کربلا کے کمسن شہداء اور مجاہدین 

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی 

–। کربلا دنیا کی واحد درسگاہ ہے جو بلاتفریق مذہب و ملت ہر صنف اور ہر عمر کے افراد کو اسلام اور انسانیت کا درس دیتی ہے اور اس کے عملی نمونہ پیش پیش کرتی ہے۔ یہاں نہ مذہب کی قید ہے اور نہ رنگ و نسل کا تعصب اور نہ ہی عورت مرد کا فرق اور نہ ہی عمر کی کوئی شرط ہے۔ جو بھی در حسینؑ پر آجائے وہ نجات پاجائے گا ۔ دوجہاں کی سعادت و کامیابی اس کا مقدر ہو گی۔ 

نہ صرف اسلام بلکہ دنیا کا قانون ہے کہ جنگ میں خواتین، بوڑھے اور بچے شریک نہیں ہوتے لیکن اگر ملک و ملت، دین و مذہب اور جان ،مال و عزت کی پاسبانی کا مرحلہ ہو تو ہر ایک کو دفاع کی اجازت اور حکم ہے۔

 امام حسینؑ نے ۹ ؍ محرم کو ایک شب کی مہلت اور صبح عاشورا اتمام حجت کی خاطر خطبہ دے کر دنیا کے سامنے واضح کر دیا کہ حسین ؑ اور اصحاب حسینی جنگ کے لئے کربلا میں نہیں آئے ہیں بلکہ اسلامی اور انسانی اقدار کی پاسبانی اور دنیا کو درس حریت دینا ہی ان کا مقصد ہے۔ لہٰذا اس راہ میں جہاں جوانوں اور سن رسیدہ حضرات نے شجاعت کے جوہر دکھائے وہیں کمسن بچوں نے اپنے خون سے شجاعت، وفا اور فداکاری کی تاریخ رقم کی۔ذیل میں چند ننھے مجاہدوں کا تذکرہ پیش ہے۔ 

۱۔ حضرت علی اصغر علیہ السلام 

حضرت امام حسین؈ کے فرزند حضرت اصغر؈ کی والدہ ماجدہ جناب رباب سلام اللہ علیہا کربلا کی شیر دل خاتون تھیں۔ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ کربلا میں جناب علی اصغر ؈ کمسن شیرخوار تھے اور چھ ماہ سے زیادہ آپ کی عمر نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ظالم و ستمگر حرملہ ملعون نے تیر سہ شعبہ سے آپ کے ننھے گلے کو ذبح کیا۔ آپ کو باب الحوائج بھی کہا جاتا ہے۔ 

حضرت علی اصغر؈ کی شہادت رہتی دنیا تک حسینیت کی حقانیت اور یزید کی ذلت و رسوائی کی دلیل بن گئی۔ 

۲۔ حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام 

حضرت قاسم؈ امام حسن مجتبیٰ ؈ کے فرزند تھے۔ اپنے والد ماجد کی شہادت کے بعد اپنی مہربان والدہ اور شفیق چچا حضرت امام حسین؈کے زیر سایہ پروان چڑھے۔ جب امام حسین؈ مدینہ سے کربلا کے لئے نکلے تو آپ اور آپ کی والدہ بھی امام حسین؈کے ہمراہ مدینہ سے کربلا پہنچی۔ 

شب عاشور جب امام حسین؈ اپنے با وفا اصحاب کو انکی شہادت کی بشارت دے رہے تھے تو جناب قاسم ؑ نے سوال کیا کہ کیا میرا نام فہرست شہداء میں نہیں ہے؟ امام حسین ؈ نے سوال کیا : تمہارے نزدیک موت کیسی ہے؟ جناب قاسم ؑ نے جواب دیا : شہد سے زیادہ شیریں ہے۔ 

روز عاشورا جناب قاسمؑ امام حسین؈  کی خدمت میں آئے اور جنگ کی اجازت طلب کی۔ امام ؈نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا اور کچھ دیر گریہ کیا۔ قاسم اصرار کرتے رہے اور امام؈ کے ہاتھوں کا بوسہ لیتے رہے۔ المختصر امام حسین؈نے انہیں جنگ کی اجازت دی اور انھوں نے میدان میں آ کر رجز پڑھا :

إن تُنكِروني فَأَنَا فَرعُ الحَسَن

سِبطُ النَّبِيِّ المُصطَفى وَالمُؤتَمَن‏‏

هذا حُسَينٌ كَالأَسيرِ المُرتَهَن

‏بَينَ اناسٍ لا سُقوا صَوبَ المُزَن‏‏

اگر مجھے نہیں پہچانتے تو میں حسن مجتبیٰ  کا فرزند ہوں، جو نواسہ رسول مصطفی و امین  ہیں۔

یہ حسینؑ اغوا شدہ کی طرح اسیر ہیں، ایسے لوگوں کے درمیان کہ خدا انہیں آب باران سے سیراب نہ کرے۔

اگر ہم تیرہ برس کے مجاہد جناب قاسمؑ کے رجز میں غور کریں توانسانیت کو مندرجہ ذیل پیغامات ملتے ہیں:

۱۔ ’’انا فرع الحسن‘‘ میں امام حسن ؈  کی شاخ ہوں ۔ جیسا کہ رسالۂ حقوق میں امام زین العابدین ؈نے فرمایا: ’’جان لو کہ باپ تمہاری اصل (جڑ) ہے اور تم اس کی شاخ ہو ۔ 

جناب قاسمؑ نے انسانیت کو پیغام دیا کہ کبھی اپنی اصل یعنی باپ کو نہ بھولنا۔ 

۲۔’’سبط النبی المصطفیٰ والموتمن ‘‘  یعنی امام حسن؈ اللہ کے منتخب اور امین رسول کے نواسہ ہیں۔ 

آپ کا یہ کلام یزید پلید کے ان اشعار کی ہمیشہ کے لئے تردید کر رہا ہے جس میں وحی و رسالت کا انکار کیا ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ ہم رسالت مآبؐ کے پیروکار ہیں اور یزید منکر رسالت اور دشمن اسلام ہے۔ 

۳۔ امام حسینؑکی مظلومیت کو بھی واضح کیا کہ جن کے نانا نے یزید کے باپ دادا کو آزادی دی تھی آج وہی لوگ نواسہ رسول کو اسیر کئے ہیں۔ 

جناب قاسمؑ میدان میں گئے اور شجاعت سے جہاد کرتے ہوئے اپنی جان دین پر فدا کر دی۔ 

۳۔ حضرت عبداللہ بن حسنؑ

جناب عبداللہ؈ حضرت امام حسن مجتبیٰ؈ کے فرزند تھے۔ کربلائے معلی میں آپ کی عمر گیارہ برس تھی امام حسین ؈ کی شفقت و محبت نے کبھی یتیمی کا احساس نہ ہونے دیا ۔ امام حسین؈ ان پر فدا تھے اور یہ امام حسینؑ پر۔ 

عصر عاشور کو جب جناب عبداللہ کی نظر امام حسین ؈پر پڑی تو کیا دیکھا امام قتل گاہ میں اور ظالم حلق مبارک پر تلوار چلانا چاہتا تو فورا چاہنے والے چچا کی جانب دوڑے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو چچا کی حفاظت کی خاطر آگے بڑھا دیا ۔ تلوار چلی اور دونوں ہاٹھ قلم ہوگئے ۔فریاد کی چچا۔ امام مظلوم نے بھتیجہ کو گلے سے لگالیا ۔ حرملہ نے تیر چلایا اور جناب عبداللہ؈ امام حسین؈کی آغوش میں شہید ہو گئے۔ 

۴۔ حضرت محمد بن ابی سعید بن عقیلؑ

شہدائے بنی ہاشم میں سے ایک شہید حضرت محمد بن ابی سعید بن عقیل؈ ہیں ۔ کربلا میں آپ کی عمر سات برس تھی۔ 

کمسنی کے سبب میدان کربلا میں تلوار سے جہاد نہیں کیا اگرچہ بعض روایات کے مطابق راہ خدا میں جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ 

لیکن اکثر روایات کے مطابق جب امام حسین؈ کی شہادت ہوئی تو آپ خیمہ سے باہر تشریف لائے ۔ پریشانی اور بے چینی سے داہنے بائیں دیکھ رہے تھے کہ یزیدی فوج خیام حسینی کو تاراج کرنے کے لئے آگے بڑھی۔ عمر بن سعد ملعون کے ایک سپاہی نے آپ کو تلوار مار کر شہید کر دیا ۔ آپ کا نام زیارت شہدا میں موجود ہے۔ 

۵۔ حضرت عبد اللہ بن مسلم بن عقیلؑ

آپ سفیر حسینی حضرت مسلم بن عقیل کے فرزند تھے۔ آپ کی والدہ حضرت امیرالمومنین؈ کی بیٹی جناب رقیہ سلام اللہ علیہا تھیں۔ واقعہ کربلا میں آپ کی عمر ۱۴ ؍ برس تھی۔ 

روز عاشورا امام حسین؈ سے اجازت لے کر میدان کا رخ کیا اور راہ خدا میں جہاد کیا۔ عمرو بن صبیح صدائی ملعون نے آپ کی پیشانی کی جانب تیر پھینکا جسے آپ نے اپنے ہاتھ سے روکنا چاہا تو تیر آپ کے دست مبارک کو زخمی کرتا ہوا پیشانی پر لگا۔ اس ملعون نے فوراً دوسرا تیر سینہ پر لگا یا ۔ جس سے آپ شہید ہو گئے۔ 

۶۔ جناب محمد بن مسلم بن عقیلؑ

آپ امام حسین؈ کے سفیر حضرت مسلم بن عقیل کے فرزند تھے۔ آپ کی والدہ امیرالمومنین؈ کی بیٹی جناب رقیہ سلام اللہ علیہا تھیں ۔ روایات کے مطابق آپ کربلا میں ۱۲ یا ۱۳ برس کے تھے۔ اپنے بھائی جناب عبداللہ ؈ کے ہمراہ جہاد کیا اور جام شہادت نوش فرمایا۔

۷۔ حضرت عمرو بن الحسن علیہ السلام 

کربلا کے بہادر بچوں میں ایک نام جناب عمرو بن الحسن علیہ السلام کا ہے۔جن کا شمار اسیران کربلا میں ہوتا ہے۔ 

جب اسیروں کا قافلہ دربار یزید میں پہنچا۔ یزید کی نظر جناب عمروبن الحسن ؈ پر پڑی تو اس نے آپ سے کہا کہ کیا تم میرے بیٹے سے کشتی لڑو گے تو آپ نے فرمایا: میں کشتی تو نہیں لڑ سکتا لیکن اگر تم ایک چاقو مجھے اور دوسرا اپنے بیٹے کو دو تو میں اس سے جنگ کروں گا اگر اس نے مجھے قتل کر دیا تو میں اپنے جد    رسول اللہ ﷺ اور امیرالمومنین ؈سے ملاقات کروں گا اور اگر میں نے اسے قتل کر دیا تو وہ اپنے جد ابوسفیان اور معاویہ سے ملاقات کرے گا۔ 

یزید نے کہا:اس خوبی کو میں جانتا ہوں۔ شجاعت تمہیں ورثہ میں ملی ہے۔ 

۸. جناب عمرو بن جنادہ انصاریؑ

کربلا کے کمسن شہیدوں میں ایک نام جناب عمرو بن جنادہ انصاری؈ کا ہے۔

روز عاشور جب آپ کے والد جناب جنادہ انصاری؈ کی شہادت ہو گئی تو آپ میدان کے لئے نکلے۔ امام حسین ؈ نے آپ کو یہ کہہ کر روکا کہ تمہارے بابا شہید ہو گئے ہیں تمہاری ماں کے لئے انہیں کا غم کافی ہے تو آپ نے عرض کیا کہ میری ماں نے ہی مجھے جہاد کا حکم دیا ہے اور انھوں نے ہی لباس جنگ مجھے پہنایا ہے۔ کربلا میں آپ کی عمر۹ یا۱۱ برس تھی۔ 

 مذکورہ کمسن مجاہدوں کے علاوہ دیگر کمسن مجاہدین اور شہداء بھی ہیں جنہوں نے میدان کربلا، تاراجی خیام اور راہ کوفہ و شام میں اپنی جان قربان کر کے اسلام کو احیاء کیا اور انسانیت کو درس حریت دیا۔ 

ان کمسن شہداء اور مجاہدوں کی قربانیاں سرکار سید الشہداء؈کی حقانیت اور مظلومیت کی دلیل ہے اور بلا تفریق مذہب و ملت کوئی بھی انسان جب ان معصوم، بے گناہ کمسن بچوں کی مظلومیت اور شہادت کی خبر سنتا ہے تو اس کا دل ملول اور آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور اس کے لئے ہدایت کے باب وا ہوتے ہیں۔

انہیں کمسن مجاہدین میں ایک امام حسین ؈ کی چہیتی بیٹی حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا ہیں۔ دوسرے امام محمد باقر ؈ ہیں۔

کربلا میں امام محمد باقر؈ ساڑھے تین برس کے تھے۔ اہل حرم کے ہمراہ اسیر ہو کر جب دربار یزید میں پہنچے تو یزید نے امام       زین العابدین ؈ کو شہید کرنے کے سلسلہ میں اپنے درباریوں سے مشورہ کیا تو درباریوں نے امام سجاد؈ کو شہید کرنے کا مشورہ دیا تو امام محمد باقر؈ نے فرمایا: اے یزید! تیرے درباری تو فرعون کے درباریوں سے زیادہ بدتر ہیں۔ یزید پلید نے پوچھا وہ کیسے ؟ تو امام؈ نے فرمایا: جب فرعون نے اپنے درباریوں سے جناب موسیٰ اور جناب ہارون علیہما السلام کے قتل کا مشورہ مانگا تو درباریوں نے منع کر دیا تھا کیونکہ وہ عاقل تھے، نبی اور اولاد نبی کو حرام زادے کے علاوہ کوئی قتل نہیں کرتا۔

 یہ سننا تھا کہ یزید نے اپنا سر جھکا لیا اور امام زین العابدینؑ کے قتل سے رک گیا۔ 

امام محمد باقر ؈نے اپنے مجاہدانہ اقدام سے جہاں ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کی وہیں یزید کے سامنے اسکی نسبی پستی کو عیاں کر دیا کہ اگر تجھ میں اتنی پستی و ذلت نہ ہوتی تو فرزند رسول امام حسین ؈ کو کبھی قتل نہ کرتا۔ 

جس طرح کربلا کے سن رسیدہ، جوان اور خواتین رہتی دنیا کے لئے نمونہ عمل ہیں اسی طرح کربلا کے کمسن بچے بھی انسانیت کے لئے نمونہ عمل ہیں اور دنیا کو اسلام اور حریت کا درس دے رہے ہیں۔ 

خدا ہمیں ان کی معرفت اور سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.