قلم کی قسم!!

مولانا شیر محمد مقدسی

*🌠قلم و تحریر کی اہمیت🌠*

📝مولانا شیر محمد مقدسی

خداوند متعال نے انسان کو مختلف نعمتوں سے نوازا ہے۔ساتھ ہی زندگی بسر کرنے کیلے ایک دوسرے کا محتاج بنایا ہے۔جب تک ایک دوسرے کو نہ سمجھیں معاشرے میں گزر بسر ممکن نہیں ہوتا۔
لھ
لہٰذا اپنی ما فی الضمیر پہنچانے کے لیے کئی ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ اشارات،کنایات،گفتگو،تحریر۔۔۔۔وغیرہ جب انسان اپنی ما فی الضمیر کو الفاظ کی شکل میں زینت قرطاس بناتا ہے تو تحریر بن جاتی ہے۔تحریر دیگر تمام زرائع کی نسبت پیغام پہنچانے میں زیادہ کار آمد ہوتا ہے اسی لیے پروردگار عالم نےاپنی پہلی وحی میں اہمیت کے پیش نظرقلم کاہی ذکر کیاہے *«اقرا بسم ربک الذی خلق .خلق الانسان من علق اقرءا ورب الاکرم الذی علم با لقلم .علم الانسان مالم یعلم»*

ایک اور جگہ اللہ نے قلم کی قسم کھائی ہے.
*«والقلم وما یسطرون»*
اسں سے معلوم ہوتا ہے قلم ہدف اصلی نہیں بلکہ وسیلہ ہے۔اصل وہ پیغام ہے جو قلم کے ذریعے نسلوں تک منتقل ہوتاہے۔

تحریر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی کی تمام کتابیں اورمصاحف مسطور و مرقوم آج چلی آرہی ہیں۔حدیث شریف میں ذکر ہوا ہے۔جب اللہ نے تمام مخلوقات کو خلق کیا تو اپنی کتاب میں اس کو تحریر فرمایا جو کہ اس کےپاس عرش پر موجود ہے اگر چہ خداوند متعال کسی قلم و کاغذ کا محتاج نہیں لیکن اس کے باوجود قلم و قرطاس کا ذکر کرنا اسکی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

ذات وحدہ لا شریک نے انسانوں تک علم کی روشنی پھیلانے کیلیے قلم کو ذریعہ بنایا ہے۔امام خمینی فرماتے ہیں:
بذات خود قلم کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن قلم اس وقت با اہمیت بن جاتی ہے جب ایک فکر اور ثقافت کو دوسرے انسان یا دوسری نسل تک منتقل کرئے۔

اگر قلم اور تحریر نہ ہوتے توانسانوں اور جنگلی حیات میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ انسان کو زندگی کے لیے دو چیزوں کی اشد ضرورت ہے ایک نمونہ عمل اور دوسری چیز عبرت۔ عبرتوں کو دیکھ کر برے چیزوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ اچھے نمونے کو دیکھ اپنی زندگی اس کے مطابق بسر کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہ سب اس وقت ممکن ہے۔ جب معاشرے میں تمام چیزوں کومحفوظ کرنے کا کوئی ذریعہ موجود ہو۔ بنی آدم کے اوہر رب کا خاص کرم ہے۔کہ اس نے ان کی آسانی کے لیے قلم وتحریر سے روشناس کرایا۔

قلم و تحریر نے ستم کاروں کے ظلم و جور کو تاریخ میں محفوظ کرکے انسانوں کیلے درس عبرت بنا دیا اور خدا کے پسندیدہ لوگوں کے احوال زندگی کو بھی کتاب میں قلمبند کرکے آنے والے انسانوں کے لیے اسوہ حسنہ بنا دیا اگر قلم نہ ہوتے توفرعونوں اور یزیدوں کے سیاہ کارنامے تاریخ میں موجود نہیں ہوتے ۔ اسی طرح انبیاء اور اوصیاء کے بہترین کارنامے زمانے سے محو ہوچکاہوتا

قلم انسان کو حیات جاویدانی عطا کرتا ہے اگر بڑے دانشور،فلاسفہ اور مفکرین قلم و تحریر سے استفادہ نہ کرتے تووہ آج زندہ و جاوید کی شکل میں ہمارے پاس موجود نہ ہوتے یہ قلم کی مرہون منت ہے۔کئی صدیاں گزرنے کے باوجود ہم انہیں اپنی صفوں میں محسوس کرتے ہیں۔

قلم و تحریرکے ذریعے جنگلوں اور غاروں میں زندگی کرنے والے انسان مہذب بن جاتا ہے۔قلم ہی کے ذریعے قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ قلم سوئےہوئے انسانوں کو بیدار کرتا ہے۔

آج سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی راہ میں اپنا لوہا منوائی ہے تو یہ قلم اور تحریر کی مرہون منت ہے.

دین اسلام نے قلم کو اس قدر اہمیت دی ہے ایک عالم کی سیاہی شہید کے خون سے افضل قرار دیا ہے۔ حالانکہ اس میں مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہیں لیکن ہر صورت میں قلم طاقت ور ہے اگر قلم غلط چیز کیلیے استعمال کریں تو تلوارسے زیادہ خطرناک ہے اگر صحیح اورمفیدراہ میں ستمال ہو تو اس سے بہتر اور پائیدار چیز نہیں ہے۔

سائنس اور ٹیکناوجی کے اس دور میں پیغام حق پہنچانے کیلیےاس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔

ہم ایک پیغام کو منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں لہذا قلم پیغام حق پہنچانے کابہترین وسیلہ ہے۔
خدا سے دعا کرتے ہیں ہمیں اس عظیم نعمت سے استفادہ کرکے دنیا کے گوشے گوشے تک پیغام حق پہنچانے کی توفیق عطا فرما۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.