2022 - 12 - 02 ساعت :
آج کے کالمز - خبریں

کردار بولے ۔۔۔!

2020-11-06 076

تحریر: عظمت علی

حوزہ نیوز ایجنسی | جس وقت رسول اسلام نے اس دنیا میں آنکھیں کھولیں ،عرب دنیا میں دینی گمرہی کا کھٹاٹوپ اندھیراچھایا ہوا تھا۔وہ اللہ کو چھوڑ کوجھوٹے خداؤں کی پوجا کرتے ،بچیوں کو زندہ دفن کرتے ،ذراذرا سی با ت پر برسوں تلک کشت وخون کرتے یعنی وہ بے راہ روی میں آدمیت کی حد پار کر چکےتھے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ ہماری اندھیری بستی میں کوئی نور مجسم آیا ہے تووہ آنحضرت کے دیدار کوآئے اورپھر آتے ہی رہے ۔جب مشرکین مکہ نے آپ کے اتنے اچھے کردا ر کودیکھا تو وہ رفتہ رفتہ آپ سے نزدیک ہوتے گئے اور پھر یوں ہوا کہ آپ کی زیارت کو تانتا بندھ گیا ۔آپ کے حسن اخلاق نے ان کو مکمل طور سے موہ لیاتھا ۔کیونکہ آپ نے نہ تو کبھی جھوٹ کا سہارا لیا ،نہ کبھی کسی کو دھوکہ دیا اور نہ ہی کسی شخص کا دل توڑابلکہ ہمیشہ لوگوں سے پیار و محبت سے ملتے ۔بچوں کےساتھ بہت ہی شفقت و مہربانی سے پیش آتے اورسلام کرنے میں ان پر  پہل کرتے ۔بزرگوں کے احترام میں کوئی کمی نہ کرتے ۔

جب ان بدو ؤں نے آپ کے چال چلن اور طور طریقہ کو اپنے برے سماج سے الگ تھلگ پایا تو انہیں یہ احسا س ہونے لگاکہ یہ ہم  میں سے توہے لیکن ہم جیسا نہیں !ایک زمانہ تک آپ کےساتھ رہنے کے بعد جب مشرکین عرب کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ آپ کے کلام میں ذرہ برابر بھی جھوٹ کا سائبہ نہیں پایا جاتا تو انہوں نے آپ کو “صادق “کے لقب سے پکارنا شروع کردیا۔ساتھ ہی ساتھ آپ کی امانت داری پر بھی جب ذرہ برابر بھی شک و شبہ نہ رہا تو آپ کو “امین ” کےلقب سے یاد کرنے لگے۔گو یا کفار مکہ کو حضرت محمد مصطفیٰ پر اپنی موت سے زیادہ یقین ہوگیا تھا ۔اس طرح آپ نے کفار و مشرکین کو آداب زندگی بتائے اور ان حیوان صفتوں کو انسان بنایا ۔

ایک روز پیغمبر اسلامﷺ کچھ اہل مکہ کےساتھ کسی پہاڑی علاقے پر گئے تھے ۔آپ نے سب کو مخاطب کرکے ایک سوال کیا کہ اگرمیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر آرہاہےتو کیاتم مانوگے ؟

سب نے یک زبا ن ہوکر عرض کیا :جی ہاں ! 

آپ نےدوبارہ فرمایا :اگر وہاں جاؤ اورلشکر نہ ملے تو؟

انہوں نے عرض کیا :ہم اپنی خطاتومان سکتےہیں لیکن آپ کی نہیں !

رسو ل خدا نے اپنے آپ کو اس طرح پیش کیاکہ کفار اپنی نگاہوں کی خطا قبو ل کرنے کو تیار تھے لیکن رسول کو جھوٹا ماننے کو ہز گز تیار نہ تھے ۔وہ اپنی قیمتی اشیاء آپ کو سونپ دیتے ۔صرف اس بناء پر کہ آپ کے کہنے اور کرنے میں سوئی کے نوک کے برابر بھی فرق نہیں پایا جاتاتھا۔کردا راور حسن اخلاق کی اہمیت کا اگر اندازہ لگاناہوتو آخری نبی  کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہوگا ۔آپ نے اخلاق پہلے،اسلام بعد میں پیش کیا ۔اس لئے کہ اگر دنیا کسی کا لوہا مان لیتی ہے تو اس کا دل جیتنے میں دیر نہیں لگتی ۔

چونکہ ہم سب اللہ کے حبیب کو اپنا رہنما اور پیشوا تسلیم کرتے ہیں ،اس لئے ہماری زندگی کو آپ کی حیات طیبہ کا عکس ہونا چاہئے اور پھر ہمیں غیروں سے اپنے کردار کے متعلق صفائی پیش کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہ رہ جائے گی بلکہ وہ خود پکار کرکہیں آپ تو مسلمان ہیں کیونکہ “عطر آن است کہ خود ببوید نہ آنکہ عطار بگوید “عطر تو وہی ہے جو خود مہکے نہ  کہ عطر بیچنے والا اس کی مہک کی تعریف کرے۔

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت