رضا سرسوی خود ہی چہرہ خود ہی آئینہ

0 7

حوزہ نیوز ایجنسیl

تحریر: حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید سلمان عابدی زید عزہ

سنجیدگی متانت سادگی خلوص محبت ملنساری منکسر المزاجی وفا رضا صدق و صفا مسکراہٹ خودداری اور گرم جوشی غرض وہ کونسی صفت ہے جو رضا سرسوی صاحب میں نہیں تھی ؟

ایک شاعر کو سب سے پہلے ایک اچھا انسان ہونا چاہئیے شاعر جتنا اچھا ہوگا اتنی ہی اچھی اس کی شاعری ہوگی-

خودداری سچائی بے لوثی اور بے غرضی اچھی چیزیں ہیں ایک شاعر میں ہونا چاہئیے-

حق کی خاطر لڑنا باطل سے سمجھوتا نہ کرنا استحصال کے خلاف بولنا اور مظلوم سے محبت کرنا اچھی چیزیں ہیں ایک شاعر میں ہونا چاہئیے –

نگہ کی بلندی سخن کی دلنوازی اور دل و جان کی پرسوزی اچھی چیزیں ہیں ایک شاعر میں ہونا چاہئیے جس طرح ایک اچھی شاعری کے لئیے عروضی رکھ رکھاؤ زبان و بیان کی احتیاط اعلی خیالات عمدہ نظریات سادہ سلیس اور عام فہم ترکیبات تشبیہات اور استعارات صنائع و بدائع کا استعمال مضمون آفرینی معاملہ بندی اورہیئت کے نئے نئے تجربات غرض جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک اچھے شاعر کے لئے بھی افکار کی پاکیزگی کردار کی شستگی رفتار کی میانہ روی اور اعلی انسانی صفات سے متصف ہونا چاہئیے کیونکہ شخصیت کا اثر شاعری پر پڑتا ہے –

ایک شاعر ایک فلمی ایکٹر کالج کے ایک لکچرار اور کرکٹ کے ایک کھلاڑی سے الگ ہوتا ہے آپ بتائیے کرکٹ کے ایک کھلاڑی کی خوبی کیا ہے ؟

 کیا وہ جھوٹ نہیں بولتا یہ اس کی خوبی ہے؟ چوری نہیں کرتا بدکاری نہیں کرتا صوم و صلات کا پابند ہے کیا یہ سب چیزیں اسکے کھیل کا معیار ہیں جی نہیں ایک اچھا کھلاڑی وہ ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ رن بناتا اور زیادہ سے زیادہ ویکٹیں حاصل کرتا ہے اب اگر وہ جھوٹ نہیں بولتا تو یہ اس کی اضافی خوبی ہے لیکن محض اس کے جھوٹے ہونے سے اس کے کھیل کا معیار نہیں گھٹ جاتا گیند کیچ کرتے وقت جب وہ اچھلتا ہے تو اسکے اچھلنے سے اسکا جھوٹ بھی اچھل کے باہر نہیں آجاتا لیکن ایک شاعر جب شعر کہتا ہے تو اس کا جھوٹ ظاہر ہو جاتا ہے ظرف سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے-

مزید  امام سجاد (ع) اور قرآن مجید سے الفت و محبت 

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا 

گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

اللہ رے حجاب بدگمانی تیری

بھیجی بھی تو بس نصف بدن کی تصویر

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں 

قتل کرڈالا مگر ہاتھ میں تلوار نہیں 

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

حور کی رفاقت تھی حوض کا کنارہ تھا 

ناچیز 

یہ سب اشعار اور مصرعے چوٹی کے شاعروں کے ہیں امیر مینائی مولوی کے بیٹے اور خود بھی مولوی تھے انکے اشعار پڑھئیے میری بات کی تصدیق ہوجائے گی-

غرض شاعر کو سب سے پہلے ایک اچھا انسان ہونا چاہئیے اور نہ صرف شاعر بلکہ شعر خوان مداح کے لئیے بھی یہی التزام ہے ورنہ آج نوحوں کے ساتھ جو ہوا اور ہورہا ہے وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں ترنم کے رسیا سامعین و شعراء نے منقبتوں کو بھجن بنادیا ہے اس کی اصل وجہ اعلی اخلاقی اوصاف کا فقدان ہے –  

مرحوم رضا سرسوی صاحب بہ ذات خود ایک نفیس طبیعت کے حامل انسان تھے لہذا ان کی شاعری میں بھی لطافت اور جذابیت پائی گئی ایک ہی زمین میں دسیوں غزلیں اور سینکڑوں منقبتیں کہی جاسکتی ہیں لیکن ایک ہی حال میں آخری سانس تک اپنی وضع قطع کو باقی رکھنا ایک اچھے انسان ہی کے بس کی بات ہے رویہ میں مصنوعی چمک دمک نہیں بلکہ فطری اور طبع زاد خلوص تھا آج شعراء و خطباء بانیان مجالس و محافل کے دلوں کی وسعتوں کو دیکھنے کے بجائے طباقوں کی وسعت اور لفافوں کا حجم اور موٹائی دیکھتے ہیں لیکن وہ اپنی عزت نفس دیکھتے تھے – وہ شاعر حساس تھے ذاتی وصف کے علاؤہ انکی شاعری کا جو وصف ہے وہ احساس کی ترسیل ہے انہوں نے ” ماں ” کے عنوان پر جو نظم لکھی ہے اس میں کوئی خاص فنی کمال نہیں ہے سادہ اور سلیس لفظیں بلکہ کہیں کہیں پر متروک الفاظ ( رانڈوں کا قافلہ وغیرہ ) کا بھی استعمال کیا ہے لیکن شہرت کی بلندی کو چھونے کا اصل سبب پوری نظم میں ” ترسیل احساس ” کا عنصر ہے اور ایسا ایک قادرالکلام شاعر ہی کرسکتا ہے کیونکہ احساسات کو لفظوں کے پیکر میں ڈھالنا اور” ترسیل احساس ” کی بلند سطح کو چھوتے وقت اپنی زبان کی لطافتوں کو سامعین کی سماعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنا پڑتا ہے –

مزید  اسلامی انقلاب کے بعض امتیازی نقوش

قارئین سے معذرت کے ساتھ کہ وقت کی کمی کے سبب مضمون کو ادھورا چھوڑ رہا ہوں انشاء اللہ آئندہ کبھی رضا سرسوی صاحب کے کلام کے فنی محاسن پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔

والسلام 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.