عمودی یا افقی، انتخاب آپ کا

تحریر: محمد صرفی

مغربی ایشیا میں امریکی فوجی مداخلت کی تاریخ تقریباً 60 سال پہلے شروع ہوتی ہے۔ امریکہ کے 34 ویں صدر ڈوائٹ آئزن ہاور نے اپنے دوسرے صدارتی دورے میں نئی ڈاکٹرائن کا اعلان کیا جسے کانگریس میں بھی منظور کر لیا گیا۔ یہ نئی حکمت عملی جو “آئزن ہاور ڈاکٹرائن” کے نام سے معروف ہوئی دنیا کے مختلف حصوں میں امریکہ کی حامی حکومتوں کی پشت پناہی کیلئے فوجی طاقت کے استعمال پر مبنی تھی۔ البتہ اس سے پہلے سابق امریکی صدر ٹرومین کے دور میں امریکہ نے یورپ میں سابق سوویت یونین کے اثرورسوخ کو روکنے کیلئے وہاں فوجی موجودگی قائم کر رکھی تھی۔ آئزن ہاور کی جانب سے نئی ڈاکٹرائن کے اعلان کے بعد امریکہ نے سرکاری سطح پر 1958ء میں لبنان میں فوج بھیج دی اور یوں مغربی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی کا آغاز ہو گیا۔ لبنان میں فوج بھیجنے کیلئے امریکہ نے وہاں کی عیسائی حکومت کے تحفظ اور حمایت کا بہانہ بنایا۔ آئزن ہاور نے اس خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کو “پینڈورا باکس” نام دیا تھا۔ آج تک پیش آنے والے حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی پیشن گوئی اور تجزیہ درست تھا۔

البتہ مغربی ایشیائی خطے میں امریکہ کی فوجی مداخلت کا سلسلہ آئزن ہاور ڈاکٹرائن کے سرکاری اعلان سے کافی عرصہ پہلے شروع ہو چکا تھا۔ 1953ء میں آئزن ہاور کے پہلے صدارتی دورے میں ایران میں عوامی مینڈیٹ کی حامل ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف بغاوت درحقیقت امریکہ اور برطانیہ کی ملی بھگت سے انجام پائی۔ یہ اقدام تاریخ میں بیرونی مداخلت کا معروف ترین نمونہ جانا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے لے کر آج تک امریکہ نے مغربی ایشیا خطے میں تقریباً 25 مرتبہ فوجی اور سکیورٹی مداخلت انجام دی ہے۔ یعنی تقریباً ہر تین برس میں ایک بار مداخلت کی ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ امریکہ کی مداخلت نہ صرف کم نہیں ہوئی بلکہ اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر، شدید تر اور زیادہ مالی اور جانی نقصان کے ہمراہ ہوتا چلا گیا ہے۔ نائن الیون واقعے کے بہانے افغانستان اور پھر عراق پر فوجی قبضہ فوجی مداخلت پر مبنی ان اقدامات میں سے واضح ترین مصداق ہیں۔ اکثر سیاسی ماہرین حتی امریکی تجزیہ کاروں نے انہیں “نہ ختم ہونے والی جنگوں” کا نام دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی ایشیا خطے میں امریکہ کی تمام تر فوجی مداخلتیں ڈکٹیٹر اور آمر حکمرانوں سے مقابلے کے عنوان سے انجام پائی ہیں۔

امریکی حکمرانوں نے ہمیشہ ہر جنگ شروع کرنے سے پہلے روشن مستقبل، ملک کی تقدیر عوام کے سپرد کرنے، ظلم و ستم کا شکار عوام کو آزادی اور انصاف فراہم کرنے جیسے کھوکھلے وعدوں کا سہارا لیا ہے۔ لیکن ہمیشہ امریکہ کی فوجی جارحیتوں کا نتیجہ اس ملک میں بدامنی اور انارکی میں اضافے، عام شہریوں کے قتل عام، دہشت گرد گروہوں کے فروغ اور شدت پسندی میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ وہی عوام جنہیں آزادی اور انصاف دلوانے کے وعدے کئے گئے تھے بے دردی سے قتل عام کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ گولوں اور بموں کے ذریعے امریکی جمہوریت کے فروغ کا نتیجہ ہے۔ گذشتہ دو عشروں سے امریکہ کے تھنک ٹینکس اور میڈیا نے فوجی جارحیت کے بعد عوامی نظام حکومت تشکیل پانے پر مبنی امریکی حکمرانوں کے نظریے کی توجیہات پیش کرتے ہوئے اس کی نظریاتی بنیادیں فراہم کی ہیں۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ کے فوجی اقدامات نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ یہ نعرے، وعدے اور نظریے محض فریب اور دھوکہ تھے اور خالص حماقت تھی۔ بمباری اور تباہی پھیلانے کے ذریعے آزاد قوم اور ریاست کا قیام ایک سفید جھوٹ ہے۔

اب تک امریکہ کی ان تمام جنگوں کے اخراجات وہ بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیاں ادا کرتی آئی ہیں جن کی بقا اور منفعت انہی جنگوں پر منحصر تھی۔ یہ کمپنیاں درحقیقت موت کی سوداگر ہیں۔ مغربی ایشیا خطے میں بدامنی اور سکیورٹی بحران ایک طرف امریکہ کی مختلف کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ کا باعث بنا ہے جبکہ دوسری طرف بڑی بڑی امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص چوٹی پر جا پہنچے ہیں۔ ان کمپنیوں میں نارتروپ گرومین، لاک ہیڈ مارٹن، ایل تھری ہیریس ٹیکنالوجیز، ریتھیون، ہنٹنگٹن انگلز، ٹرانس ڈائم گروپ اور جنرل ڈائنامیکس کا نام قابل ذکر ہے۔ فوجی صنعتی کمپلکسز کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اخراجات فراہم کرنا بھی ایک انتہائی دلچسپ اور تفصیلی ٹاپک ہے جس کیلئے علیحدہ تحریر کی ضرورت ہے۔ مذکورہ بالا سات امریکی اسلحہ ساز کمپنیاں 400 ارب ڈالر کے اثاثے رکھتی ہیں اور پینٹاگون کی شراکت سے خلیج عرب ریاستوں اور دیگر ممالک کو اسلحہ سپلائی کرنے والی سب سے بڑی کمپنیاں شمار ہوتی ہیں۔ میزائل، جنگی طیارے، ریڈار وغیرہ موت کی سوداگر ان کمپنیوں کی تازہ ترین مصنوعات شمار کی جاتی ہیں۔ اسلحہ کی ساخت اور فروخت کیلئے ایک مفروضہ اور نقلی دشمن کا ہونا ضروری ہے۔

اگر دشمن نہ ہو تو خطے میں موجود دودھ دینے والی گائیوں کو کیسے دوہا جائے؟ خطے میں اپنے فوجی اڈوں کے خاتمے اور فوجی موجودگی ختم کرنے سے متعلق پائی جانے والی رائے عاملہ کے سامنے امریکی حکمرانوں کی مزاحمت درحقیقت انہی وجوہات کی بنا پر ہے۔ امریکی حکام یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ عراقی قوم اور حکومت کی حفاظت کیلئے اس ملک میں موجود ہیں۔ لیکن اب جب عراقی حکومت اور عوام دونوں نے امریکہ سے فوجی انخلا کا بھرپور مطالبہ کر دیا ہے تو امریکی حکمران انتہائی بے شرمی سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ عراق چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ جمعہ 24 جنوری کے دن عراق میں امریکی فوجی انخلا کا بل منظور کرنے پر پارلیمنٹ کی حمایت میں ملین مارچ کا انعقاد ہوا۔ یہ ملین مارچ درحقیقت ملک سے امریکہ کے فوجی انخلا کے بارے میں ایک عوامی ریفرنڈم تھا۔ عراقی عوام امریکہ کو نہ صرف نجات دہندہ تصور نہیں کرتے بلکہ اس سے شدید نفرت رکھتے ہیں۔ یہ ملین مارچ دہشت گرد امریکی فوج کو عراقی عوام کی اتمام حجت تھی۔ عراقی عوام ابھی ابوغریب جیل میں امریکی فوجیوں کے غیر انسانی اور مجرمانہ اقدامات کو نہیں بھولے۔

امریکہ جو اس بات کا دعویدار تھا کہ وہ عراقیوں کی درخواست پر اس ملک میں آیا ہے گذشتہ چند ہفتوں سے انتہائی گستاکی اور بدمعاشی سے عراقی پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے ڈٹ کر کہہ رہا ہے کہ عراق سے باہر نہیں نکلے گا۔ عراقی قوم اور حکومت کے اس قانونی اور برحق مطالبے کے مقابلے میں امریکی حکمرانوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ عراق سے باہر نکلتے ہیں تو داعش دوبارہ سرگرم عمل ہو جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عراق میں داعش کا بیج خود امریکہ نے بویا تھا اور جب تک امریکہ شام اور عراق میں موجود ہے اس وقت تک داعش مکمل طور پر نابود نہیں ہو گی۔ داعش درحقیقت امریکہ کی جانب سے اپنی فوجی موجودگی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ایک شیطانی ہتھکنڈہ ہے۔ جمعہ 24 جنوری کے روز امریکہ کے خلاف عراقی عوام کا ملین مارچ ایک قومی ریفرنڈم تھا اور اس کا نتیجہ تمام دنیا والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس بھرپور عوامی ریفرنڈم کے بعد عراق میں امریکہ کی فوجی موجودگی ایک نیا معنی و مفہوم رکھتی ہے۔ اب یہ فوجی موجودگی قبضے، غصب اور استعمار کے زمرے میں آتا ہے۔ امریکی حکمرانوں کیلئے عراقی عوام کا یہ واضح پیغام تھا کہ تمہیں عراق سے نکلنا ہو گا اور عمودی جانا ہے یا افقی یہ انتخاب آپ کا ہے۔

جب تک عراق میں امریکی موجودگی باقی رہے گی اس ملک میں سکون اور امن و امان پیدا نہیں ہو سکتا۔ امریکہ اس قدر گستاخ ہو گیا ہے کہ عراق میں ایران اور عراق کے دو اعلی سطحی فوجی کمانڈروں کی ٹارگٹ کلنگ کر چکا ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اس کی نظر میں عراق کی خودمختاری اور خود اردیت ذرہ برابر اہمیت نہیں رکھتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عراقی عوام میں حالیہ بیداری کی لہر شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے پاکیزہ خون کی برکت سے ہے۔ ان پاکیزہ اور متقی افراد کا خون دنیا کے شقی ترین اور ظالم ترین شخص کے ہاتھوں بہایا گیا ہے۔ ایران اور عراق کے ان دو اعلی سطحی فوجی کمانڈروں کی ایک جگہ شہادت نے ایرانی اور عراقی قوموں کے درمیان ایک اٹوٹ اور گہرا تعلق قائم کر دیا ہے اور اب یہ نعرہ سننے میں آ رہا ہے کہ “ایران و العراق لا یمکن الفراق”۔ عراق کے ملین مارچ میں لگنے والا یہ نعرہ امریکی حکمرانوں کو عراقی عوام کا واضح پیغام ہے۔ اگر امریکی حکمران اس واضح پیغام کو نہیں سنتے تو یقیناً اس کے نتیجے میں ایک نئی صورتحال پیدا ہو گی۔ اس وقت گیند ٹرمپ کے کورٹ میں ہے اور اسے یہ حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ عراقی عوام کا یہ پیغام سننا ہے یا کسی دوسری زبان میں ردعمل سے روبرو ہونا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.