کورونا وائرس عذاب الہی یا عمل کا نتیجہ!

0 2

تحریر: مولانا محمد حسین بہشتی

حوزہ نیوز ایجنسی | کورونا وائرس کو تقریباً آئے ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے ذہنوں میں ایک سوال اٹھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ “آیا کورونا وائرس عذاب الٰہی ہے یا ہمارے اعمال کا نتیجہ”؟

اس سلسلے میں لوگ دو حصوں   میں منقسم ہیں:

1-ایک گروہ کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کسی ملک کے طاغوتی   کاموں میں سے ایک طاغوتی کام ہے،جو کسی نہ کسی طریقےسے دنیا پر اپنا تسلط برقرار     رکھنے کا کوئی عمل یا پروگرام ہو سکتا ہے!
  
2-دوسرے گروہ کاعقیدہ یہ ہے کہ یہ لوگوں کی بد اعمالیوں   کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے  اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو یہ وائرس عذاب کی شکل میں بھیجا ہے جیسے آندھی، سیلاب، زلزلہ وغیرہ کے ذریعے عذاب   نازل کرتا ہے!
  
خداوند متعال نے حضرت آدم (ع) سے لیکر حضرت خاتم الانبیاء(ص) تک انزال کتب  ارسال رسل کے ذریعے بنی نوع بشر جس کو اشرف  مخلوقات کہتے ہیں قانون ، آئین، دستور کو شریعت کی شکل میں ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا،چونکہ دین مقدس اسلام،  دین فطرت ہے”فَأَقِمْ وَجْهَک لِلدِّینِ حَنِیفًا ۚ فِطْرَ‌تَ اللَّهِ الَّتِی فَطَرَ‌ النَّاسَ عَلَیهَا ۚ لَا تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِک الدِّینُ الْقَیمُ وَلَٰکنَّ أَکثَرَ‌ النَّاسِ لَا یعْلَمُونَ”
لیکن یہ انسان عجیب مخلوق ہے، عجیب الخلقت ہے قرآن مجید نے اس انسان کی حقیقت کو بھی واضح اور محکم  بیان کیا ہے خلاصہ یہ ہے”ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُون”
جو کچھ بلائیں اور مصیبتیں آتی ہیں نازل ہوتی ہیں اپنے کیے کا نتیجہ ہوتا ہے! جب یہ انسان اپنی فطرت پر نہیں چلے گا،اپنی حقیقت پر نہیں چلے گا تو ہر چیز کا ایک عمل ہوتاہے اور ایک ردعمل! 
شریعت اسلام نے جن جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس میں حکمت ہوتی ہے اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا،اس کی اصل یہ ہے جب کوئی شراب   نوشی کرتا ہے تو مست ہوتا ہے جب مست ہو جائے گا تو پھر   کچھ بھی کر سکتا ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔کسی کو قتل بھی کر سکتاہے جب مست ہو گا تو وہ ماں ، بہن اور بیوی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرے گا۔شراب کا اثر بہت برا ہوتاہے اسی طرح کتا،خنزیر وغیرہ نجس العین ہیں طبی  دنیا اور میڈیکل کے حوالے سے بھی اس کے اندر جو جراثیم ہیں وہ انسان کے لیے بہت خطرناک ہیں ! 
اب میڈیا کی دنیا ہے یورپ والے چین والے اور دوسرے ادیان و  مذاہب سے تعلق رکھنے والے نہ   صرف کتا اور خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں بلکہ گھروں میں رکھتے ہیں بستروں میں اپنے  ساتھ سلاتے ہیں اور مختلف قسم کے جانورں کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتے ہیں ہر قسم کے جانوروں، پرندوں ، درندوں کو  اور ہر قسم کے حشرات کو زندہ پکاتے ہیں، جلاتے ہیں حتیٰ زندہ کھاتے بھی ہیں یہ موبائل اور سوشل میڈیا نے عجیب تباہی  مچائی ہوئی ہے اور یہ چیزیں اسلامی معاشرے میں بھی اپنا برا اثر تیزی سے چھوڑ رہی ہے۔ یہ وہی مغربی کلچر ہے جس نے اسلامی معاشرے کو تباہی کے  دہانے پہنچا دیا ہے جو حرکتیں کافر اور مشرک کرتے ہیں وہی  حرکتیں مسلمان بھی کرنے لگے ہیں خاص طور  پر عورتوں، بچوں ،نوجوانوں اور جوانوں میں یہ چیزیں بڑی تیزی کے ساتھ  سرایت کر رہی ہیں پھر  بچی کھچی کسر کو ہمارے مواصلاتی نظام جیسے ریڈیوز،ٹیلی وژن اوراخبارات پورا کررہے ہیں،اسی لیے زنا کے کیسز،قتل ،چوری ،ڈکیتی، فحاشی ،عریانی وغیرہ واقع   ہو رہے ہیں۔یقیناً جب انسان  اپنی فطرت کے خلاف چلے گا   تو اس کے اثرات بھی مرتب  ہوں گے۔

آپ زہر کھائیں گے تو اس کا اثر  بھی تو ہوگا، آپ شراب  پئیں  گے تو مست ہوں گے آپ کتا ،خنزیر کھائیں گے اور ان کے ساتھ ناجائز تعلقات برقرار کریں گے۔

آپ زناکی بات کرتے ہو؟

یہ مخلوق زنا سے بڑھ کر تمام  حلال و حرام جانوروں سے بد سلوکی بھی کرتے نظرآئيں گی  اب تو حلال وحرام کا تصور  ہی ختم ہو رہا ہے ،انسانوں کی     غلط حرکتیں اور جرا‏ئم  اتنے    بڑھ چکے ہیں اب تو مسلمان بھی یہ حرکتیں کرنے لگے ہیں    لہذا خلاصہ کلام یہ ہے!کورونا وائرس سے  پوری دنیا سہمی    ہوئی ہے، خوفزدہ ہے، یہ سب ان   کی بد اعمالیوں اور غلط حرکتوں کا اثر اور نتیجہ ہے۔

پھر بھی ہم عبرت نہیں لیتے ہیں، عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا  ہے۔

پس! اللہ کو یاد کرتے رہے ! اللہ کے حضور توبہ کیجئے اپنی فطرت پر قائم رہے “وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدوانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ”
ان آیات پر توجہ کیجئے اور  اپنی عاقبت کو نہ بھولئے! کتنے  عزیز اس عرصے میں ہم  سے  بچھڑ گئے اور کسی بھی وقت  ہمیں بھی اللہ کے حضور جانا  ہے۔اناللہ وانا الیہ راجعون!

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے
Loading...