اسرائيل عوامی تحریک مزاحمت کو ختم نہیں کرسکتا ، نصراللہ

حزب اللہ کے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ تحريک مزاحمت حزب اللہ کي توانائي اس سے کہيں زيادہ بڑھ چکي ہے جس کا مشاہدہ دنيا نے دو ہزار چھے کي تينتيس روزہ جنگ ميں کيا تھا – انہوں نے اسي کے ساتھ کہا ہے کہ موجودہ حالات ميں خطے کے ممالک،حکومتيں اور اقوام فيصلہ کن کردار ادا کرسکتي ہيں –

حزب اللہ کے سکريٹري جنرل سيد حسن نصراللہ نے الميادين ٹيلي ويژن سے ايک خصوصي انٹرويو ميں کہا کہ جو کچھ علاقے ميں رونما ہورہا ہے وہ علاقے کي حقيقت مستقبل اور تقدير، آئندہ کئي عشروں کے لئے تبديل کرکے رکھ دے گا – حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ علاقے ميں نئے نئے مراکز اور اتحاد جنم لے رہے ہيں اور علاقے کي قوموں اور حکومتوں کو علاقے ميں رونما ہونے والي تبديليوں کا پوري طرح سامنا ہے – سيد حسن نصراللہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عرب دنيا اس مرحلے پر عالمي سطح پر اہم کردار ادا کرسکتي ہے کہا کہ اس کا دار و مدار اقوام کے ارادوں پر ہے –

انہوں نے کہا کہ صيہوني حکومت کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب مصر کا انقلاب رونما ہوا جس کے نتيجے ميں سابق ڈکٹيٹر حسني مبارک کا تختہ الٹ گيا- انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر صہيوني حکومت کو جو شاک پہنچا اور جس طرح سے وہ علاقائي سطح پر تنہائي کا شکار ہوئي ہے اس کي مثال اس سے پہلے کبھي نہيں ملتي –

حزب اللہ کے سربراہ نے اس بات کي اميد ظاہر کرتے ہوئے کہ علاقے کي اقوام موجودہ صورتحال کا سربلندي اور کاميابي کے ساتھ سامنے کريں گي کہا کہ مسئلہ فلسطين کي حمايت ميں اسٹريٹجي تيار کرنے کے لئے سب کو شريک ہونا چاہئے کيونکہ اس بات کے لئے بہت زيادہ کوششيں ہورہي ہيں کہ فلسطين کے مسئلے کو بھلا ديا جائے –

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ صيہوني حکومت کي فضائيہ اسلامي مزاحمت کو ختم کرنے کي توانائي نہيں رکھتي کيونکہ اسلامي مزاحمت کے پاس موثر اور صحيح معنوں ميں دفاعي قوت پائي جاتي ہے – سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ اس وقت سن دوہزار چھے کي تينتيس روزہ جنگ کے زمانے سے کہيں زيادہ طاقتور اور بہتر پوزيشن ميں ہے- انہوں نے کہا کہ لبنان کي اسلامي مزاحمتي تحريک پورے اطمينان کے ساتھ اپني سرگرمياں جاري رکھے ہوئے ہے اور اپنے مستقبل کے بارے ميں وہ پوري طرح سے پراميد ہے –

حزب اللہ کے سربراہ نے ايران کے خلاف صيہوني حکومت کے دھمکي آميز بيانات کے بارے ميں کہا کہ اسرائيل جو بھي کام کرے گا اس کي ذمہ داري امريکا پر عائد ہوگي- انہوں نے کہا کہ صيہوني حکومت کي طرف سے کسي بھي طرح کے حملے کي صورت ميں ايران کا جواب صرف اسرائيل تک محدود نہيں رہے گا بلکہ علاقے ميں امريکا کے سبھي اڈوں کونشانہ بنايا جائے گا –

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ ايران پر حملہ کرنے کے تعلق سے خود اسرائيليوں کے درميان ہي اختلاف پايا جاتا ہے اور بات ايران کي پرامن ايٹمي سرگرميوں کي نہيں ہے بلکہ ايٹمي معاملہ محض ايک بہانہ ہے- انہوں نے کہا کہ صہيوني حکومت کے وزير اعظم نتنياہو اور وزير جنگ ايہود باراک علاقے کو ايک اور جنگ کي آگ ميں دھکيلنا چاہتے ہيں –

حزب اللہ کے سربراہ نے شام کے بارے ميں بھي کہا کہ شام کے بحران کے عروج کے زمانے ميں بعض بااثر عرب ملکوں اور امريکي عہديداروں نے شام کے صدر کو پيغام بھجوايا اور ان سے کہا کہ اگر وہ اپنا رابطہ ايران اوراسلامي مزاحمتي تحريکوں سے ختم کرليں تو يہ بحران ختم کرديا جائے گا –

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ مشرق وسطي کے علاقے ميں امريکا کي پاليسي اسرائيل کو تحفظ دينے کي پاليسي ہے اور علاقے ميں اسلامي جمہوريہ ايران کي پاليسي فلسطين کي حمايت پر استوار ہے اسي لئے ايران چاہتا ہے کہ شام ميں جنگ بند ہوجائے اور اس کے لئے وہ اپني کوشش بھي کررہا ہے –

تبصرے
Loading...