2022 - 12 - 02 ساعت :
آج کے کالمز - خبریں

ووٹ کی حیثیت اور ہماری ذمہ داری

2020-11-11 073

تحریر : محمد بشیر دولتی

بحیثیت شیعہ مسلمان میرے  عقیدے میں جو حکم اوّلی ہے اسکے مطابق حاکم اعلٰی  پہلے خدا پھر رسول پھر آئمہ ع  ہیں۔مگر نبی اور امام کے غیر موجودگی میں حکم ثانوی کے مطابق فقیہ عادل کو حاکمیت حاصل ہے ۔
چونکہ اسلام ایک کامل و جامع ضابطہ حیات انسانی پر مشتمل دین ہے ۔جس میں حکم اولی پر عمل ممکن نہ ہونے کی صورت میں ایک حکم ثانوی بھی موجود ہے۔فقہ اور اصول میں اس کی بہت سارے مصادیق موجود ہیں۔جیسے نماز کے لیے حکم اولی کے مطابق وضو اور غسل واجب ہیں مگر پانی نہ ہو یا پانی مضر ہو یا دامن وقت میں گنجاٸش نہ ہو تو حکم ثانوی کے مطابق تیمم کریں تو یہ کافی ہے۔
علم اصول میں ظن حجت نہیں ہے مگر  ظواہر کتاب ، شہرت فتواٸیہ ، خبر واحد و اجماع منقول وغیرہ ہو تو ظن معتبرہ کے عنوان سے حجت مانا جاتا ہے۔
اسی طرح عصر حاضر میں جب ولی فقیہ کی حاکمیت بھی   ممکن نہ ہو تو  برے سے اچھا ، اچھے سے بہتر اور بہتر کے مقابلے میں بہترین کے انتخاب کا حکم ہے۔قرآن کی اس جیسی سینکڑوں آیات کی روشنی میں ”تعاونوا علی البر والتقوای ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان “ کے تحت برے اور براٸیوں کے مقابلے میں اچھے اور اچھاٸیوں سے تعاون کرنے کا حکم ہے۔
اگر تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو  سواۓ حضرت محمد ص کے آخری دس سال اور حضرت سلیمان پیغمبر ص یاچند دیگر انبیا ٕ کے علاوہ کوئی نبی اپنے معاشرے کا ظاہری حاکم  نہیں رہا۔
اماموں میں حضرت علی ع کے تقریباً آخری پانچ سال اور امام حسن ع کے تقریباً چھے ماہ کے علاوہ کوئی بھی امام امامت و ولایت پہ من اللہ فائز ہونے کے باوجود لوگوں کی بے اعتنائی و لاپروائی کی بناء پر معاشرے کا ظاہری حاکم نہی رہا۔
اب موجودہ دور میں رسول و امام کی بظاہر غیر موجودگی میں ایک فقیہ ،  عالم باعمل ،شجاع ، دین دار، متقی و پرہیزگار بندے کا حاکم ہونا ضروری ہے جسے ”ولی فقیہ“ کہاجاتا ہے۔
ولی فقیہ نہ ذاتاً منصوص من اللہ ہے نہ  شہنشاہیت و آمریت کی طرح ہے۔ جو بھی فقیہ جسے نفس پہ کنٹرول ہو۔خواہشات نفسانی کا اسیر نہ ہو، دین کا محافظ و شجاع  ہو، خدا و رسول و امام کا مطیع ہو اور اس کے ہاتھ میں اختیارات یعنی حکومت ہو تو وہ ولی فقیہ بن سکتا ہے مگر ولی فقیہ منتخب ہونے اور نظام ولایت کو نافذ کرنے کیلیے دو بنیادی شرائط کاہونا ضروری ہے
ایک تشیع کی اکثریت دوسرا ”اکثریت“ کی جانب سے ”قبولیت“ یہی دوشرائط اسے آمریت و شہنشاہیت سے جدا کرتی ہیں۔
اسی لیے امام خمینی رح  نے فرانس سے واپسی پر اس نظام کے نفاذ کیلیے ریفرنڈم کروایا تھا ۔شیعہ اکثریت کی شرط تو موجود تھی ریفرنڈم میں اکثریت نے اس نظام کو قبول کیا تب یہ نافذ العمل ہوا۔بحیثیت شیعہ ہمیں ایسے نظام کیلیے کوشش کرنی چاہیے۔
مگر اس وقت پاکستان میں یہ دونوں شرائط مفقود ہیں۔تو کیا ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟  یا امام زماں ع کے ظہور کیلے فقط دعا ہی کرتے رہیں؟
اپنے مخالفین کو یونین کونسل کی سطح سے لے کر قانون بنانے والی پارلیمنٹ پھر ملک کے حاکم اعلٰی تک ہم پہ مسلط ہونے دیں یا حتی الامکان انکا راستہ روکنے کی کوشش کریں؟
بلکہ عراق لبنان و دیگر ممالک کی مانند ہمیں غدیری و ولایتی  ہونے کے باوجود حکم ثانوی کی طرف آنا پڑے گا؟
ان زمہ داریوں کی بہتر اداٸیگی کے لیے  ہمارے پاس آئمہ ع کے دور کے کئی اہم نمونے موجود ہیں ۔
بعد از رحلت پیمبر ﷺ یہ امت ولایت و امامت سے منحرف ہوگٸی ۔
امت کو ولایت کے دروازے پہ آتے آتے پچیس سال کا عرصہ لگا۔اس حالت میں خود صاحب غدیر ، وقت کے حکمرانوں کو مفید مشوروں سے نوازتے رہے ۔یہی وجہ ہے کئی موقعوں پرحضرت عمر کو کہنا پڑا : یاعلی آپ نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا۔کردار و عمل سے اہلبیت میں شامل حضرت سلمان فارسی نے خلیفہ دوم کی طرف سے مدائن کی گورنری کو قبول کیا۔
حضرت عمار یاسر جیسی شخصیت نے کوفے کی گورنری کو قبول کیا۔
خلیفہ دوم کے مجلس شوریٰ کے چھ نفر میں ایک خود صاحب غدیر مولا علی ع تھے انہی چھ افراد کے ووٹ سے حاکم  مقرر ہونا تھا ان میں بھی حضرت عبدالرحمن بن عوف کو آج کی اصطلاح میں ویٹو پاور حاصل تھی مگر حضرت ع نے انکا  بائیکاٹ کر کے گھر بیٹھنے  کی بجائے کمیٹی میں   شامل ہونے کے بعد خود اپنے حق میں واحد ووٹ دیکر بتایا کہ ہرحال میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا اور اتمام حجت کرنا بہت ضروری ہے۔
پچیس سال بعد اکثریتی رائے کو قبول کیا اور ظاہرا حاکم بن گئے۔
امام علی ع نے اپنے کئی نمائندوں کو عوامی مطالبہ پر تبدیل بھی کیا۔
ہر امام اپنے ماننے والوں کو باطل  حکمران کے منتخب گورنر کے پیچھے نماز جمعہ میں شرکت کا حکم دیتے رہے( حکم ثانوی کے مطابق) ۔۔۔۔
طول تاریخ میں صرف صفوان جمّال کے علاوہ علی ابن یقطین جیسے وزیروں اور مشیروں کے واقعات ذیادہ ملتے ہیں۔۔جنہوں نےحکومت کی جانب سے وزارت کو قبول کیا اور امام نے مشروط اجازت رکھ دی تاکہ وہ باطل حکومت میں بھی  شیعوں کی  جان و مال و عزت و آبرو اور حقوق  کی حفاظت کر سکیں۔
باطل حکمرانوں کے زیر اثر ہونے کے باوجود امام سجاد ع کا اس دور کےاسلامی افواج کے حق میں دعائے خیر کرنا۔{بدتر سے بد بہتر کا عملی مصداق ہے} ان جیسی بہت ساری اور مثالیں آئمہ ع کے دور میں ملتی ہیں جو حکم اوّلی کی غیر موجودگی میں حکم ثانوی کے تحت تشیع کے دفاع و مضبوطی کیلیے انجام دیے گئے انھی میں سےایک صلح امام حسن ع بھی ہے۔
‎ یہ سب ہمیں باطل حکمرانوں ںسے برتاؤ اور ایسے دور میں جینے کا سلیقہ و ہنر سکھاتے ہیں ۔

دور جدید 

‎دور آئمہ سے درس لیتے ہوئےحکم ثانوی کے تحت دور جدید میں ایران، عراق، لبنان، شام،  بحرین، نائیجیریا،یمن، افغانستان و ہندوستان کے شیعوں کی جدوجہد بتاتی ہے
کہ ہمیں میدان سیاست میں بھر پور انداز میں موجود ہونا چاہیے جس پر سالار مقاومت سید حسن نصراللہ بھی کافی زور دیتے ہیں۔عراق میں مقتدای صدر کے علاوہ  شہید باقر الحکیم و شہید باقر الصدر کی تنظیمیں، النصر، الفتح، دولت قانون۔ائتلاف، جریان ملی،
لبنان کی حزب اللہ، یمن کی انصاراللہ ہمارے لیے بہترین نمونہ عمل ہیں۔ جنہوں نے سیاسی میدان میں ووٹ کے بہترین استعمال کے زریعے طاغوت کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔
‎فقط پاکستان میں حکم ثانوی کی نفی اور اسے غدیر و امامت  کے مقابلے میں لا کر کفر و شرک تک پہنچانا کسی بھی صورت درست نہیں ہے ۔رہبر معظم سمیت دیگر مجتہدین کے الیکشن سے مربوط فتوے پہ توہین آمیز قیل و قال بھی  نظریہ ولایت فقیہ کیلیے نیک شگون نہیں  ہے۔
خدا اس معاملے میں ہمیں لبنان و عراق کے مومنین کی طرح ولی فقیہ کے حقیقی پیروکار بننے کی توفیق عطا کرے آمین۔‎

اہم سوال:

حکم ثانوی کے تحت الیکشن میں شرکت کو کفر و شرک قرار دینے سے پہلے خلیفہ دوم کی مجلس شورای میں صاحب ولایت کی شرکت، اور مولا کا اپنے حق میں ووٹ دینا، پھر پچیس سال بعد عوام کی رجوعیت کو قبول کرنا، حضرت عمر کی جانب سے حضرت سلمان فارسی و حضرت عمار یاسر کا مداٸن اور کوفہ
کے گورنرشپ کو قبول کرنا، علی ابن یقطین جیسوں کا وزارت کو قبول کرنا، امام سجاد ع کا افواج اسلام کےحق میں دعائے خیر کرنا، امام رضا ع کا ولی عہدی کو قبول کرنا ، نظام ولایت فقیہ کے لیے امام خمینی کا ریفرنڈم کرانا، لبنان اور عراق کے مومنین کا الیکشن میں حصہ لینا ، ان سب کے بارے میں بھی نظریہ یافتوا دینا پڑے گا۔
نعوذ باللہ اگر وہ سب باطل اور غلط تھے تو اب بھی سب باطل اور غلط ہونگے  یوں ہم حکم اوّلی کے تحت ہر نظام کا بائیکاٹ کریں گے اور گھر پہ بیٹھے رہیں گے، جس کی وجہ سے کوئی دشمن دین ، ظالم ، چور ، ڈاکو ، بے ایمان ، بے ضمیر  ، بد اخلاق نے آنا ہو آجاٸیں پھر ہم احتجاج اور ریلی سے لے کر نظام تعلیم کی اسناد تک انہیں لوگوں سے لے لیں گے۔اور ان کے محتاج رہیں گے ۔کیا یہ درست ہے؟۔بات بلکل سادی ہے اگر حکم ثانوی کے تحت وہ سب ضروری اور صحیح تھا تو اس وقت عالم  تشیع  کی طرح پاکستان میں بھی الیکشن میں حصہ لینا  ضروری اور صحیح ہے۔
لہذا شیعیان پاکستان و بلتستان کو چاہیے کہ وہ بھی عراق و لبنان کے مومنین کے نقش قدم پر چلتے ہوے سیاسی میدان میں بھی بھر پور کردار ادا کرتے ہوۓ دنیاۓ استعمار کی تمام تر سازشوں کو ناکام بناٸیں۔۔اور جس طرح سے حزب اللہ لبنان و حشد شعبی عراق دیگر سیاسی تنظیموں بلکہ عیساٸی تنظیموں سے اتحاد کر کے حکومت میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح سے ہماری سیاسی مذہبی تنظیموں کو بھی اپنی شناخت و اہداف کے ساتھ اتحاد کرنی ہوگی۔اور انکے اس فیصلے کو لبنان و عراق کے مومنین کی طرح ہمارے مومنین کو بھی تسلیم کر کے شرح صدر و سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت