حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ حافظ سید محمد سبطین نقوی مرحوم کی ٢٧ویں برسی پر خصوصی تحریر

0 9

تحریر: مولانا سید حسن رضا نقوی نزیل حوزہ علمیہ قم

حوزہ نیوز ایجنسی رئیس العلماء علامہ حافظ سید محمد سبطینؒ نقوی پاکستان کے مخلص متدین اور جلیل القدر عالم دین تھے۔

ولادت 

علامہ حافظ سید محمد سبطین نقوی 25 جولائی 1947ء میں علی پور کے ساتھ ملحق ایک چھوٹے سے شہر سیت پور میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام حضرت آیت اللّہ العظمی استاذالعلماء سید محمد یارؒ نجفی تھا جو عالم اسلام کے علماء امامیہ کی عظیم شخصیت تھےآپ چار بھائی تھے ایک آپ او آپ کے علاوہ علامہ حافظ سید محمد حسنینؒ نقوی جو کہ ایک بلند پایہ عالم اور بمثال خطیب تھے  ان کے علاوہ علامہ حافظ سید محمد ثقلینؒ نقوی شھید جو علمی حلقے میں اپنی مثال آپ تھے اردو خطابت کے بادشاہ خطیب تھے اور آپ کے سب سے چھوٹے بھائی مولانا سید محمد سیدین مرحوم جو ایک سادہ تبعیت اور دین دار انسان تھے 

تربیت و پرورش

25 جولائی 1947ء کو پاکستان علی پور کے مضافات سیت پور  میں پیدا ہوئے، آپ کی تربیت مذہب تشیع ایک کے عظیم گھرانے میں ہوئی جہاں پہلے سے علمی شخصیات موجود ہیں آپ کے والد استاذالعلماء آیت اللہ سید محمد یار نجفی آپ کے استاد اور چچا ذاد محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی اور حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی۔ ایسے علمی ماحول میں ایک شخصیت دنیا میں تشریف لائی یقینا تربیت ایسے علمی ماحول میں ہوئی جس کی پاکستان بھر میں مثال نہیں ملتی

تعلیم

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد استاذ العلماء سے حاصل کی اور بسم اللہ کا آغاز مولانا حافظ محمد رمضان رح کے پاس کیا اور سے کم سنی میں قرآن مجید بھی انہی کے پاس حفظ کیا جو کہ تقریبا آخر وقت حافظہ برقرار رہا۔ اس کے بعد آپ مادر علمی مرکزی دینی درس گاہ حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور تشریف لے گئے وہاں اپنے ابن عم محسن ملت علامہ سید صفدرؒ حسین نجفی، آیت اللّہ حافظ سید ریاض حسین نجفی اور علامہ عبدالغفور وزیر آبادی سے کسب فیض کیا ابتداء سے سطوح تک کی تعلیم وہاں حاصل کی اور اسی دوران مختلف مقامات پہ دین مبین اسلام کی تبیغ کی غرض سے تشریف لے جاتے۔

مزید  "ولایت علی(ع)" عصر حاضر کی ضرورت

نجف اشرف روانگی

 اس کے بعد قبلہ عازم نجف ہوئے اور باب العلم کے دروازہ پہ پہنچ  کر تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کیا کچھ مدت وہاں رہے لیکن مشکلات کے پیش نظر فروری 1971ء کو مرکز علم اجتہاد حوزہ علمیہ قم کا انتخاب کیا اور قم المقدس میں مستقر ہو گئے۔

حوزہ علمیہ قم علامہ۔حافظ سید محمد سبطین نقوی رح پہلی پاکستانی شخصیت ہیں جنہوں نے پاکستان میں حوزہ علمیہ قم کو متعارف کرایا۔ وہاں سات سال تک درس قرآن وحدیث، فقہ اصول الفقہ کفایہ، رسائل مکاسب اور درس خارج مختلف علمی شخصیات کے دروس میں شرکت کرکے تعلیم مکمل کی۔ 

وہاں آپ نے جن مشہور شخصیات سے کسب فیض کیا ان میں 

آیت اللّہ سید محمد کاظم،

آیت اللّہ محمد صادق روحانی، 

 آیت اللّہ شیخ محسن حرم پناہی،

حضرت آیت اللّہ مہدی بنیادی،

 آیت اللّہ اسد اللّہ زنجانی،

 آیت اللّہ سید ابو الفضل موسوی 

شامل ہیں 

قومی دینی ملی خدمات۔

جنوری 1978 میں آپ پاکستان واپس تشریف لائے اور آپ نے دین مبین کی ترویج اور مکتب تشیع کی ترویج کے لیے ایک اہم شہر وزیر آباد ہے جس کا انتخاب کیا کیونکہ اس کے گردونواح میں کوئی مدرسہ نہیں تھا اور مومنین کی کافی تعداد تھی آپ کے اساتذہ میں سے علامہ عبدالغفور مرحوم کاطتعلق بھی وہاں سے تھا  چنانچہ مومنین کی علمی پیاس بجھانے کے لیے وہاں کا رخ کیا جامع مسجد الشیعہ میں امام جمعہ و الجماعت کے فرائض کو انجام دینا شروع کر دیا وہاں کی مزہبی شخصیت محترم ممتاز حسین جعفری کے تعاون اور ان کی درینہ خواہش پر عظیم الشان دینی درس گاہ ممتاز المدارس جعفریہ وزیرآباد کی بنیاد رکھی جس کے موئسس و مدیر تا آخر وقت حافظ صاحب قبلہ ہی رہے ایک۔خاص مقام پہ مدرسہ واقع ہونے کی وجہ سے کافی مومنین کے بچوں نے وہاں آپ سے رجوع فرمایا یہی وجہ ہے کہ وزیر آباد گجرات گجرانوالہ علی پور چٹھہ اور نزدیک و دور تمام شہروں سے آپ کے شاگرد موجود ہیں آپ نے اس ادارہ کے قیام سے لے کر تا آخر وقت دل و جان سے محنت کرکے خدمات انجام دی جس کا ثمر آج دنیا کے ہر کونہ میں موجود ہے جس شمع کو آپ نے روشن فرمایا اس کی کرنیں دینا بھر میں موجود ہیں۔

مزید  آیۃ اللہ سید یوسف حسین امروہوی

وفاق العلماء الشیعہ پاکستان۔

 حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی حفظہ اللہ کے ایک انٹرویو میں یہ بات سننے کو ملی جب آپ اور آپ کے چند دوست قم سے پاکستان تشریف لائے تو عظیم مفکر علامہ۔شھید مطہری کی خواہش اور مشورہ پر ایک علماء کی جماعت کی باقاعدہ بنیاد رکھیجس کے صدر پہلے حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نکفی تھے مرور زمان کے ساتھ بزرگ علماء کے انتخاب سے آپ سن 1990 میں اس الہی جماعت وفاق علماء الشیعہ پاکستان کے مرکزی صدر منتخب ہوئے اور اس پلیٹ فارم  کا جال پورے پاکستان اور اس کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک تک بچھایا اور اپنی وفات تک صدارتی کام سر انجام دیتے  رہے۔ وفاق العلماء الشیعہ کے پلیٹ فارم سے بہت سی خدمات سر انجام دی ان میں سے اہم کام جو کیا وہ عزاداری امام حسین ع کے مشن کو چلانے کیلئے آل پاکستان عزاداری کونسل کی بنیاد رکھی۔ جس کے قائم مقام سربراہ رہے، مدارس امامیہ میں دروس نظامی کے نصاب کو آپ نے مرتب کیا جو اب تک جاری ھے۔

جب معمالات بگڑے تو علماء و ذاکرین کا اجلاس گامے شاہ میں بلایا اور ممبر اور محراب میں کا جو ظاہری فرق اور افتراق تھا اس کو ختم۔کیا یہی۔وجہ ہے کہ۔اکثر خطباء آپ کا بحد احترام کرتے تھے۔

آپ کے اساتذہ۔

آیت اللہ استاذالعلماء علامہ سید محمد یارؒ نجفی

آیت اللّہ سید محمد کاظم

آیت اللّہ محمد صادق روحانی

استاذالعلماء آیت اللّہ شیخ محسن حرم پناہی

آیت اللّہ مہدی بنیادی

آیت اللّہ اسد اللّہ زنجانی

آیت اللّہ سید ابو الفضل موسوی

محسن ملت ابوذر زمان علامہ سید صفدرؒ حسین نجفی

حضرت آیت اللّہ حافظ سید ریاض حسین نجفی حفظہ اللہ

علامہ عبدالغفور وزیر آبادی مرحوم۔

آپ میں پائی جانے والی چند خصوصیات۔

آپ کا شمار پاکستان کے بزرگ مدرسین میں ہوتا تھا۔ 

آپ کو عربی، اردو اور فارسی زبانوں پر مکمل عبور، تھا آپ ادیب، حاضر جواب، شجرہ سادات و امام زادگان کی مکمل تحقیق، اردو طرز کے یکتا زمان مقرر، مناظر، علم فقہ اصول کفایہ کے مضبوط مدرس تھے۔ 1980ء کی دہائی میں کفایہ کے مضبوط مدرسین کی فہرست میں آپ بھی شامل تھے۔

مزید  شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس نجفی رہ کی 22 ویں برسی پر مختصر حالات زندگی

 اس دہائی کے تین بڑے کفایہ کے مدرس جانے جاتے تھے جن کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔

 حضرت آیت اللّہ حافظ سید ریاض حسین نجفی دامت برکاتہ، 

قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی دامت برکاتہ 

اور علامہ حافظ سید محمد سبطین نقوی مرحوم شامل تھے۔

تاسیس کردہ مدارس

جامعہ عربیہ ممتاز المدارس وزیر آباد

جامعۃ المجتبی گجرات

جامعہ اسلامیہ سیالکوٹ۔

آپ کی تصانیف

حقوقِ انسانی

فرائض

تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان کا مسودہ

تحفہ صوفیہ پر نقاط

القائم رسالہ۔

آپ کے شاگردان۔

علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی شہید رح

( پرنسپل جامعہ دارالہدیٰ محمدیہ علی پور )

علامہ سید عطاء الرحمٰن نقوی (مبلغ خطیب علی پور )

علامہ محمد حسین جلوی ( پرنسپل جامعہ ممتاز المدارس وزیر آباد )

علامہ سید ابرار حسین نقوی ( پرنسپل مدرسہ جہلم )

علامہ ملک عزیز حسین ( چکوال )

علامہ سراج الکاظم۔

 ( لندن یو۔کے )

علامہ انوار الکاظم ( قم ایران )

علامہ محمد اصغر یزدانی ( خطیب یورپ پرنسپل مردسہ جامعہ المجتبی گجرات )

علامہ سید مختار حسین نقوی ( گجرات )

علامہ سید صغیر حسین نقوی ( افریقہ )

علامہ سید ارشاد حسین نقوی۔

 ( پرنسپل جامعہ امیر المومنین شہر سلطان )

علامہ ملک مومن حسین قمی ( پرنسپل جامعۃ المبلغین اسلام آباد )

علامہ اختر عباس نظام آبادی

( مدرس ممتاز المدارس وزیر آباد )

علامہ سید نصیر حسین نقوی ( مشہور خطیب علی پور چھٹہ )

علامہ سید ساجد تقوی ( سوریا )

علامہ کاظم حسین

 ( علی پور چھٹہ )

علامہ سید سجاد حسین شیرازی ( وائس پرنسپل ممتاز المدارس وزیر آباد )

علامہ عاشق مہدی ( استاد حوزہ علمیہ قم )

علامہ سید غلام رضا نقوی ( پرنسپل جامعۃ امام مھدی بستی اللہ بخش مظفرگڑھ )

علامہ ملک غلام باقر گھلو ( مدرس جامعۃ المنتظر لاہور )

علامہ غلام قنبر ( بھکر )

علامہ انوار حسین ( چکوال )

فرزندان

علامہ سید علی رضا نجفی

مولانا سید محمد رضا نقوی

وفات

16 اپریل 1994ء کو اتفاق ہسپتال میں گردے کی تکلیف کی وجہ سے اس دار فانی سے اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں تشریف لے گئے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ حافظ سید محمد سبطین نقوی مرحوم کی ٢٧ویں برسی پر خصوصی تحریر
تحریر: مولانا سید حسن رضا نقوی نزیل حوزہ علمیہ قم
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.