قربانی کا حقیقی مفہوم

0 5

تحریر: مولانا سید غافر رضوی فلکؔ چھولسی، مدیر ساغر علم -دہلی

حوزہ نیوز ایجنسیلغوی اعتبار سے قربانی کا مطلب، ایثار و فداکاری ہے اور اصطلاح کی رو سے رضایت الٰہی حاصل کرنے کی خاطر اپنی پسندیدہ شئے کو راہ خدا میں پیش کرنا قربانی کا اصلی اور حقیقی مفہوم ہے۔
قربانی کا اصل مقصد یہی ہے کہ اپنی سب سے زیادہ من پسند چیز کو راہ خدا میں انفاق کرکے اس کے ذریعہ رضایت خداوندی کو حاصل کیا جائے! اب اگر یہ رضایت ایک دنبہ یا بکرے کے قربان کرنے سے حاصل ہورہی ہے تو اس سے اچھی کیا بات ہے!۔
کتنے بڑے احمق ہیں وہ لوگ جو اپنے معمولی سے بکرے کو نبی خدا “اسماعیلؑ” کے ہم پلّہ قرار دیتے ہیں اور الٹی سیدھی بکواس شروع کردیتے ہیں کہ بقرعید کے موقع پر لاکھوں  کروڑوں کی تعداد میں بکرے ذبح کرنا انسانیت کے خلاف ہے، یہ ایک ظلم ہے جو نہیں ہونا چاہئے اسی وجہ سے خدا نے اسماعیل کو ذبح نہیں ہونے دیا…! وغیرہ وغیرہ۔ 
ان احمقوں سے کوئی یہ پوچھے کہ اسماعیل کو بچایاگیا تو ان کی جگہ خداوند عالم نے دنبہ بھیجا یا نہیں؟ جناب اسماعیل کو بچالینا اور ان کی جگہ دنبہ بھیج دینا، خداوند عالم کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے۔ قربانی کرنا خلافِ انسانیت نہیں بلکہ معراجِ انسانیت ہے یہی سبب ہے کہ جناب اسماعیلؑ چھری کے نیچے سے زندہ نکل آئے اور قدرت نے اعلان کیا: “اے ابراہیم! تم نے اپنا خواب سچ کردکھایا، ہم اپنے نیک بندوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں، بے شک یہ تمہارے لئے ایک کھلا امتحان تھا جس کو ہم نے ذبح عظیم سے تبدیل کردیا”۔(سورہ صفت/111-104)
خداوندعالم کے خطاب سے کچھ نکات سمجھ میں آتے ہیں: (1)ابراہیمؑ جو کہ پیغمبرِ خدا تھے وہ اپنے وعدے میں سچے تھے جس کی سند خدا کی جانب سے عطا ہوئی لہٰذا جن لوگوں کو دین حنیف پر قائم رہنے کا دعویٰ ہے ان کی رفتار و گفتار سے بھی یہ سمجھ میں آنا چاہئے کہ یہ لوگ اپنی باتوں میں سچے ہیں۔ (2)خداوندعالم کی جانب سے اس کے نیک بندوں کے لئے بہترین جزا کا انتظام کیا گیا ہے، کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی نگاہوں سے مخفی ہو! وہ ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر برائی کو دیکھتا ہے اور اسی کے مطابق جزا و سزا معین ہوتی ہے، خداوند عالم اپنے نیک بندوں کی جزا کو نذرِ فراموشی نہیں کرتا لہٰذا اس کے بندوں کو بھی اپنے ساتھیوں، ہمسایوں، رشتہ داروں غرض دائرہ انسانیت میں موجود تمام لوگوں کی نیکیوں کو ملحوظ نظررکھتے ہوئے ان کی نیکیوں کا صلہ دینا چاہئے۔ (3)جناب ابراہیمؑ کو مسلسل تین شب تک ایک ہی بشارت ہونا کہ وہ اپنے بیٹے “اسماعیلؑ” کو ذبح کررہے ہیں! یہ جناب ابراہیمؑ کے لئے ایک کھلا امتحان تھا کیونکہ اپنے نورنظر کے گلےکو چھری کی دھارپر رکھ دینا کسی باپ کے بسکی بات نہیں ہے!یہ صرف علیؑ کے لال “حسینؑ” کا جگر تھا کہ علی اکبرؑ کے سینہ سے برچھی کا پھل کھینچا اور اپنی آغوش میں اپنے ششماہہ مجاہد علی اصغرؑ کے گلے پر تیر سہ شعبہ لگتے ہوئے دیکھا اور ذبح عظیم کا مصداق قرارپائے؛ اولاد کی معمولی سی پریشانی انسان کی بوکھلاہٹ کا سبب قرار پاتی ہے ،ذرا ابراہیمؑ کے دل سے بھی تو دریافت کیجئے جنہوں نے حکم خدا کا پاس رکھتے ہوئے اپنے نورنظر کو چھری کے نیچے لٹادیا!۔ اسی لئے خداوندعالم کا ارشاد ہورہا ہے کہ اے ابراہیم! بے شک یہ تمہارا ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔ (4)ابراہیمؑ کے امتحان کو ذبح عظیم سے تبدیل کردیا گیا یعنی ابراہیمؑ کا امتحان اور اسماعیلؑ کا صبر؛ جب یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ مل گئیں تو خداوندعالم کی جانب سے اعلان ہوا کہ آپ کی قربانی کو ذبح عظیم سے تبدیل کردیا گیا ۔ 
قابل غور بات ہے کہ جس قربانی کو خداوندعالم ذبح عظیم سے تبدیل کررہا ہے اس قربانی کو کچھ نادان لوگ خلاف انسانیت تعبیر کررہے رہیں! مخالفینِ قربانی کو اتنا بھی معلوم نہیں ہے کہ قربانی کی سنت کتنی پرانی ہے؟ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اگر قربانی نہ ہو تو حج اور عمرہ جیسی عظیم عبادتیں نامکمل رہ جاتی ہیں!، ان کو یہ نہیں معلوم کہ قربانی کرنے والا انسان ہی مقربِ بارگاہِ الٰہی قرار پاتا ہے!، ان کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ قربانی میں ایک اہم شرط اخلاص ہے، قابیل نے گلے سڑے گندم پیش کئے تو اس کی قربانی رد کردی گئی کیونکہ اس کی نیت میں اخلاص نہیں تھا؛ ہابیل نے ایک موٹا تازہ دنبہ پیش کیا تو ان کی قربانی کو قبولیت کا درجہ مل گیا کیونکہ وہ ایک بااخلاص انسان تھے۔
نادانوں کو کم سے کم اتنا تو سمجھنا چاہئے کہ جب قربانی کے متعلق کچھ جانتے ہی نہیں ہیں تو پھر اس موضوع پر بولنے کی ضرورت کیا ہے! شاید یہ بھی ایک نادانی ہی ہے کہ ناسمجھی میں بولے چلے جارہے ہیں اور ان بیچاروں کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ کتنے بڑے نادان ہیں!! جس موضوع کے متعلق کافی اطلاعات حاصل نہ ہوں اس کے بارے میں زبان چلانا ، زبان درازی کہلاتا ہے جس کا دور دور تک تحقیق سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ تحقیق کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنے موضوع کے متعلق متعدد کتابوں کا مطالعہ کیا جائے، انٹر نیٹ پر سرچ کی جائے، بزرگوں سے دریافت کیا جائے۔ اسی طرح قربانی کے متعلق بھی تحقیق کرکے بولنا چاہئے نہ یہ کہ صرف اپنی من گھڑت کہانی رٹ کر اپنے کیمرہ مین کے سامنے ایک کلیپ بناکر واٹسپ پر وائرل کردی جائے! بولنے سے پہلے کم سے کم قربانی کے لغوی معنی کو ہی سمجھ لیا ہوتا! تو شاید ایسی غلطی کا سامنا نہ ہوتا۔
قربانی ایک  سنت الٰہی ہے جو حاجیوں کے لئے واجب اور غیر حاجی حضرات کے لئے مستحب تاکیدی ہے، ساتھ ساتھ ایک غلطی فہمی کا ازالہ بھی کردیا جائے کہ بعض حضرات،  سنت کو واجب کے مقابل قرار دیتے ہیں یعنی واجب کی قسیم قرار دیتے ہوئے اس کو مستحب کی جگہ پر رکھ دیتے ہیں حالانکہ سنت ایک ایسی چیز ہے جو واجب، مستحب، حرام، مکروہ اور مباح پر تقسیم ہوتی ہے یعنی سنت کوئی قسیم نہیں بلکہ خود مقسم ہے جس کی طرف بعض لوگ متوجہ نہیں ہوتے! اسی لئے ہم نے یہ جملہ استعمال کیا ہے: “قربانی ایک سنت الٰہی ہے، جو حاجیوں کے لئے واجب اور غیر حاجی حضرات کے لئے مستحب تاکیدی ہے “۔
پروردگار! ہمیں قربانی کا حقیقی مفہوم سمجھنے کی توفیق مرحمت فرما اور اخلاص کے ہمراہ ہر سال زیادہ سے زیادہ قربانی کے جذبہ کو اجاگر فرما تاکہ ہم لوگ رضایت الٰہی کے زیر سایہ زندگی گزار سکیں۔ “آمین”۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ 

مزید  عالم الدین کی موت عملی عبرت کا مقام ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.