2022 - 10 - 07 ساعت :
آج کے کالمز - خبریں

سرخ گلستان

2021-01-11 014

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | اگرچہ اس کائنات کا خالق بلکہ ہر ممکن کو لباس وجود عطا کرنے والا پروردگار ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے جتنا یہ زمین اس معبود حقیقی پر ایمان رکھنے والوں اور اسکی اطاعت و عبادت کرنے والوں کے خون سے سیراب ہوئی اور جتنا اللہ والوں پر ظلم ہوا اتنا کسی اور پر ظلم نہیں ہوا ۔ 

اسی طرح تاریخ گواہ ہے جتنا اہلبیتؑ خصوصا امیرالمومنینؑ کی محبت کے جرم میں  محبت کرنے والوں پر ظلم ہوا، انکو قید کیا گیا، انکے خون سے گارے بنے، انکو دیواروں میں چنوایا گیا، انکو ہر طرح کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اتنی کسی اور پر مصبیتیں نہیں پڑی۔ 

ابوذر، حجر بن عدی، عمرو بن حمق خزائی، کمیل و میثم رحمۃ اللہ علیہم جیسے نہ جانے کتنے محبت علیؑ کے جرم میں مظلومیت کے ساتھ شہید کر دئیے گئے۔ 

حتّیٰ میدان کربلا میں جب نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین علیہ السلام نے سوال کیا کہ آخر تم لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہو تو سب نے ایک ہی جواب دیا : ’’تمہارے بابا (علیؑ) کے بغض میں۔ ‘‘ 

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تلواروں کی جھنکاریں خاموش ہو گئیں لیکن مظلوم آج بھی محو کلام ہیں، نیزے ٹوٹ گئے لیکن سینے آج بھی انسانیت کے لئے سینہ سپر ہیں ، ظلم کرنے والے، جنایتیں کرنے والے، خیانتیں کرنے والے، قتل کرنے والے تاریخ کے قبرستانوں میں بے نشاں ہو گئے لیکن شہداء آفاق پر چھا گئے۔ 

مظلوم کے پیروکار آج بھی اپنی مظلومیت کا برملا اعلان کر رہے ہیں اور ظالموں کے طرف دار اسے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ عزائے فاطمی کے ایام ہیں ہر جانب شہزادی ؑ کی مظلومیت اور شہادت کا اعلان ہو رہا ہے اور قاتلوں کے پیروکار اسے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ 

بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم حکمراں بے نشان ہیں لیکن شہداء سے محبت کرنے والے اور انکی زیارت پر جانے والوں کا سیلاب ہے۔ 

ان ایام میں جب پوری ملت شہدائے راہ خدا فقیہ ومجاہد آیۃ اللہ شیخ باقر النمرؒ ، جنرل قاسم سلیمانیؒ ، مھدی المہندس ؒ اور ان کے رفقاء کو خراج عقیدت پیش کر ر ہی تھی کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مظلوم، بے گناہ نہتھے ہزارہ شیعوں کو دہشت گردوں نے بے جرم وخطا شہید کر دیا۔ ٍ

اگرچہ ایسے حادثات پاکستان میں نئے نہیں ہیں بلکہ آئے دن ایسے دھشتگردانہ حملے ہوا کرتے ہیں، کبھی امام باڑے میں دوران مجلس بم بلاسٹ، کبھی جلوس عزا میں تو کبھی نماز جمعہ میں تو کبھی زائرین کے قافلے پر ۔سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ؟؟ 

ریاست مدینہ اور نظام مصطفیٰ ؐ کی رٹ لگانے والی حکومت اور فوج آخر کب اس دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اقدام کرے گی؟ 

لمحۂ فکریہ ہے کہ آخر ایک ہی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں پر ہی یہ حملے کیوں؟ 

نہ جانےکتنے علماء، مبلغین، خطباء ، شعراء ، نوحہ خواں، نمازی، عزادار اور مومنین اب تک ان حملوں میں شہید ہو چکے ہیں؟ کتنوں کو غائب کر دیا گیا؟  اور ان سب پر انتظامیہ کا سکوت حیرت خیز ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی اور پر اتنے ظلم ہوتے اور قتل کئے جاتے تویقینا وہ ختم ہو جاتے اور اگر ختم نہ بھی ہوتے تو کم از انکی ہمتیں اتنی پست ہو چکی ہوتیں کہ سر اٹھا کر جینے کی جرات نہ کرتے لیکن نہ جانے  اللہ اور اولیاء اللہ کی محبت میں وہ کون سی چاشنی ہے کہ نہ محبت کم ہو رہی ہے اور نہ محبت کرنے والے۔ نہ آج تک کوئی عزاداری کا پروگرام رکا ، نہ نماز جمعہ کا قیام رکا  اور نہ ہی زائرین کا سلسلہ ۔ بلکہ اس میں اور اضافہ ہی ہوا۔  اور جتنا ظلم بڑھتا جا رہا ہے محبت میں اور اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ 

دشمن جان لے اگرچہ اسے صدیوں کا تجربہ ہے کہ محبت علیؑ جسے حاصل ہو گئی اسے ظلم و ستم، قتل و خونریزی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں! دشمن کا خاتمہ یقینی ہے۔ 

ہم  شہدائے راہ خدا کی خدمت میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

غلام حیدر

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت