رہبر معظم انقلاب اسلامی کی اسلامی معاشرے کی تشکیل کے سلسلے میں جد و جہد پر تاکید

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حوزہ علمیہ تہران کے بعض طلباء سے دینی مدارس کے نئے سال کے آغاز کی مناسبت سےملاقات میں فرمایا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ انقلاب ایک حادثہ تھا جو تمام ہوگیا اور اب ہمیں اپنی معمولی اور عادی زندگی کی طرف لوٹنا چاہیے یہ بات انقلاب اسلامی کی ساتھ بہت بڑی خیانت ہے۔مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حوزہ علمیہ تہران کے بعض طلباء سے دینی مدارس کے نئے سال کے آغاز کی مناسبت سےملاقات میں فرمایا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ انقلاب ایک حادثہ تھا جو تمام ہوگیا اور اب ہمیں اپنی معمولی اور عادی  زندگی کی طرف لوٹنا چاہیے یہ بات انقلاب اسلامی کی ساتھ بہت بڑی خیانت ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علماء اور طلباء کی اسلامی نظام میں اہم اور اصلی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج بشریت بالخصوص نئی جوان نسل کو جدید باتوں کی ضرورت ہے اور اسلام کے پاس انسان سازی، معاشرے اور سیاست کے بارے میں بہت سی نئی باتیں ہیں اگر یہ باتیں عالمی  سطح پر عوام تک پہنچ جائیں تو یقینی طور پر بہت سے لوگ ان باتوں کے خریدار بن جائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے طلباء سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: آپ جوان طلباء بوستان امامت اور ولایت کے قد کشیدہ نہالوں اور جواں سال پودوں کی طرح ہیں۔ اپکی فکری توانائی اور عملی پیشرفت سے آپ کی تربیت کرنے والوں کے لئے حیرت کا سبب اور دشمنوں کے لئے خشم کا باعث ہوگی ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: اگر اسلام اور قرآن کی حاکیمت اور ہماری علمی پیشرفت و ترقی سے دشمن خشمگین نہ ہو تو ہمیں اپنے مفید ہونے میں شک کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علماء کو انبیاء کی راہ کا وارث قراردیتے ہوئےفرمایا: جسطرح انبیاء (ع) توحید اور حیات طیبہ کی حاکمیت کا پرچار اور اس کے نفاذ کے سلسلے میں تلاش و کوشش کرتے تھے علماء اور طلباء کی بھی آج اصلی اور اہم ذمہ داری یہی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ضرور  کچھ لوگ آج بھی حیات طیبہ کے مخالف اور دشمن ہیں جس طرح انبیا علیہم السلام نے توحید اور حیات طیبہ کے مخالفین کا مقابلہ کیا آج ہمیں بھی توحید اور حیات طیبہ کی حاکمیت کے مخالفین کا سامنا ہے ۔ معاشرے پر اسلامی حکمرانی، اللہ تعالی کے عالمی اور آفاقی نظام کا اہم حصہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلام اور مکتب اہلبیت علیھم السلام کے پاس بہت بڑا علمی ذخیرہ اور ثقافتی سرمایہ ہے اس مکتب میں بہت سی نئی باتیں باتیں ہیں جنھیں اگر ایمان اور عمل کے قالب میں ڈال کر دنیا تک پہنچایا جائے تو بہت سے لوگ ان باتوں کے خریدار بن جائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اسلامی احکام کے نفاذ کے سلسلے میں سخت محنت و کوشش اور عالمی سامراجی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

تبصرے
Loading...