سیدحسن نصراللہ: امریکہ پورے خطے میں بحران پیدا کرنےکے درپے ہے

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بعلبک میں حوزہ علمیہ(امام منتظر(عج)) کی تاسیس کی چالیسویں سالگرہ کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ یہ حوزہ، حزب اللہ لبنان کےسابق سیکرٹری جنرل سید عباس الموسوی کے ہاتھوں سے تاسیس کیا گیا تھا اوریہ اس علاقے اورپورے لبنان کی تاریخ میں ایک انقلابی اقدام تھا۔

انہوں نےلبنان میں آنے والے پارلیمانی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہےکہ اس وقت لبنان کے انتخابات سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ لبنانی عوام کو ان انتخابات کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے اوراسے معلوم ہونا چاہیےکہ وہ کس ہدف کے تحت کسی شخص یا مخصوص گروہ کا  انتخاب کرتی ہے کیونکہ یہ ان کی مقامی اورقومی تقدیرکا مسئلہ ہے۔

سید حسن نصراللہ نے مزید کہا ہے کہ جب نمائندے منتخب ہوجائیں تو پھروہ پورے ملک کے مقابلے میں ذمہ داری رکھتے ہیں؛ کیا ہم ایسےافراد کا انتخاب کریں گےکہ جو اپنے ملک کو امریکہ اورتیل کو اسرائیل کے حوالےکریں گے اورمزاحمت  کےخلاف سازش کریں گے اوراپنی معیشت کا علاج نہیں کرسکیں گے؟ یہ ایک قومی سوال ہے اورکسی خاص الیکشن حلقے سےمربوط نہیں ہے؛ امریکہ اورسعودی عرب آئندہ انتخابات میں حزب اللہ سےمربوط نتائج کے منتظرہیں۔

انہوں نےکہا ہے کہ ہم پیسوں کے ذریعے ووٹ خریدنے کو حرام جانتے ہیں اورحزب اللہ یہ کام  نہیں کرے گی۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نےمزید کہا ہےکہ تمام پارٹیوں کی توجہ(ہرمل) الیکشن حلقےپرہوگی کہ جس کی ایک اہم وجہ یہ ہےکہ اس علاقے کا تشخص اوراس کی تاریخ مزاحمت سے مربوط ہے۔

انہوں نےکہا ہےکہ انتخابات میں گالی گلوچ دینا اورتہمتیں لگانا حرام ہے تاہم تنقید کرنا ایک قدرتی بات ہے اورہم جن اہم ترین مسائل کی طرف لوگوں کو سوچنے کی دعوت دیتے ہیں وہ یہ ہےکہ حزب اللہ کے نمائندوں نےاپنے سابقہ دورمیں کونسی چیز پیش کی ہے کیونکہ حزب اللہ کےنمائندے اس کا ایک حصہ ہیں۔ لہذا اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیےکہ حزب اللہ نے ہرمیدان میں اس علاقے کے استحکام کےلیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

سید حسن نصراللہ نے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے لبنان کے سفرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیلرسن جب بھی لبنان میں آتا ہے تو وہ حزب اللہ اوراس کے اسلحہ کے بارے میں بات کرتا ہے اورکہتا ہے ہےکہ اس مشکل کو حل ہونا چاہیے۔ آج ہردورسے زیادہ اسلامی مزاحمت کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نےلبنان اورصہیونی حکومت کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اگرنہ ڈرتا ہوتا تو آج وہ 9نمبرتیل کےبلاک کواپنے کنٹرول میں لے لیتا لیکن یہ حکومت ڈرتی ہے۔

 

تبصرے
Loading...