جرمن معاشرے كا ايك بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے

بين الاقوامی گروپ: دو سال پہلے جرمنی كے صدر كرسٹين ولف نے كہا تھا: اسلام جرمن معاشرے كا حصہ ہے تو قدامت پسند عيسائی ڈيموكریٹس نے انہیں تنقيد كا نشانہ بنايا تھا۔

رپورٹ كے مطابق دو سال قبل جرمنی كے صدر كرسٹين ولف نے اسلام كو جرمن معاشرے كا حصہ قرار ديا تھا جس پر قدامت پسند عيسائی ڈيموكڑیٹس نے انہیں تنقيد كا نشانہ بنايا تھا ليكن اب جرمنی كے نئے صدر نے سابقہ صدر كرسٹين ولف كا دفاع كرتے ہوئے كہا ہے كہ مسلمان جرمن معاشرے كا حصہ ہیں ليكن اسلام ايسے نہیں ہے ليكن 40 لاكھ مسلمانوں كی آبادی اور جرمن آئين میں مذہبی آزادی كے ساتھ كيسے كہہ سكتے ہیں كہ اسلام جرمنی كا حصہ نہیں ہے۔

البتہ حال ہی میں اس حقيقت كو تسليم كرتے ہوئے سائنس اور ہيومينٹيز كونسل نے تجويز دی ہے كہ مسلمان اساتيد اور ائمہ جماعت كی تعليم كے لئے جرمنی كی يونيورسٹيز میں الہيات اسلامی كا شعبہ قائم كيا جائے۔ 1945 میں جرمنی میں 6 ہزار مسلمان رہائش پذير تھے ليكن آج جرمنی میں ۴۰ لاكھ مسلمان آباد ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.