جنگ عراق کے بارے ميں ٹوني بليئر نے دھوکہ ديا

برطانوي ارکان پارليمان نے ملک کے سابق وزير اعظم ٹوني بليئر کو ايک بار پھر جنگ عراق کي تحقيقاتي کميٹي کے سامنے طلب کرنے کا مطالبہ کيا ہے-

ارکان پارليمان کا يہ مطالبہ اس انکشاف کے بعد سامنے آيا جس ميں کہا گيا ہے کہ ٹوني بليئر نے ملک کے پرازيکيوٹر جنرل کو جنگ عراق کي قانوني حیثيت کے بارے ميں کابينہ کے سامنے وضاحت پيش کرنے سے روک ديا تھا-

اس انکشاف کے بعد ارکان پارليمان نے ٹوني بليئر کو فوري طور پر تحقيقاتي کميٹي کے سامنے طلب کرنے کا مطالبہ کيا ہے-

ٹوني بليئر کے مشير اور رابطہ دفتر کے انچارج ايلسٹر کيمپ بيل کي ياداشتوں کے مکمل نسخے کے مطابق برطانوي براسيکيوٹر جنرل لارڈ اسمتھ يہ حققيت ارکان پارليمان کے سامنے لانا چاہتے تھے کہ مارچ دوہزار تين ميں عراق کے خلاف فوجي اقدام کے حق اور مخالفت ميں اچھے خاصے دلائل موجود ہيں ليکن ٹوني بليئر کو خدشہ تھا کہ ايسے باريک قانوني نکات کے ہوتے ہوئے جنگ مخالف ارکان کا موقف اور بھي مضبوط ہوجائے گا-

يہ انکشاف اس لحاظ سے اہم ہے کہ کافي عرصے سے يہ خيال ظاہر کيا جارہا ہے کہ ٹوني بليئر اور ان کے ساتھيوں نے لارڈ اسمتھ پر قانوني سفارشات ميں تبديلي کرنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا-

اس کے علاوہ يہ پہلا ايسا ثبوت ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹوني بليئر نے جنگ عراق کے بارے ميں موجود دلائل کي باريکيوں سے کابينہ کو آگاہ ہونے سے روک ديا تھا- اس وقت برطانوي پارليماني کميشن جنگ عراق کے بارے ميں اپني تحقيقاتي رپورٹ کو حتمي شکل دے رہا ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.