مظلوم فلسطينيوں کي حمايت کا مطالبہ

حزب اللہ کے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے غزہ پر غاصب صيہوني حکومت کے وحشيانہ حملوں کي مذمت کرتے ہوئے تمام اسلامي اور عرب ملکوں سے فلسطينيوں کي حمايت کي اپيل کي ہے –

حزب اللہ کے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے جمعرات کي رات، شب يکم محرم کي مناسبت سے بيروت کے علاقے ضاحيہ کے سيدالشہدا کامپليکس ميں ايک بڑے اجتماع سے خطاب ميں غزہ پر صيہوني حکومت کے حملوں کي مذمت کرتے ہوئے اسرائيلي جارحيت کو تمام عرب اور اسلامي ملکوں کے لئے خطرہ بتايا – انہوں نے کہا کہ اس وقت دنيا کے تمام حريت پسندوں کو فلسطيني مجاہدين کا ساتھ دينا چاہئے کيونکہ غاصب صيہوني حکومت غزہ ميں انسانيت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کررہي ہے –

سيد حسن نصراللہ نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ شام کو جو فلسطيني مزاحمتي تنظيموں کي حمايت کا ايک مضبوط مرکز تھا، دشمنوں نے، اپني سازشوں اور اپنے بھيجے ہوئے دہشتگردوں سے لڑائي ميں الجھا رکھا ہے کہا کہ اس وقت عرب ملکوں کے سربراہوں اور تمام سياسي رہنماؤں کو باہمي اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صيہوني حکومت کے وحشيانہ حملوں کے مقابلے ميں غزہ کے دفاع پر متحد ہوجانا چاہئے-

انہوں نے کہا کہ صيہوني حکومت نے شام کے بحران سے غزہ پر حملے کے لئے فائدہ اٹھايا ہے –

سيد حسن نصراللہ نے اپنے خطاب ميں کہا ہے کہ غاصب صيہوني حکومت کے حکام نے تحريک مزاحمت کي طاقت و توانائي کا اعتراف کرليا ہے – انہوں نے تل ابيب پر فلسطينيوں کے ميزائلي حملوں کو غاصب صيہونيوں کے ساتھ جنگ کي تاريخ ميں ايک اہم موڑ قرار ديتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے مزاحمتي فلسطيني تنظيموں کي توانائي، دليري اور استقامت و پائيداري کو ثابت کرديا ہے –

انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ کے شہيدوں کے جن ميں عورتيں اور بچے بھي شامل ہيں، خون نے صيہوني حکومت کے ساتھ امريکا اور مغرب کے تعاون کو پہلے سے زيادہ آشکارا کرديا ہے کيونکہ امريکا نے غزہ پر صيہوني حکومت کا حملہ شروع ہوتے ہي اس کي حمايت کا اعلان کرديا –

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ صيہوني حکومت نے دو ہزار چھے اور دو ہزار آٹھ کي جنگوں ميں جو اہداف مد نظر رکھے تھے ان ميں اس کو ناکامي ہوئي تھي اور آج بھي غزہ پر حملوں ميں اس نے جو اہداف مد نظر رکھے ہيں ان ميں سے کوئي بھي اس کو حاصل نہيں ہوگاکيونکہ مزاحمتي تنظيموں کي توانائي کا اس کو خود بھي اعتراف ہے –

 

تبصرے
Loading...