آیت اللہ جعفر سبحانی: قرآن کریم، نئےاسلامی تمدن کی تشکیل کی بنیاد ہے

آیت اللہ العظمیٰ سبحانی نے مردوں کے دسویں قرآنی مقابلوں کے انعقاد کی مناسبت سے ایک پیغام دیا ہےکہ جسے آیت اللہ سبحانی کے بیٹے حجۃ الاسلام والمسلمین حاج علی سبحانی نے ان مقابلوں کی اختتامی تقریب میں پڑھ کرسنایا ہے کہ جو تہران کے شہدائے اسلامی انقلاب نامی ثقافتی سنٹر میں منعقد ہوئی ہے۔

اس پیغام کا متن یہ ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم

إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوم   صدق الله العلي العظيم (آیه 9 سوره الاسراء)

قرآن کریم اسلام کا زندہ وجاوید معجزہ ہے۔ جس دن پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا والوں کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے تو آپ مختلف قسم کی دلیلوں اورمتعدد معجزوں کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے تاکہ ان کے ذریعے نئے تمدن کی بنیاد قائم کریں اور بشریت کو بت پرستی اورخسارے اور گھاٹے سے نجات دیں اورخوشی کی بات یہ ہےکہ اس راہ میں انہیں بہت زیادہ کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکثرمعجزے ، تاریخ میں موجود ہیں اوروہ سب کےسب یقینی ہیں، لیکں ایک معجزہ کہ جو قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی سچائی پرگواہ ہے وہ یہی قرآن مجید ہے کہ تقریبا پندرہ صدیاں گزرنے کےبعد بھی کوئی بھی اس جیسا ایک چھوٹا سا سورہ  بھی لانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ وہ شخصیت کہ جو صدیوں پہلے ہی فرماتی ہیں: قل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (  (سوره اسراء آیه 88)

کہہ دیجیے اگر انسان اورجن سب مل کراس قرآن کی مثل لانے کی کوشش کریں تو وہ اس کی مثل لا نہیں سکیں گےاگرچہ کہ وہ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔

یہ شخصیت اپنی دعوت کی سچائی پراتنا پختہ ایمان رکھتی ہے کہ تاریخ کی گہرائی سےاس کا پیغام دیا ہے اورآج بھی وہ پیغام زندہ اورمفید ہے۔

امام علی بن ابی طالب علیہ السلام دارالقرآن نےمختلف کورسزمنعقد کرکے مختلف عمرکے افراد کو اس آسمانی کتاب سےآشنا کیا ہے اورتلاوت، حفظ اورمعانی کی تحقیق میں کافی کامیابی حاصل کی ہے۔

 میں اس سیمینار کو منعقد کرنے والوں اوراس کے بانی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اورآپ سب کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عظیم ثواب اورحسن عاقبت کی دعا کرتا ہوں۔

تبصرے
Loading...