جذباتی نہیں جہادی گریہ

0 20

تحریر: حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سلمان عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخ بشریت میں بہت سے ایسے لوگ گذرے ہیں جنہوں نے اپنے کسی عزیز کی رحلت ، کسی محبوب کی فرقت یا زندگی میں کسی منزل تک نہ پہنچ پانے پر گریہ کیا ہے لیکن کسی کا بھی گریہ اتنا سوزناک ‘ تکلیف دہ ، ہدف دار اور پر اسرار نہیں جتنا حضرت زہرا (ع) کا گریہ ہے۔ یہاں تک کہ اہل مدینہ نے اسکی شکایت کی۔ زہرا (ع) کا گریہ اپنے والد کے فراق پر محض ایک ہنگامی چیخ اور ایک جذباتی پکار نہیں تھا بلکہ غاصب حکومت کے خلاف ایک مبارزہ تھا ، اسلام کی غربت ، قرآن اور مذہبی احکامات کی پامالی اور نا قدری کے خلاف ایک مسلسل اور نہ تھمنے والا احتجاج تھا ‘ غصب خلافت ، امیرالمومین  (ع) کی مظلومیت اور صراط مستقیم سے امت اسلامیہ کے انحراف پر گریہ تھا ۔ افسوس کہ امت نے زہرا کے اس گریہ کو نہیں سمجھا الٹا آکر شکایت کی- 
«أَمَّا فَاطِمَةُ بَکَت عَلی رَسُولِ الله حَتَّی تَأَذَّی بِها أَهلَ المدِینَةِ فَقَالُوا لَها لَقَد آذَیتِنا بِکَثرِة بُکَائِکِ اِمّا أن تَبکِی بِاللَّیلِ وَ اِمّا أَن تَبکی بِالنَّهارِ فَکَانَت تَخرُجُ اِلی مَقابِرِ الشُّهَداءِ فَتَبکِی؛
 فاطمہ (ع) رسول (ص) کی وفات پر اتنا روئیں کہ اہل مدینہ کو اذیت ہوئی اور انہوں نے آکر  کہا: آپ کا گریہ ہمارے لئے نہایت تکلیف دہ ہے ۔ یا تو آپ دن کے وقت رویا کریں (تاکہ ہم رات کو آرام سے رہیں) یا رات کو رویا کریں (تاکہ ہم دن میں آرام سے رہیں)۔ “پھر اپ مدینہ سے باہر شہدا کی قبور پر چلی گئیں اور وہاں اپنے گریہ کو جاری رکھا ۔”
فاطمہ (ع) معصومہ ہیں اور بخوبی جانتی ہیں کہ  دوسروں کو اذیت پہونچانا شرعاً ممنوع ہے تو پھر اتنا کیوں روئیں کہ مدینہ کے لوگوں کو شکایت کرنی پڑی ؟ آخر وہ سبب کیا تھا کہ دختر رسول اتنا رونے پر مجبور ہوئیں ؟ گریہ زہرا کے اسباب آئیے خود زہرا سے پوچھیں جو کئی نکات پر مشتمل ہیں’ 
1:  باپ کی جدائی 
نبی اکرم کی جاں کنی کے وقت جب آپ بہت روئیں تو آپ نے فرمایا بیٹی اتنا مت رونا ابھی میں زندہ ہوں تو فاطمہ نے کہا : 
     «لَستُ أبکِی ممَّا یصنَع بی مِن بَعدِک وَ لکِنِّی أَبکِی لِفِرِاقِکَ یَا رَسُولَ الله؛
بابا آپ کے بعد جو ہم پر گذرے گی میں اس پر نہیں رو رہی ہوں بلکہ آپ کی جدائی پر گریہ کناں ہوں –
جی ہاں آپ جانتی تھیں کہ یہ سانحہ اہل زمین کے لئے کتنا المناک ہوگا کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا اور امت خدا کے رسول کو کھو بیٹھے گی تو آپ کا گریہ وحی کے انقطاع پر تھا اور رسول کی بیٹی سے زیادہ وحی کی عظمت کو کون جانتا ہے –
2: اسلام کی غربت 
آپ کے گریہ کا ایک سبب اسلام کی غربت اور اسکی مظلومیت ہے آپ اکثر اوقات کسی گوشہ میں بیٹھ جاتی تھیں اور رو رو کر یہ مرثیہ پڑھتی تھیں – 
بابا آپ کے بعد میری قوت برداشت کم ہوگئی ہے میرا پیمانہ غم چھلک گیا ہے میرا سوگ آشکار ہوگیا ہے – اے دیدہ چشم ! آنسو بہا اور اگر تونے سیل اشک جاری نہ کیا تو تجھ پر افسوس ہے اے اللہ کے رسول اے رب حق کے برگزیدہ اے یتیموں کی پناہگاہ ! پہاڑ ‘جانور اور پرندے آپ پر گریہ کناں ہیں آسمان کے بعد زمین بھی رو پڑی ہے اے میرے بابا شہر مکہ ‘ مشعر و مقام اور سرزمین بطحا آنسوؤں سے ڈھکی ہوئی ہے محراب اور وہ جگہ جہاں آپ بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے اور سب سے زیادہ وہ اسلام جو آپ کی امت کے درمیان غریب ‘ اجنبی ‘ ناشناختہ اور یکہ و تنہا ہوکے رہ گیا ہے وہ رورہا ہے – 
غرض رسول کی رحلت کے بعد حبس اور گھٹن کے اس دور میں جب حق کو بھلادیا گیا تھا اور غاصبوں نے رسول کی مسند پر قبضہ کرلیا تھا فاطمہ کا گریہ غافل امت کو بیدار کرنے کا ایک ذریعہ تھا –
” ایک انسو ” اور ” ایک چادر “
 بی بی کے یہ دو ہتھیار تھے جن سے بی بی ولایت کا دفاع کررہی تھیں اپوزیشن اور غاصبوں سے لڑ رہی تھیں- 
” گریہ ” سننے والوں کے جذبات کو ابھارتا ہے 
” حجاب ” دیکھنے والوں کو سخت متاثر کرتا ہے آنسووں کی دھار اور حیا کی تلوار دونوں ضرب المثل بن گئے –
فاطمہ چاہتیں تو اپنے ہی گھر کے کسی گوشہ میں چپکے سے رو سکتی تھیں اور ایسا رونا خود ان کی نگاہ میں مستحسن تھا کیونکہ فاطمہ وہی ہے جس نے رسول کے پوچھنے پر کہا تھا کہ
” عورت کا بہترین زیور یہ ہے نہ کوئی مرد اسے دیکھے اور نہ ہی وہ کسی مرد کو دیکھے “-  
آج ایسا کیا ہوگیا کہ اسکے گریہ کی آواز لوگ سن رہے ہیں اور فقط گریہ نہیں بلکہ و ہ جگہیں بھی بہت اہم ہیں جنہیں زہرا نے رونے کے لئے چنا تھا خواہ وہ قبر رسول کا کنارہ ہو یا شہدائے احد کا قبرستان ‘علی کا گھر ہو یا  “بیت الاحزان  ” 
مرثیہ کے اشعار اور گریہ کی تکرار مردہ اور بے حس ضمیروں کو جگانے کی کوشش کررہی تھی –

مزید  ایک سماج کیسے طاقتور بنتا ہے

فَاِذَ بَکَتْ قُمْرِ یَةً فِی لَیْلِهَا
شَجْنا عَلَی غُصْنٍ بَکَیْتُ صَبَاحِیَا

صبت علی مصائب لو آنھا
صبت علی الایام صرن لیالیا 

اگر”  قمری ” رات کے پچھلے پہر درخت کی شاخ پر روتی ہے تو میں سحر کے ہنگام شبنم کی طرح آنسو بہاتی ہوں –

بابا ! مجھ پر وہ مصیبتیں پڑیں کہ اگر روشن دنوں پر پڑتیں تو وہ تاریک راتوں میں بدل جاتے –

جن مردہ اور بے حس ضمیروں کو گریہ زہرا نے کل بیدار نہیں کیا انہیں آج فلسطین اور یمن کی بیوہ عورتوں کی سسکیاں اور یتیم و بے سہارا بچوں کی نحیف اواز کیا بیدار کرے گی –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.