مولوی نذیر احمد سلامی: بچپن میں ادا کی جانے والی نماز ذہنوں میں نقش ہوجاتی ہے

 

رپورٹ کے مطابق مجلس خبرگان اسمبلی میں اہل سنت کے نمائندے نے 14 دسمبر 2017 کو زاہدان میں نماز کے موضوع پر صوبائی سطح کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ماں باپ گھر میں نماز ادا کرکے بچوں کو بالغ ہونے سے پہلے نماز پڑھنے کی عادی بنادیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا بچوں کا ذہن صاف و شفاف ہوتا ہے اور اگر سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے کوئی چیز ان کے ذہن میں ڈالی جائے تو وہ چیز ان کے ذہن میں نقش ہوجاتی ہے۔

ایرانی خبرگان اسمبلی کے رکن نے کہا نماز قائم کرنا ایک اخلاقی امر ہے جس کے ثمرات نماز ادا کرنے والے کو اس دنیا میں حاصل نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر بہت کم ہے اور نماز قائم کرنے کے ثمرات قیامت کے دن نماز پڑھنے والے شخص کو حاصل ہوں گے۔

سلامی نے مزید کہا نماز کی ادائیگی صرف ہمارے کردار پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے نتائج قیامت کے دن محسوس کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا نماز دین کا ستون ہے۔

 

تبصرے
Loading...