شيخ نوروز على نجفى(رح) مذہب اور مکتب امام جعفر(ع) کے ایک تابناک،روشن اور درخشان چہرہ تھے

0 5

تحریر : سکندر علی ناصری

حوزہ نیوز ایجنسی
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
“العلماء باقون ما بقى الدهر”

حجت الاسلام والمسلمين شيخ نوروز على نجفى اعلى اللہ مقامہ ونور اللہ مرقده، مذہب اور مکتب امام جعفر(ع) کے ایک تابناک، روشن اور درخشان چہرہ تھے جو ان دنوں اپنے خالق و مالک حقیقی سے جاملے۔

استاد مرحوم کی سوانح حیات رقم کرنا مجھ جیسا ایک  ادنی سا طالب علم کے لئے ایک امر محال ہے ان کی علم، عمل، اخلاق حسنہ، زہد، تقوی، اور خلوص سے مزین و مرصع زندگی اور مکتب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی آبیاری اور علوم محمد و  آل محمد علیہم السلام  کےلئے  ان کی بے لوث خدمات اور ناقابل فراموش اور قابل قدر قربانی کو تحریر میں لانا ایک ناممکن سی بات ہے  لیکن ان چند سطور  کو تحریر کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہ ایک مدرسہ کے پرنسپل یا  صرف مدیر نہیں تھے بلکہ ان  کے وجود میں کئی اور  آفاقی  پہلو بھی پنہاں اور پوشیدہ تھے۔ 
 ان کے شاگردوں اور دوست و احباب اور عزیز و اقاریب کی نگاہ میں وہ ایک شفیق، مہربان  اور دلسوز استاد، سچا اور عزیز  دوست تھے۔

استاد بزرگوار اور شفقت:

ان کی شفقت اور محبت و الفت کا  یہ عالم تھا کہ ہر طالب کا خیال ہوتا تھا کہ موصوف اسے دوسروں کی نسبت زیادہ چاہتے ہیں۔وہ ہر فن مولا تھے درس وتدریس ہو یا طالب علموں کے ساتھ انکا سلوک ، یا مہمانوں سے ڈیل کرنے کامعاملہ ہو یا اساتذہ کے ساتھ نشست و  برخاست ، سب میں وہ اپنی  مثال آپ تھے۔

خلوص:

آپ تعلیم اور تربیت کے پاکیزہ میدان میں اللہ تعالی کی خوشنودی اور رضا الہی کو بہت  اہمیت دیتے تھے اور اخر تک اسی خلوص نیت کو برقرار رکھا  اور اسی راہ پر چلتے ہوئے اس دنیا کو خیر باد کہہ کر چلے گئے اس کا بڑا ثبوت ان کے شاگردوں کی صورت میں قابل مشاہدہ ہے  

استاد بزرگوار اور شہرت:

در حقیقت آپ کو شہرت سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی لہذا انہوں نے کبھی اس کےلئے کوئی سعی کوشش بھی نہیں کی۔پھر بھی ادبیات عرب کے حوالے سے شہرت ملی اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ دوسرے علوم میں کوئی مہارت نہیں رکھتے ہوں ، بلکہ آپ جس طرح ادبیات میں ماہر اور متخصص تھے اسی طرح دوسرے علوم میں بھی کم نظیر اور ممتاز تھے  آپ جب کسی علمی موضوع پر بحث و گفتگو فرماتے تھے تو ایسالگتا تھا کہ آپ اسی علم کے ماہر ہیں “کتاب معالم” آپ پڑھاتے تھے بحث حسن و قبح، فقہی اور ایک اعتبار سے عقلی کلامی بحث بھی ہے  فقہی  نکات کو فقہی جہت سے، عقلی نکات کو  استدلالی طریقے  سے، کلامی نکات کو کلامی نقطہ نظر سے پورے تسلط کے ساتھ  واضح اور جامع طور پر بیان فرماتے تھے۔ 

شیخ کی روش تدریس:

موصوف کی تدریس کا طریقہ  بہت ہی سادہ، جاذب، اوردلچسپ اور مختصر ہوتاتھا وہ ابتداء میں دقت سے عبارت خود پڑھتےتھے یا کسی طالب علم سے عبارت پڑھواتے تھے پھر آپ اس عبارت کا خلاصہ سادہ زبان میں بیان فرماتے تھے اس کے بعد پورے ایک صفحے کی تطبیق زیادہ سے زیادہ پانچ سے دس منٹس میں کرتے تھے اور طالب علم بھی دقت اور توجہ کے ساتھ  آپ کو سنتے  تھے، طالب علم  کے لئے عبارت میں موجود تمام اہم  نکات واضح ہوتے اور کچھ اس طرح پڑھاتے تھے کہ طالب علم کو اشکال کرنے کا کوئی مورد ہی باقی نہیں رہتا تھا۔

مزید  حضرت عمر بن عبدالعزیز کےمزار کی بے حرمتی کی حقیقت، مفتی اعظم لبنان کا مجلس وحدت مسلمین کے توسط سے ملت پاکستان کے نام اہم پیغام

شیخ اور وظائف:

وہ اپنے وظائف انجام دینے میں ہمیشہ چوکس اور ہمیشہ تیار وآمادہ رہتے تھے وہ فرض شناس اور وظیفہ شناس تھے، پورے چوبیس گھنٹے مدرسے میں طلاب اور اساتذہ کی خدمت میں ہوتے تھے کوئی اہم مسئلہ پیش آنےکی صورت میں  مدرسے سے جاتے تھے ورنہ ہر وقت مدرسے میں ہی ہوتے تھے،اگر کسی ضروری کام کی وجہ سے جانا بھی ہوا تو رات کو ضرور مدرسہ لوٹتے تھے اور رات کو جن طالب علموں کی باری ہوتی تھی انہیں بلا کر ان سے درس سنتے تھے۔

شیخ اور طالب علم:

شیخ صاحب کے پاس دو قسم کی کلاسیں ہوتی تھیں ایک وہ جنہیں خود پڑھاتے تھے  (اگر چہ ہمارے دور میں آپ کم پڑھاتے تھے) یعنی سینئر طالبعلموں کی کلاسیں ہوتی تھیں دوسری کلاس ان جونیئر طالب علموں کی ہوتی تھیں جنہیں سینئر طالب علم پڑھاتے تھے جونیئر طالب علموں کی کلاسیں تقریباً تین مراحل سے گذرتی تھیں پہلا مرحلہ جس میں ایک اصلی استاد ہوتا تھا دوسرے مرحلے میں اصلی استاد اپنے طالب علم کے لئےایک سکینڈ کلاس کے لئے استاد مشخص کرتا تھا ان دونوں کے پاس طالب علم کو ہر روز حاضر ہونا اور درس سنانا ضروری تھا یہ مراحل طالب علم کےکند ذہن ہونے کی علامت نہیں تھی بلکہ استاد مرحوم و مغفور چاہتے تھے کہ طالب علموں میں سے ہر ایک کو درس و تدریس کا موقع میسر ہو اورعملی طور پر ایک بڑی تکلیف شرعی کو انجام دینے اور استادی کے اہم وظیفے  کو مستقبل میں بخوبی اور بااحسن انجام دےسکےلہذا اس روش نے وہاں پڑھنے والے ہر طالب علم کو درس وتدریس میں ایک شناخت اور پہچان عطا کی اور متانت سنجیدگی اور اعتماد بالنفس جیسی  اعلی صفات سے طالب علموں کو مزین کیا۔تیسرا مرحلہ کلاس کا،خود شیخ کے پاس ہوتا تھا وہ جونیئرکلاس والوں کو ہر روز نہیں بلاتے تھے کیونکہ ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا تھا لہذا وہ جونیئر کلاس والوں کو ہفتے کے دنوں میں ایک دو جونیئر کلاس والوں کی باری ہوتی تھی خود مرحوم شیخ،  طالب علموں سے سنتے تھے اگر کہیں طالب علم اشتباہ کر جائے تو آپ  ضرور اس کی توجہ  اس اشتباہ کی جانب مبذول کراتے تھے اور اس کی تصحیح فرمایا کرتے تھے اور اتنے اساتذہ کے پاس پڑھنے اور اس پر مزید بحث و مباحثہ کرنے کےباوجود شیخ صاحب اس قدر دقیق اور باریک بین اور عمیق تھے کہ عبارت سے ایسے اشکال کرتے تھے کہ طالب علم کی اس قسم کے  اشکال کی طرف کبھی دھیان نہیں جاتا تھا ۔ لیکن جواب کبھی خود بیان کرتے تھے کبھی استاد سے پوچھنے کاتوصیہ کرتے تھے کبھی حل کرکے آنے پر زور دیتے تھے۔اس سلوک نے ہر طالب علم کو مرحوم استاد سے قریب ہونے اور آپ کی نصیحت آمیز گفتگو اور موعظہ حسنہ کو سننے کا موقع فراہم کیا تھا اور آپ سے قریب اور نزدیک ہونے کا بھی موقع ملتا تھا اس طرح موصوف کو طالب علموں کی صلاحیت کا بھی بخوبی اندازہ ہوتاتھا نیز اس کے استاد کی  صلاحیت کا بھی اندازہ ہوتا تھا اور طالب علم کو بھی شیخ  صاحب کی تعلیم اور تربیت میں دلچسپی کا علم ہوتا تھا استاد کی اس روش اور طریقے کی جتنی تعریف اور تمجید کی جائے پھر بھی کم ہے کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ طالب علم سے ہفتے میں یا مہینے  میں ایک دو نشست و برخاست نہیں ہوئی ہو۔ 

مزید  کیایہ امریکی سیاست میں خوش آئند تبدیلی ہے؟

شیخ اور مدرسہ کے مسائل:

آپ کبھی رات کو صحن میں ٹہلتے تھے اس وقت کوئی طالب علم نظر آتا تو اسے  بلاتے تھے اور مدرسے کے حالات اور کلاسوں کے متعلق پوچھتے تھے اور حد الامکان درس و تدریس میں بہتری لانے کی کوشش کرتے تھے اور طالب علموں کی  مشکلات کو حل کرنے میں ہمیشہ سنجیدہ رہتے تھے۔ 

شیخ مرحوم اور مدرسے کی عمارت:

بہت سے مخیریں نے آپ سے کہا کہ مدرسے کو تعمیر کریں ہم تعاون کریں گے لیکن آپ نے اسے قبول نہیں کیا بلکہ آپ نے ان کے جواب میں یہی کہا کہ یہی20سے 30 طالب علموں کی ہی درست اور صحیح تربیت کر سکتا ہوں اور انہیں کنٹرول  کرسکتا ہوں اس سے زیادہ ہوں تو پھر کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے یہ کہہ کر نفی میں جواب دیتے تھے اور مدرسے کے اندر  درس اور تدریس کا کچھ اس طرح نظام مرتب اور منظم کیا تھا کہ ہر سال کم از کم پانچ سے دس طالب علم ضرور فارغ ہوں اور فارغ التحصیل طالب علم پر آپ ابتداء میں ہی تاکید اور زور دیتے تھے کہ یہاں سے فارغ ہوتے ہی ایران جائیں اور وقت ضائع کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے۔

آپ کا نظم:

استاد اپنی روز مرہ زندگی میں بہت ہی منظم تھے اور طالب علموں کو بھی اس بات پر زور دیتے تھے کہ وہ اپنے امور کو  منظم کریں۔ 
شیخ صاحب کی جانب سے سارے برناموں کا پورا شیڈول  معین اور مشخص تھا نماز ظہر کے بعد استراحت بہت ضروری تھی اسے کسی بھی طالب علم کو استثناء حاصل نہیں تھا کسی بھی طالب علم کو اس وقت باہر جانے سے سختی سے منع کرتے تھے تاکہ رات کو طالب علم بلکل راحت اور آرام سے درس کا مطالعہ کرسکے اور رات کو بھی مطالعہ اور مباحثہ کا ایک مقرر وقت ہوتا تھا رات  دیر تک پڑھنے سے منع کرتے تھے۔وہ اپنے شاگردوں کو ہمیشہ یاد رکھتے تھے اور ہر ایک کی صلاحیت پر گفتگو فرماتے تھے۔

مروجہ تعلیم اور استاد بزرگوار:

استاد مرحوم کبھی اسکول یا کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم کے مخالف نہیں تھے ،مدرسے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ طور پر مروجہ تعلیم کے امتحان اور تیاری کے لئے آپ کی اجازت ہوتی تھی بہت سارے طالب علموں نے اس موقع کو غنیمت جان کر مروجہ تعلیم کے حصول میں کامیابی حاصل کی اور حال حاضر میں مختلف علاقوں میں گورنمنٹس کی مختلف پوسٹوں پر فائز ہیں آپ محنتی طالب علم کی ہمیشہ سے والہانہ تعریف اور توصیف کرتے تھے آپ  مرحوم شیخ جعفر مطہری سکردو کی یاد بہت کرتے تھے اور ان کی غیر معمولی  صلاحیتوں کی بھی تعریف کرتے تھے کیونکہ مطہری مرحوم شاید مدرسے کے ابتدائی طالب علموں میں سے تھے اور اس وقت مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ انہوں نے مروجہ تعلیم میں ایم اے بھی  کیا تھا اور مروجہ تعلیم کے امتحان میں وہ پوزیشن ہولڈربنے تھے اور وہ انگلش زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ آپ ہمیشہ سے شاگردوں کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ باہر کی تعلیم میں مشغول ہوکر دینی تعلیم کو کنار نہ لگائیں تاکہ  اصلی ہدف متروک نہ ہو جائے ۔

مزید  خصائص علوی

آپ کی سخاوت:

موصوف سخی اور  شریف النفس انسان تھے آپ شاگردوں کو کبھی K fسبحانی لیکر جاتے تھے وہاں کھانے کا مینو طالب علموں کے سامنے رکھتے تھے  تاکہ لڑکے اپنی پسند کا کھانا انتخاب کریں بعض اوقات آپ طالب علم کو جیب خرچ بھی دیتے تھے میرا خیال ہے کہ کوئی طالب علم ایسا نہیں ہوگا کہ وہ استاد سے علمی فیوض کے ساتھ مالی فیض حاصل نہ کیا ہو۔

آپ اور مہمان:

ہم نے اتنا عرصہ وہاں پہ گزارا  لیکن  ہم نے نہیں دیکھا کہ ان کا کوئی رشتہ دار ملنے مدرسہ آیا ہو آپ ہمیشہ رشتہ داروں کو گھر پر آکر ملنے کی تاکید فرماتےتھے مدرسے میں ملنے سے منع کرتے تھے۔

استاد:

استاد مرحوم عراق میں اپنی طالب علمی کے  بارے میں سناتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ  وہ پڑھنے کے لئے کتاب لے کر نہیں جاتے تھے  بلکہ اساتذہ کے دروس کو غور سے سنتے بعد  میں آ کر اس کی تطبیق کرتے اور دوسرے دن کی کلاس کی تیاری رات کو کرکےبیٹھتے تھے اور فرماتے تھے کہ عراق میں رہائش کے زمانے میں مالی اعتبار سے اپنی ما یحتاج کےمالک تھے۔

شاگرد:

ان کے شاگرد پورے ملک میں اور بیرون ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور  ان کے شاگردوں میں بہت بڑے بڑے نامور مشہور ممتاز دینی، مذہبی ،سیاسی، سماجی علماءہیں؛ ان میں”استاد حوزہ علمیہ آیت اللہ سید حامد رضوی دامت برکاتہ” “استاد حوزه قبلہ آیت اللہ عباس رئیسی دامت برکاتہ” ممتاز محقق اسكالر جناب يوسف حسين حسين آبادی دام ظلہ؛

سیاسی میدان میں؛حجت الاسلام والمسلمين سید راحت حسین الحسینی دامت برکاتہ،حجة الاسلام والمسلمين سید حسن ظفر نقوی  دام ظلہ
اور حجة الاسلام والمسلمين استاد شيخ  اكبر رجائی  دام ظلہ۔ 
 
اساتذہ:

استاد شیخ ابوالحسن شگری،استاد خستہ ناپزیر شیخ غلام محمد حیدری دام ظلہ اور سماجی شخصیات میں شیخ جواد نوری صاحب اور شیخ محمد حسین حیدری صدر جامعہ روحانیت بلتستان سمیت کئی ایک اہم شخصیات شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.