رہبر معظم کی سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین اور محققین سے ملاقات (۲۰۱۲/۰۷/۲۹)

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے علم و سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ سے منسلک ماہرین ، محققین ، سائنسدانوں اور علمی بنیاد پر قائم کمپنیوں اور سائنس و ٹیکنالوجی پارک کےحکام سے ملاقات میں علم کو ملک کے لئے ابلتا ہوا دائمی چشمہ قراردیا اور قومی تشخص کے ارتقاء میں علم و دانش کی بنیاد پر استوار معیشت و اقتصاد، اور ملک کے سیاسی اقتدار اور استقلال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران ، آج ایک یادگار تاریخی اور احساس مرحلے پر پہنچ گیا ہے لہذا ذمہ داریوں کی صحیح شناخت اور ان پر عمل کے ذریعہ ایرانی قوم یقینی طور پر اپنے درخشاں اور نوید بخش اہداف تک پہنچ جائےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک پیشرفت و ترقی کی جانب گامزن ہے اور ایرانی قوم کی پیشرفت و ترقی میں کوئي مشکل اور رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اعلی و درخشاں اہداف کی جانب ملک کی پیشرفت میں بعض سیاسی، اقتصادی اور تبلیغاتی دباؤ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم پختہ عزم و ارادے اور ہمت کے ساتھ اپنے مورد نظر اہداف تک پہنچنے کے لئے مصمم ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم میدان کی وسط میں ہے اور ایرانی قوم کے ارادوں اور توانائیوں کے مقابلے میں دباؤ اور مشکلات ناچیز ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے موجودہ مرحلے کو زحمت اور محنت کے ہمراہ ایک بانشاط اور شوق آفرین مرحلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے موجودہ مرحلہ کھیل کےمقابلوں کے میدان کی طرح ہے جو محنت، تھکاوٹ اور خدشات کے باوجود کھلاڑیوں کے لئے شوق و نشاط کا باعث ہے اور کھلاڑی اس میں شوق و نشاط اور بھر پور عزم کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمزاحمتی معیشت و اقتصاد پر سنجیدگی سے عمل کو موجودہ فیصلہ کن اور احساس مرحلے سے عبور کرنے کی ایک راہ قراردیتے ہوئے فرمایا: مزاحمتی اقتصاد کوئی نعرہ نہیں ہے بلکہ ایک واقعیت اور حقیقت ہےجسے محقق ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: علم و دانش کی بنیاد پر استوار کمپنیاں مزاحمتی اقتصاد کے بہترین اور مؤثر ترین عناصر میں شامل ہیں جو مزاحمتی معیشت و اقتصاد کومزید پائداربنا سکتی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علم و دانش کی بنیاد پر ثروت کی پیداوار کو اقتصادی اور معیشتی رشد کا حقیقی ضامن قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر علم و دانش کی بنیاد پر قائم کپمپنیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کی کمی اور کیفی لحاظ سے حمایت کی جائے، تو علم کے ذریعہ ثروت کی پیداوار سے ملک کی معیشت و اقتصاد میں حقیقی رونق پیدا ہوجائےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل جیسے ختم ہونے والے وسائل کی بنیاد پر معیشت کے استوار ہونے کو خود فریبی اور دھوکہ دہی قراردیتے ہوئے فرمایا: خام مواد کی فروخت در حقیقت ایک جال ہے جو انقلاب سے پہلے کے برسوں سے میراث میں ملا ہے افسوس کہ ملک اس میں گرفتار ہوکر رہ گیا ہے۔ اور اس فریب سے نجات حاصل کرنے کے لئے تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل کے کنوؤں کو اختیار کے ساتھ بند کرنے اور معدنی و خام مواد کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کو بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: علم و دانش کی بنیاد پر استوار کمپنیوں کے ذریعہ اس مرحلے تک پہنچنا ممکن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ سے متعلق صدارتی ادارے میں انجام پانے والے اقدامات کو بہت ہی مؤثر اور امید افزاقراردیتے ہوئے فرمایا: بعض مشکلات اور خامیاں بھی موجود ہیں جنھیں فوری طور پر پہچان کر برطرف کرنا بہت ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے محققین اور سائنسدانوں کی جانب سے پیش کئے گئے موضوعات، مالی اداروں اور بینکوں کی جانب سے قدیمی اور سنتی توثیقی سسٹم اور علم کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کی حمایت کے لئے بیمہ کے فقدان کو منجملہ خامیاں اور کمزوریاں قراردیتے ہوئے فرمایا: حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ اختراعات پر نظارت اور ممتاز و خلاق ماہرین کی شناخت کے ساتھ ان کی حمایت کریں اور نئی علمی کمپنیوں کو تاسیس کرنےکی راہ ہموار کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ماہر افراد کی شناخت اور انھیں جذب کرنے کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا اور اس عمل کو منطقی طریقے ، تشویق اور ضروری حمایتوں کے ذریعہ روکنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: علمی بنیاد پر قائم کمپنیوں کو ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان کمپنیوں کی حمایت کے بارے میں قانون نافذ اور اجراء نہیں ہوا ہے اور ا نکے آئین نامہ کو جلد از جلد ابلاغ کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی علمی توانائیوں کی پہچان کے لئے معلوماتی بینک کی تشکیل، خامیوں کی شناخت و پہچان، علم و دانش کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کے فروغ ، علم و دانش کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کے خصوصی اور نجی سیکٹر کی تقویت کے موضوعات پر بھی تاکید کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے علم و دانش کی بنیاد پر کمپنیوں کے ذریعہ ملک کے اقتصاد کی پیداوار کو حقیقی اقتصاد تک پہنچنے کا راستہ اور اسی طرح خود اعتمادی کے جذبے کی تقویت، قومی تشخص اور سرانجام سیاسی طاقت و قدرت کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اس سلسلے میں ضروری راہیں ہموار کرنے کے ذریعہ ممتاز اور ماہر علمی شخصیات اور سائنسدانوں کو علم و دانش کی بنیاد پر کمپنیاں تشکیل دینے کے لئے تشویق کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: پانچویں منصوبہ کے پیش نظر،علم و دانش کی بنیاد پر 20 ہزار کمپنیوں کی تشکیل سے بالا تر افق کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

اس ملاقات کے آغاز میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق 10 ممتاز ماہرین و محققین اور سائنسدانوں اور علم و دانش کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کے حکام نے اپنے خیالات اور نظریات پیش کئے۔

1: ڈاکٹر قہار، ہمانند ساز بافت کیش کمپنی کے ڈائریکٹر

٭ ملک کی اندرونی سطح پر بیو ایمپلنٹس کی پیداوار، اس دانش کا امریکی کمپنیوں کے انحصار سےاخراج، بیماریوں پر اس جدید علم و دانش کے اہم اثرات اور ہزاروں افراد کے اعضاء کے کٹنے کے خطرے سے بچاؤ۔

٭ اس علم و ٹیکنالوجی کو منتقل کرنے کے لئے دس ممالک کی طرف سے درخواست۔

٭ وزارت صحت و وزارت رفاہ و تعاون کی جانب سے علم و دانش پر مبنی کمپنیوں کی حمایت پر تاکید۔

2: انجینئر قرحی ، خلائی توسیع ادارے کے سربراہ

٭ ہم آہنگی پیدا کرنا، ملکی و غیر ملکی تعاون کے نمونہ کا استقرار،تجارت کے لئے مناسب راہ ہموار کرنا، خلائی شعبہ میں توسیع اور اس کی مقامی سطح پر پیداوار، خلائی شعبہ کے چار اہم اقدامات ہیں،

٭ خلائی شعبہ میں 200 نجی کمپنیوں کی فعالیت۔

٭ خلائی شعبہ میں جامع منصوبہ کی منظوری میں سرعت اور مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی۔

3: انجینئر محمد رضا محمد، طبی وسائل برآمد کرنے کی یونین کے سکیرٹری

٭ مقامی سطح پر پیشرفتہ طبی وسائل کی پیداوار،علاقائی اور بعض یورپی ممالک میں ان کی برآمدات۔

٭ بیوروکریسی کو برطرف کرنے اور نجی سیکٹر کی سنجیدہ حمایت پرتاکید۔

٭ ایسے وسائل کی درآمد کے لئےغیر ملکی کرنسی مخصوص کرنے پر پابندی جوملک میں موجود ہیں۔

4: ڈاکٹر رضائی زادہ، سیمرغ حکمت ایرانیان کمپنی کے ڈائریکٹر، سنتی طب کے متخصص۔

٭ سنتی طب کے متعلق 130 تحقیقاتی اور مطالعاتی منصوبوں پر یونیورسٹیوں کے تعاون سے کام۔

٭ کینسراورایم ایس کے علاج کے لئے ایرانی دوا کی پیداوار۔

٭ تجارتی استفادہ کے لئے سنتی طب کو تجربی طب میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر تاکید، اور اس سلسلے میں ماہر افراد کے تجربات سے استفادہ۔

5: محترمہ انجینئر علوی، فرادشت کروج کمپنی کی ڈائریکٹر

٭ زرعتی محصولات پر خصوصی توجہ پر تاکید۔

6: ڈاکٹر چنگینی، اوقیانوس ادارے کی سربراہ۔

٭ دریائی شعبہ میں مطالعہ اور سرمایہ کاری کے بارے میں اطلاع رسانی۔

٭ علم و دانش کی بنیاد پر قائم کمپنیوں کی درجہ بندی پر تاکید۔

7: انجینئر ذکائی، پارس پلیمر شریف دانش بنیان کمپنی کے ڈائریکٹر۔

٭ دانش بنیان کمپنیوں کے قانون کے اجراء پر تاکید۔

8: ڈاکٹر شکریہ، کمپوزیٹس ایسوسی ایشن کے سکریٹری

٭ کمپوزیٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے قومی ریسرچ ادارے کی تاسیس پر تاکید

9: انجینئر صابری، پردیس ٹیکنالوجی پارک۔

٭ ملک کی 30 علمی و ٹیکنالوجی پارکوں کا تجارتی اور علمی لحاظ سے خصوصی نقش۔

10 : ڈاکٹر شفیعی ، بیرونی دواؤں کی پیدوار کے منصوبے کے مجری۔

٭ کینسر اور بعض دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے دواؤں کی پیدوار۔

اس ملاقات میں سائنس و ٹیکنالوجیکے شعبہ کی نائب صدر محترمہ ڈاکٹر سلطانخواہ نے علم و دانش کی بنیاد پر قائم ہونے والی کمپنیوں اور ان کی پیشرفت اور پیدوار کے سلسلے میں جامع رپورٹ پیش کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.