2022 - 11 - 28 ساعت :
آج کے کالمز - خبریں

صلح حسن (ع) کو سیاق و سباق تاریخ سے ملا کر سمجھئے

2020-11-11 070

از قلم: بانی تنظیم المکاتب خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری طاب ثراہ 

حوزہ نیوز ایجنسی | اگر جملہ کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پڑھا جائے تو ہمیشہ مفہوم غلط ہو جائے گا۔ لاَ تَقرَ بُو الصَّلوٰۃَ  ( نماز کے قریب نہ جاؤ ) اس قرآنی فقرہ کا یہی مطلب قرار دیا جائے گا کہ نماز پڑھنا حرام ہے۔ گناہ ہے۔ حالانکہ یہ جملہ کو سیاق و سباق سے الگ کرنے کا گناہ ہے کیونکہ اس فقرہ کے ساتھ یہ شرط لگی ہوئی ہے کہ و انتم سکاریٰ یعنی جبکہ تم نشہ میں ہو۔

خدا نے نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ نہ کہ نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ لیکن سیانے ، چالاک ، عیار ، مناظرہ باز ، جاہل عوام کو دھوکہ دیتے ہیں کہ خدا نے قرآن مجید میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ اور چونکہ عوام قرآن سے ناواقف ہیں لہذا کچھ لوگ اس کی بات صحیح مان لیتے ہیں اور کچھ لوگ مذ بذب ہو جاتے ہیں کہ مانیں یا نہ مانیں اور کچھ لوگ دہشت زدہ ہو جاتے ہیں کہ ظالم نے قرآن مجید کی آیت نکال دی ہے اور ساری دنیا کے مسلمان نماز کو واجب و لازم و ضروری قرار دے رہے ہیں۔ ہائے اب کیا کریں۔

یہی حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو کسی امامؐ اور معصوم کی زندگی کو تنہا ، سلسلہ امامت و ہدایت سے الگ کر کے پڑھتے ہیں۔ حالانکہ ہر امامؐ و معصومؐ کی زندگی ایک سلسلہ ہدایت کی کڑی ہے جو نہ ہدایت کی تاریخ کے ماضی اور ماقبل سے الگ ہو سکتی ہے اور نہ اپنی تاریخ کے مستقبل اور مابعد سے الگ ہو سکتی ہے۔ امام حسن و امام حسین علیہما السلام دو الگ شخصیتیں نہیں ہیں۔ جن کی زندگی ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہو کہ یہ سوچا جائے کہ ایک نے جہاد کیا اور جان دیدی دوسرے نے معاذ اللہ جان چرائی اور صلح کر لی۔ ایک کو بہادری کی سند دے دی جائے اور دوسرے پر معاذاللہ بزدلی کی تہمت لگا دی جائے۔ بلکہ دونوں امامؐ ایک سلسلہ ہدایت کی کڑی ہیں دونوں نے اپنے اپنے عہد میں حالات کے پیش نظر اسلام کی حفاظت کی ہے اور دین کی تبلیغ کی ہے۔ یہی نہیں کہ دو اماموںکو ایک دوسرے سے الگ کر کے پڑھنے والے ان کے بارے میں تضاد کردار کے شبہہ میں پڑ جاتے ہیں بلکہ ایک ہی زندگی کو اگر مقصد زندگی متعین کئے بغیر پڑھا جاتا ہے تو اسی ایک زندگی میں تضاد کردارنظر آنے لگتا ہے۔ رواجی معترض تو یہی کہتا ہے کہ جب امام حسن علیہ السلام نے صلح کی تو امام حسین علیہ السلام نے صلح کیوں نہیں کی اور اگر امام حسین علیہ السلام نے جہاد کیا تو امام حسن علیہ السلام نے جہاد کیوں نہ کیا۔ دونوں نے امامؐ ہو کر الگ الگ اقدام کیوں کیا۔ لیکن سیاق و سباق سیرت سے بے خبر شخص تو حضورؐ پر معترض ہو جاتا ہے کہ مکہ کا صابر رسولؐ مدینہ کا جنگجو رسولؐ کیوں بن گیا۔ صبر کیا تھا تو دونوں جگہ صبر کرتے لڑے تھے تو دونوں جگہ لڑتے۔ بلکہ مولیٰ علیؐ کی زندگی میں تو معترض کو کئی اتارچڑھاؤ نظر آتے ہیں۔ عہد رسولؐ میں جہاد کرنے والاعلیؐ حتیٰ کہ مکہ میں عالم کمسنی میں اذیت دینے والے بد تہذیب بچوں کی پتھروں سے دل کھول کر مرمت کرنے والا علیؐ بعد وفات رسولؐ بالکل صابر اور خاموش ہو جاتا ہے۔ اور پھر ۲۵ سالہ خاموشی کے بعد وہ بھی شباب کے گزر جانے کے بعد ، پیری میں ہی علیؐ جمل و صفین و نہروان میں شمشیر  زن  و صف شکن نظر آتے ہیں معترض کو بار بار اعتراض کی جگہ نظر آتی ہے۔ لڑتے تھے تو نبیؐ کے بعد گھر کیوں بیٹھ گئے۔ گھر بیٹھ گئے تھے تو دوبارہ کیوں میدان میں اترے۔

مختصر یہ کہ مقصد متعین کئے بغیر کسی کے حالات زندگی پڑھنے اور حالات کے سیاق و سباق نہ سمجھنے کے نتیجہ میں ایسی ہی مشکلیں پیدا ہوتی ہیں جن سے دو چار ذہن نہ صرف معترض بن جاتا ہے بلکہ مشکوک و منکر بھی بن جاتا ہے۔ سلسلہ اعتراض و شکوک و انکار خدا تک پہنچتا ہے کہ جناب ابراہیم کو لاکھوں ٹن آگ میں خدا بچا لیتا ہے۔ اور جناب موسیٰ کا ہاتھ اور زبان دونوں فقط ایک انگار ےسے جل جاتے ہیں۔ آگ ایک ہے۔ خدا ایک ہے۔ دونوں اسی خدا کے نبیؐ ہیں مگر ایک جل جاتا ہے اور ایک بچ جاتا ہے ۔ معترض منہ کھولتا ہے کہ ایک  خدا کے دوہرے کردار کیوں ہیں۔ حالانکہ اگر مقصد معین کیا جائے اور واقعات کو مقصد سے مربوط کر کے دیکھا جائے تو نہ صرف اعتراضات ختم ہو جاتے ہیں بلکہ جو کردار پہلے قابل اعتراض نظر آتے ہیں وہ شاہکار نظر آنے لگتے ہیں۔

اب اعتراضات کے حل سنئے۔ اللہ کو جناب ابراہیم کو بھی بچانا تھا اور جناب موسیٰؐ کو بھی۔ جناب ابراہیمؐ اسی وقت بچ سکتے تھے جب آگ گلزار ہو جائے۔ لیکن اگر انگارہ جناب موسیٰ کے ہاتھ پر ٹھنڈا ہو جاتا اور نہ جلاتا تو فرعون کو یقین ہو جاتا کہ جناب موسیٰؐ وہی غیر معمولی بچہ ہیں جو اس کی حکومت کو ختم کریں گے۔ لہذا قتل کر دیتا۔ حفاظت اسی میں تھی کہ ہاتھ جل جائے تاکہ فرعون مطمئن ہو جائے اور موسیٰؐ کی پرورش فرعون کے گھر ہوتی رہے یعنی فرعون شکن فرعون ہی کے گھر پلتا رہے۔

اسی طرح مکہ میں حضرتؐ نے جہاد نہیں فرمایا کیونکہ طاقت جہاد نہ تھی۔ بصورت جہاد حضورؐ اور آپ کے ساتھ مسلمان و اسلام سب شہید ہو جاتے۔ لیکن جب اسلام میں طاقت جہاد پیدا ہو گئی اور دشمن نے پھر بھی طاقت کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کو مٹانا چاہا تو حضورؐ نے جنگ کر کے بتایا ۔ ہم مذہب اور دباؤ کو دو الگ الگ چیزیں مانتے ہیں نہ دباؤ ڈالتے ہیں نہ دباؤ مانتے ہیں۔

حضرت علیؐ بھی عہد رسولؐ میں جہاد کرتے رہے کہ ہم دباؤ نہیں مانتے ہیں۔ لیکن جب آپ کو آپ کے حق حکومت سے محروم کر دیا گیا تو آپ نے خاموشی اختیار کی کہ ہم دباؤ نہیں ڈالتے ہیں۔ لیکن جب عوام نے اپنی خوشی اور مرضی سے آپ کے حق حکومت کو مان لیا اور آپ نے حکومت سے ہدایت کا کام لینا شروع کر دیا تو دشمن نے طاقت کے ذریعہ حکومت و ہدایت کو روکنا چاہا تب جناب امیرؐ نے جنگ کر کے بتلایا ہم دباؤ مانتے بھی نہیں ہیں۔

باپ اور نانا کی سیرت دونوں شاہزادوں میں تقسیم ہو گئی۔ بعد شہادت جناب امیر دونوں بھائیوں نے جہاد کیا۔ مگر جب اسلام اور مسلمان دونوں کے کٹ مرنے کی نوبت آ گئی تو دونوں بھائیوں نے صلح کر لی بلکہ امام حسینؐ تو کربلا تک صلح کے خواہش مند رہے مگر جب آپ سے صلح کے بجائے بیعت کا مطالبہ ہوا تو جہاد فرمایا اور شہادت قبول فرمائی یعنی پوری تاریخ ایک اصول کے گرد گردش کر رہی ہے جب مرض بدلتا ہے تو دوا بدلتی ہے جب گمراہی نیا رخ اختیار کرتی ہے تو ہدایت نیا طریقۂ کار اختیار کرتی ہے طریقۂ کار کے فرق کا سبب حالات کا فرق ہے مگر مقصد ایک ہے۔

مکہ سے کربلا تک کا تاریخی خلاصہ یہ ہے کہ دشمن نے پہلے اسلام اور رسولؐ کے خلاف سرد جنگ کا آغاز کیا، افواہیں پھیلائیں، بائیکاٹ کیا۔ غیر مسلح مقابلہ کیا۔ لیکن شب ہجرت دشمن نے مسلح اقدام کر کے اپنی تیرہ سالہ سرد جنگ کی ناکامی کا اعتراف کیا۔ اور گرم جنگ کا آغاز کیا۔ مگر فتح مکہ کے دن دشمن نے کلمہ پڑھ کر اقرار کر لیا کہ رسولؐ سے نہ سرد نہ گرم کسی جنگ میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا مگر دشمن اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ رسولؐ کے بعد کا میابی حاصل کرنا ممکن ہو سکے گا۔ لیکن دشمن کو معلوم نہ تھا کہ علیؐ کی شکل میں ایک دوسرا محمد موجود ہے چناچہ پچیس سال کی سرد جنگ میں دشمن کی ناکامی اس وقت ظاہر ہو گئی جب علیؐ کے پاس حکومت خود چل کر آگئی۔ لہذا دشمن نے گرم جنگ کا آغاز کیا۔ مگر فتح علیؐ کے مقدر میں رہی اور شکست باطل اور دشمن کے مقدر میں رہتی البتہ علیؐ کی شہادت کے بعد تجربہ کار دشمن کی نگاہ نے ٘محسوس کر لیا کہ حسنؐ اپنے وقت کے علیؐ بھی ہیں اور محمدؐ بھی ہیں۔

لہذا نہ سرد جنگ مناسب ہے نہ گرم جنگ مفید ہے۔ لہذا صلح کا نیا حربہ آزمایا گیا لیکن اگر صلح کے شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی امامت کے لئے مضر ہوتی اور حکومت کے لئے مفید ہوتی تو دشمن اس شرط صلح پر ضرور عمل کرتا۔ مگر ہر شرط صلح کی خلاف ورزی کا مطلب ہے کہ صلح نامہ مکمل طور پر امامت کے لئے مفید اور حکومت کیلئے  مضر تھا۔ اس کا دوسرا ثبوت یہ بھی ہے امام حسین علیہ السلام بعد امام حسنؐ شرائط صلح پر باقی رہے۔ اور یزید کو بھی دعوت صلح دی لیکن یزید صلح پر راضی نہ ہوا۔ جو اس بات کا اقرار تھا کہ صلح حکومت کے لئے مضر تھی اور مضر ہے اور صلح امامت کے لئے مفید تھی اور مفید ہے۔

صلح کے فتوحات بہت ہیں مثلاً کبھی علیؐ کے سامنے قرآن و سنت رسولؐ کے ساتھ اضافہ سیرت کا مطالبہ کیا جا رہا تھا مگر صلح میں صرف قرآن و سنت کا ذکر تھا کسی کی سیرت کا ذکر نہ تھا۔ یہ کتنی عظیم کامیابی تھی جو صلح سے حاصل ہوئی۔یہ بھی ایک عظیم کامیابی ہے کہ سواد اعظم نے طے کر لیا کہ امام حسن علیہ السلام کی چھ ماہ کی حکومت پر خلافت کا خاتمہ ہو گیا آپ کے بعد صرف نوچ کھسوٹ والی حکومتیں قائم ہوتی ہیں۔ صلح میں دشمن کی ناکامی کا یہ ثبوت بھی ہے کہ صلح کرنے والا زہر دے کر امام حسن علیہ السلام کو شہید کرا کے اقرار کرتا ہے ان سے صلح غلط کی تھی۔ ان کی زندگی میں بہرحال کامیابی نہ ہوگی چاہے صلح ہو یا جنگ۔ لیکن قتل بھی عظیم غلطی تھی کیونکہ فرد کا قتل ممکن تھا سلسلہ ہدایت کا قتل ممکن نہ تھا 

اور حسنؐ کے بھائی حسینؐ ، محمدؐ و علیؐ و حسنؐ کے روپ میں موجود تھے۔ یزید بدنام زمانہ ہو گیا مگر صرف حسینؐ قتل ہو سکے۔ سلسلہ ہدایت باقی رہا۔ اور آج بھی یہ سلسلہ قائم ہے جس کا کل ظہور  ہوگا اور پوری دنیا کو مسلمان بنا کر عہد حضورؐ سے شروع ہونے والی سر دو گرم کش مکش کا خاتمہ کر دے گا۔ غرضکہ حضورؐ سے حضرت تک ایک سلسلہ ہے جس کی ایک کڑی کا نام امام حسن علیہ السلام ہے ان کو سیاق و سباق تاریخ ہدایت سے الگ کر کے پڑھنے کی غلطی نہ کی جائے تو صلح حسنؐ شاہکار نظر آئے گی۔

مقالات خطیب اعظمؒ

جلد: ۳، صفحہ: ۶۰

ناشر: تنظیم المکاتب لکھنو۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت