عزاداری امام حسین علیہ السلام پر ہونے والے اعتراضات اور ان کا جواب (دوسرا حصہ)

0 4

عزاداری امام حسین علیہ السلام پر ہونے والے اعتراضات اور ان کا جواب (دوسرا حصہ)

عزاداری امام حسین علیہ السلام پر ہونے والے اعتراضات اور ان کا جواب (دوسرا حصہ) گذشتہ حصے میں ہم نے ان دو اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی تھی کہ واقعہ کربلا کو زندہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور آیا واقعہ کربلا کو صرف بحث و گفتگو اور کانفرنسز و سیمینارز وغیرہ کے انعقاد سے ہی زندہ نہیں رکھا جا سکتا؟ اس حصے میں ہم چند مزید اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ 3. واقعہ کربلا کو یاد کر کے گریہ و عزاداری کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ایک اور اعتراض جو عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پر کیا جاتا ہے وہ یہ کہ کسی شخصیت یا واقعے کی نسبت انسان کے احساسات و جذبات کو ابھارنے کا واحد راستہ گریہ و زاری اور عزاداری نہیں ہے بلکہ اور بھی کئی راستے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر جشن اور خوشی منا کر بھی ہم اپنے اندر ایک شخصیت کی نسبت احساسات اور عواطف کو ابھار سکتے ہیں۔ پس امام حسین علیہ السلام کے بارے میں اپنے احساسات اور جذبات کو ابھارنے کیلئے کیوں جشن اور خوشی کا راستہ اختیار نہیں کیا جاتا؟ کیوں گریہ و زاری اور عزاداری کا طریقہ بروئے کار لایا جاتا ہے؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود احساسات و عواطف کئی قسم کے ہیں۔ مثال کے طور پر غم کا احساس، خوشی کا احساس، محبت کا احساس، نفرت کا احساس وغیرہ وغیرہ۔ لہذا جب ہم کسی شخصیت یا واقعے کی نسبت انسانی احساس کی بات کرتے ہیں تو انتہائی واضح اور فطری امر ہے کہ یہ احساس اس واقعے کی مناسبت سے ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی واقعہ ایک غم انگیز واقعہ ہے تو اس کی نسبت انسان کے اندر غم کا احساس پیدا ہونے کی بات ہو گی اور اگر کوئی واقعہ خوشی کا واقعہ ہے تو اس کی نسبت انسان کے اندر خوشی کا احساس پیدا ہونے کی بات کریں گے۔ واقعہ کربلا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اسلامی تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ ایک انتہائی عظیم واقعہ ہے جس میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی لہذا جب انسان کے اندر اس کی نسبت احساسات و جذبات ابھارنے کی بات کی جائے گی تو قدرتی طور پر غم کا احساس مراد ہو گا نہ کوئی اور احساس۔ سید الشہداء نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امام حسین علیہ السلام نے اپنی مظلومانہ شہادت کے ذریعے قیامت تک کے انسانوں کو انقلاب، قیام، مزاحمت اور ثابت قدمی کا درس دیا ہے۔ ان کی یاد کو تازہ کرنے کیلئے صرف جشن و سرور کی محفلیں منعقد کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ایسے اقدامات انجام دینے کی ضرورت ہے جو واقعہ کربلا سے مناسبت رکھتے ہوں۔ یعنی لوگوں میں امام حسین علیہ السلام کے مصائب اور ان کی مظلومیت پر غم اور حزن کا احساس ابھاریں، آنسو جاری ہوں، دلوں میں امام حسین علیہ السلام کی محبت اور ان سے ہمدردی کے جذبات ابھریں تاکہ انسانی قلوب امام حسین علیہ السلام کی جانب متوجہ ہوں اور ان کے اس عظیم درس کو حاصل کر سکیں۔ ایسا کام صرف اور صرف مجالس عزاداری اور امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت پر گریہ و زاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جشن و سرور کبھی بھی ایک انسان میں شوق شہادت اور ظلم سے بیزاری کے جذبات پیدا نہیں کر سکتا۔ شہادت طلب انسان بننے کیلئے دل کا جلنا، گریہ و زاری اور عزاداری کی ضرورت ہے۔ لہذا کربلا کا مشن عزاداری اور گریہ و زاری کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ 4. امام حسین علیہ السلام پر گریہ و عزاداری کے کیا فوائد ہیں؟سید الشہداء امام حسین علیہ السلام اور شہدای کربلا کی عزاداری منانے اور ان کی یاد میں گریہ کرنے کے بے شمار فوائد اور برکات ہیں۔ ہم ان میں سے بعض اہم فوائد کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ الف)۔ اسلام ناب اور خالص کے طور پر مکتب اہل بیت علیھم السلام کی حفاظت:امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاداری انسانوں کی بیداری کا ایک انتہائی طاقتور عامل ہیں۔ کربلا کا راستہ ایسا راستہ ہے جو سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا تاکہ اس طرح سے اسلام کی بقاء اور تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان مجالس عزا کی اہمیت اور ائمہ اطہار علیھم السلام کی جانب سے ایسی مجالس برپا کرنے پر خصوصی تاکید کا راز اس وقت سمجھ میں آتا ہے جب ہم تاریخ کا ایک مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جس زمانے میں یہ روایات ائمہ معصومین علیھم السلام کی جانب سے صادر ہوئیں شیعیان اہلبیت علیھم السلام شدید گوشہ نشینی کے عالم میں رہ رہے تھے اور اموی اور عباسی حکومتوں کی جانب سے اس قدر شدید دباو کا شکار تھے کہ حتی چھوٹی سے چھوٹی سطح پر اجتماعی یا سیاسی سرگرمیاں انجام دینے سے قاصر تھے۔ حتی یہ خطرہ بھی موجود تھا کہ شیعیان حیدر کرار مکمل طور پر صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائیں۔ لیکن انہیں مجالس عزا اور غم حسین علیہ السلام نے ان کی نجات کا زمینہ فراہم کیا اور انہیں نئے سرے سے منظم کیا جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شیعہ اسلامی معاشرے میں ایک مضبوط طاقت بن کر ابھرے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ائمہ معصومین علیھم السلام سے جاری ہونے والی روایات میں عزاداری امام حسین علیہ السلام کو “اہلبیت علیھم السلام کے امر کو زندہ کرنے” کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام مجالس عزا کے بارے میں فرماتے ہیں:إِنَّ تِلْکَ الْمَجالِسَ أُحِبُّها فَأَحْیُوا أمْرَنا”مجھے اس قسم کی مجالس پسند ہیں، اس طرح سے ہمارے مکتب کو زندہ رکھیں”۔ بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی رحمہ اللہ علیہ عزاداری کے بارے میں فرماتے ہیں:”ہم سب کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ وہ چیز جو وحدت بین المسلمین کا باعث بن سکتی ہے یہ سیاسی مجالس یعنی ائمہ معصومین علیھم السلام کی عزاداری کی مجالس خاص طور پر سید مظلومان اور سرور شہیدان حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ہیں۔ یہ مجالس مسلمانوں کی قومیت خاص طور پر شیعیان ائمہ اثنا عشری علیھم السلام کی محافظ ہیں”۔ حتی غیرمسلم افراد بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فرانس کے معروف دانشور جوزف فرانسوی اپنی کتاب “اسلام اور مسلمین” میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عصر اسلام کی ابتدائی صدیوں میں شیعیان علی علیہ السلام کی تعداد انتہائی کم تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی حکومت تک رسائی نہ ہونے کے برابر تھی اور دوسری طرف اس دور کے حکمران ان پر بے پناہ ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور ان کو قتل اور ان کے اموال کو لوٹ لیا کرتے تھے لکھتا ہے: “شیعوں کے اماموں میں سے ایک امام نے انہیں تقیہ کا حکم دیا تاکہ اس طرح ان کی جانیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ یہی عمل باعث بنا کہ شیعہ آہستہ آہستہ طاقت پکڑتے جائیں کیونکہ دشمن کے پاس شیعوں کو قتل کرنے اور ان کے اموال لوٹنے کا کوئی بہانہ ہی نہیں بچا تھا۔ شیعیان مخفیانہ طور پر مجالس و محافل کا انعقاد کیا کرتے تھے اور حسین علیہ السلام کے مصائب پر گریہ و زاری کرتے تھے۔ اس طرح سے شیعوں کے دل میں یہ احساس اور دلی توجہ مضبوط ہوتی گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شیعوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور انہوں نے ترقی کرنا شروع کر دی۔ اس ترقی کی سب سے بڑی وجہ حسین علیہ السلام کی مجالس عزا کا انعقاد تھا جو دوسرے مسلمانوں کو بھی شیعہ مذہب کی جانب راغب کرنے کا باعث بنیں۔ ہر شیعہ درحقیقت لوگوں کو اس انداز میں اپنے مذہب کی جانب دعوت دیتا ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا بلکہ شائد خود شیعوں کو بھی اپنے اس عمل میں پوشیدہ اس عظیم فائدے کا علم نہیں ہو گا۔ وہ صرف آخرت کے ثواب کیلئے یہ کام کرتے ہیں”۔ ب)۔ شیعوں کے درمیان اتحاد کی فضا کا قیام اور باطل حکومتوں کا متزلزل ہونا:ائمہ معصومین علیھم السلام نے عزاداری امام حسین علیہ السلام پر تاکید کے ذریعے امام حسین علیہ السلام کی شخصیت کو مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد کے “مرکز و محور” میں تبدیل کر دیا جیسا کہ آج ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہر سال مختلف مذاہب، طبقات اور قوموں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں انسان مجالس عزا کی برپائی اور غم حسین علیہ السلام منانے کیلئے آپس میں اکٹھے ہوتے ہیں اور حسینی رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ ہر قوم اپنی بقاء اور کامیابی کیلئے ایک وحدت و اتحاد کے مرکز اور محور کی محتاج ہوتی ہے۔ بے شک پیروان مکتب اہلبیت علیھم السلام کی وحدت کا ایک بہترین عامل مجالس عزای حسین علیہ السلام ہیں جن میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ کم از کم محنت اور اخراجات کے ذریعے کروڑوں افراد کو ایک جگہ اکٹھا کر دیں اور ان میں قلبی رابطہ ایجاد کر دیں۔ بالتحقیق اگر کوئی قوم اس قابل ہو جائے کہ کم ترین وقت میں کم از کم اطلاع رسانی کے ذریعے اپنے بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک مرکز کے گرد اکٹھا کر کے انہیں منظم کر سکے تو ایسی قوم اپنی ترقی میں درپیش ہر رکاوٹ کو برطرف کرنے کی صلاحیت سے برخوردار ہو جائے گی۔ درحقیقت ائمہ معصومین علیھم السلام نے اپنے شیعوں کو مجالس حسینی کی برپائی پر تاکید کرتے ہوئے ان کو انتشار سے بچایا ہے اور بکھرے ہوئے افراد کو اکٹھا کیا ہے اور ان میں اتحاد اور وحدت ایجاد کر کے انہیں ایک عظیم طاقت کا مالک بنا دیا ہے۔ محرم اور صفر کے مہینوں خاص طور پر تاسوعا اور عاشورا کے روز ایران کے کروڑوں مسلمانوں کی جانب سے خودجوش انداز میں اسلامی انقلاب کی تحریک کا آغاز جس نے طاغوتی قوتوں پر لرزہ طاری کر دیا تھا اس راز سے پردہ اٹھاتا ہے جو ائمہ اطہار علیھم السلام کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کو محور و مرکز قرار دینے پر تاکید میں مضمر تھا۔ جرمنی کے معروف دانشور ماربین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:”ہماری بعض تاریخ دان حضرات کی کم اطلاعی اس بات کا سبب بنی کہ وہ شیعوں کی عزاداری کو ایک قسم کی دیوانگی اور پاگل پن قرار دیں۔ ان لوگوں کی یہ بات بیہودہ ہے اور شیعوں پر تہمت ہے۔ ہم نے دنیا کی تمام اقوام اور ملتوں کے درمیان شیعہ قوم جیسی پرجوش اور زندہ دل قوم نہیں دیکھی کیونکہ شیعہ قوم عزاداری حسینی کی برپائی کے ذریعے انتہائی عقل مندانہ سیاست انجام دے رہی ہے اور ایک انتہائی پرثمر مذہبی تحریک کو معرض وجود میں لائی ہے”۔ یہی مصنف ایک اور جگہ یوں کہتا ہوا نظر آتا ہے:”کوئی چیز عزاداری حسینی کی مانند مسلمانوں کے اندر سیاسی بیداری پیدا نہیں کر سکی”۔ اسلام دشمن عناصر کی جانب سے مجالس عزا کے انعقاد کی مخالفت اور ان مجالس کو ختم کرنے کی کوششیں اور حتی امام حسین علیہ السلام کی مرقد مبارک کو منہدم کر کے زیارت امام حسین علیہ السلام کو ختم کرنے کی کوششیں بذات خود اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ظالم حکومتیں کس قدر اس عظیم طاقت سے خوفزدہ تھیں۔ واقعہ کربلا کے بعد والی اسلامی تاریخ پر مختصر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجالس عزاداری اور عاشورا کا پیغام کس قدر خدا کی راہ میں قیام کرنے والے مجاہدوں کیلئے طاغوتی اور ظالم حکمرانوں کے خلاف جہاد کیلئے مشعل راہ ثابت ہوا ہے۔ ج)۔ دینی تربیت اور خودسازی میں بنیادی کردار:امام حسین علیہ السلام کے غم میں برپا ہونے والی مجالس عزا درحقیقت انسان کے اندر روحانی انقلاب پیدا کرنے اور انسانوں کی تربیت اور تزکیہ نفس کے مراکز ہیں۔ وہ افراد جو ان مجالس میں شرکت کرتے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت پر گریہ کرتے ہیں درحقیقت انہیں اپنا رول ماڈل بناتے ہیں اور اپنے عمل و کردار کو ان سے منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان افراد کا امام حسین علیہ السلام کے رنگ میں ڈھل جانے اور ان کی عملی سیرت کے ساتھ مطابقت پیدا ہونے کا باعث بنتی ہے۔ ان مجالس عزا کا اثر اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ اس میں شریک ہونے والے اکثر افراد میں بنیادی روحانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور وہ توبہ کے ذریعے گناہ اور معصیت کو ترک کرنے کا پکا ارادہ کر لیتے ہیں۔ اکثر اوقات ایسے افراد بھی دیکھے جاتے ہیں جو گمراہی کی حالت میں مجالس عزای امام حسین علیہ السلام میں شرکت کرتے ہیں اور ان مجالس کی برکت سے اس گمراہی سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے غم میں برپا ہونے والی مجالس عزا انسان کو عزت، آزادگی، ایثار، فداکاری، تقوی اور اخلاق کا درس دیتی ہیں۔ یہ مجالس درحقیقت حق طلب، عدالت پسند اور شجاع انسانوں کی تربیت کا مرکز ہیں۔ مزید برآں یہ مجالس عزا اپنی پوری تاریخ کے دوران عام لوگوں کیلئے ایک عظیم درسگاہ اور یونیورسٹی کی حیثیت سے کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ان مجالس کے ذریعے عام افراد دینی حقائق، تاریخ اسلام، رجال شناسی، شرعی احکام اور مختلف موضوعات کے بارے میں وسیع پیمانے پر معلومات حاصل کرتے آئے ہیں۔ دوسری طرف یہ مجالس عزا خودسازی، اخلاقی تربیت اور تزکیہ نفوس کے عظیم مراکز کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی آئی ہیں۔ ائمہ معصومین علیھم السلام نے عزاداری کی بنیاد ڈال کر اور لوگوں کو اس جانب ترغیب دلا کر درحقیقت سب کو اس حسینی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے اور تربیتی مراحل گزارنے کی دعوت دی ہے۔ عالم اسلام میں جہاں بھی کفر و باطل کے خلاف مجاہدانہ جدوجہد پائی جاتی ہے درحقیقت اس کا منشاء وہی حسینی جذبہ ہے جس کا مظاہرہ کربلا کے میدان میں سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں نے کیا۔ د)۔ امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد کی قدردانی اور شعائر اللہ کی تعظیم کرنا:کسی بھی شخص کی وفات پر اس کا سوگ منانا ایک طرح سے اس کو احترام دینے اور اس کی قدردانی کرنے کے مترادف جانا جاتا ہے اور معاشرے میں اس کے مقام کی رعایت کرنے کے معنا میں تصور کیا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:مَیِّتٌ لابَواکِیَ عَلَیْهِ، لا إِعْزازَ لَهُ”ایسی میت جس پر کوئی رونے والا نہ ہو اس کی کوئی عزت نہیں”۔ خاص طور پر اس وقت جب وفات پانے والا شخص کوئی مرد خدا ہو اور خدا کے راستے میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہو چکا ہو۔ کیونکہ اس صورت میں شعائر الہی کی تعظیم کا مسئلہ بھی اس پر صادق آتا ہے۔ ایسے مجاہدین کیلئے سوگواری کرنا درحقیقت ان کی جدوجہد اور شجاعت کو داد دینے اور ان کی راہ کو جاری رکھنے کا عزم کرنے کے معنا میں تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا جب جنگ احد کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ قبیلہ بنی اشہل اور بنی ظفر کے افراد اپنے اپنے شہداء پر گریہ و زاری کرنے میں مصروف ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ پر کوئی نہیں رو رہا تو بہت غمگین ہوئے اور فرمایا:لکِنَّ حَمْزَةُ لابَواکِیَ لَهُ الْیَوْمَ”لیکن آج حمزہ پر کوئی رونے والا نہیں”۔ مدینہ کی خواتین نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ دکھ بھر بات سنی تو حضرت حمزہ کی لاش پر جمع ہو گئیں اور ان کے غم میں سوگواری شروع کر دی اور اس طرح سے حضرت حمزہ جیسی عظیم شخصیت کی تجلیل و تکریم انجام دی اور ان کی قدردانی کی۔ اسی طرح جب جنگ موتہ کے دوران حضرت جعفر طیار کی شہادت کی خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ملی تو وہ پہلے حضرت جعفر طیار کے اہل خانہ کو تعزیت عرض کرنے ان کے گھر گئے اور اس کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے گھر تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا گریہ و زاری کرنے میں مصروف ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:عَلى‏ مِثْلِ جَعْفَرٍ فَلْتَبْکِ الْبَواکِی”جعفر جیسی شخصیت پر رونے والوں کو رونا چاہئے”۔ قرآن کریم میں حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کا تذکرہ ہوا ہے اور ان افراد کے بارے میں جن کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے حضرت موسی علیہ السلام نے ان کیلئے بددعا کی اور اس کے نتیجے میں ان پر عذاب نازل ہوا اور وہ ہلاکت کا شکار ہو گئے خداوند متعال فرماتا ہے:فَمَا بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا کَانُوا مُنظَرِینَ [سورہ دخان، آیہ 29]۔”اور پھر نہ ان پر آسمان [والے] روئے اور نہ زمین [والے]”۔ ان پر کوئی نہ رویا کیونکہ وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ دوسرے ان کے غم میں روتے اور ان کیلئے سوگواری کرتے۔ لہذا قرآن کریم نے اس بات کو ان کے پست اور حقیر ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔ لہذا ائمہ معصومین علیھم السلام نے بھی یہ تاکید کی ہے کہ اپنی زندگی میں لوگوں کیلئے خیر اور برکات کا منشاء بنو تاکہ جب تم مرو تو وہ تم پر گریہ کریں اور اس طرح تمہیں محترم جانیں۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:خالِطُوا النَّاسَ مُخالَطَةً إِن مِتُّمْ مَعَها بَکَوْا عَلَیْکُمْ وَ إِنْ عِشْتُمْ حَنُّوا إِلَیْکُم”لوگوں کے درمیان اس طرح زندگی گزارو کہ اگر تم مر جاو تو وہ تم پر گریہ کریں اور اگر زندہ رہو تو تمہارے ساتھ اظہار محبت کریں”۔ لہذا امام حسین علیہ السلام کے غم میں سوگواری اور عزاداری کرنا، جو ایسی عظیم اور گرانقدر شخصیت کے مالک ہیں کہ نہ صرف خاندان عصمت و طہارت سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ خود بھی اولیای الہی اور امامان معصوم میں شمار ہوتے ہیں، اس عظیم امام کے مقام کی قدردانی اور احترام کے علاوہ شعائر الہی کی تعظیم کا واضح مصداق بھی ہے۔ وہ شعائر الہی جن کے بارے میں خداوند متعال فرماتا ہے:وَ مَنْ یُعَظِّمْ شَعائِرَ اللَّهِ فَإِنَّها مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ [سورہ حج، آیہ 32]۔”جو بھی شعائر الہی کی تعظیم کرتا ہے اس کا یہ کام اس کے دل میں تقوی کی علامت ہے”۔ کیوں ایسا نہ ہو جبکہ صفا اور مروہ جو محض جگہیں ہیں لیکن چونکہ وہاں ذکر الہی انجام پاتا ہے اور خدا کی یاد وہاں زندہ ہوتی ہے لہذا شعائر الہی قرار پائی ہیں۔ إِنَّ الصَّفا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعائِرِ اللَّهِ [سورہ بقرہ، آیہ 158]۔”صفا اور مروہ شعائر الہی میں سے ہیں”۔تو یقینا امام حسین علیہ السلام بھی جنہوں نے اپنا وجود اور سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا اور خلوص نیت کے ساتھ خدا کیلئے ہر چیز گنوا دی عظیم ترین شعائر الہی میں سے ہیں۔ ایسی عظیم شخصیت کے غم میں مجالس عزا کی برپائی درحقیقت عظیم ترین شعائر الہی کی تعظیم شمار ہوتی ہے جس کے انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر بہت خوشگوار اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

مزید  بسم اللہ سورہ حمد کا جزء ہے

http://shiastudies.com/ur/2382/%d8%b9%d8%b2%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%88%d9%86%db%92-2/

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.