حضرت صدیقہ طاہرہ (س) کا اجمالی تعارف

0 2

تحریر مولانا محمد حسین بہشتی 

حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت زہرا (س) کی مختصر سی زندگی میں بہت سارے تلخ واقعات رونما  ہوئے، جو اس بات کی طرف  توجہ دلاتے ہیں کہ اس دور کی تاریخ کو بہت ہی دقت سے مطالعہ کر نے کی ضرورت ہے۔گرچہ بہت ساری  کتابیں حضرت فاطمہ زہرا (ع) کے بارے میں لکھی گئی ہیں پھر بھی ہمیں معاشرے کو مزید اس عظیم خاتوں کی مختصر  مگر جامع زندگی سے روشناس کرانے کےلیے جامع اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا کا جس طرح آیات اور روایات نے تعارف کرایا ہے،اس کی رو سے خداوند  متعال کا علم اور حکمت روئے  زمین پر بی بی دو عالم(س) کے ذریعے ظاہر ہوئے ۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شخصیت ایسی تھی کہ پیغمبر  اکرم (ص) آپ کے سامنے کھڑے  ہوتے، آپ کے دست مبارک کا بوسہ لیتے،آپ کو امّ ابیھا کہہ کر پکارتے اور ہمیشہ سفر جاتے  ہوئے یا سفر سے واپسی پر سب سے پہلے حضرت زہرا کے گھر  تشریف لے جاتے تھے۔

حضرت زہرا (س) تنہا وہ خاتون  ہے جو حضرت علی علیہ السلام  کی ہمسر اور (کُفو)قرار پائی  اور تنہا وہ شخصیت ہیں جن کا اماموں کی حجت کے عنوان سے تعارف ہوا ہے،حجت کا معنی یہ ہے کہ ہر چیز پر اولویت اور ہر چیز سے افضل ہونا اور علم و حکمت کا سر چشمہ اور محور  ہونا وغیرہ۔

حضرت زہرا (س) کی ولادت با سعادت (مشہور روایت کے  مطابق) جمعہ 20جمادی الثانی بعثت کے پانچویں سال ہوئی۔ ایک دن جبرائیل امین پیغمبر اکرم(ص) پر نازل ہوئے اورخداوند عالم کی طرف سے درود سلام پہنچانے کے بعد اللہ تعالی کے حکم کو اس طرح سے ابلاغ کیا :”اے پیغمبر گرامی!آپ  چالیس دن تک خدیجہ سے دوری اختیار کریں اور خداوند متعال کی عبادت میں مشغول رہے “

پیغمبر اکرم نے اس دستور پر عمل کرتے ہوئے دن کو رو‌زہ رکھا اور راتوں کو عبادت میں گزارا حضرت خدیجہ کی خدمت میں  پیغام بھیجا کہ آپ سے دوری اختیار کرنے کا مطلب آپ سے کسی قسم کی ناراضگی نہیں ہے،بلکہ یہ اللہ کے حکم سے ہے، لہذا آپ پریشان مت ہو جائے اور خداوند کریم کے فرمان کی منتظر رہے اور معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیں ۔

چالیس دن گزر گئے، جبرائیل  امین پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے، بہشت سے غذا   اور پھل پیش کیا اور کہا اس  کو تناول فرمائیں اور خدیجہ  کے گھر تشریف لے جائیں،  خداوند متعال نے ارادہ کر لیا ہے کہ آپ کو ایک پاکیزہ اور با برکت بیٹی عطا فرمائے۔

چند دن کے بعد  جبرائیل امین  دوبارہ نازل ہوئے اور عرض کیا  یا رسول اللہ !جو بچہ خدیجہ  کے رحم میں ہے وہ ایک با عظمت اور بابرکت بچی ہیں آپ  کی نسل اس کے ذریعے آگے  بڑھے گی وہ ان دو اماموں کی ماں ہوں گی جو وحی اور رسالت کے منقطع ہونےکے بعد،  دین کے رہبر اور پیشوا  ہوں گے۔

حضرت فاطمہ زہرا(س) نے اپنے  والد گرامی کے ساتھ  سخت ترین ایّام گزارے جب حضرت  خدیجہ (س) رحلت پا گئیں تو یہ مصیبتیں دو برابر ہو گئیں !حضرت زہرا(س) کی تربیت ایسے  سخت حالات میں ہو گئی ان سخت حالات  میں بھی حضرت زہرا(س)اپنے والد گرامی کی غمخوار  تھیں ،اسی لیے پیغمبر اسلام نے آپ کو (ام ّابیھا  )کے لقب سے نوازا امّ ابیھا کا معنی یعنی اپنے  باپ کی ماں۔

حضرت رسول اعظم (ص) کی ہجرت کے وقت آپ مکہ میں رہی بعد میں چند لوگوں کے ساتھ حضرت علی کی سر پرستی  میں مدینہ میں اپنے والد گرامی  سے جاملی۔     
مدینہ میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد ،حضرت زہرا (س) کی شادی کے لیے متعدد افراد نے پیغام بھیجا لیکن ان درخواستوں پر نہ پیغمبر اکرم (ص) نے توجہ دی اور نہ ہی حضرت زہرا (س) نے،یہاں تک  ایک دن  بعض اصحاب پیغمبر  نے حضرت علیؑ سے گزارش   کی حضرت رسول خدا نے بہت  سے اصحاب کی حضرت زہرا سے رشتوں کی درخواست کو مسترد کردیا ہے شاید آپ کی درخواست  قبول  کرلیں لہذا  آپ بھی حضرت  زہرا سے شادی  کےلیے درخواست بھیجے۔  

حضرت علی تیار  ہوئے اور پیغمبر اکرم  کے گھر کی طرف  روانہ ہوئے اس دن آنحضرت ام سلمہ کے گھر پر تھے علی نے  دروازہ کھٹکھٹایا آنحضرت نے ام سلمہ سے فرمایا دروازہ   کھول دو،دروازے کو کھٹکھٹانے  والا وہ شخص ہے جسے اللہ اور اس کے رسول دوست رکھتے ہیں اور وہ بھی خدا اور رسول  کو دوست رکھتا ہے ام سلمہ نے دروازہ کھولا اور علی گھر میں داخل ہوئے!سلام کیا اور سر کو نیچا کر کے دو زانو ہوکر بیٹھ گئے۔

پیغمبر اکرم نے فرمایا: لگتا ہے کوئی حاجت لیکر آئے ہیں لیکن  شرم و حیا کی وجہ سے خاموش بیٹھے ہو !جو کچھ چاہتے ہو مجھ سے مانگ لو !علی نے عرض کیا :یا رسول اللہ میں نے آپ کے گھر میں پرورش پائی ہے اور میری تربیت آپ کے  دست مبارک سے ہوئی ہے، اگر آپ کو منظور ہو تو میں آپ کی بیٹی فاطمہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں یہ رشتہ میرے لیے سعادت کا باعث ہوگا۔

خوشی و شادمانی پیغمبر  اکرم کے چہرۂ اقدس پر نمودار  ہوئی اور فرمایا صبر کریں، میں اپنی بیٹی فاطمہ سے پوچھ لوں۔      

پیغمبر اکرم (ص) نے فاطمہ سے فرمایا :فاطمہ جان علیؑ آپ سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور کیا  مجھے اجازت دیتی ہو آپ کی شادی علی سے کرادوں؟
فاطمہ زہرا سر کو نیچا کر کے خاموش رہی!تو پیغمبر خدا نے  اسے فاطمہ زہرا(س) کی رضایت  جان کر علی کے پاس آئے اور فرمایا :علی جان ! شادی بیاہ  کے لیے کچھ سامان موجود  ہیں؟ 
علی(ع) نے عرض کیا :یا رسول اللہ(ص) ! صرف ایک تلوار ،ایک  زرہ  اور ایک  اونٹ  ہے۔

پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: تلوار خدا کی راہ میں جہاد کے لیے  ضروری ہے، اونٹ  زندگی  کو چلانے کے لیے لازم  ہے، لیکن  زرہ  تمہارے لیے ضروری نہیں ہے اس  کو بیچ دو اور شادی کے لیے  سامان اور جہیزیہ خرید لو ! اس کے بعد پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا :میں تم کو ایک بشارت  دنیا چاہتا ہوں تمہارے آنے سے  پہلے جبرائیل میرے پاس آئے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یا محمد(ص)!خداوند عالم نے تم   کو تمام مخلوقات میں افضل و برتر قرار دیا اور رسالت پر مبعوث فرمایا اور علی کو تمہارے وزیر اور بھائی قرار دیا لہذا اپنی بیٹی کی علی کے ساتھ شادی کرادو  اس سے  پہلے آسمانوں میں فرشتوں نے  شادی کا جشن منایا ہے ، ابھی  جبرائیل اوپر نہیں گئے تھے تم  نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

حضرت علی(ع) نے اپنی زرہ کو  جس کی قیمت پانچ سو درہم  تھی بیچ کر شادی کے سامان خریدے اور ایک سادہ زندگی کا    آغاز کیا اسطرح  فاطمہ زہرا(س) نے پہلی ذی الحجہ دوسری ہجری کو علی علیہ السلام کے ساتھ ایک مشترک زندگی کا آغاز کیا۔

فاطمہ زہرا(س) وہ خاتون ہے جسں نے مباہلہ میں شرکت کی اور آیت مباہلہ میں شامل ہوگئیں،مباہلہ کچھ اس طرح سے واقع ہوا مدینہ کے کچھ  مسیحی،پیغمبر اکرم(ص)کے ساتھ مقابلہ کے لیے اتر آئے  اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا:   
﴿فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ﴾ 
اس آیت کی روشنی میں مسیحی علماء نے پیغمبر  اکرم(ص) کے ساتھ مجادلہ و مباہلہ کرنے کا فیصلہ کیا اورکہا !ہم اپنے بیٹوں کے ساتھ، تم  اپنے بیٹوں  کے ساتھ، ہم میں اپنی عورتوں کے ساتھ، تم اپنی عورتوں کے ساتھ، ہم اپنے  نفسوں کے ساتھ تم اپنے نفسوں کے ساتھ آجائیں گے اس کے بعد مباہلہ کریں گے پس خدا جھوٹوں پر لعنت کرے۔ 

پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے ساتھ  علی ،فاطمہ حسن و حسین علیہم السلام کو میدان مباہلہ میں لیکر آئے یہاں عورتوں یعنی جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے لیکن اس کا مصداق صرف فاطمہ زہراء کی ذات ہے اور یہ ایک عظیم افتخار ہے جو صرف لیاقت اور صلاحیت کی بنیاد پر انہیں حاصل ہوا ہے۔ 

حضرت فاطمہ زہرا (س) کا گھر وہ گھر ہے جس کے لیے آیہ تطہیر  نازل ہوئی:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
40 دن مسلسل پیغمبر اکرم (ص) صبح مسجد میں جاتے ہوئے  فاطمہ زہرا (س) کے گھر  کے سامنے کھڑے ہو کر دروازہ کی زنجیر  کو  پکڑ  کر فرماتے:
السلام علیکم یا اھل البیت ورحمة اللہ وبرکاته الصلاہ الصلاہ یرحکم اللہ، انمایریدالله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا
السلام علیکم یا اھل البیت  فاطمہ زہرا وہ عظیم ہستی ہیں جس کا شوہر گرامی علی ابن  ابی طالب اور اس کی اولاد کرام ،پیغمبر اسلام کے بعد دین اسلام کے تنہا خلیفہ ،اولیاء و اوصیاء اور امام ہیں۔

حضرت امام باقر(ع) فرماتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ انصاری نے کہا: میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کی خدمت میں حاضر ہوا دیکھا  ایک لوح آپ کے دست مبارک  میں تھا جس پر پیغمبر اکرم (ص) اوصیاء ،اولیاء اور اماموں  آپ کے شوہر علی (ع) اور آپ کے  بیٹے حسن اور حسین علیہم السلام کے نام درج تھے ،پس میں نے دیکھا 12 افراد کا نام درج تھا۔

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے
Loading...