دنیا کا سب سےعمل مقدس !

دنیا کا سب سے مقدس عمل!!

✒️:ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی

دنیا کا سب سے زیادہ مقدس عمل،علم سیکهنا اور دوسروں کو سیکهانا ہے۔ اس عمل کی فضیلت بے انتہا اور زیادہ ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کون سا علم سیکهناچاہیے؟

علم مقدس ہے لیکن وہ علم جو ہماری دنیا اور اخرت دونوں کے لئے مفید ہو ،ہمیں ان علوم کے حصول کے لئے کوشش کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم حدیث حضرت امام رضا علیه السلام سے منسوب ہے۔

جناب عبد السّلام بن صالح ہروي روايت کرتے ہیں کہ حضرت امام رضا علیه السلام نے فرمایا :
*”رَحِمَ اللهُ عَبداً أحيی أمرَنا؛ فَقُلتُ لَه: وَ کَيفَ يُحيی أمرُکُم؟ قَال: يَتَعَلَّم عُلُومَنا وَ يُعَلِّمُها النَّاسَ، فَإنَّ النَّاسَ لَو عَلِمُوا مَحَاسِنَ کَلامِنا لَاتَّبَعُونَا”؛*
خدا اس بندہ پر رحمت کرے ؛جو ہمارے امر کو زندہ کرے. عبدالسّلام کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یابن رسول الله آپ کے امر کو کس طرح زندہ کرے ؟
آپ نے فرمایا :
*«جو شخص ہمارے علوم کو سیکھے اور پهر لوگوں کو سیکھائے ؛ کیونکہ اگر لوگ ہمارے کلام کے حسن اور خوبصورتی کو جان لیں تو وہ ضرور ہماری پیروی کریں گے ۔»*

اہل بیت علیہم السلام کے فرامین کی تبلیغ

اہل بیت علیہم السلام کے فرامین کی تبلیغ اور ان کی نشر و اشاعت کرنا انتہائی اہم امور میں سے ہے۔

سب سے پہلے ہم پر لازم ہے کہ ان کے علوم کو خود سیکھے۔
اور اس کے بعد دوسروں تک ان کو علوم کو منتقل کرے،
لوگ ان روشن اور دلنشین گفتار کو سنیں گے تو ہماری طرف متوجہ ہونگے اور ہماری راہ پر چلیں گے اور ہماری دی ہوئی تعلیمات پر اعتماد اور عمل کریں گے اس طرح ہماری ولایت لوگوں کے درمیان زندہ رہے گی۔

ائمہ معصومین علیہم السلام در اصل دین کے سچے محافظ

ائمہ معصومین علیہم السلام در اصل دین کے سچے محافظ اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کے حقیقی جانشین ہیں اور معاشرتی مشکلات کو جانتے ہیں اس لئے مرض کی تشخیص کے ساتھ علاج بھی بتاتے ہیں۔

لوگ ان کے کلام کی سچائی کی وجہ سے ان کی ذات تک کا سفر طے کرتے ہوئے ان کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں۔

لہذا اج ایک مبلغ کی سب سے بڑی ذمہ داری مخاطب شناسی اور ان کی ضرورت کے مطابق گفتگو کرنا ہے اس طرح دشمن کی سازشوں کو بھی بے نقاب کرسکتے ہیں اور دنیا کو جعلی اور خود ساخته رہبروں کے مکر و فریب سے نجات دلا سکتے ہیں اور دین کے حقیقی وارثوں تک لوگوں کی راہنمائی کرسکتے ہیں۔

یہ مقدس عمل یعنی

معاشرے میں ال محمد کی تعلیمات کو زنده کرنا تین طرح سے ممکن ہے

1۔بیان کے ذریعے :

جیسے تقریر،علمی نشستیں،مناظرہ،گفتگو،سوال وجواب، اسی طرح ان کی زندگی پر فلم اور ڈارمہ وغیره بناکر اس مقصد کو حاصل کرسکتے ہیں۔
سوشل میڈیاپر مختلف کلیپس کے ذریعے یه مقصد پورا ہوسکتا ہے۔سوشل میڈیااس وقت بین الاقوامی سیار یونیورسٹی ہے اس کا فائدہ ہمارے تصور سے زیادہ ہے لہذا ایک مبلغ کے پاس اس کے لئے بھی بہترین علمی اور فکری پروگرام ہونا ضروری ہے ۔

2۔تدریس کے ذریعے:

جیسے دینی مدارس؛یونیورسٹی اور تعلیمی مراکز میں حدیث کی کلاسیں رکھ کر اس بارے میں کام کر سکتے ہیں ۔

3۔تحریر کے ذریعے:

جیسے کتاب اور علمی تحقیقی مقالے لکھ کر اور اسی طرح نشر واشاعت و… احیی امرنا کا مصداق ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

چهارده + 11 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More