خلیل کے خواب سے حسینؑ کی حقیقت تک

قرآن میں جس قربانی کو پچھلوں پر چھوڑا گیا ہے اور ارشاد ہوتا ہے : وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ یعنی “ہم نے اس کو پچھلوں پر چھوڑ دیا” یقیناً وہ امام حسین علیہ السلام کی کربلا میں دی جانے والی عظیم قربانی ہے، جس کو ذبحِ عظیم کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو خواب دیکھا تھا، مقتل میں مولا حسین علیہ السلام نے اس خواب کی تعبیر بیان کی ہے۔ حضرت اسماعیل ؑکی گردن سے جو ‏چھری رہ گئی تھی، وہ حسینؑ کے یوسف پسر کی گردن پر رواں ہوئی۔ حسینؑ کی قربانی بلاشبہ صراط مستقیم کی اعلیٰ مثال ہے، جس کی اولین اور آخرین میں مثال  لانا ناممکن ہے۔ بقول محسن نقوی
کس کی ہجرت کے تسلسل سے شریعت ہے رواں
قافلہ آج تلک شہر بدر کس کا ہے
اِس مضمون کو لکھنے کا مقصد مولا حسین اور جناب ابراہیم علیہ السلام کی قربانی میں مماثلت بیان کرنا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی قربانی تین انسانی کرداروں پر مشتمل ہے، ایک حضرت ابراہیمؑ خود، دوسرا حضرت اسماعیلؑ اور تیسرا حضرت ابراہیمؑ کی زوجہ حضرت ہاجرہ جو جناب اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہیں، جبکہ مولا حسینؑ کی قربانی کئی جانثاروں پر مشتمل ہے، مگر ہم یہاں تین کا تین کے ساتھ ہی تقابل کریں گے۔

جناب ابراہیم اور مولا حسین علیہ السلام
حضرت ابراہیمؑ بھی باپ تھے اور مولا حسینؑ بھی باپ تھے، دونوں اپنے مقصد میں بے مثل اور لا شریک ہیں، دونوں کا ہدف رضائے الہیٰ تھا اور دونوں نے اس مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ایک جذبہ صداقت سے سرشار ہو کر آگ میں کود گیا اور آگ کو گلزار بنا دیا تو دوسرا بے خطر خدا کے عشق میں اپنے وطن کو چھوڑ کر بے آب و گیاہ صحرا میں اپنے خاندان سمیت بھوکہ پیاسا شہید ہوگیا، جبکہ جب بیٹوں کو قربان کرنے کا وقت آیا تو ایک نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی جبکہ دوسرے نے اپنے پسر کو یوں میدان میں بھیجا جیسے رسول اعظم ؐ سج دھج کے جنگوں میں جایا کرتے تھے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ شبیہ پیغمبرؑ ہیں۔ حرف آخر جب حسینؑ کا یوسف پسر کربلا میں قربان ہوا تو مولا حسین نے خدا کی بارگاہ میں فرمایا کہ خدایا میری قربانی کو قبول فرما۔

یوسفِ اہلبیت حضرت علی اکبر اور پسر خلیل اللہ جناب اسماعیل
حضرت اسماعیل بھی اطاعت خدا میں بے مثال اور لا شریک ہیں۔ جب والد نے سوال کیا کہ بیٹا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں آپ کو خدا کی بارگاہ میں قربان کر رہا ہوں تو بیٹے نے بھی اشتیاق خدا میں والد کو اجازت دی کہ بابا جس طرح آپ کا خدا راضی ہوتا ہے، اسی طرح کریں، جبکہ دوسری طرف حسین کا یوسف پسر ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ مکہ سے کربلا کے لیے جب مولا حسین روانہ ہوئے تو ایک مقام پر مولا حسین کی آنکھ لگ گئی اور مولا حسین کا سر شہزادہ علی اکبر کی گود میں تھا۔ مولا حسین نے خواب دیکھا اور جب خواب سے بیدار ہوئے تو  انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ حضرت علی اکبر نے  مولا حسین سے خواب کا احوال دریافت کیا تو مظلوم کربلا نے اپنے پسر کو تمام احوال بتایا۔ ہمشکل پیغمبر نے اپنے والد سے پوچھا کہ بابا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ تو امام نے فرمایا کہ بیٹا ہم حق پر ہیں، جس پر حضرت علی اکبر نے فرمایا کہ جب ہم حق پر ہیں تو اس بات سے کیا ڈرنا کہ ہم موت پر جا پڑیں یا موت ہم پر آپڑے۔

روایات میں آتا ہے کہ  حضرت علی اکبر ہر لحاظ سے رسول مکرمؑ کی شبیہ تھے، جب مدینے والوں کو رسول اکرم کی زیارت کا اشتیاق پیدا ہوتا تو وہ جناب علی اکبر کی زیارت کرتے اور حضرت علی اکبر اور جناب عباس جب ایک ساتھ چلتے تو یوں معلوم ہوتا کہ اپنے وقت کے محمد اور علی ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ یہی نہیں روز عاشور حضرت علی اکبر نے جب موت کی اجازت طلب کی اور میدان میں گئے تو امام حسین علیہ السلام نے آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ خالق گواہ رہنا میں نے تیری راہ میں اسے قربان کیا ہے، جو مکمل شبیہ رسول ؐ ہے۔ اپنے مضمون کی طرف واپس آتے ہیں، جب جناب اسماعیل کو نبی خدا نے قربانی کی غرض سے لٹایا تو انھوں نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی، جبکہ مولا حسین جب علی اکبر کی لاش پر پہنچے تو انہوں نے علی اکبر کو سینے سے لگایا اور جوان بیٹے کے سینے سے برچھی نکالی۔

ام لیلیٰ اور جناب ہاجرہ ؑ
مقاتل کی تاریخ میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ جب حضرت ابراہیم اپنے پسر کو قربانی کے لئے لیکر جا رہے تھے تو اس وقت جناب ہاجرہ کو بتایا نہیں تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ ماجدہ کا صبر یہ تھا کہ جس وقت فرزند کا سنا کہ ان کی گردن پر چھری رکھی گئی ہے تو بس یہ تصور ہی ان کے لیے اتنا دردناک تھا کہ یہ بیٹے کو گود میں سلا کر گردن کو چومتی رہتیں اور روتی رہتیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ چھری چلی نہ تھی، اگر چل جاتی تو ماں کا جگر پھٹ جاتا۔ اس واقعے کا اتنا صدمہ ہوا کہ جناب  اسماعیلؑ کی والدہ ماجدہ دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ دوسری طرف جناب لیلیٰ ہیں، جن سے پوری زندگی بیٹے نے ایک ہی سوال کیا کہ ماں مجھے موت کی اجازت دیں۔ ماں نے نہ صرف بیٹے کو موت کی اجازت دی بلکہ فرمایا کہ اگر بابا پاک کی نصرت میں ذرہ برابر بھی کمی آئی تو ماں نہیں بنوں گی۔

روایات میں ہے کہ کربلا کی ہر ماں کی طرح علی اکبر کی ماں کو بھی پکا یقین تھا کہ اس کا بیٹا میدان سے زندہ واپس نہیں آئے گا۔ یہی نہیں والدہ علی اکبر نے ناصرف صبر کی مثال چھوڑی ہے بلکہ یہ وہی ماں تھی جو شام تک سنتی گی کہ “وہ ماں زندہ تو نہ ہوگی جس کا علی اکبر جیسا یوسف بیٹا کربلا میں مارا گیا ہو۔” آخر میں مضمون پڑھنے والے قارئین سے اتنی درخواست ہے کہ وہ قربانی کرتے وقت جہاں یاد ابراہیم منا رہے ہیں، وہاں یاد حسین بھی منائیں، کیونکہ حسین محسن انسانیت ہیں، جن کے سبب اسلام شاد باد اور کفر نامراد ہے اور سب کو یہ پیغام دیں کہ ہم ہیں حسینی ہمارا حسین ہے۔

تحریر: مہر عدنان حیدر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.