“زُبَرَ الْحَدِيدِ” سیسہ پلائی ہوئی دیوار

0 22

تحریر: ابو ثائر مجلسی 

حوزہ نیوز ایجنسی

آتُونِي‌ زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى‌ إِذَا سَاوَى‌ بَيْنَ‌ الصَّدَفَيْنِ‌ قَالَ‌ انْفُخُوا حَتَّى‌ إِذَا جَعَلَهُ‌ نَاراً قَالَ‌ آتُونِي‌ أُفْرِغْ‌ عَلَيْهِ‌ قِطْراً  (الكهف ٩٦)

قرآنی قصوں میں سے ایک انتہائی دلچسپ و اثر گزارقصہ ، جناب ذوالقرنین کا ہے۔  مندرجہ بالا آیت سورہ کہف کی آیت نمبر ۹۶ ہے جس میں پروردگار متعال جناب ذوالقرنین کی مجاہدت اور شجاعت کا تذکرہ کر رہا ہے۔  یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کون تھے جن کا اس عظمت کے ساتھ تذکرہ کیا جارہا ہے؟ ان کی شخصیت کن صفات کی حامل تھی  جس بنا پر خدائے  متعال نے ان کا تذکرہ قرآن میں کیا! ؟ جن ذوالقرنین کا قرآن مجید میں ذکر ہے،تاریخی طور پر وہ کون تھے؟ تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں سے یہ داستان کس پر تطبیق پاتی ہے؟اس سلسلے میں مفسّرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا  ہے؛  لیکن قرآنی آیات پر غور و فکر کی روشنی میں ہمیں  یہ پتہ چلتا ہے کہ جناب  ذوالقرنین کی شخصیت میں ایسے  بہت سے تربیتی پہلو موجود تھے جو ہمارے لیے سبق آموز ہیں۔ 

قرآن کی رو سے جناب ذوالقرنین کی شخصیت اعلیٰ اور ممتاز صفات کی حامل  شخصیت ہے؛ خداوند عالم نے انھیں  اپنے خاص لطف و کرم سے نوازا تھا جس بنا پر انھیں  قدرت اور حکومت جیسی نعمتیں عطا کی تھیں ، وہ ایک مومن،موحّد اور مہربان فرد تھے ؛ عدالت کی رعایت کرتے تھے ،صالحین سے دوستی رکھتے تھے اور ظالموں سے دشمنی ،انھیں  دنیا کے مال متاع کی حرس و ہوس نہیں تھی ،اللہ اور آخرت پر مکمل ایمان رکھتے تھے؛  انھی تمام صفات کی بنا پر خدا وندِ عالم کا خاص لطف وکرم ان کے شامل حال تھا۔

ذوالقرنین کے قصہ کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ انھوں  نے تین اہم لشکر تیار  کیے  تھے، ایک مغرب کی جانب ،پھر  ایک مشرق کی طرف اور آخر میں ایک ایسے علاقے پر پہنچے کہ جہاں ایک کوہستانی درّہ موجود تھا۔ اس علاقے کے لوگ یاجوج ماجوج نامی ستمگروں کی زد پر تھے اور ایک ایسے بہادر فرد کی تلاش میں تھے جو انھیں ان ستمگروں کے شر سے  نجات دلائے ؛ 
اس علاقے کے لوگ اپنی مظلومیت کی داستان لے کر ذوالقرنین کے پاس پہنچے اور ان  سے تقاضہ کیا کہ وہ انھیں ان ظالموں کے شر سے بچائے جو  اس علاقے میں فساد پھیلا رہے تھے۔  القصہ  علاقے کے لوگوں نے ذوالقرنین سے درخواست کی کہ وہ ایک دیوار تعمیر کردیں  جس سے ان ظالموں کو روکا جاسکے؛  قرآن نے اس واقعے کو اس طرح  بیان کیا ہے :

قَالُوۡا یٰذَاالۡقَرۡنَیۡنِ اِنَّ یَاۡجُوۡجَ وَ مَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَہَلۡ نَجۡعَلُ لَکَ خَرۡجًا عَلٰۤی اَنۡ تَجۡعَلَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَہُمۡ سَدًّا(۹۴)
لوگوں نے کہا: اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج یقینا اس سرزمین کے فسادی ہیں کیا ہم آپ کے لیے کچھ سامان کا انتظام کریں تاکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند باندھ دیں؟

قَالَ مَا مَکَّنِّیۡ فِیۡہِ رَبِّیۡ خَیۡرٌ فَاَعِیۡنُوۡنِیۡ بِقُوَّۃٍ اَجۡعَلۡ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ رَدۡمًا(۹۵)
ذوالقرنین نے کہا : جو طاقت میرے رب نے مجھے عنایت فرمائی ہے وہ بہتر ہے، لہٰذا تم محنت کے ذریعے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان بند باندھ دوں گا۔

اٰتُوۡنِیۡ زُبَرَ الۡحَدِیۡدِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا سَاوٰی بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ قَالَ انۡفُخُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَعَلَہٗ نَارًا ۙ قَالَ اٰتُوۡنِیۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَیۡہِ قِطۡرًا(۹۶)
تم مجھے لوہے کی مضبوط قطعے لا کر دو، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کی درمیانی فضا کو برابر کر دیا تو اس نے لوگوں سے کہا: آگ پھونکو یہاں تک کہ جب اسے بالکل آگ بنا دیا تو اس نے کہا: اب میرے پاس تانبا لے آؤ تاکہ میں اس (دیوار) پر انڈیلوں۔

بَیۡنَ الصَّدَفَیۡنِ یعنی دونوں پہاڑوں  کے درمیانی حصے کو لوہے کے ٹکڑوں سے پر کر کے پہاڑوں کے برابر کر دیا۔ پھراس دیوار پر پگھلا ہوا لوہا یا سیسہ ڈالنے سے وہ درہ ایسا بند ہو گیا کہ یاجوج و ماجوج اسے توڑ کر دوسری آبادیوں کی طرف نہیں آسکے۔

اس واقعے کے تمام پہلو قابل غور ہیں لیکن اس قرآنی واقعے کو بعنوان مقدمہ اس لیے ذکر کیا تا کہ آج کے دور میں ذوالقرنینی صفات کے حامل افراد کی شناخت کریں اور آج کے دور میں ذوالقرنین کے ہاتھوں تعمیر شدہ دیوار سے شباہت رکھنے والی دیوار کی طرف آپ کی توجہات مبذول کروائی جاسکے تا کہ آج کے دور کے یاجوجی اور ماجوجی کرداروں کو پہچان کر ہم انکا مقابلہ کرسکیں ۔

امام خمینی اور رہبر معظم کی شخصیات کی طرف اگر ہم توجہ کریں تو ہمیں ان میں بھی ذوالقرنینی صفات دکھائی دیتی ہیں کہ جنہوں نے انقلاب اسلامی کی شکل میں ایک ایسی مضبوط دیوار تعمیر کی کہ جو آج  اس دور کے یاجوج و ماجوج سے ہمیں بچا رہی ہے۔آپ انقلاب اسلامی سے قبل اگر حالات کا جائزہ لیں تو بخوبی جان لیں گے کہ تشیع اور اسلام ستمگروں کی زد پر تھا ایران میں شیعہ بادشاہ رضا خان حکمران  تھا لیکن وہ یہودی اور امریکی اسلام کی ترجمانی کرتا تھا؛  مغربی طرز زندگی،  فحاشی،شراب خوری، ظلم، بربریت، نا انصافی جیسی تمام رزیلتیں ایران کی سرزمین پر عروج پر تھیں۔ درباری علما  ایسے اسلام کی ترویج میں تھے جس میں شہنشاہِ ایران کو خوشنود کیا جاسکے اور اگر ایران سے باہر اقوام عالم خصوصا اسلامی ممالک کی طرف نگاہ کی جائے تو وہاں  بھی تقریبا یہی صورت حال تھی؛  کہیں پر اسلام  کو مخدوش کرکے  سیکولرازم کی تبلیغ ہو رہی تھی تو بعض جگہوں  پر مارکس ازم کی بنیادیں مضبوط کی جا رہی تھی گویا عالم اسلام کو فسادو فحشا کے لیے تیار کیا جا رہا تھا اور ایران کو اس فساد اور فحشا کا مرکز بنادیا گیا تھا۔ 

لیکن ایسے میں امام خمینی ؒنے قیام کیا ؛ کیسا قیام!؟ ویسا ہی قیام جس طرح کا قیام جناب ذوالقرنین نے کیا تھا ؛ ذوالقرنین نے بھی ظلم و بربریت کے مقابل فساد کے مد مقابل ایک مضبوط دیوار تعمیر کی تھی  اور خمینی بت شکن نے بھی” زُبُرَ الحدید” صفت افراد کی مدد سے انقلاب اسلامی کی شکل میں ایک پائیدار دیوار تعمیر کی۔  قم مقدسہ کو اپنا مرکز بنایا اور  لوگوں کو حقیقی دین کی طرف دعوت دی؛  لادینیت، طاغوتیت ، ظلم اور بربریت ، فساد اور فحاشی اور ظالم حکمرانوں کے سامنے  ڈٹ گئے یہی وجہ ہے  کہ امام موسیٰ کاظم ؑ نے جو  “رجل من اھل قم ” اور “قوم کزُبُرِ الحدید” کے بارے میں  جو پیشن گوئی کی ہے شاید اس کا ایک ممکنہ  مصداق امام خمینی  اور ان کے با وفا ساتھی ہوں  ۔ امام موسیٰ  کاظم ؑاپنے نورانی کلام میں فرماتے ہیں : 

“رجل من اهل قم یدعو الناس الی الحق، یجتمع معه قوم کزبرالحدید، لاتزلّهم الریاح العواصف و لایملّون من الحرب و لایجبنون و علی الله یتوکلون و العاقبه للمتقین”(1)

“اہل قم میں  سے ایک مرد،  لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا ؛  اس کے گرد ایک قوم جمع ہوگی جس کی صفت یہ ہے  کہ وہ لوہے کی طرح مضبوط ہوگی،   طوفانوں سے نہیں گھبرائے  گی ، جنگوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی،بزدل نہیں ہو گی ، خدا پر توکل کرنےوالی ہوگی اور عاقبت نیکو کاروں  کے لیے ہے۔ “

اگر ہم امام خمینی  کی شخصیت اور انکے باوفا ساتھیوں کو دیکھیں تو یہ تمام صفات بارز طور پر ان میں دکھائی دیتی ہیں۔  آج اس  “زبر حدید ” کا ایک عظیم مصداق رہبر معظم ہے کہ جو اس “زبر الحدیدی”  دیوار یعنی انقلاب اسلامی کی حفاظت کر رہے ہیں۔ دنیا کی تمام استکباری طاقتیں آج اس زبر الحدیدی دیوار کو گرانا چاہتی  ہیں؛  امریکہ، اسرائیل کے کئی حکمران موت کے گھاٹ اتر گئے لیکن یہ مضبوط دیوار،  انقلاب اسلامی کی صورت میں  آج بھی باقی ہے۔ اس زبر الحدید کے حصے، ایک وقت تک صرف ایران تک محدود تھے لیکن آج دنیا کہ گوشہ و کنار میں دکھائی دیتے ہیں؛  لبنان میں حزب اللہ کی صورت میں، یمن میں انصار اللہ کی صورت میں عراق میں حشد الشعبی کی صورت میں افغانستان میں فاطمیون اور پاکستان میں زینبیون کی صورت میں ۔ یہ دیوار زبر الحدید کیوں نہ مضبوط ہو  کیونکہ اس کی بنیادوں  میں شہیدوں کا لہو ہے؛  قاسم سلیمانی کا لہو،چمران کا  لہو، رجائی ،ڈاکٹر نقوی ، مظفر کرمانی جیسے عظیم مجاہدوں کا خون اور  بہشتی،مطہری ، عارف حسین الحسینی جیسی پاکیزہ قیادتوں کا خون ہے  یہ شہیدوں کا خون ہے جس نے زبر الحدیدی دیوار کو استحکام بخشا ہوا ہے 

آج ہم جس بھی مقام پر ہوں،  جس بھی جگہ پر ہوں،  جس حیثیت میں ہوں ہمارا فریضہ ہے کہ ہم بھی زبر الحدید کا حصہ بن کر اس دیوار کو مضبوط بنائیں کیونکہ اس دیوارِ زبر الحدید یعنی انقلاب اسلامی کا ہم پر بہت زیادہ حق ہے؛  آج اگر تشیع طاقت ور ہے،  اگرعزاداری باقی ہے اگر  ناموس ِتشیع محفوظ ہے،  اگر شام اور عراق میں اہلبیت علیہم السلام  کے حرم کی حفاظت ہو رہی ہے تو یہ سب اسی  انقلاب کا نتیجہ ہے جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ظالموں کے حلق کا کانٹا بن چکی ہے۔ 

خداوند متعال سے دعا کرتے ہیں  کہ وہ ہمیں حقیقی طور پر اس الٰہی انقلاب کا حصہ بننے کی توفیق دے اور اس راہ میں شہادت جیسی نعمت عطا کرے بحق محمد و آل محمد (علیہم السلام)

1.بحار الانوار، ج 60، ص216

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے
Loading...