ایرانی ذرائع ابلاغ پر پابندی، جنگل کا قانون ہے

اسلامي جمہوريہ ايران کے ريڈيو اور ٹيلي ويژن کي عالمي سروس کے سربراہ ڈاکٹر محمد سرافراز نے کہاہے کہ ايران کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ مغرب کا رويہ جنگل کے قانون کي يا دلاتا ہے۔

ايران کے ريڈيو وٹيلي ويژن کي عالمي سروس کے سربراہ ڈاکٹر سرافراز نے آئي آر آئي بي سے گفتگو کے دوران ايران کے ريڈيو و ٹيلي ويژن کے ادارے کے خلاف امريکي کانگريس کي پابنديوں کے قانون اور اسي طرح ايران کے سٹلائٹ ٹي وي چينلوں کي نشريات کو يورپي سٹلائٹ کمپنيوں بالخصوص اکيس دسمبر کو اسپين کي سٹلائٹ کمپني ہيسپا سيٹ کے ذريعے ايران کے اسپونل چينل اور پريس ٹي وي کي نشريات بند کئے جانے فيصلوں کے بارے ميں کہا کہ ايران اپنے ذرائع ابلاغ کے خلاف امريکا اور يورپ کے اس طرح کے مخاصمانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے قانوني چارہ جوئي کرنے جارہا ہے۔

ڈاکٹر سرافراز نے امريکا اور يورپ کے فيصلوں کو مغربي حکومتوں کي اصل ماہيت اور ان کے حقيقي چہرے کا آئينہ دار بتايا اور کہا کہ امريکا اور يورپ کوشش کررہے ہيں کہ بچگانہ طريقوں سے ايران کے ذرائع ابلاغ کي آواز کو دبا ديں۔

ايران کے ريڈيو اور ٹيلي ويژن کي عالمي سروس کے سربراہ نے کہاکہ ايراني ٹي وي چينلوں کے بارے ميں مغربي حکومتوں نے جو رويہ اپنا رکھا ہے وہ قانوني اعتبار سے جنگل کے قانون کے دور کي ياد دلاتا ہے اور آزادي بيان کے لحاظ سے قرون وسطي کي ياد تازہ کرديتا ہے، جب کسي کے لئے جاننا جرم سمجھا جاتا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ ايراني ٹي وي چينلوں پر امريکي کانگريس کي پابندياں صہيونيوں کے دباؤ ميں اور غزہ پر حملوں ميں اسرائيل کو ہونےوالي شکست اور تل ابيب سميت ديگر علاقوں ميں فلسطينيوں کے ذريعے ايراني ميزائيل فائر کئے جانے کے بعد عائد کي گئي ہيں۔

تبصرے
Loading...