مرجعیت، دین کا محکم قلعہ

0 4

حوزہ نیوز ایجنسی | شریعت محمدی کو سمجھنے اور سمجھانے کے راستہ کو مرجعیت کہا جاتا ہے۔مرجعیت کوئی معمولی شئے نہیں ہے کہ جو چاہے مرجعیت کے متعلق بکواس کرتا چلا آئے۔

ایک مرجع کو کم سے کم سات موضوعات پر پی ایچ ڈی کرنا ہوتی ہے اس کے بعد اس منزل تک پہنچتا ہے کہ عوام تک احکام الٰہی کو بحسن و خوبی پہنچا سکے۔

در حقیقت مرجعیت ایک ایسی مافوقِ افکار شئے کا نام ہے جس تک جاہلوں کے طائر فکر کی پرواز ممکن نہیں۔
مولائے کائنات حضرت علی ابن ابیطالب علیہماالسلام کے قول مبارک کی روشنی میں انسان جس چیز کو نہیں جانتا اس کا دشمن ہوجاتا ہے۔

یہی تو وجہ ہے کہ بوجہلی افکار کے حامل افراد آئے دن فقاہت و مرجعیت کے خلاف زبان درازی کرتے رہتے ہیں لیکن انہیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ سورج کی طرف دھول اڑانے سے سورج کا کچھ نقصان نہیں ہوتا بلکہ خود دھول اڑانے والا ہی دھول میں اَٹ جاتا ہے۔
جس نے بھی مرجعیت کے خلاف زبان چلائی اس کو منھ کی کھانی پڑی اور آئندہ بھی دندان شکن جوابوں کے ذریعہ اپنا سا منھ لیکر رہ جائیں گے۔

اصلی مشکل یہ ہے کہ مرجعیت ایسی انمول شئے ہے جو مذہب تشیع کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔
اسی شان و شوکت کے پیش نظر دشمن نے اپنے پیادے تیار کئے جو کبھی شیعیت کے لبادے میں ملبوس ہوکر آجاتے ہیں اور کبھی مسلمان کے روپ میں لیکن یہ حقیقت ہے کہ مرجعیت کا مخالف نہ تو شیعہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی سنی۔

مزید  شہر اللہ اور ہماری ذمہ داریاں

مرجعیت کا مخالف بے دین ہوتا ہے، اس کا مذہب دولت کے سوا کچھ نہیں ہوتا، وہ دولت حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے لیکن اس نادان سے کوئی یہ تو پوچھے کہ اپنے انمول ضمیر کا سودا کتنے ڈالر یا کتنے ریال میں کرلیا؟.
مرجعیت، دین اسلام کا ایسا محکم قلعہ ہے جس کو مخالفت کے طوفان بھی نہیں ہلا پائیں گے تو پھر ہلکے ہلکے جھونکے کیا بگاڑ سکتے ہیں!

ہم تک شریعت، مرجعیت کے ذریعہ پہنچی ہے، ہماری نماز، ہمارا روزہ، ہمارا حج، خمس، زکات، جہاد، خوشی، غم، موت، حیات، نکاح و طلاق غرض سب کچھ مرجعیت کا مرہون منت ہے. ہم جتنا خدا کا شکر کریں کم ہے کہ اس نے ہمیں مرجعیت جیسی عظیم نعمت سے مالا مال فرمایا۔
اگر مرجعیت نہ ہوتی تو ہمارا کوئی عمل قابل قبول نہ ہوتا، ہمارے اعمال میں روح ڈالنے والی شئے کا نام مرجعیت ہے. ہمارے اعمال کو چہرہ دینے والی طاقت کا نام مرجعیت ہے.
امام خمینی رہ کے بقول: ولایت فقیہ، دشمن کی آنکھ میں کانٹے کی مانند چبھتی ہے۔

فطری بات ہے کہ اگر انسان کی آنکھ میں ذرا سی دھول بھی چلی جائے تو پریشانی ہوجاتی ہے اور دشمن کی آنکھ میں تو پورا کانٹا چبھ رہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سکون سے بیٹھا رہے؟
یہی وجہ ہے کہ آئے دن نت نئی سازشیں دکھائی دیتی ہیں لیکن وہ ہمیشہ بے نتیجہ رہتی ہیں کیونکہ مرجعیت کا محافظ ابھی زندہ ہے جو مرجعیت کی حفاظت کرتا ہے۔

مزید  ۲۵۰ سالہ انسان/ امام ہادی النقی علیہ السلام اور اسلامِ محمدی کا تحفّظ

دشمن کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ اگر دنیاوی طاقت، الٰہی طاقت کے سامنے آئے گی تو فتح و کامرانی الٰہی طاقت کے ساتھ نظر آئے گی لہٰذا میدان میں اترنے سے پہلے دشمن کو اپنے مدّمقابل پر بھی ایک نظر دیکھ لینا چاہیئے۔
والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ

تحریر: مولانا سید غافر رضوی چھولسی،دہلی

حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.