اصحاب اور یوم خمیس (روز پنچشنبہ )

اصحاب اور یوم خمیس (روز پنچشنبہ )

بطور اختصار اس قصہ کی حقیقت یہ ہے کہ رسول خدا کی وفات سے تین دن پہلے تمام اصحاب کرام آنحضرت کے گھر میں جمع تھے ۔آپ نے ان سے کہا میرے لئے کتف [1]۔ (پوست یا ہڈی) اور دوات لے آؤ تاکہ تم لوگوں کے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جو تم کو گمراہی سے بچاسکے لیکن اصحاب میں پھوٹ پڑگئی بعض نے صریحی طور پر اظہار نافرمانی کرتے ہوئے آپ پر ہذیان کا الزام لگا یا رسول خدا کو بہت غصہ آیا ۔آپ نے بغیر کچھ لکھے ہوئے سب کو اپنے گھر سے نکال دیا ، لیجئے اس کی قصہ کی تفصیل پرھئیے
ابن عباس کہتے ہیں :- روزپنچشنبہ ! کیا روز پنچشنبہ اسی دن رسول اللہ (ص) کا درد شدید ہوگیا تھا ۔ اور آپ نے فرمایا : لاؤ تم لوگوں کے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس سے تم لوگ بعد میں گمراہ نہ ہوسکو اس پر عمر نے کہا : رسول اللہ پر مرض کی شدت ہے تمہارے پاس قرآن موجود ہی ہے ہمارے لئے بس اللہ کی کتاب کافی ہے (کسی مزید تحریر کی ضرورت نہیں ہے ) اس بات پر اس وقت کے موجود لوگوں میں اختلاف ہوگیا ۔ اور وہ لوگ آپس میں لڑ پڑے ۔کچھ یہ کہہ رہے تھے قلم ودوات دیدو تاکہ نبی ایسی تحریر لکھدیں جس سے بعد میں گمراہ نہ ہو ا جاسکے اور کچھ لوگ وہی کہہ رہے تھے جو عمر نےکہا تھا ۔جب رسول خدا کے پاس توتو میں میں اور شور وغل زیادہ بڑھ گیا ۔ تو آپ نے فرمایا : میرے پاس سے چلے جاؤ ۔ابن عباس کہا کرتے تھے : سب سے بڑی مصیبت وہی تھی کہ ان کے اختلاف وشوروغل نے رسول خدا کوکچھ لکھنے نہ دیا [2]
یہ حادثہ صحیح ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اس کو شیعہ علماء اور ان کے محدثین نے اپنی کتابون میں اسی طرح نقل کیا ہاے جس طرح اہلسنت کے علماء ومحدثین ومورخین نے نقل کیا ہے ۔ اوریہی بات مجھے اپنے معاہدہ کے مطابق مان لینے پر مجبور کررہی ہے ۔یہاں پر حضرت عمر نے رسول اللہ کے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے اس کو دیکھ کرمیں دنگ رہ جاتا ہوں ۔بھلا آپ سوچئے تو آخر معاملہ کیا ہے؟ امت کو گمراہی سے بچانے کا معاملہ ہے اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ اس تحریر میں کوئی ایسی نئی بات ضرور ہوتی جس سے مسلمانوں کا تمام شک وشبہ دور ہوجاتا ۔
شیعوں کی اس بات کو جانے دیجئے کہ :- رسول اللہ خلافت کے لئے حضرت علی (ع) کا نام لکھنا چاہتے تھے ۔اور عمر نے اس بات کو تاڑلیا ۔لہذا انہوں نے تحریر نہیں لکھنے دی ۔۔۔۔ کیونکہ شاید شیعہ حضرات ہم کو اپنی بات سے مطمئن نہ کرسکیں ۔کیونکہ ہم تو شروع ہی سے اس کو نہیں مانتے لیکن اس تکلیف دہ واقعہ کی جس نے رسول کو غضبناک کردیا ۔ یہاں تک کہ آپ نے سب کو اپنے گھر سے بھگا دیا ۔ اور ابن عباس اس کو سوچ سوچ کر اتنا روتے تھے کہ کنکریاں بھیگ جاتی تھیں ۔ کیا اہل سنت کوئی معقول تفسیر کرسکتے ہیں ؟ اور کیا اہل سنت کی اس تاویل کو کوئی بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی تسلیم کرلے گا کہ عمر نے رسول خدا کے مرض کی شدت کا احساس کرلیا تھا ۔لہذا ان کو آنحضرت پر رحم آیا ۔اور منع کرنے سے مقصد یہ تھا کہ رسول کو آرام مل جائے ”
علماء کے قبول کرنے کا سوال ہی نہیں ہوتا ۔ میں نے متعدد مرتبہ کوشش کی کہ حضرت عمر کے لئے کوئی عذر تلاش کرسکوں لیکن واقعہ اتنا سنگین ہے کہ کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے ۔ بلکہ اگر معاذاللہ ہذیان کی جگہ شدت تکلیف ” کی لفظ رکھ دی جائے جب بھی عمر کے اس قول کی کوئی معقول تاویل کا تلاش جوئے لانے سے کم نہیں ہے ” کہ تمہارے پاس قرآن ہے اور ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ” کیا عمر رسول اللہ سے زیادہ جانتے تھے ؟ کہ رسول تو قرآن کے ہوتے ہوئے تحریر کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں مگر عمر کے نزدیک اب تحریر کی ضرورت نہیں ہے ۔ یا پھر رسول کی ذہانت عمر کے مقابل میں صفر تھی؟ یا پھر حضرت عمر یہ کہہ کر لوگوں میں اختلاف وتفرقہ اندازی کرنا چاہتے تھے ۔ استغفراللہ ۔
اس کے علاوہ اگر اہل سنت کی تاویل صحیح مان لی جائے تو کیا رسول خدا پر عمر کی حسن نیت پوشیدہ تھی؟ اور اگر ایسا تھا تو رسول خدا کو عمر کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا نہ ناراض ہو کر سب کو اپنے گھر سے بھگادیں؟
کیا میں پوچھ سکتاہوں کہ جب رسول خدا نے سب کو اپنے گھر سے نکال دیا تو لوگ چپ چاپ کیوں چلے آئے ؟ یہاں پر رسول کی فرمانبرداری کیوں کی ؟ یہ کیوں نہیں کہا کہ رسول ہذیان بک رہے ہیں ؟ وجہ بالکل واضح ہے کیونکہ رسولخدا کو تحریر نہ لکھنے پر ور غلا کراپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے تھے ۔ اس لئے اب رسول کے گھر میں ٹھہرنے سے کوئی فائدہ تو تھا نہیں کیونکہ شوروغل کرکے اور اختلاف پیدا کرکے یہ اپنے مقصد کامیاب میں کامیاب ہوچکے تھے ۔کچھ لوگ کہتے تھے رسول خدا کی مانگ پوری کردو تاکہ وہ تحریر لکھ دیں اور کچھ لوگ وہی کہہ رہے تھے ۔جو عمر نے کہا تھا کہ رسول تو پاگل ہوچکے ہیں (معاذاللہ)
اور معاملہ اتنا سیدھا سادہ نہیں تھا جو صرف عمر کی ذات سے متعلق ہوتا کیونکہ اگر یہ ثابت ہوتی تو( شاید ) رسول خدا کو چپ کروائیے اور مطمئن کردیتے کہ میں وحی کے بغیر گفتگو نہیں کیا کرتا ۔اور ہدایت امت کے بارے میں (یعنی جو بات نبوت سے متعلق ہو اس میں ) تو ہذیان کا سوال ہی نہیں اٹھتا (ورنہ پورا دین قابل اطمینان نہ رہے گا مترجم)بلکہ مسئلہ کچھ اور تھا اور کافی لوگ اس پر پہلے ہی سے تیار تھے اسی لئے جان بوجھ کر رسول خدا کے حضور میں ہلڑ ہنگامہ مچایا اور خدا کے اس فرمان کو بھول گئے یا جان کر بھلا دیا ۔ “یا ایھا الذین آمنوا لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون (پ 26 س 49 (الحجرات)آیہ 2)
ترجمہ:- اے ایماندا رو!(بولنے میں) تم اپنی آواز یں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیا کرو اور جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے زور زور سے باتیں کرتے ہو ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہار کیا کرایا سب اکارت ہوجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
اور قلم وقرطاس کے قضیہ میں آواز اونچی کرنے کا مسئلہ نہیں ہے یہاں تو اس کے ساتھ ساتھ (العیاذ باللہ)آنحضرت پر ہذیان کا الزام بھی لگایا گیا ہے ۔ اور پھر اتنا شوروغل ہوا ہے کہ حضور کے سامنے تو تو ،میں میں ، کی نوبت آگئی ۔
میرا عقیدہ یہ ہے کہ اکثر یت عمر کے ساتھ تھی اس لئے رسول اللہ نے سوچا کہ اب تحریر لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ آنحضرت جانتے تھے کہ اب یہ لوگ نہ میری تحریر کا احترام کریں گے اور نہ ہی امتثال امر کریں گے اس لئے کہ جب یہ لوگ “رفع اصوات ” کے سلسلہ میں خدا کی نافرمانی کررہے ہیں تو پھر میرے احکام کی کہاں سے اطاعت کریں گے ؟
حکمت رسول کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب ان کے لئے کوئی تحریر نہ لکھیں کیونکہ جب ان کی زندگی میں اس کے بارے میں جھگڑا کررہے ہیں تو مرنے کے بعد کیا عمل کریں گے ۔ اور اعتراض کرنے والے کہیں گے ۔ یہ تو پاگل پن میں کہی ہوئی بات کو پاگل پنے میں لکھ ڈالا ہے اس کی کیا اہمیت ہے اور ہوسکتا ہے کہ مرض الموت میں جو احکام آپ نے نافذ فرمائے ہیں اس میں بھی لوگ شک کرنے لگیں ۔اس لئے اب نہ لکھنا بہتر ہے ۔
استغفراللہ ربی واتوب الیہ ” رسول ارکرم کے سامنے اس قسم کی گفتگو پر میں تو بہ کرتا ہوں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنے نفس کو کیسےمطمئن کروں آزادی ضمیر کا سودا کیسے کروں آخر میں اپنے کس طرح سمجھاوں کہ عمر کی یہ حرکت قابل عفو ہوسکتی ہے جبکہ اصحاب اور جو حضرات اس وقت موجود تھے وہ اس واقعہ کو یاد کرکے اتنا رویا کرتے تھے کہ کنکریاں بھیگ جایا کرتی تھیں ۔ اور اس دن کو مسلمانوں کی سب سے بڑی مصیبت کہا کرتے تھے ۔۔۔اسی لئے میں نے تمام تاویلات کو چھوڑ دیا اور میں نے تو چاہا تھا کہ اصل واقعہ ہی کا انکار کردوں اور اس کو جھٹلادوں لیکن صحاح نے نہ صرف یہ کہ اس کو لکھا ہے بلکہ تصحیح بھی کی ہے پھر میں کیا کرسکتاہوں ۔
میرا تو جی چاہتا ہے کہ اس واقعہ کے سلسلہ میں شیعوں کی رائے کو تسلیم کرلوں کیونکہ ان کی تعلیل منطقی ہے ۔ اور اس کے متعدد قرائن بھی ہیں مجھے اب تک یاد ہے کہ جب میں نے سید محمد باقر الصدر سے پوچھا آپ کے خیال کے مطابق حضرت رسول امام علی کی خلافت کے بارے میں تحریر کرنا چاہتے تھے آخر تمام صحابہ کے درمیان سیدنا عمر ہی نے اس بات کو کیوں کر سمجھ لیا یہ تو ان کی ذہانت کی دلیل ہے ؟
اس پر سید صدر نےکہا : صرف عمر ہی نے مقصد رسول کو نہیں سمجھا تھابلکہ اکثر حاضرین نے وہی سمجھا جو عمر نے سمجھا تھا ۔ اس لئے کہ رسول خدا اس سے پہلے بھی فرما چکے تھے کہ میں تمہارے درمیان ثقلین چھوڑ کر جارہا ہوں ایک خدا کی کتاب دوسرے میری عترت واہلبیت جب تک تم لوگ ان دونوں سے تمسک رکھو گے میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ۔ اب مرض الموت میں (تقریبا یہی) فرمایا : لاؤ ایک تحریر لکھ دوں تاکہ اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوسکو ۔ تو تمام حاضرین بزم اور انھیں میں عمر نے بھی یہی سمجھا کہ رسول اللہ نے غدیر خم میں جو بات کہی تھی ۔ اسی کی تاکید تحریری طو رپر کرنا چاہتے ہیں ۔ کہ تم لوگ کتاب خدا اور عترت سے تمسک کرو ۔ اور سید عترت حضرت علی تھے تو گویا دوسرے لفظوں میں اس طرح فرمایا : قرآن وعلی سے تمسک کرو اور اس قسم کی گفتگو دیگر مناسب موقع پر بھی فرماچکے تھے ۔ اور چونکہ قریش کی اکثریت حضرت علی کو ناپسند کرتی تھی ۔ ایک تو اس وجہ سے کہ آپ عمر میں چھوٹے تھے دوسرے اس وجہ سے کہ آپ نے ان کے تکبر کو خاک میں ملایا تھا ان کی ناک رگڑ دی تھی ان کے بہادروں  کو تہہ تیغ کیا تھا ۔مگر اس کے باوجود یہ لوگ رسولخدا (ص) کے خلاف اتنی بڑی جسارت نہیں کرسکتے تھے جتنی صلح حدیبیہ کے موقع پر اور عبداللہ بن ابی منافق کی نماز جنازہ پڑھانے پر کرچکے تھے یا اس قسم کے دیگر مواقع پر اس کا اظہار کرچکے تھے جس کو تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے ۔یہ واقعہ بھی انھیں قسم کے واقعات میں سے ہے ” کہ اس میں بھی جسارت ہے مگر صلح حدیبیہ کے مقابلہ والی نہیں ہے ۔اور اس بد تمیزی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض حاضرین نے بھی جسارت سے کام لینا شروع کردیا اور سی لئے آنحضرت کے پاس شوروغل ہوا ۔
عمر کی بات مقصود حدیث کی پوری مخالفت کررہی ہے کیونکہ یہ کہنا ۔تمہارے پاس قران ہے اور اللہ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے ” صریحی طور سے اس حکم کی مخالفت ہے ۔جس میں کتاب خدا اور عترت رسول دونوں سے تمسک کو کہا گیا تھا عمر کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب بس ہے اور وہی ہمارے لئے کافی ہے ۔ہم کو عترت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔۔اس کے علاوہ اس واقعہ کی اس سے بہتر کوئی معقول توجیہ نہیں ہوسکتی ۔ البتہ اگر کسی کا مطلب صرف اطاعت خدا ہو اطاعت رسول نہ ہو تو اس کی بات الگ ہے ۔مگر یہ بھی غلط ہے اور غیر معقول ہے ۔
میں اگر اندھی تقلید چھوڑ دوں اور جانب داری سے کام نہ لوں اورعقل سلیم وفکر آزاد کو حاکم قراردوں تو اسی تو جیہ کو قبول کرونگا ۔کیونکہ یہ بات اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کہ عمر پر یہ اتہام لگا یا جائے کہ عمر پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے حسبنا کتاب اللہ ” کہہ کر سنت نبوی کو چھوڑا ہے ۔
اور اگر کوئی حاکم سنت نبوی کو یہ کہہ کر چھوڑ دے کہ اس میں تناقضات بہت ہیں تو اس کو مجرم نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس نے تو مسلمانوں کی تاریخ میں گزرے ہوئے واقعات کی پیروی ہے اس کے علاوہ اس حادثہ اور امت مسلمہ کی ہدایت سے محرومی کاذمہ دار میں صرف عمر ہی کو نہیں مانتا بلکہ اسکے تمام وہ صحابہ جو عمر کے موافق تھے اور جنھوں نے حکم رسول کی مخالفت کی تھی سب ہی ذمہ دار ہیں اور برابر کے شریک ہیں ۔
مجھے ان لوگوں پر بہت تعجب ہوتا ہے جو اس عظیم حادثہ کو پڑھ کر گزر جاتے ہیں جیسے کچھ ہو اہی
نہ ہو حالانکہ بقول ابن عباس کے سب سے بڑی مصیبت یہی تھی ۔اور اس سے بھی زیادہ ان لوگوں پر تعجب ہوتاہے جو صحابی کے بچانے میں ایڑی چوٹی کا زورلگادیتے ہیں ۔ اوراس کی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے درپہ رہتے ہیں ۔ چاہے اسلام ورسول اسلام کی بے حرمتی وغلطی ثابت ہوجائے مگر صحابی کی عصمت محفوظ رہے ۔
آخر ہو کو حقیقت سے فرار کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر حق ہماری خواہشات کے مطابق نہیں ہے تو اس کو ملیامٹ کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں ؟ آخر ہو کیوں نہ تسلیم کرلیں کہ صحابہ ہماری ہی طرح کے انسان تھے ان کے یہاں بھی خواہشات ۔میلانات ۔اغراض کا جود ایسے ہی تھا جیسے ہمارے یہاں ہوتا ہے وہ بھی غلطی کرتے ہیں جیسے ہم سے غلطی ہوتی ہے ۔
ہمارا تعجب اس وقت دور ہوجاتا ہے جب ہم قرآن میں گزشتہ انبیاء کے قصے پڑھتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے معجزات دیکھنے کے باوجود ان کے قوم قبیلہ والے ان کی دشمنی سے بازنہیں آتے : ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب”
اور اب میں شیعوں کے موقف کو سمجھنے لگا کہ واقعہ قرطاس کے بعد مسلمانوں کی زندگی میں ہونے والے بہت سے ناقابل برداشت واقعات کی ذمہ داری کیوں خلیفہ ثانی کے سرتھوپتے ہیں ۔ کیونکہ انھیں کی وجہ سے امت مسلمہ اس کتاب ہدایت سے محروم ہوگئی جس کو رسول اپنے مرض الموت میں لکھنا چاہتے تھے اور مجھے یہ اعتراف کرلینے میں کوئی باک نہیں ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے کہ جو عقلمند حق کے ذریعہ لوگوں کو پہچانتا ہے وہ اصحاب کے لئے عذر تلاش کرنے کی کوشش کریگا ۔ لیکن جو لوگ لوگوں کے ذریعہ حق کوپہچاننے کے عادی ہیں ہم ان سے گفتگو بھی نہیں کرنا چاہتے ۔
 

[1] کتف درحقیقت انسان وحیوان کے کندھے میں ایک چوڑی ہڈی ہوتی ہے ۔کاغذ کی کمی کی بنا پر پہلے اسی پر لکھا جاتا تھا ۔ چنانچہ مجمع البحرین مادہ کتف میں ہے ۔عظم عریض یکون فی اصل کتف الحیوان من الناس والدواب کانوا یکتبون فیہ لقلۃ القراطیس عندھم ومنہ ایتونی بکتف ودواۃ اکتب کتابا ” مترجم
[2] صحیح بخاری ج 2 باب قول المریض :قوموا عنی ۔ صحیح مسلم ج 5 ص 75 آخر کتاب الوصیہ ۔مسند امام احمد ج ا ص 355 وج 5 ص 116 ۔تاریخ طبری ج 3 ص 193 ، تاریخ ابن اثیر ج 2 ص 320
 

http://shiastudies.com/ur/2061/%d8%a7%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%d9%88%d9%85-%d8%ae%d9%85%db%8c%d8%b3-%d8%b1%d9%88%d8%b2-%d9%be%d9%86%da%86%d8%b4%d9%86%d8%a8%db%81/

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.