2022 - 12 - 02 ساعت :
مقالے اور تجزیئے

مقصد عزاداری سید الشھدا علیہ السلام اور امام زمانہ (عجل) کی الھی حکومت کے قیام کا ارتباط اور ہماری ذمہ داریاں

2022-03-05 082

“مقصد عزاداری سید الشھدا علیہ السلام اور امام زمانہ (عجل) کی الھی حکومت کے قیام کا ارتباط اور ہماری ذمہ داریاں”

تحریر: ڈاکٹر شجر فاطمہ

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی الھی اور پر برکت حکومت و ولایت کا آغاز دراصل قیام نورانی آقا ابو عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی تکمیل ہے۔
* سن ساٹھ ہجری میں، امام عالی مقام امام حسین ع نے یزید کی طاغوتی حکومت، یزیدیت اور طاغوتیت کے خلاف جس قیام کا آغاز کیا تھا، اس کا تسلسل چودہ سو سال سے جاری ہے۔ اور اس کی تکمیل اس وقت ہوگی جب الھی حکمران، ولی برحق، امام عادل حضرت حجت ابن الحسن ع، خدا کے اذن سے ظاہر ہو کر دنیا کی تمام طاغوتی حکومتوں کو ختم کرکے نظام عدل کے پرچم تلے حکومت عدل کا قیام عمل میں لائیں گے۔
اگر انسان خلوص دل اور پاکیزہ نیت کے ساتھ علمی اور عقلی بنیادوں پر قیام امام حسین ع کا مطالعہ کرے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ نے انسانیت کو طاغوتوں کے چنگل سے آزاد کروانے اور حقیقی ولایت خدا تک پہنچانے کے لئے میدان کربلا میں اتنی بڑی قربانی دی۔ تاکہ انسان اولیائے برحق کے زیر اطاعت رہ کر اپنا ھدف تخلیق پا سکے اور اس راہ ِ کمال و انسانیت کو طے کرسکے جس کا اختتام ” لقائے پروردگار” ہے۔

اگرچہ اس موضوع کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن اور کلام معصومین ع میں بے شمار دلائل و براہین موجود ہیں، لیکن اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے اور گریز سے کام لیتے ہوئے یہ نکتہ عرض خدمت ہے کہ جب آقا امام حسین ع کے قیام کا حقیقی مقصد یہ ہے تو پھر “عزاداری سید الشھدا” کا ھدف اور مقصد بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔
میرا ان تمام لوگوں سے سوال ہے کہ جو اپنے آپ کو عزادار ِسید الشھدا کہتے ہیں، عشقِ حسین ع سے سرشار ہونے کا دعوی’ رکھتے ہیں، حسین ع کی خاطر خون بہانے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں، اور عزاداری سید الشھدا کا اہتمام کرتے ہیں، کہ کیا ان لوگوں نے عزاداری سید الشھدا کے اس حقیقی مقصد کو مد نظر رکھا ہے؟
ہم جب بھی کوئی عمل انجام دیتے ہیں تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد بھی ضرور ہوتا ہے اور نتیجہ بھی، ورنہ وہ عمل عبث ہے۔
اگر ہم عزاداری سید الشھدا کو اس کے حقیقی مقصد اور ہدف کے ساتھ لے کر چلتے تو ہماری مجالس، نوحے، مرثیے، خطابت، منقبتیں غرض ہر ایک رکن ِ عزاداری اسی مقصد کو لے کر آگے بڑھتا اور تمام طاغوتی حکومتوں کو ڈھا کر اور کمزور کر کے امام زمانہ (عجل) کے ظہور کا بہترین زمینہ فراہم کرتا۔
لیکن افسوس،
آج جب ہم اپنے اوپر نظر ڈالتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ ہم نے آقا امام حسین ع کے قیام کے حقیقی مقصد کو فراموش کردیا، ہم نے خون ِسید الشھدا کا پاس نہیں رکھا۔ ہم نے عزاداری سید الشھدا کے مقصد کو نظر انداز کر کے اس کی روح کو اس سے جدا کردیا۔
وہ نوحے، مرثیے، منقبتیں، خطابت، ماتم، جس کی گونج سے طاغوتوں کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہو جانا چاہئے تھا، آج لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے لئے پیسہ کمانے، شہرت حاصل کرنے، نمود و نمائش ، دنیا حاصل کرنے، خودنمائی اور میں کے جذبے کو تسکین دینے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
اور سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس کو موسیقی کے زیرو بم، اسپاٹ لائٹس کی چمک اور بے پناہ سجاوٹوں کے ذریعے مکمل طور پہ کمرشل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاکہ ان روشنیوں کی چکا چوند میں لوگ یہ بھول جائیں کہ حسین ع نے تین دن کی بھوک و پیاس میں اپنا سوکھا گلا کس لئے کٹوایا تھا، حسین ع کا جسم نازنیں کس لئے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہو تھا، حسین ع کے چھ مہینے کے بچے کا گلا کس لئے تیر ستم کا نشانہ بنا تھا، زینب علیا سلام اللہ علیھا کی چادر کس لئے چھنی تھی، سکینہ کا گلا رسن سے کس لئے بندھا تھا،

اور افسوس، کہ ہم واقعی بھول گئے۔

کیا خون حسین ہم سے یہ سوال نہیں کرے گا کہ تم نے میری حرمت کا پاس کیوں نہیں کیا۔؟

اگر عزاداری سید الشھدا اپنی صحیح مقصد اور ہدف کی طرف گامزن ہوتی تو آج دنیا میں کوئی طاغوت تخت پہ نہ ہوتا اور امام زمانہ ع کا ظہور ہوچکا ہوتا۔
ہم سب خون سید الشھدا کے مقروض ہیں، ہم سب پر فرض ہے کہ عزاداری سید الشھدا کی حفاظت کریں اور اس کو اس کے حقیقی مقصد کی طرف لے جانے کے لئے دل و جان سے جدوجہد کریں، اور اس عزاداری کے ذریعے اپنے زمانے کے امام ع کے ظہور کی راہ کو ہموار کریں تاکہ روز قیامت بی بی سیدہ سلام اللہ علیھا کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔
یاد رکھئے،
اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی، عزاداری حسین ع کا حق ادا نہ کیا تب بھی،
قیام سید الشھدا اپنی تکمیل کو پہنچ کے رہے گا،
عزائے حسین ع قائم و دائم رہے گی، لیکن،
ہم مٹ جائیں گے۔
کہتا ہے کون ختم ہوئی جنگ کربلا
ہم لڑ رہے ہیں آج بھی فوج یزید سے
اللهم عجل لوليک الفرج والعافيه والنصر

sikandar

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت