کوالالمپور میں مسلم ممالک کے رہنماؤں کی سمٹ کا آغاز

 ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور کنونشن سنٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے سمٹ میں شرکت نہ کرنے کی اپنی وجوہات ہیں، عمران خان کا فیصلہ ان کی مرضی ہے اور ہم انہیں شرکت کے لیے مجبور نہیں کرسکتے۔ مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ اسلام میں کوئی زور زبردستی نہیں، وہ شرکت نہیں کرسکے، شاید انہیں کچھ اور مسائل کا سامنا ہو، عالم اسلام کو درپیش مسائل پر بات چیت کی جائے گی، کانفرنس میں 50 سے زیادہ ممالک کو مدعو کیا گیا ہے، جن میں سربراہان مملکت بھی شامل ہیں۔ مہاتیر محمد نے مزید کہا کہ اس اجلاس میں مذہب اسلام پر بحث نہیں کی جائے گی بلکہ امت مسلمہ پر بات ہوگی، جو آج زیادہ سے زیادہ دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور میں مسلم ممالک کے رہنماؤں کی سمٹ کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں 20 ریاستوں کے رہنماء جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں لیکن سعودی عرب اور پاکستان غیر حاضر ہیں۔ اجلاس میں عالمی سطح پر مسلم ریاستوں اور مسلمانوں کو درپیش بحرانوں اور پریشان کن موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد اس بات کا کھلے عام اظہار کرچکے ہیں کہ او آئی سی مسلم امہ کے مفادات کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے، اس لیے نیا اتحاد او آئی سی کا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب نے اس سمٹ کے انعقاد پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا نیا اسلامی بلاک مسلم دنیا میں اس کے کردار کو کم کرسکتا ہے، اسی تناظر میں پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے سعودی عرب کے متعدد دورے کیے ہیں۔

تبصرے
Loading...