سفرزندگی کا ایک اور سال مکمل

سفرزندگی کا ایک اور سال مکمل

تحریر:دیا زہرا

ہرگزرتے  لمحات،دن رات،ہفتے،ماہ وسال انسان کے لیے عمر کے کم ہونے اور موت سے قریب ہونے کا پیغام ہے۔مگر ہمارے ہاں نئے سال کے آغاز پر جوش وخروش کے ساتھ مبارکبادیوں کا سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہتاہے۔سوشل میڈیا، پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا سب پر ایک ہی پیغام ہے کہ:
۔۔۔ نیا سال مبارک۔۔۔۔
اسی خوشی میں ہر سال کیک کاٹے جاتے ہیں،خوشیاں منائی جاتی ہیں،تحفے تحائف دئیے جاتے ہیں۔سال گزرجاتاہے۔انسان کی زندگی کا سفربچپن سے لڑکپن،لڑکپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے کو پہنچ کر اختتام ہوجاتاہے۔اور سادہ وسفید لباس میں زیر زمین تاریخ کا حصہ بن جاتاہے۔انسانوں کا یہ سفر اسی طرح جاری ہے اور جاری رہے گا۔نیا سال آئے گالوگ پھر خوشیاں منائیں گے۔اس فرق کے ساتھ کہ کچھ نئے لوگوں کا اضافہ اور کچھ لوگ ہمارے درمیان نہیں ہوں گے۔یہ فطرت کا قانون ہے۔دنیا ایسے ہی اپنی منزل کی جانب رواں دواں پے،سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں،اور واقعات وجود میں آتی ہیں۔خوفناک مناظر انسان آئے روز مشاہدہ کرتاہے۔ لیکن انسان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ بھی مرنے کیلئے پیداہوا ہے۔اس کاانجام بھی جلد یابدیر یہی ہوگا جودوسروں کا ہواہے۔ انسان اس بات سے غافل ہے۔کہ وہ ہرسال اپنی عمر کا ایک حصہ فنا کے سپرد کررہاہے۔
کیاہم اس بات سے انکاری ہیں کہ ہمارے آس پاس ایسے کتنے ہی لوگ تھے جو کل تک ہمارے ساتھ تھے۔مگر آج ہم میں نہیں۔اور کتنے ایسے ہیں جو ظاہراً ہم میں ہیں مگر ہم نے ظلم و جبر اور نا انصافی سے ان کوزندہ درگو کیاہے۔یعنی وہ زندہ لاشیں ہیں۔جوظلم کی چکی میں پس رہی ہیں۔
ہمیں معلوم نہیں ملک کے کتنے شہروں میں آج بھی لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں!
کتنےحصے تاریکی میں ڈوبےہوئےہیں۔جو روشنی کوترس رہے ہیں۔!!
معلوم نہیں کتنے لوگ ہسپتالوں کے بیڈ پر تکلیف سے سسکتے رات گزاررہے ہیں۔!!
معلوم نہیں کتنے لوگ سرد خانوں میں اپنے عزیزں کی لاش رکھوانے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہوں گے۔ معلوم نہیں کتنی مائیں اپنے بچھڑے ہوئے بچوں کیلئے زاروقطار رورہی ہوں گی۔
معلوم نہیں کتنے ہی گھروں میں فاقہ ہوگا۔!
معلوم نہیں کتنے لوگ اپنی زندگی میں بے رحم حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔۔
کتنے ہی ہمارے درمیان پرانی یادوں اور سوچوں میں غرق ایسے الجھے ہوئے ہوں گے کہ انہیں نئے سال تو کیا اپنے اور اپنے بچوں کی تاریخ پیدائش تک زندگی کے الجھنوں نے بھلا دی ہوگی۔ کچھ بڑے دل والے تو فقط مسکرا کر اپنی بے بسی کا اظہار کردیتے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اپنی آنکھوں کی نمی پر قابو نہیں رکھ پاتے ہیں۔
غرض یہ کہ دکھ سب کے دلوں میں گھسا بیٹھا ہے بس ہر کوئی کسی نہ کسی کاندھے کا سہارا لیے ہوتا ہے۔ان باتوں کا جواب شاید ہی کوئی دے سکے یا پھر شایدہی کوئی ایسے سوال پوچھے۔لگتا تو یہی ہے کہ سب نے اپنی اپنی زندگیاں مصنوعی غلافوں میں سجائی ہوئی ہیں۔اور نئے سال کی آمد پر بھی منافقت کا سہارا لئے ہوئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف تاریخ اور کیلنڈر بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔جب تک انسان کی سوچ میں تبدیلی نہ آئے۔اور ہمارا رویہ نہ بدلےہمارا کردار،طرز عمل،اخلاق اور معاشرت میں تبدیلی نہ آئے۔یہ سال بھی یونہی گزر جائے گا۔
کیا کبھی ہم نے اپنا ضمیر جھنجھوڑنے کی کوشش کی؟
کیا ہر سال کی طرح 2021کے گزرجانے پرہم سب مبارکبادیوں کے مستحق ہیں ؟
ذرا اپنے اندر جھانک کر دیکھئے۔۔ ایسا کیا عمل ہم نے انجام دیا۔جس پر ہم سب اتنے مطمئن ہو گئے ہیں۔۔۔
ایک دفعہ تنہائی میں ،اپنے آپ سے،ڈر پوچھ لیں۔کہ ہم نے ایک سال کیسے گزارا۔
غور کیجئیے ! کہ ہم پیچھے کیا چھوڑ آئے ہیں2021 میں ایسا کون سا کام کیا ہے جس کی وجہ سے ہم2022 کی آمد کے انتظار میں تھے۔۔ دکھ درد، غم، فاصلے، دوریاں، ظلم و جبر کے ہزاروں انبار 2021 میں لگ چکے ہونگے جس کا خمیازہ 2022میں بگتنا پڑے گا۔ اس کا اندازہ ایک عام انسان نہیں لگا سکتا۔۔۔
کتنے لوگ حادثات کا شکار بن گئے، کتنے لوگ کرونا وبا اور بہت ساری دیگر بیماریوں اور حادثوں کی وجہ سے ہم سے بچھڑ گئے۔کتنے لوگ گھر سے بے گھر ہوئے،کتنے بچے یتیم ہوئے کتنی ماؤں کی گود اُجڑ گئیں، کتنوں پر بے بنیاد الزامات لگے۔اردگرد نظر ڈورائیں کہ مختلف واقعات سے متاثر ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہیں کہ ہم جیسے انسان سب کا اندازہ لگانے سے خود کو قاصر سمجھتے ہیں۔کشمیر، شام، فلسطین اورپاکستان سمیت دنیا بھر میں مختلف مواقع پر ہونے والے ظلم و ستم اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام ایک ایسا المیہ ہے کہ نئے سال کی آمد کی مبارکبادیوں سے بھی کوفت ھونے لگتی ہے۔۔
ذرا سوچیئے! ہمارے ارد گرد انہی گلی محلوں میں دبی ہوئی آوازوں کی چیخ و پکار کا درد اور تکلیف نے کتنوں کو مار دیاہوگا اور اُن کی آوازیں نکلنے سے پہلے ہی دب چکی ہوگی۔غیرت کے نام پر کتنے لوگ منافقت بھری زندگی گزرنے پرمجبور ہیں۔انسانی پستی اس حد تک ہے کہ لوگوں کی خوشامد اور دکھاوا زندگی کا ایک حصہ بن چکا یے۔ ہم میں سے ہر کوئی تعریف چاہتے ہیں۔ اللہ کی خوشی سے بڑھ کر لوگوں کی خوشامد میں سب مگن ہیں۔حق وانصاف اور حقیقت سننے والا کوئی نہیں اور اگر کسی نے سن بھی لیا تو کان دھرنے کی زحمت تک نہیں کرتا۔ انسان کی آبادی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔یعنی انسان زندہ ہے لیکن انسانیت مرچکی ہے۔بس ہماری عمریں گزر رہی ہیں اورنئے سال کی آمد کے سوا کچھ بھی نیا نہیں۔ہمارے ارد گرد کوئی اچھی تبدیلی نظر نہیں آرہی کسی کی تکلیف پر خوش ہونے اور کامیابی پر جلنے کا رحجان بڑھ رہا ہے کسی تکلیف زدہ انسان کے دکھوں کا مداواکرنے کے بجائے زخموں پر نمک چھڑکانے پر ہم سب فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔
کیا انہی رویوں کے ہوتے ہوئے ہم سب مبارک بادیوں کے حقدار ہیں؟؟
یہ سب کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ میرے خیال میں ہر گزرتا سال ایک تکلیف سے کم نہیں اگر ظلم و ستم کا یہی سلسلہ چلتا رہا تو دنیا میں ساری مبارکبادیاں نا پید ہو جائیں گی۔اس طرح نئے سال کی مبارکبادیوں میں دم نہیں۔کیونکہ انسانیت مر چکی ہے کسی کے خلاف باتیں کرتے ہوئے زبان لڑکھڑانے کے بجائے فخرمحسوس کرنے لگتا ہے۔سوچے سمجھےبغیر ایسا بیان دے دیتے ہیں کہ اگلا انسان حیران رہ جاتا ہے غریب اور خدا پرست کو کمتر جبکہ مال دار اور امیروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اگر نئے سال کی آمد پر پیچھے مڑ کے دیکھیں اور ان سب کا مداوا ممکن ہو سکے تو ہم سب مبارکبادی کے مستحق ہو جائیں گے ۔۔ذرا مڑ کے دیکھیں اور سوچئیے کہ ہم نے گذشتہ 12 ماہ میں اپنی ذمہ داریوں کی کتنی پاسداری کی ہے یہی سوچ کردل میں ایک درد سا اُٹھتا ہے اور سرد آہوں کے ساتھ درگاہ خداوندی میں دعا کے لیے گناہ گار ہاتھ آسمان کی طرف اٹھتے ہیں اور امید کے سہارے لےکر دعا کرتی ہوں کہ:
اے رب کائنات تو کرم فرما!اے خطاؤں کو معاف کرنے والے ہم پر درگزر فرما!
گزرے ہوئے سال میں جو غلطیاں ہم سے سرزد ہوئی ہیں معاف فرما!
اور آنے والا سال ظلم وستم کے خاتمے کا سال قرار دے!انسانیت دوست ماحول سبھی کو میسر ہو،نہ کسی کی زبان سے کسی پر وار ہو اور نہ جبر کا بازار گرم ہو۔۔
نئے سال میں پراناکچھ بھی نہ ہو سوائے ترقی وخوشحالی اور انسانیت کے۔۔۔ انصاف ہو. امن ہو بھائی چارگی ہوکسی پہ ظلم نہ ہو، بڑےچھوٹے، امیر غریب کو دیکھے بغیر انصاف ہو۔
ہماری دعا ہے کہ آنے والا سال خدا کرے خوشحالی،امن وسلامتی اور برادری کا سال ہو۔تاریخ بدلنے پر رنگ و نور کی جو برسات ہر طرف برس رہی ہے وہ خدا کرے سچ ثابت ہو ۔۔۔بے شمار تلخ شیریں یادوں کا مداوا ہو۔ہر سال کی طرح یہ سال بھی تلخ نہ گزرے۔
مڑ کے دیکھنے کی زحمت کیجئے کیونکہ اصلاح کا راستہ اسی صورت میں ہی ممکن ہوتا ہے گزرے زندگی کے اوراق پر لکھی تحریر پر نظر دوڑرانے سے آنے والی تحریر میں غلطیوں کی گنجائش کم رہ جاتی ہیں۔کوشش کریں۔نیا سال ایک نئے صفحے کی طرح صاف و شفاف ہو ۔۔۔سوچیں کہاں کہاں ہم سے زیادتیاں ہوئیں ہیں کہاں کہاں ہم نے کوتاہیاں کیں ہیں۔۔کون کون سے لمحے ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں ہیں اور کن کن چیزوں سے ہم نے تجربہ حاصل کیا ہے۔ایسا کون سا کام ہے جسے ہمیں چھوڑنے کی ضرورت ہے اور کونسا کام ہے جسے مزید بہتر انداز میں کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی کوتاہیوں،خامیوں کو2022 میں درست کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ
اپنی اصلاح کامصمم ارادہ کریں،سوچوں میّ تبدیلی کا عہد کریں۔۔خدا کی اطاعت،بندگی اور انسان کی خدمت کاعزم بالجزم کریں۔اگر ایساہواتو یہ نیا سال آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔اگررویوں میں تبدیلی لانے کا عزم کیا ہے تو سال نو آپ کو مبارک ہو مگر صرف تاریخ بدلی ہے تو بہت دکھ کی بات ہے صرف ایک گنتی میں اضافہ کرنے سے حالات نہیں بدلتے ۔۔۔
بقول فیض احمد فیض ۔۔
اے نیا سال بتا، تجھ میں نیا پن کیا ہے۔۔
ہر طرف خَلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے۔ ۔۔
روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی۔
آسماں بدلہ ہےافسوس، نہ بدلی ہے زمیں۔۔
ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں ۔۔
اسی دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خوشیاں اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے۔دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا احساس و شعور دے۔نئے عزم نئےحوصلے اور ولولے کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ بخشے۔آمین۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

9 − شش =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More