امریکا اور اسرائیل میں ایران سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں، سید حسن نصراللہ

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ ایران پر حملہ کرسکیں اور امریکیوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران تنہا نہیں ہے-

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے ایک خصوصی انٹرویو میں  کہا کہ امریکا اور اسرائیل میں ایران پر حملہ کرنے کی ہمت و توانائی نہیں ہے اور ایران کی دفاعی توانائیوں کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کی مہم ایران کی قیادت، حکومت اور عوام  پر دباؤ ڈالنے کے لئے ایک نفسیاتی جنگ ہے-

انہوں نے کہا کہ امریکا کی موجودہ صورتحال اور اس کی فوجی توانائیاں یا  پھر اسرائیل کی فوجی توانائی ایسی نہیں ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑ سکیں اس لئے ایران کے خلاف بیانات، صرف نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں-

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ یہ نفسیاتی جنگ صرف اس لئے ہے کہ امریکا کی فوجی طاقت مضمحل ہو رہی ہے اور ایران کی دفاعی قوت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے- انہوں نے لبنان پر اسرائیل کی ممکنہ جارحیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ غاصب صیہونی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی لبنان کو ہمیشہ اسرائیل کی طرف سے جارحیت کا خطرہ رہا ہے اور وہ ہر مہینے لبنان پر حملے کی دھمکیاں دیا کرتا ہے-

انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل نے اگر کوئی جنگ مسلط کی تو اس بار اسرائیل کے مقابلے میں لبنانیوں کو دو ہزار چھے کی کامیابی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی کامیابی نصیب ہو گی- حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے گذشتہ جنگ میں ریڈ لائنوں کا خیال رکھا تھا لیکن اب ہم کسی بھی ریڈلائن کی پرواہ نہیں کریں گے اور ہم حتی حیفا میں آمونیاک کے ڈپو اور ڈیمونا کے ایٹمی رییکٹر کو بھی نشانہ بنائیں گے اور اسرائیل کو اس کی جارحیت کا مزہ چکھائیں گے-

انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے ذریعے حزب اللہ کو دہشت گرد گروہ قراردیئے جانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خود دہشت گر دوں کو قوموں کے بارے میں اظہار رائے کا حق نہیں ہے اور وہ دوسروں کو دہشت گرد نہیں کہہ سکتے-

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کو استقامتی قوتوں کا دھڑکتا ہوا دل قرارد یتے ہوئے کہا کہ علاقے کے بعض ممالک استقامتی محاذ سے خوف زدہ ہیں- انہوں نے کہا کہ ان ملکوں  کو اس بات سے خوف لاحق ہے کہ علاقے میں امریکی اور صیہونی منصوبہ، ناکام ہو،جائے،گا-  سید حسن نصراللہ نے کہا کہ استقامتی محاذ کسی بھی شخص کو نشانہ نہیں بنائے گا بلکہ استقامتی محاذ اور سبھی مزاحمتی گروہوں کا اصل اور بنیادی مقصد، بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی ہے- انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور استقامتی گروہوں سے علاقے کے بعض ملکوں کو اس بات پر خلش ہے کہ ایران اور ایران جیسے بعض دیگر ممالک اور اسلامی مزاحمتی تحریکیں، کیوں امریکا کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہیں اور آزاد و خود مختار کہلاتی ہیں جبکہ علاقے کی ان بعض عرب حکومتوں کا شمار امریکا کی خدمتگزار حکومتوں میں ہوتا ہے؟ انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کو غیر قانونی اور دہشت گرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج داعش جو کام انجام د ے رہا ہے وہ وہی اقدامات ہیں جو صیہونیوں نے انیس سو اڑتالیس سے پہلے اور بعد کے برسوں میں انجام دیئے ہیں-

 

تبصرے
Loading...