خدا حافظ مولصاحب

تحریر: مولانا نجیب الحسن زیدی

–। یادیں بہت سی ہیں باتیں بہت ہیں پردہ ذہن پر نہ جانے کتنے نقوش ہیں جو اجاگر ہو کر استاد محترم کی بے لوث محبت کی داستاں اپنے وجود میں سمیٹے بے ساختہ آنکھوں سے  چھلکنے والے آنسووں کو تک رہے ہیں لیکن کسی نقش میں حرکت نہیں کوئی آگے نہیں بڑھتاشاید اس لئےکہ جس ذات سے وابستہ نقوش ہیں اب و ساکت و خاموش ہے ۔
چند منظر آپکے ساتھ شئیر کر رہا ہوں ۔

جامعہ امامیہ میں داخلہ ہوا پہلی بار ماں باپ بھائی بہن دوست چھوڑ کر اجنبی جگہ آنا ہوا ۔ہر وقت دل گھبراتا گھر کی یاد آتی پہلے دن نہ یہ پتہ تھا کہاں جا کر ناشتہ کرنا ہے کہاں کھانا کھانا ہے طلاب و ساتھی ہی تھے جو جس طرف چل دیتے ہم بھی چل دیتے ایسے میں ایک ہی ذات تھی جو شفقت سے گلے لگا کر پوچھتی ناشتہ کیا ؟ پیٹ بھرا ؟ یہاں تک کے باہر گھومنے گئے یا نہیں ؟۔۔۔

ایک دن دل بہت اداس تھا سب بچے کھیلنے گئے تھے کچھ ہی لوگ بورڈنگ میں تھے مرحوم نے بہت پیار سے پوچھا تم باہر نہیں گئے بڑی اپنائیت کا احساس ہوا۔ کچھ دیر ہلکی پھلکی باتیں کی پھر کہا کسرت کرنا آتا ہے؟ جواب میں کچھ سمجھ نہیں آیا تو خود ہی ہاتھ اوپر کئیے اور دائیں بائیں جانب سر کے اوپر جوڑ کے  گھمائے اور کہاں یوں ہوتی ہے کسرت سامنے پارک ہے وہاں جاو اور کسرت کرو اور پھر شانے پکڑ کر مسکراتے ہوئے زور سے ہلا دیا اداسی تنہائی سب دور سفید کرتے پیجامے میں کرسچن کالج کی فیلڈ میں جاتے ہوئے بچوں کے جھنڈ میں اب وہ بچہ بھی شامل تھا جو پہلے اداس بیٹھا تھا ۔

مجلس پڑھ کر کہیں سے آئے رومال میں تبرک تھا آتے ہی آواز دی نجیب، صبیح ہم دونوں پہنچے یہ لو یہ تمہارا تبرک  ایسا ایک بار نہیں بارہا ہوا ۔بچے خود کے بھی تھے لیکن تبرک ہمیں ملتا اکثر ہی ایسا ہوتا کہ مجلس کا تبرک نہ باقر بھائی کو ملتا نہ سعید بھائی کو ہماری اجارہ داری تب تک قائم رہی جب تک ہم سے کمسن طالب علم نہ آ گئے اس وقت جناب صبیح الحسن صاحب تنزانیہ میں ہیں میں ایران میں لیکن ہم دونوں جو چیز نہیں بھولے وہ استاد محترم کا تبرک ہے ۔

سوتے سوتے اکثر اوڑھنے کی چادر گر جاتی رات کو کسی پہر آکر چادر شفقت کے ساتھ سر پر ڈال کر چلے جاتے اور صبح ہوتی تو محبت آمیز نظروں سے دیکھ کر پوچھتے رات نیند آئی تھی۔

پہلی بار ناشتے کی ٹیبل پر ساتھ ہوا تو جامعہ کے معمول کا ناشتہ میز پر تھا مرحوم نے الگ سے آلو پوری منگوایے خود بھی کھاتے اور مسکرا مسکرا کر دیکھتے جاتے۔اور پوچھتے اچھا ہے۔ جو بچہ ناشتہ کرنے سے دل چرا رہا ہو وہ کیوں نہ ناشتے پر مجبور ہو کہ اتنی شفقت کے ساتھ کون کسی کو پوچھتا ہے ۔

درس خطابت ہمارا من پسند درس تھا گرچہ ہفتے میں ایک بار ہوتا لیکن ہمیں انتظار رہتا ایک بار ہماری باری تھی اور بھی ہم سے بڑے طلاب تھے عین اس وقت جب مجھے منبر پر جانا تھا لائٹ چلی گئی ۔منبر پر گیا نیچے سے ٹارچ جل رہی تھی یہ ٹارچ کسی طالب علم کے ہاتھ میں نہیں بلکہ  جامعہ کے پرنسپل کے ہاتھوں میں تھی ایک ہاتھ میں ٹارچ دوسرے میں قلم پوائنٹ نوٹ کرتے گئے جب نتیجہ کے اعلان کا وقت آیا تو کاغذ اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا انداز خطابت میں اتنے موشن میں اتنے ترتیب میں مواد میں اتنے  و۔۔۔ پچاس میں 43 نمبر حاصل کر میں پہلی پوزیشن پر تھا انعام میں  ٹیب ریکارڈر کی ایک کیسٹ ملی آج تک یاد ہے ۔جب گھر جانا ہوا تو خوشی خوشی ہر ایک کو بتایا یہ ابن علی واعظ صاحب جو ہمارے پرنسپل ہیں انہوں نے مجلس پڑھنے پر اپنے ہاتھوں سے دی ہے ۔ہمارے رشتے کے چچا زاد بھائی جناب مولانا عازم حسین زیدی صاحب جو خود بھی مرحوم سے بہت متاثر ہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ ابن علی واعظ صاحب نے انعام میں کیسٹ دی۔اچھی طرح یاد ہے ہم دونوں اپنے قصبے سیتھل میں یہ کیسٹ لیکر امانت بھائی کی لاوڈاسپیکر کی دوکان پہنچے وہاں پر بڑے ایک بڑے ساونڈ سسٹم میں اپنے ہی کچھ بولے جملے اور گھر ہی میں ریکارڈ کی گئی مجلس چلا کر خوش ہوئے اور گھر واپس آ گئے شاید وہی کیسٹ تھی جس نے منبر پر بیٹھنے اور جوڑ توڑ کا حوصلہ دیا اور وہ خود اعتمادی دی کہ اپنی تمام تر کوتاہیوں کے اعتراف کے ساتھ جامعہ امامیہ سے با قاعدہ  شروع ہونے والا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ 

کچھ انگور مرحوم کے پاس رکھے تھے بڑے پیار سے پاس بلایا اور کہا کھاو ہم نے بڑھ کر ایک خوشہ اٹھا لیا کھا کر بیٹھ گئےمرحوم  نے یہ دیکھا تو کہا اور یہ سارے جو بچے ہیں وہ کون کھائے گا؟  ایک ایک کر کے اپنے ہاتھوں سے انگور اٹھاتے اور کھلاتے ہر ایک انگور کے دانے پر مسکراہٹ سے دیکھتے کچھ اس مشفقانہ انداز سے انگور کھلائے کہ آج بھی کبھی انگور خریدو تو مرحوم کی تصویر آنکھوں میں گھوم جاتی ہے۔

ایک دن پتہ چلا مرحوم جامعہ چھوڑ کر افریقہ جا رہے ہیں دل بہت اداس ہوا دل بھرا ہوا پہلے ہی تھا استاد محترم صفی حیدر صاحب نے مراسم تودیع میں کچھ ایسے جملے بھی بول دیے جس میں اظہار امتنان و تشکر کے ساتھ اس ہستی سے قلبی وابستگی کو بیان کیا گیا تھا وہ جملے تو یاد نہیں لیکن لہجہ یاد آیا ہے جب انکا گلا رندھ گیا تھا سامنے بیٹھے طلاب کی سسکیاں بلند تھیں جس جس کا قلبی لگاو تھا وہ مرحوم کے ساتھ اپنی یادوں کے کاندھے سر رکھ کر رو رہا تھا جاتے جاتے ملاقات ہوئی گلے لگایا یوں تو سبھی کی آنکھیں اپنے عزیز استاد کو رخصت کرتے وقت اشکبار تھیں مرحوم نے گلے لگا کر محبت سے کہا” یہ سب تم نے شروع کیا” شاید بہت سے لوگوں کی بلند آوازوں میں میری آواز پہچان گئے تھے ۔

ایک دن بہت اداس تھے کمرے میں آئے کچھ دیر بیٹھے کچھ ہلکی پھلکی باتیں کیں پھر ایک عجیب سی بات کی کہ بیٹا ایک بات پوچھوں ؟ یہ بتاو میں اگر مر گیا تو تم میری فاتحہ پڑھوگے ؟ یہ سنتے ہی میرے بے ساختہ آنسو جاری ہو گئے ڈبڈبائی آنکھوں سے مجھے گلے لگایا اپنے کمرے میں لیکر آئے اپنے بیٹے “سعید بھائی” کو بلایا اور ان سے کہا یہ دیکھو یہ بھی میرا بیٹا ہے یہ تمہارابھائی ہے ہم نے اس سے سورہ فاتحہ کے لئے کہا یہ رونے لگا یہ کہہ کر سینے سے لگا لیا ۔
آج میری نگاہوں کے سامنے وہی منظر ہے۔ اب مرحوم کے لئے سورہ فاتحہ تو لبوں پر ہے لیکن اس بیکراں نیلے آسمان کے نیچے وہ سینہ نہیں جس پر سر رکھ کر رو سکوں ۔
خدا حافظ مولصاحب ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More