2022 - 11 - 28 ساعت :
آج کے کالمز - خبریں

غدیر پر کیا گذری

2020-08-08 072

حوزہ نیوز ایجنسی | غدیر خم میں موجود تقریبا ایک لاکھ افراد نے یہ مشاہدہ کیا کہ پیغمبر اکرمﷺ نے اپنے روشن و واضح بیان کے ذریعہ علی علیہ السلام کو امت کا ہادی وسرپرست، مسلمانوں کا حاکم اور اپنے جانشین کے عنوان سے متعارف کرایا۔ مبارک باد پیش کرنے والوں میں سب سے پہلے افراد  حضرات عمر بن خطاب اور ابو بکر تھے( مصنف  ، حافظ  ابو بکر بن شیبہ ، ج   ۱ ،ص   ۱۵۱:مسند احمد ،ج ۴ ، ص ۲۸۱:)

پیغمبر اکرم ﷺکے وصال  کے بعد جب کہ ابھی آپ  کے پاکیزہ جسم کو سپر د لحد بھی  نہیں کیا گیا تھا لوگو ں نے حضرت علی ؑکے حق کو پائمال کرنے میں یوں پیش قدمی کی گویا کسی نے مولا ئے کائنات ؑکی عظمت کے بارے میں کچھ سنا ہی نہیں تھا اور پیغمبر اکرم ﷺنے بھی مولائے کائناتؑ کی شان ومنزلت  کے سلسلے میں کچھ بیان نہیں کیا تھا ۔
آج بھی بعٖض افراد اسی کج فکری کے شکار ہیں لیکن مولائے کائنا ت ؑکی شان ومنزلت  کو متعارف کرانے میں پیغمبر اکرم ﷺنے جو کوششیں کی ہیں کیا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہے ؟
کیا پیغمبر اکرمﷺ اپنے بعد لوگوں کی گمراہی سے آگاہ نہیں تھے؟اور اگر آگاہ تھے توانہوں نے اس کے لئے کیا منصوبہ بندی کی  تاکہ کوئی  حادثہ پیش نہ آئے؟اور اگر آپ نے اپنے بعد کے لئے پورا انتظام کردیا تھا  توپھر یہ حادثات کن کن وجوہات کی بنیاد پرپیش آئے؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول خدا ﷺ  تمام مسائل سے باخبر تھے یہاں تک کہ اپنی رحلت سے پہلے ہی انہوں نے فرمایا تھا :بہت جلد فتنہ وفساد رات کی تاریکی  کی طرح (میری امت کی پر) چھا جائے گا ۔

رسول اکرم ﷺنے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے بہت کچھ کیا تھا لیکن منافقین نے اسے محو کردیا اور اکثر اوقات پیغمبر اکرمﷺ کی اسی دور اندیشی کی وجہ سے مدینہ کے تجر کار منافقین پہلے سے زیادہ آنحضرت ﷺکے فرمان کے نفاذ میں  رکاوٹ پیدا کرتے تھے ۔

اسی کےپیش نظر غدیر کی فراموشی کے وجہ کچھ دوسرے اسباب و علل کا تذکرہ ہورہا ہے ۔

فضائل مولائے کائناتؑ کی نشر و اشاعت پر پابندی 

۱۔درحقیقت وہ منافقین جو پیغمبر اکرم ﷺکے ارد گرد جمع تھے اور کبھی کبھی اپنے کو آپ ﷺسے  منسوب کرتے تھے آپ  جب بھی مولائے کائناتؑ کے فضائل کو بیان کرنا چاہتے تھے تو وہی  منافقین مختلف طریقوں سے ان فضائل کے نشر ہونے میں رکاوٹ بنتے تھے ۔صحیح بخاری ومسلم میں اس سے متعلق دسیوں روایات بیان ہوئی ہیں۔ جیسے ہی پیغمبر اکرم ﷺفضائل علی  علیہ السلام بیان کرنے لگتے لوگ فریاد بلند کرتے یا تکبیر کہتے تھے اور مہلت نہیں دیتے تھے کہ آپ اپنی گفتگو کو آخری مرحلہ تک پہونچائیں  ۔( سیرت حلبیہ    ، ج ۲ ص ۳۵ ، الطبقات  الکبریٰ   ا،ابن سعد  ، ج ۲ ص ۲۵۲)

ان سازشوں میں اتنا زور تھا کہ آخری حج کی واپسی پر جب یہ آیت نازل ہوئی (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک   و اللہ یعصمک من الناس )۔تو پیغمبر اکرم ﷺنے اس پیغام رسانی میں تاخیر کی اس لئے کہ آپ کو اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں اقتدارکے متلاشی اور موقع پرست افراداپنے اعتراٖض کے ذریعہ لوگوں کو ماننے سے روکیں  یا ان کے خلاف سازشیں کریں۔( صحیح مسلم  ،   ج ۳ ،ص  ۴۵۲ و  ۴۵۳،ج ۶ ،ص   ۲۳، ینابیع المودۃ  ،ص  ۲۵۴)
 

اسی وجہ سے یہ آیت  پیغمبر اکرمﷺ پر نازل ہوئی ۔
واللہ یعصمک من الناس) تم اپنی ذمہ داریوں کو پہونچاؤ  خدا وند متعال بہر صورت تم  کولوگوں سے (دشمنوں کے شر سے ) محفوظ رکھے گا ۔

اس  پیغام رسانی کے باوجود  بھی  آنحضرتﷺ کے ساتھیوں میں سے ۱۴ افراد نے آپس میں عہد وپیمان کیا کہ جو بھی ہو ہم رسول ﷺکے وصال  کے بعد علیؑ کو خلافت تک نہیں پہونچنے دیں گے اس وقت رسول خدا  ﷺکے مدینہ پہونچنے سے پہلے جو قتل کی سازش رچی گئی تھی وہ بھی کامیاب نہ ہوسکی۔(  اس سے متعلق مذکورہ  آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کریں )

سازشی ہاتھ

۲۔ غدیر خم میں موجود افراد کی تعداد تقریبا ایک لاکھ تھی لیکنان میں سے مدینہ پلٹنے والوں کی تعداد بہت کم تھی اس مجمع میں بعض خواتین اور بعض سن رسیدہ تھے  جنہوں نے کسی بھی اجتماعی پروگرام میں شرکت نہیں کی تھی کہ کوئی اہم رول ادا کرتے ۔ان میں سے ایک گروہ ان منافقین اور اقتدارکے متلاثی افراد پر مشتمل تھا کہ جنہوں نے اس امر پر عہد و پیمان باندھا تھا کہ یہ خلافت  پیغمبر اکرم ﷺکے بعد علیؑ تک منتقل نہیں  ہونے دیں گے  یہ واضح رہے کہ یہ موقع پرست افراد معمول کے مطابق کوشش کررہے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو مختلف پروپیگنڈوں،سازشوں ،دھمکیوں اور لالچ کے ذریعے واقعہ غدیر خم کے عینی گواہوں کو اپنی طرف جلب کریں یا کم ازکم انہیں لاتعلق رہنے  پر مجبور کریں جیسا  کہ رسول اکرم ﷺکی وفات کے بعد رونما ہونے والے واقعات سے یہ ثابت ہوا  ہے کہ واقعہ غدیر خم کے اکثر شاہدین یا خلفاء کے طرفدار ہوگئے یا کم ازکم لاتعلق ہوگئے  اسی وجہ سے اس وقت کے گھٹن کے ماحول کی وجہ سے بہت سے واقعات یا تو تشنۂ تحریر رہ گئے یا ان میں تبدیلی کردی گئی لہٰذا بعید نہیں کچھ لوگوں نے مخالفت کی ہو اورانہیں دبا دیا گیا ہو جس کے تاریخی شواہد بھی ملتے ہیں۔ جب اخلاقیات اور احکام شرع سے متعلق سرکار ختمی مرتبتﷺ کی احادیث پر سوسال تک پابندی رہی۔تو ظاہر ہے کہ سیاسیات اور سماجیات سے متعلق روایات بہت ہی مشکل سے بعد والی نسلوں تک پہونچی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کچھ اہل مدینہ واقعہ غدیر کو یاد کرکے  حق علی ؑکے عاصبوں کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہوں اور انہیں کچل دیا گیا ہو۔

عوام کا موقف

۳۔ مدینہ کے لوگ  مولائے کائناتؑ کی سیاسی اورخدائی  شان و منزلت کے سلسلے میں چند دستوں میں بٹے ہوئے تھے  مقداد، سلمان اور ابوذر جیسے افراد آخری وقت تک آپ کے طرفدار رہے اور جب تک امام ؑنے اپنے مخالفوں سے بیعت نہیں کی ان لوگوں نے بھی بیعت کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا اور اس کے بعد بھی آپ کے زیر نگرانی تھے جب کہ اذیت وآزار کے ذریعے انہیں سکوت پر مجبور کیا جاتا تھا ۔

ایک اور منظم گروہ تھا  جو  ان دلائل کی بنیاد پر  کہ جس کا ذکر ہم آگے چل کریں گے  سرکار ختمی مرتبت ﷺ کے دنیا سے اٹھ جانے کے انتظار میں تھا تاکہ اقتدار پر قبضہ کرسکے ۔
ایک گروہ سادہ لوح مسلمانوں کا تھا جنہیں   سیاسی ومعاشرتی کا موں سے کوئی سروکار نہ تھا۔ان کے نزدیک  اسلام پر ایمان رکھنے کا مطلب صرف بعض محرمات کو ترک کرنا اوربعض واجبات  کو انجام دینا تھا۔ یعنی   اسی حد تک کہ جس کے ہم آج معتقد  ہیں  اس کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھتے تھے ۔لہٰذا یہ لوگ کبھی کبھی رسول خدا ﷺکے حکم کی طرف سے بے توجہی کرتے تھے ۔( اسماعیل   انصاری  زنجبانی کی ترجمہ شدہ کتاب   اسرار آل محمد ص ۲۳۲کی طرف رجوع کریں ۔)

اسی بنیاد پر ان افراد کی کاہلی وسستی کو عمد اور دشمنی پر حمل نہیں کیا جا سکتا ہے لہٰذا جو گروہ چند گھنٹوں میں حکومت کو حاصل کرسکتا ہے اور حالت پر قابو پا سکتا ہےان کے لئے ایسے افراد کو خاموش کرکے اپنا حامی بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔

خفیہ اقدامات

۴۔ مدینہ میں پیغمبر اکرم ﷺکی وفات مسلمانوں کے لئے سخت ترین حزن وملال وپریشانی کے روز شمار کئے جاتے ہیں ۔ان ایام میں  کچھ لوگوں کوچھوڑ کر سبھی افرادبطور خاصجوموقع کی تلاش میںہتے تھے  ان میں سے کسی نے نبوت  کا دعوی کیا اور کوئی  مدینہ پر چھڑائی کرنے کی موقع کی تلاش میں تھا۔نیزعرب ،پڑوسی  ممالک  کے کچھ غیر  مسلم  قبائل  بھی جذباتی اور فکری لحاظ سے ان موقع پرست افراد سے مل گئے  ۔

ایسے ہنگام میں سادہ لوح افراد کی نظرمیں عقلمندی  اسی میں تھی کہ شہر کی بے چینی وبے قراری کے مقابلہ  میں سکوت اختیار کریں اور پھر اطمینان حاصل کئے بغیر کسی کی کامیابی کے سبب  کسی دوسرے کی مخالفت نہ کریں ۔ان افراد نے ابھی تک عرب کی داخلی لڑائیوں کو بھی نہیں بھلایا تھا اور جانتے تھے عرب کس طرح  کہ ایک چراگاہ کے حصول کے لئےسالوں ایک دوسرے کو قتل کرتے  تھے ۔

مدینہ کے لوگوں کی حیرانی وپریشانی قابل ذکر نہیں ہے اکثر افراد پیغمبر اکرمﷺ  کی وفات کو باور نہیں کرتے تھے۔یہاں تک کہ آپ  کی وفات کے   انکار  کا امکان پا یا جاتا تھا ۔ایسے حالات میں موقع پرست افراد کے لئے سیاسی مقصد کے حصول کے لئے بہترین موقع فراہم تھا ۔

سازشی عناصر کے علاوہ کسی مسلمان کو یہ یقین  نہیں ہورہاتھا کہ ایسے حالات میں بعض افراد  پیغمبر اکرم ﷺ کےجنازہ کو   بغیر غسل وکفن کے  چھوڑ دیں گے اور   اپنی حکومت وریاست کے لئے لوگوں سے بیعت لیں گے ۔وہ سوچ رہے تھے کہ اس طرح کے مقصد کے طلبگاروں کو   شکست اور شرمندگی کے علاوہ  کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اس کے علاوہ ان کے پاس وہ دور اندیشی وبصارت  نہیں تھی کہ وہ خفیہ اقدامات کو درک کرسکیں اور ان سے تحفظ کے لئے کوئی اقدام کرسکیں ۔

اہلبیت ؑ اور حضرت علی  ؑ کی معرفت رکھنے والے افراد کے لئے یہ باور کرنا بہت مشکل تھا کہ  کچھ لوگ منصب اہلبیت ؑ کوہتھیا  لیں گے یہاں تک کہ ایک مدت تک لوگ یہ ماننے کےلئے تیار نہیں تھے   کہ ابو قحافہ کا بیٹا  مسلمانوں کاحاکم ہے اور ابوطالب کے فرزند  کنارہ کشی اختیار کرکے خانہ نشین ہوگئے ہیں  ۔

یعقوبی رقم طراز ہے کہ جب بیعت ابوبکر کے سلسلے میں ہلڑ ہنگامہ ہوا تو (براء بن عازب )حیرت وتعجب کے ساتھ بنی ہاشم کے گھر آیا اور کہا : ابو بکر کی بیعت ہوگئی ! لوگوں نے کہا : ہماری عدم موجودگی میں مسلمان ایسا نہیں کرسکتے ہیں اور ہم  ان کی بنسبت محمد ﷺ سے زیادہ قریب   ہیں اس وقت عباس نے کہا : : کعبہ کے خدا کی قسم ! لوگوں نے ایسا ہی کیا ہے( المراجعات    ،سید عبد الحسین  شرف الدین   ص   ۸۴ مرحوم سید شرف الدین  نے کتاب النص والاجتہاد  میں سو جگہوں کا تذکرہ کیا ہے کہ جس میں  رسول خدا ﷺ کے فرمان کے خلاف اصحاب نے عمل کیاہے  )
 ابن ابی الحدید کا کہنا ہے کہ : سقیفہ کے روز امام علی ؑ کے اعزا ء میں سے کسی نے آ پ ؑ کےبارے میں اشعار کہے جس کامطلب یہ ہے ۔میں نے ایسا ہرگز نہیں سوچاتھا کہ امت کی رہبری وقیادت  خاندان بنی ہاشم اور حضرت علی ؑ سے چھین لی جائے گی ۔(تاریخ یعقوبی   ،ج ۲، ص ۱۲۳ و ۱۲۴)

عوام کو ساتھ ملانے کے ہتھکندڈے 

۵۔پیغمبر اکرم ﷺ کی وفات کے بعد رونما ہونے والے واقعات  کو اکثر شیعہ مخالفین نے تحریر کیا جن میں اکثر تاریخ نگار خلفاء کے دربارسے وابستہ تھے لہٰذا ان خبروں کے درمیان سے حقائق کو کشف کرنا ایک مشکل کام تھا اسی بنیاد پر  اس حقیقت کو درک نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ کی وفات کےبعد   جن لوگوں نے  حکومت کی باگ  ڈورسنبھالی انہوں نے اپنے کردار کی کس طرح تشریح کی اور لوگوں سے کیا کہا؟کیا غدیر خم میں مولائے کائنات ؑ سے بیعت کو لوگوں نے بھلا دیا تھا ؟ کیا ان لوگوں نے اپنے سے نہیں کہاکہ کس طرح بیعت کو توڑ رہے ہیں ؟کیا ایسا نہیں ہے کہ عرب کے لوگ   دوسری چیزوں سے زیادہاپنی بیعت کوزیادہ   اہمیت دیتے  تھے ؟!تاہم انہوں نے اپنے کردار کی تشریح کس طرح سے کی ؟!کیاحضرات  ابوبکر و عمر ان افراد میں سے نہیں تھے جنہوں نے غدیر خم میں مولا علی ؑ کی سب سے پہلے بیعت کی ؟!تو پھر عوام کے سامنے کیونکر اپنے عمل کو اس حد تک جا ئز ثابت کرنے  یا کم سے کم ایسا ماحول بنانے میں کامیاب ہوگئے کہ لوگ اسے سرکار ختمی مرتبت ﷺ  کی نصیحت اور حکم کے خلاف نہیں سمجھ رہے تھے ۔؟!انصار کس فکر میں تھے ؟!انہوں نے اس اقدام کے لئے کون سا بہانا بنایا ؟!

قابل ذکر بات ہے کہ ۱۸ /ذی الحجہ سے ۲۸/ صفر سن گیارہ ہجری تک رونماہونے والے حوادث اس امر کی حکایت کرتے ہیں کہ بعض حضرات نے  اس راہ کو ناہموار بنادیا جس کے ذریعہ حضرت علی ؑ   خلافت  تک پہونچتے ۔ اور ممکن  ہے بعض افراد نے اس سلسلے میں خفیہ گفتگو بھی کی ہو ۔جیسا بھی ہو ۔ رسول خداﷺکے وصال کے وقت کم از کم ان افراد نے جنہوں نے نئے خلیفہ کی بیعت کی تھی یہ گمان بھی نہیں کیا تھا کہ اس  بیعت کا مطلب مولائے  کائنات کے منصب کو غصب کرنا ہے  ۔شاید ان افراد پر یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ غدیر خم میں انہوں نے جو عہد وپیمان کیا تھا اس کا نفاذ ضروری نہیں ہے  اس کا مطلب یہ ہے کہ جس خلیفہ کی آج بیعت ہورہی ہے وہ حکومت کا نافذ کرنے والا ہے نہ کہ امت کا رہبر ،لہذا ممکن ہے کہ معنوی رہبر ایک شخص ہو اور اس کے امور کو اجرا کرنےوالا کوئی  دوسرا شخص ہو۔ تا ہم پیغمبر اکرم ﷺ کے وصال کے بعد جو چیز سب سے زیادہ بیعت غدیر سے انحراف کا بہانہ قرار دی جاتی ہے وہ عمر و ابو بکر کا یہ دعویٰ تھاکہ رسول خدا ﷺ کا ارشاد منسوخ ہوگیا  ہے ۔
ابان بن عیاش کا بیان ہے کہ اما م محمد باقر ؑ فرماتے ہیں : ہم اہلبیت ؑ کو قریش کے ظلم وستم، ان کے ہمارے خلاف متحد ہوجانے اور قتل کے سوا ء کیا ملا اور ہمارے شیعوں اور چاہنے والوں کو کیا کیا مصیبتیں  برداشت کرنا پڑیں ؟! پیغمبراکرم ﷺ تو دنیا سے چل بسے لیکن ہمارے سلسلے میں انہوں نے جو اقدامات کئے تھے ہماری اطاعت وولایت کو واجب قرار دیا تھا اور لوگوں کو باخبر کیا  تھا کہ ہمیں تمہارے نفسوں سے زیادہ تم پر اختیا ر حاصل ہے اور اس امر کا بھی حکم دیا تھا کہ  حاضرین کا فریضہ  ہے غائبین کو مطلع کریں ۔
لیکن وہ لوگ حضرت علی ؑکے خلاف متحد ہوگئےاور آپ ؑ نے بھی اپنے متعلق پیغمبر ﷺ کے اس ارشاد کے ذریعہ جسے عام لوگوں نے سن رکھا تھا مخالفین کے سامنے اپنے حق خلافت پر دلیل پیش کی  ۔کہا : آپ صحیح کہہ رہے ہیں کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے لیکن پیغمبر ﷺ  ہی نے اسے  منسوخ کردیا اور فرمایا : ہم وہ اہلبیت ؑ  ہیں کہ خدا وند متعال نے  ہمیں عظمت بخشی  ہمیں منتخب کیا ہے ہمارے سلسلے میں صرف دنیا پر راضی نہیں ہوا ہے اور وہ نبو ت وخلافت کو ہم میں اکٹھا نہیں کرے گا  ۔( شرح نہج البلاغہ   ،ج  ۶، ص  ۲۱ )
چار افراد نے اس بات کی تصدیق کی عمر ، ابوعبیدہ ، معاذبن جبل اور سالم ابی حذیفہ ان لوگوں نے معاملہ کو عوام کے لئے مشکوک بنادیا اور اپنے کاموں کو صحیح ثابت کرکے  اہلبیت ؑ کو پیچھے ہٹا دیا اور خلافت کو جس جگہ خدا نے قرار دیا تھا وہاں سے ہٹا دیا ۔ہمارے حق ودلائل کے ذریعہ  انصار کے خلاف دلیلیں پیش کیں اور ابوبکر کے لئے خلافت کو ثابت کردیا  ابوبکر نے بھی اسے عمر کے حوالے کردیا تاکہ اس کے کام کی تلافی کرسکے۔( اسماعیل  انصاری کی کتاب کاترجمہ    اسرار     آل محمدص   ۲۷۴و ۲۷۷)

یہی وجہ ہے کہ جس وقت حضرت علی ؑ اور فاطمہ زہرا (س)  نے انصار سے مدد طلب کی تو ان لوگوں نے کہا اے بنت  رسول ﷺ!( جو ہو نا تھا ہوگیا ) ہم اس معاملہ میں  ( ابوبکر ) کی بیعت کرچکے ہیں اگرتہمارے چچا کے بیٹے اس بیعت سے پہلے ہم سے بیعت طلب کرتے تو ہم ان کے علاوہ  کسی اور کی بیعت نہ کرتے!
حضرت علی ؑ نے ا  ن کے جواب میں فرمایا : کیا پیغمبر اکرم ﷺ کے جنازے کو ان کے گھر میں چھوڑکرتجہیز وتکفین کے امور کو چھوڑ دیتا اور گھر سے باہر نکل کر حکومتی امور میں لوگوں کے ساتھ کھینچاتانی میں مشغول ہوجاتا ؟!( خطبہ کی شرح  ۶۶  نہج البلاغہ  ابن ابی الحدید   چاپ مصر   ،ج  ۱ ،ص ۱۳)

گویا اس یقین کےساتھ کہ اس منصب پر حق مولاعلی ؑ ہی کا ہے کسی اور کو ووٹ د ے دیا تھا اور اب اپنا ووٹ واپس نہیں لے سکتے تھے ۔

معلوم نہیں کہ غدیر خم میں حاضر سبھی لوگ سقیفہ کی تشکیل کے روزکس فکر میں تھے ؟! ممکن ہے  بعض حضرات   کو ایک توضیح اور دوسرے گروہ کو ایک دوسری تشریح کے ذریعہ بعض کو ڈرا دھمکا کر اور بعض افراد کو لالچ دیکر راضی کرلیا ہو ۔

سقیفہ کے واقعہ کے بعد کچھ لوگوں کی احمقانہ حرکتو ں سے یہ پتہ چل رہا تھا کہ ایسے افراد کو شیشے میں اتارنا   مذکورہ  واقعہ میں بنیادی کردار کے حامل افراد کے لئے  کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔

دوستداران اہلبیت ؑ کا اما م کے فیصلہ کا منتظر رہنا

۶۔امیرالمومنین حضرت علی ؑ کی خلافت کے غصب پر سازشی عناصر کے متحد ہونے اور ابوبکر کی خلافت کے رواج  پانے کے بعد دوستداران اہلبیت ؑ کی اکثریت امام علی ؑ کے فیصلہ کا انتظار کر رہی تھی لیکن جب دوستوں نے آپ کو تنگدستی اور صبر پر مامور پایا تو ہر مفید  نتائج کے اقدامات سے ناامید ہو کر لب سل لئے  اور لا تعلقی اپنا لی  ۔ دوستوں کے اس موقف نے حکومت کے ستونوں کو اور مستحکم کردیا لہذااہلبیت ؑ کی بے حرمتی کرنے میں ان کی جسارتیں اوربڑھ گئیں اور آہستہ آہستہ یہ نوبت آگئی کہ علی ابن ابی طالب ؑ سے اظہار محبت جرم شمار کیا جانے لگا اور جب بشیر بن سعد انصاری نے حضرت علی ؑ کی باتوں کوسنا تو کہا : اے ابوالحسن !اگر لوگوں نے آپؑ کے ان کلمات کو پہلے سنا ہوتا تو کوئی  بھی آپ ؑ پر اختلاف نہ کرتا اور سبھی لوگ آپ ؑ کی بیعت کرتے لیکن چونکہ آپ ؑ خانہ نشین ہوگئے تولوگوں نے گما ن کیا کہ آپ ؑ کو خلافت کی ضرورت نہیں ہے ۔

دلوں میں چھپے کینہ وحسد کے کانٹے 

۷۔حق علی ؑ کے پائمال ہونے کے مقابل لوگوں کی خاموشی کی اہم ترین وجہ ان سے حسد وکینہ تھا جو کہ عرب کے قبائل خاصطور سے مہاجرین آ پ ؑ سے رکھتے تھے ۔
قبائل میں یہ رائج تھا کہ اگر کوئی ان کے قبیلہ سے قتل کردیا جائے تو مقتول کا قبیلہ اور جن قبائل نے ان سے عہد وپیمان  باندھا ہے قاتل کے قبیلہ یا کسی دوسرے قبیلہ  سے انتقام لینا اپنا فرض  سمجھتا تھا جبکہ اسلام کے آنے کےبعد اس جاہلانہ رسم رواج کی کو ئی حیثیت ووقعت نہیں  رہ گئی تھی لیکن اس کے اثرات بہر حال باقی  تھے اگرچہ وہ  اس جاہلانہ بدلہ کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن ان کے دل کینہ وحسد سے پا ک بھی نہیں ہوئے تھے ۔ اور اگر کوئی اس حد تک  اپنے قبیلہ سے وابستہ نہیں ہوتا تھا تو  وہ عرب کے قبائل میں بیگانہ (پرائے) کے عنوان سے پہچانا جاتا تھا ۔
اور اس وقت کے اکثر قبائل نے رسول خدا ﷺ کے خلاف جنگ میں شرکت کی تھی جس کے نتیجہ میں  ان کے افراد حضرت علی ؑ یا بنی ہاشم کے ہاتھوں  قتل کئے گئے  تھے ۔

دوسری طرف سے مکہ کے سبھی قبائل خاصطور سے اہل قریش  پہلے سے ہی اولاد بنی ہاشم اور ان کے کمالات سے حسد کرتے تھے نیز ان کے اجتماعی  عہدو ں پر فائز ہونے سے جلتے تھے  اور اس عہدہ ومنصب نیز ان کی  شان و منزلت کےچھن جانے کے منتظرتھے ۔آخر کار حسد وکینہ کے ظہور کا زمانہ آ پہونچا خاندانی تعصب  جاگ اٹھااورطالبان قدرت اپنی مرادوں کو پہونچ گئے ۔

بلاذری لکھتا ہے : ‘‘حبات بن منذر ’’ جوکہ انصار سے تھا سقیفہ کے سلسلے میں کہتا ہے : چونکہ جنگوں میں ہم نے ان کے اباو ٔ اجداد(مہاجرین )  کو قتل کیا ہے لہذا  یہ بھی ہم سے انتقام لیں گے ۔( انساب  الاشراف ،ج  ۱ ،ص ۵۱۰)
جب انصار مہاجرین کے آباؤ اجداد کو قتل کرنے کے سبب ان سے ڈرتے ہیں تو حضرت علی ؑ کو بھی قریش کے سخت رویہ کے انتظار میں رہناچاہیئے  کیونکہ جنگ بدر میں آپؑ نے تنہا ، نصف مقتولین کو قتل کے گھاٹ اتار دیاتھاکہ جن کی تعداد  ستر تھی  ۔

طبری کہتا ہے کہ ایک مرتبہ عمر بن خطاب نے ابن عباس سے کہا : تمہیں معلوم ہے کہ قریش نے تہمارے خاندان کی طرفداری  کیوں نہیں کی جبکہ تہمارا باپ رسول اکرم ﷺ کا چچا اور تم ان کے چچا کے فرزند  ہو ؟کیونکہ اہل قریش یہ نہیں چاہتے تھے کہ نبوت وامامت تہمارے  خاندان  میں اکٹھا ہو کہ تم لوگ اس کے ذریعہ خوشی وتکبر کا اظہار  کروگے ۔(تاریخ طبری    ،ج  ۱ ،ص )۱۷۶۹)

عرب کے لوگ  رسول خدا ﷺ کو بہت مشکل سے برداشت کررہے تھے بعض قبیلوں کے و ہ سردار جو پیغمبر اکرم ﷺ پر ایمان لائے تھے علی الاعلان اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ چونکہ عرب کی قدرت وطاقت تمہاری طرف مرکوز ہے ہم تم پر ایمان لائیں گے بشرطیکہ تم ہم کو اپنا خلیفہ وجانشین  بناو  ۔
امام علی ؑ بھی اس نظریہ کی تائید میں فرماتے ہیں :‘‘ عرب کے لوگ محمد ﷺ کے کاموں سے متنفر تھے اور جوکچھ خداوند متعال نے انھیں  عطا فرمایا تھا اس سے حسد کرتے تھے وہ لوگ پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے سے ہی سعی وکوشش کررہے تھے تاکہ آپ  کے وصال سے پہلے ہی اہلبیت ؑ کے ہاتھوں سے اس امر  کو خارج کرلیں اگر قریش نے ان کے نام  کو اپنے اقتدار کا ذریعہ اور ترقی کی سیڑھی نہ بنایا ہوتا تو ان کی رحلت کے بعد ایک دن کے لئے بھی خدا کی عبادت نہ کرتے اور مرتد ہوجاتے ۔( شرح نہج البلاغہ   ابن ابی الحدید ، ج ۲ ۔ص ۲۹۸و ۲۹۹)

دیگر اسباب وعلل 

۸۔حقیقت یہ ہے کہ سقیفہ کے ابتدائی دنوں میں لوگوں کی خاموشی  اور بعد کے آنے والے زمانے میں خاموشی کے درمیان تھوڑا سا فرق ہے ابتدائی دنو ں میں   مذکور ہ   علل و اسباب کے علاوہ عوام میں طاری خوف ودہشت کا بھی اہم کردار تھا ۔بعض حضرات کی جسارتوں کو خود پیغمبر اکرم ﷺبھی  نہیں روک سکتے تھے یہاں تک کہ عمر  شمشیر کھینچے پیغمبر اکرم ﷺ کی وفات کا انکار کررہا تھا   اور پھر بنی اسلم کے شہ زوروں  کی طاقت اور چالوں کی مدد سے ابوبکر کی بیعت کو حتمی شکل دے دی تو ایسے میں لوگوں کو سروں پر لٹکتی تلوار کے سوا کچھ  نظر ہی نہیں آرہا تھا اگر کوئی مخالفت کی ہمت کرتا بھی تو اسے آخرت و قیامت کے ڈر کے  بغیر بری طرح  کچل دیا جاتا تھا اور باعظمت ترین افراد کی شان ومنزلت  کچھ بھی نہیں سمجھی جاتی  تھی ۔ایسی صورت میں جسے اپنی جان عزیز ہوتی تھی اس کے لئے عقلمندی اسی میں تھی کہ وہ اپنی سانس روک لے ۔
لیکن بعد کے زمانے میں دواہم اسباب جس نے حکومت کی مخالفت کو سخت کردیا۔ اس میں سے ایک یہ ہے کہ آہستہ آہستہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ معلوم ہو اکہ حضرت علی ؑ انقلاب برپا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور انہوں نے صبر اختیا ر کر لیا ہے لہذا  قبائل کے سرداروں کو لالچ یا دھمکی دےدی  گئی ہے جس کے نتیجہ میں  اس امرنے حکومت کی بنیادوں کو مضبوط اور مخالفت کو دشوار کردیا ۔
دوسری وجہ   حکومت مدینہ کے خلاف  قبائل کی سرکشی  تھی یہ سرکشی ایک لحاظ سے مدینہ  کی مرکزی حکومت کےلئےمفید تھی اس لئے کہ ابوبکر کا ان سے الجھنا  شعوری یا لا شعوری طور پر اندرونی  خلفشار کا باعث بنا اور اعتقادی  اختلافات کو مشترکہ دشمن سے مقابلہ کے لئے  اتحاد کی ضرورت کے بہانے  بھلا دیا گیا اور اس صورت حال نے مولا علی ؑ کو بھی  حاکم وقت کے ساتھ  تعاون پر مجبور کردیا ۔

ترجمہ: مولانا انعام رضا جلالپوری

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت