راجا پرویز اشرف کو درپیش چیلنج

پرویز اشرف سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی بر طرفی کے بعد وزیر اعظم کے عہدے کے لئے منصوب ہوئے اور وہ پاکستان کے سترھویں وزیر اعظم شمار ہوتے ہیں ۔پرویز اشرف یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں پانی بجلی اور مواصلات کے وزیر تھے ان کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ہیں اوروہ دوبار پارلیمنٹ کے نمایندے بھی منتخب ہوچکے ہیں ۔پرویز اشرف گیلانی کی برطرفی کے بعد صدر آصف علی زرداری کی طرف سے نامزد ہونے والے دوسرے منتخب وزیر اعظم تھے ۔

ان سے پہلے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے مخدوم شہاب الدین کا نام پارلیمنٹ میں پیش کیاتھا لیکن منشیئات کے ادارے کی طرف سے شکایت کی بناپر پاکستان کی عدلت نےان کے اور اسی طرح سابق وزیر اعظم کے بیٹے علی موسی گیلانی کے خلاف گفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے تھے ۔اس حکم کے مطابق جس زمانے میں مخدوم شہاب الدین وزیر صحت تھے ،دوابنانے کے لئے درآمد ہونے والا مادہ مقدار سے زیادہ درآمد ہواتھا اور اس مادے کا منشئیات میں بھی استعمال ہوتاہے جسے غیر قانونی طورپردواؤں سے متعلق دو کمپنیوں کے حوالے کردیا گیا تھا دو مہینے قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیدیا ، اور شاید نئے وزیر اعظم کے سامنے ایک بڑی مشکل یہ ہوکہ وہ آصف علی زرداری کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر کس طرح عمل درآمدکریں گے اگر چہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی توقع کے مطابق عمل کر یں گے یا نہیں ۔

ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کوہیشہ ایک چیلنج کا سامنا رہے گا۔ مبصرین کے مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی صدر آصف علی زرداری کو تحفظ دینے کے بھینٹ چڑھ گئے اور ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ سپریم کورٹ زرداری کیس کی از سر سماعت کرے گا یا نہیں ۔اس کے علاوہ اقتصادی بحران ،دہشت گردی نو پھر سے اور بہت سی دوسری مشکلات کے پیش نظر آیندہ ہونے والے انتخابات کے صاف وشفاف منعقد ہونے کے سلسلے میں مخالف پارٹیوں پر اطمینان کا مسئلہ بھی نئے وزير اعظم کے لئےایک چیلنج ہے ، علاقائی اور عالمی سطح پر افغانستان کا مسئلہ بھی اسلام آباد واشنگٹن تعلقات کی راہ میں مشکل اور رکاوٹ بنا ہواہے جسے نئے وزیر اعظم کو طے کرنا ہوگا ۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ ک ےڈرون حملے ،نیٹوسپلائی کا مسئلہ اور عوام کے شدید ا عتراضات وغیرہ ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے امریکہ اور اسلام آباد کے تعلقات سرد اور کشیدہ ہوگئے ہیں ۔

اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت کو داخلی اور خارجی سطح پر بہت سی مشکلات کا سامنا ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی داخلی دباؤ کے پیش نظر حتی الامکان سپریم کورٹ سے الجھنے سے پرہیز کرےگی اور فوج کی حمایت کو جاری رکھنے کی کوشش کرےگی اس لئے کہ پاکستان کے داخلی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور عدلیہ کے درمیان رسہ کشی جاری رہنے سے اتحادی حکومت بہت زیادہ کم زور ہوجائے گی ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.