یزید کی مجلس میں یہودی رہبر اور عالم کا اسلام قبول کرنا

تحریر: مولانا محمد لطیف مطہری کچوروی

–। مختلف شیعہ و سنی تاریخی منابع میں،کربلا سے شام تک اہل بیت علیہم اسلام کے قافلے کے راستے میں مختلف معجزات کا ذکر موجود ہے۔ ان کے علاوہ یزید کے دربار  میں کاروان اسیران اہلبیت علیہم السلام کی حاضری اور امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کی وجہ سے کچھ کرامات ذکر ہوئے ہیں جن میں سے ایک دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا دین اسلام  قبول کرنا ہے۔جیسا کہ  راوندی نے کتاب الخرائج و الجرائح میں یہودیوں کے بزرگ رہنما اور عالم  راس الجالوت کے ساتھ مجادلہ اوربحث وگفتگو کا ذکر کیا ہے جو یزید کی خصوصی دعوت  پراسی مجلس میں شریک تھے  اور آخر کار اسلام  کی حقانیت کو قبول کرتےہوئے دین اسلام کو قبول کرتا ہے۔اس کے علاوہ  دیگر کتابوں میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔1۔
واقعہ کربلا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کو شہید کرنے کے بعدامام حسین علیہ السلام  کا سر مبارک بھی،  دیگرقیدیوں کے قافلے کے ہمراہ مختلف مقامات سے گزارتے ہوئے آخر کار یزید کے مجلس میں پہنچ گئے۔ یزید  نواسہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل پر جشن منانے کے لئے دیگر اقلیتی فرقوں اور مذاہب کے لوگوں کو دمشق میں جمع کرتا ہے۔ مختلف مذاہب کے رہنما اور ان کے بزرگ  افراد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اس قافلے کی آمد کو دیکھتے ہیں۔جب امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک تھالی میں رکھا جاتا ہے تو یہودیوں کا بڑا رہبر  اور عالم حیران ہو کر مختلف سوالات پوچھنا شروع کرتا ہے۔کہ یہ سر کس شخص  کا ہے؟ 
(دَخَلَ عَلَيهِ (أي عَلى يَزيدَ) رَأسُ اليَهودِ، فَقالَ: ما هذَا الرَّأسُ؟ فَقالَ: رَأسُ خارِجِيٍّ. قالَ: ومَن هُوَ؟ قالَ: الحُسَينُ. قالَ: ابنُ مَن؟ قالَ: ابنُ عَلِيٍّ. قالَ: ومَن امُّهُ؟ قالَ: فاطِمَةُ. قالَ: ومَن فاطِمَةُ؟ قالَ: بِنتُ مُحَمَّدٍ. قالَ: نَبِيُّكُم؟! قالَ: نَعَم ۲۔)
یہودیوں کا بزرگ رہنما یزید کے پاس آتا ہے اورپوچھتا ہے: یہ سرکس کا ہے؟ یزید کہتا  ہے: یہ ایک باغی کا سر ہے۔ وہ پوچھتا ہے: وہ کون ہے؟یزید کہتا ہے:یہ حسین ہے۔ وہ پوچھتا ہے:کس کا بیٹا ہے؟ یزید کہتا ہے: علی کا بیٹا ہے۔ وہ پوچھتا ہے : اس کی ماں کون ہے؟ یزید کہتا ہے : فاطمہ ہے۔ وہ پوچھتا ہے: فاطمہ کون ہے؟ یزید کہتا ہے :محمد کی بیٹی ۔وہ پوچھتا ہے: آپ لوگوں کا نبی؟ یزید  کہتا ہے: ہاں۔ 
یہودی عالم نواسہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مظلومانہ قتل پر تعجب کرتے ہوئے یزید اورشام والوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے : میرے اور حضرت داؤد علیہ السلام کے درمیان ستر نسل کا فرق ہے لیکن پھر بھی میں یہودیوں کے نزدیک نہایت ہی قابل احترام اور مورد تکریم واقع ہوتا ہوں۔
(قالَ: لا جَزاكُمُ اللّهُ خَيرا، بِالأَمسِ كانَ نَبِيَّكُم وَاليَومَ قَتَلتُم ابنَ بِنتِهِ! وَيحَكَ إنَّ بَيني وبَينَ داووُدَ النَّبِيِّ نَيِّفا وسَبعينَ أبا، فَإِذا رَأَتنِي اليَهودُ كَفَّرَت لي.)
یہودیوں کے رہبر اور عالم نے کہا: خدا تم لوگوں کو کبھی  خوشی اور خیر نہ دکھائیں! کل وہ تمہارا نبی تھا اور آج تم نے اس کی بیٹی کے بیٹے کو قتل کیا ہے؟! افسوس ہو تم لوگوں پر! میرے اور  حضرت داؤد علیہ السلام کے درمیان کم و بیش ستر نسل کا فاصلہ ہے۔ لیکن پھر بھی جب بھی یہودی مجھے دیکھتے ہیں تو میرے سامنے جھک جاتے ہیں اور تعظیم کرتے ہیں۔پھر یہ یہودی رہبر کہتا ہے: ہمارے آبا و اجداد نے ہمیں خبردار کیا تھا کہ کسی نبی کا بیٹا کربلا میں مارا جائے گا۔(كُنّا نَسمَعُ أنَّهُ يُقتَلُ بِكَربَلاءَ ابنُ نَبِي)۳۔ ہم نے سنا ہے کہ ایک نبی کا بیٹا کربلا میں مارا جائے گا۔(وأنتُم لَيسَ بَينَكُم وبَينَ نَبِيِّكُم إلّاأبٌ واحِدٌ قَتَلتُم وَلَدَهُ.)4۔ تم لوگوں نے دین اسلام میں رہ کر  رسول خدا کے بیٹے اور اس کے پوتے کو کیسے قتل کیا ہے؟ جبکہ حسین اور نبی کے درمیان صرف ایک نسل  کا فاصلہ ہے؟لیکن تمہارے اور تمہارے نبی کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں سوائے ایک نسل کے لیکن تم نے اس کے بیٹے کو مار ڈالا!
یزید،جس کے پاس اس یہودی رہبر کو مارنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا،حکم دیا کہ یہودی عالم کے گلے میں رسی ڈال  دیا جائے۔ لیکن یہودی عالم نے احتجاج کرتے ہوئے کھڑے ہو کر یزید اور یزید کی مجلس میں موجود لوگوں کی سرزنش کرتے ہوئے کہا: “میں نے تورات میں دیکھا ہے کہ جو بھی کسی نبی کی اولاد کو قتل کرے گا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔”
(فَأَمَرَ يَزيدُ بِكَرٍّ في حَلقِهِ، فَقامَ الحِبرُ وهُوَ يَقولُ: إن شِئتُم فَاضرِبوني أو فَاقُتلوني أو قَرِّروني، فَإِنّي أجِدُ فِي التَّوراةِ أنَّهُ مَن قَتَلَ ذُرِّيَّةَ نَبِيٍّ لا يزال مَغلوباً أبَداً ما بَقِيَ، فَإِذا ماتَ يُصليهِ اللَّهُ نارَ جَهَنَّمَ)۵۔
یزید نے حکم دیا کہ اس کے گلے میں موٹی رسی باندھی جائی۔ یہودی عالم کھڑا ہوا اور کہا: اگر تم چاہو تو مجھے  جان سےمار سکتے ہو  یا مجھے زندان میں قید کر سکتے ہو لیکن میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ جو بھی کسی نبی کی اولاد کو قتل کرے گا  تو وہ جب تک زندہ رہے گا شکست کھاتا رہے گا اور جب وہ مرے گا  توخدا اسے جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔
پھر وہ امام حسین علیہ السلام کے سرمبارک کے پاس جاتا ہے اور امام حسین علیہ السلام کے سرمبارک کا بوسہ لیتا ہے اور اپنی زبان پر شہادتین جاری کرتاہے۔ اور اس طرح وہ بھی دین اسلام اور امام حسین علیہ السلام کی راہ میں شہید ہوجاتا ہے۔ 
(ثُمَّ مالَ إلَى الطَّشتِ، وقَبَّلَ الرَّأسَ، وقالَ: أشهَدُ أن لا إلهَ إلَا اللّهُ، و أنَّ جَدَّكَ مُحَمَّدا رَسولُ اللّهِ، وخَرَجَ، فَأَمَرَ يَزيدُ
 بِقَتلِه‏.)۶۔پھر یہودیوں کا رہبر اور عالم سر مبارک کی طرف جاتا ہے اوراسے چومتا ہے اور کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ کا نانا محمد خدا کا رسول ہے۔ پھر وہ باہر چلا جاتا ہے۔ یزید جب یہ دیکھتا ہے تو اسے قتل کرنے کا حکم  صادر کرتا ہے۔اس طرح اہل بیت عصمت و طہارت کے خاندان کا ایک اور معجزہ تاریخ کے صفحے پر نقش ہو جاتا ہے۔                            عاشورا اور امام حسین علیہ السلام کے معجزات اور کرامات کا تسلسل آج بھی جاری و ساری ہے۔ 
ابن اثیر لکھتا ہے :جب سر مبارک امام حسین علیہ السلام کو یزید کےسامنے لایا گیا تو یزید خوشی کا اظہا ر اور ابن زیاد کی تعریف کر رہا تھا لیکن تھوڑی مدت میں ہی حالات بدل گئے اور سرزمین شام کی فضا یزید کے خلاف ہو گئی اور لوگوں نے اسے لعن و نفرین کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے وہ ندامت کا اظہار کرتا تھا اور ابن زیاد کی مذمت کرتے ہوئے کہتا تھا :اسی نے حسین ابن علی کے ساتھ سخت رویہ اختیارکیا کیونکہ حسین ابن علی نے بیعت سے انکار کر کے دوردارز علاقے میں رہنے کے لئےکہا تھا لیکن ابن زیاد نے ان کی بات کو رد کر کے انہیں قتل کیا اور لوگوں کو میرا دشمن بنا  دیا ۔ ۷۔
امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی شہادت  اور اہل بیت علیہم السلام کی اسیری نے لوگوں پر حقایق روشن کر دئیے یہاں تک کہ سر زمین شام  کا ماحول(جہاں سالہا سال سے معاویہ اور اس کے افراد کی حکومت تھی)بنی امیہ کے خلاف اور اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے حق میں بدل گیاکیونکہ ابھی تک  بنی امیہ کی حکومت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو  کافر ،باغی اور خوارج بتاتی تھی اور فریب دینے والےنعروں سے  علویوں اور شیعوں کو اذیت و آزار پہنچاتے تھے ۔لیکن آپؑ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر ، بدعتوں اور برائیوں کا مقابلہ اور امت کی اصلاح جیسے مقاصد کی خاطر قیام فرمایا اور اپنی شہادت اور اہل حرم کی اسیری کےذریعے اسلامی معاشرے میں ان اصولوں کو رائج کیا جن کی وجہ سے ہر حریت پسند انسان کے لئے بنی امیہ سے جہاد کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا چنانچہ یکے بعد دیگرے بنی امیہ کی حکومت کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئےیہاں تک کہ معتزلہ اور قدریہ نے بھی قیام کیا ۔اسی طرح کچھ شیعوں نے سلیمان بن صرد خزاعی کی رہبری میں قیام کیا اس کے علاوہ قیام مختار اور زید بن علی کا قیام قابل ذکر ہےجنہوں نے قیام عاشورا کواسوہ اور نمونہ قرار دیا تھا ۔خلاصہ یہ کہ کربلا کے خونین قیام نے مسلمانوں ،خاص طورسے شیعوں میں جرائت ،شہامت اور شہادت طلبی کا جذبہ پیدا کیا جس کے بعد انہوں نے بنی امیہ کے حکمرانوں کی نیند حرام کر دی اگرچہ اس راہ میں سخت شکنجوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑایہاں تک کہ راہ خدا میں شہید ہو گئے۔

منابع:
۱۔ دانشنامه امام حسین، ج8، ص 94۔ طبرانی، المعجم الکبیر، ج 3، ص 111؛ ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج 1، ص 498؛ ابن اعثم، الفتوح، ج 5، ص 132۔
۲۔ راوندی الخرائج و الجرائح، ج 2، ص 581۔
۳۔طبرانی، المعجم الکبیر، ج 3، ص 111۔
۴۔ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج 1، ص 498۔
۵۔ابن اعثم، الفتوح، ج 5، ص 132
۶۔ راوندی، الخرائج و الجرائح، ج 3، ص 1166۔
۷۔ تاریخ ابن اثیر ،ج2، ص 157۔

نوٹ: — پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں — اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.