افغانستان میں داعش کے انتقال کا امریکی مقصد خطےمیں اپنی موجودگی کوجواز فراہم کرنا ہے

قائد انقلاب اسلامی کے دفترکی سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای اپنے درس خارج فقہ کی ابتداء میں افغانستان کےحالیہ دہشتگردانہ واقعات میں بے گناہ افراد کے مارے جانے  پراپنےگہرے دکھ درد کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکہ، دہشتگرد گروہ داعش کو افغانستان منتقل کرکےخطے میں اپنی موجودگی کو جواز فراہم کرنے اورصہیونی حکومت کے لیے سلامتی ایجاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے افغانستان میں ہونے والےحالیہ واقعات میں سینکڑوں افراد کے قتل پرداعش کے دستخط کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ جن ہاتھوں نے داعش کو تشکیل دیا تھا اوراسےشامی اورعراقی عوام کے خلاف ظلم وستم کا وسیلہ قراردیا اوران علاقوں میں شکست کے بعد آج وہی ہاتھ داعش کو افغانستان میں منتقل کررہ ہیں اوریہ حالیہ قتل عام درحقیقت اسی پلاننگ کا آغاز ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نےمزید کہا ہے کہ امریکی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے نزدیک شیعہ اورسنی میں کوئی فرق نہیں ہے اورشیعہ اورسنی عام لوگ ان کےحملوں کا نشانہ ہیں۔

انہوں نے خطے کی ملتوں کو آپس میں مشغول رکھنے کو امریکیوں کی پہلےنمبرکی سیاست قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ امریکہ اس چیزکےدرپے ہےکہ یہ علاقہ خوشی کے دن نہ دیکھے اورخطے کی حکومتیں اورملتیں اپنے اندرہی مشغول رہیں تاکہ وہ صہیونی حکومت کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں نہ سوچ سکیں۔

حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا ہےکہ اب امریکہ کا ہدف یہ ہے کہ وہ خطے کےحالات کو خراب کرکے اپنی موجودگی کا جواز فراہم کرے۔ جبکہ امریکہ خود افغانستان کےحالات کےخراب ہونےکا ذمہ دار ہے اورتقریبا گزشتہ بیس سالوں سے اس خطےمیں مذہب کے نام پرجو قتل عام ہورہا ہے وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ طورپرامریکی عناصرکے توسط سے ہورہا ہے اورآج بھی وہ خطے کے حالات کو خراب کرکے اپنی موجودگی کے جوازکو فراہم کرنے اوراپنے سیاسی اورمعاشی اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانےکے درپے ہیں۔

قائد انقلاب اسلامی نےآخرمیں کہا ہےکہ عالمی استعماراوراس کےعناصراورظالم اورخبیث امریکی اورصہیونی حکومتوں پراللہ کی لعنت ہو کہ جو اس طرح مسلمانوں کو تباہ وبرباد کررہی ہیں۔

 

تبصرے
Loading...