میں موجود نہیں ہے۔
لہٰذا بغیر کسی تردید کے تقلید اس کی واجب ہو گی جو علم و فضل و تقویٰ اور عدالت میں سے افضل و برتر ہو، اور محققین اس بات پر اجماع رکھتے ہیں کہ اچھے اور مدلل فتووں کی موجودگی میں کمزور اور غیر مستند فتاوی پر عمل کرنا جائز نہیںہے۔
اس بنا پر یہ کیونکر جائزہوسکتا ہے کہ اس شخص کی تقلید ترک کریں جس کی سبھی اسلامی علماء افضلیت کا اقرار کرتے ہیں، اور ایسے شخص کی تقلید کریں جس کے یہاں شک و تردید پایا جاتا ہو!،اور چونکہ مسئلہ تقلید میں شک و تردید کا نہ ہونا عدالت سے بھی زیادہ اہم ہے، چنانچہ یہ بحث اپنے مقام پر کی گئی ہے۔
علمائے حدیث میں سے تمہارے ایک امام ”امام غزالی“ ہیں جنھوں نے ابو حنیفہ پر تنقید کرتے ہوئے ”المنخول“ نامی کتاب لکھی ہے، اسی طرح شافعی کے بعض شاگردں نے بھی ”النکت الشریفہ فی الردّ علی ابی حنیفہ“ نامی کتاب لکھی ہے۔
اس بنا پر اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ تقلید اسی شخص کی جائز ہے جس کے علم و تقویٰ اور عدالت پر سبھی کا اتفاق ہو، اور تمام اہل تحقیق کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب راجح (افضل) فتویٰ موجود ہے تو پھر مرجوح (غیر افضل) فتویٰ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
۲۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ امام جعفرصاد ق علیہ السلام ہم شیعوں کے عقیدہ کے مطابق اہل بیت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک فرد سے ہیں جس کی آیہٴ تطہیر نے صراحت کی ہے اور اس بنا پر وہ ہر طرح کی نجاست اور پلیدی سے پاک ہیں جیسا کہ لغوی علامہ ابن فارس صاحب کتاب ”معجم مقاییس اللغة“نے خود اپنی کتاب ”مجمل اللغة“میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اہل بیت میں شامل ہیں جب کہ ابن فارس اہل تسنن کے مشہورو معروف عالم دین ہیں اور یہ وہی مقام طہارت ہے جس کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام کے متعلق شیعوں کا اعتقاد ہے لیکن ابو حنیفہ کے بارے میں اجماع ہے کہ وہ اہل بیت علیہم السلام میں سے نہیں ہے لہٰذا قرآن کے مطابق ہمیں ایسے افراد کی تقلید کرنا چاہئے جو تمام خطا اور نجاست سے پاک اور منزہ ہوں تاکہ مقلدین یقین کی منزل تک پہنچیں اور نجات یافتہ ہوں۔
حنفی عالم: ”ہم اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اہل بیت رسول میں ہیں بلکہ ہمارے لحاظ سے آیہ تطہیر صرف پانچ افراد(پنجتن) ہی کو شامل کرتی ہے“۔
حسین: ”بالفرض اگر ہم قبول بھی کرلیںکہ امام جعفر صادق علیہ السلام ان پانچ میں سے نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان کا حکم اور ان کی پیروی تین دلیلوں سے انھیں پانچ افراد کی مانند ہوگی“۔
۱۔جو شخص بھی پنجتن کی عصمت کا معتقد ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کو بھی قبول کر تا ہے اور جو بھی پنجتن کی عصمت کا قائل نہیں ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی عصمت کا بھی قائل نہیں ہے۔پنجتن کا معصوم ہونا قرآن کی آیہٴ تطہیر سے ثابت ہے بس اسی وجہ سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی بھی عصمت ثابت ہوتی ہے کیونکہ علمائے اسلام اس بات پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ امام جعفرصاد ق علیہ السلام کی عصمت میں کوئی فرق نہیں ہے اور امام جعفرصادق علیہ السلام کی عصمت کا قائل نہ ہو کر پنجتن کی عصمت کا قائل ہونا یہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔
۲۔راویوں اور مورخین کے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور ان کے آبائے اجداد نے تحصیل علم کے لئے کسی کے سامنے زانوئے ادب تہہ نہیں کیا اور یہ بھی کہیں پر نقل نہیں ہوا کہ ان لوگوں نے علماء اور مصنفین کے دروس میں شرکت کی ہو بلکہ تمام لوگوں نے یہ نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد (امام محمد باقر علیہ السلام)سے اور امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد اور انھوں نے اپنے والد امام حسین علیہ السلام سے علم حاصل کیا اور اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ امام حسین علیہ السلام اہل بیت نبی میں سے ہیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ائمہ معصومین علیہم السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی باتیں اور اقوال اجتہاد کا نتیجہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی ان کے پاس سوال کرنے گیا تو وہ جواب لے کر واپس آتا تھا، اور جواب دینے میں کسی چیز کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، اس سلسلہ میں خود آپ نے تصریح کرتے ہوئے فرمایاہے: ہم لوگوں کی تمام باتوں کا منبع ہمارے بزرگ آباء واجداد ہیں اور ہمارے پاس جو بھی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکا قول ہے اور یہ بات صحیح طریقہ سے ثابت ہے۔
پس نتیجہ یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اقوال وہی ہیں جو اقوال ان ذوات مقدسہ کے ہیں جن کے لئے آیہ تطہیر نے پاک وپاکیزہ ہونے کی ضمانت لی ہے۔
۳۔تمہاری صحیح روایتوں میں متعدد طریقوں سے حدیث ثقلین نقل ہوئی ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا ہے:
”انی تارک فیکم ما ان تمسکتم بہما لن تضلوا بعدی الثقلین کتاب الله و عترتی ، اہل بتی ۔۔۔“(۳)
”میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں اور جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے کبھی میرے بعد گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت میرے اہل بیت“
یہ حدیث واضح طور پر یہ بیان کر رہی ہے کہ قرآن و عترت سے تمسک موجب ہدایت ہوتا ہے اور تمام اسلامی فرقوں میں صرف مذہب شیعہ ہی ایسا فرقہ ہے جس نے ان دونوں سے تمسک اختیار کیا کیونکہ شیعوں کے علاوہ دوسرے لوگوں نے دوسرے لوگوں سے تمسک اختیار کیا۔
حدیث ثقلین میں یہ نہیں آیا ہے کہ ہم نے تمہارے درمیان قرآن اور ابو حنیفہ یا قرآن اور شافعی کو چھوڑا ہے ، پس ممکن ہے کہ عترت رسول کے علاوہ دوسرے لوگوں سے تمسک کیا جائے

(۱) یہ مناظرے چند سال قبل عربی زبان میں ”مناظرة الشیخ حسین بن عبد الصمد“ نامی کتاب میں ”موسسہ قائم آل محمد (ص)“ سے چھپ چکی ہے۔
(۲)امام جعفر صادق علیہ السلام (متوفی ۱۴۸ھ)فقہ تشیع کے مروج، ابو حنیفہ (متوفیٰ ۱۵۰ھ)اور مالک بن انس (متوفیٰ ۱۷۹ھ)کے استادہیں اس طرح سے آپ سنی مذہب کے دو معروف مسلک ،حنفی ومالکی کے اماموں کے استاد رہے اسی لئے ابو حنیفہ کا یہ کہنا تھا ”لولا السنتان لھلک النعمان“اگر وہ دو سال (جو میں نے امام جعفر صادق علیہ السلا م کی خدمت میں گزارے ہیں)نہ ہوتے تو نعمان (ابو حنیفہ )ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح مالک بن انس کا کہنا ہے ”مارایت افقہ من جعفر بن محمد “میں نے جعفر بن محمد(امام صادق علیہ السلام ) سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا ، (فی سبیل الوحدة الاسلامیة ص۶۳و۶۴)۔
(۳) یہ حدیث مشہور و معروف ہے اور شیعہ و سنی کتابوں میں موجود ہے۔
اور اس طرح کا تمسک اختیار کرنے والا بھی نجات پائے ؟ہماری یہ بات یہ تقاضا کرتی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی تقلید کی جائے اور اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی پیروی ابو حنیفہ کی شک آمیز تقلید پر ہزار فوقیت رکھتی ہے۔

http://shiastudies.com/ur/250/%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%a7%db%81%d9%84-%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1%db%92/

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.