تاریخ بلتستان کی ایک ناقابل فراموش شخصیت؛علامہ شیخ غلام محمد غروی اعلی اللہ مقامہ

تحریر : حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا محمد حسین حیدری

–। پیغمبرگرامی اسلامﷺ کا فرمان ہے : میرے امت کا بہترین فرد وہ ہے جولوگوں کو خدا کی طرف بلائے اور بندگان خدا کو اپنا دوست بنائے انبیاء اور اولیای الہیٰ کے بعد علمائے با عمل بہترین افراد امت کے زمرے میں گنے جاسکتے ہیں اور بلاشبہ فرمان ، رسول اکرمﷺ کے مطابق بہترین امت میں شامل ہیں۔ انہیں علماء با عمل میں سے ایک فرد علامہ شیخ غلام محمد غروی کی ذات ہے۔ علامہ کی مقام شخصیت کو اجاگرکرنے کے لئے سب سے پہلے ان کے خاندانی پس منظر پر مختصر نظر ڈالنی ہوگی ۔
آپ کے دادا کانام غلام محمد ہے اور والد بزرگوار کا نام حاجی ہاشم ہے آپ کے والد مرحوم اپنے وقت کے جیّد علماء میں سے تھے آپ کا پورا نام علامہ شیخ غلام محمد غروی ہے اپنے داداکے انتقال کےبعد پیدا ہوئے لہذا آپ کے والد بزرگوار نے آپ کا نام اپنے دادا کے نام سے منسوب کرتے ہوئے غلام محمد رکھا، آپ کا تعلق ارض بلتستان کے ایک مشہور اور علماء دوست علاقہ ضلع کھرمنگ سے ہے۔ آپ 1362ہجری میں ضلع کھرمنگ کے سب سے بڑے گاؤں پاری کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول کرگل سے شروع کیا ۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے دینی تعلیم کا بھی ابتداء کیا اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن مجید ختم کیا ۔
گیارہ سال کی عمر میں آپ کے والد محترم مرحوم نے دینی تعلیم حاصل کرانے کی غرض سے کرگل کی جائیداد فروخت کرکے عراق لے گئے۔ پانچ سال تک آپ نے حوزہ علمیہ کربلائے معلی میں تعلیم حاصل کی ، اور چھ سال نجف اشرف میں، گیارہ سال کی اس کم مدّت میں حوزه علمیہ عراق سے فارغ التحصیل ہو کر آپ 22 سال کی کم عمر میں واپس بلتستان آئے ، علامہ مرحوم اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ارض بلتستان پہنچنے کے بعد اپنے آبائی گاؤں پاری میں ایک سال تک تشریف فرما رہے ، ایک سال تک اپنے آبائی گاؤں پاری میں رہنے کے بعد آپ گول تشریف لائے اور وہیں سے آپ نے پہلی بار درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا مختصر عرصہ گول میں قیام کرنے کے بعد آپ ارض بلتستان کے مرکزی شہر سکردو تشریف لائے ، مختصر سے عرصہ میں آپ کی خداداد صلاحیتوں ، علم ،حلم ،بردباری، اور تقویٰ سے پورے بلتستان میں آپ کی شہرت ہوگئی۔
آپ کے دانشمندانہ فیصلے تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں خواہ  وہ فیصلے شرعی یوں یا سیاسی ، آپ ہر فیصلے میں قرآن و سنت اور علماء کی رائے کو فوقیت دیا کرتے تھے ، ہمیشہ علاقے کا مفاد آپ کے فیصلوں کا محور ہوتا تھا ، کوئی بھی فیصلے آپ نے اپنے طور پر نہیں کیا بسا اوقات علماء کے علاوہ معززین اور دانشور حضرات کو بھی رائے میں شامل کیا کرتے تھے، آزادی بلتستان سے لیکر ان کے آخری ایاّم تک جتنے سیاسی اقدامات انہوں نے اٹھائے قومی مفاد میں رہے ، جہان تک شرعی فیصلوں کا تعلق ہے ، انہوں نے بلتستان میں محکمہ شرعیہ قائم کرکے شرعی عدالت قائم کی جس میں بلتستان کے غیور عوام کو بغیر کسی فیس کے قرآن و سنت کے مطابق انصاف فراہم ہوتا تھا ، آپ ہر فیصلے کو کمال تدبر ، فہم ، عقل اور دور اندیشی سے کام لیکر کیا ، اور کسی کا حق ضائع نہ ہونے دیا ، یہی وجه ہے کہ آج تک ان کا کوئی شرعی فیصلہ کسی قانونی عدالت توڑ نہ سکا اور نہ کوئی تبدیلی آج تک ہوئی۔ آپ کے پوری حیات میں ارض بلتستان کے عوام شریعت کے پابند تھے ، محکمہ شرعیہ کے علاوہ گاؤں اور محلوّں کے سطح پر پورے بلتستان کے علاقوں میں لوگوں کی تنازعات کو حل کرتے تھے یہ سلسلپ آج بھی جاری ہے اور جو تنازعات ان ذمہ دار افراد سے حل نہ ہوتا تھا وہ محکمه شرعیہ بلاکر خود فیصل سنایا جاتا گویا ان کے ہر قسم کے فیصلوں میں فہم و فراست ، عدل و انصاف ، قوی مفاد ، دینی مفاد اور تدبر کا بڑا عمل دخل ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ ان کے ہر فیصلے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نادر اور قیمتی بنتے گئے اور ہر لحاظ سے قومی مفاد اور ہر زاویے سےسود مند ثابت ہوئے ۔
علامہ کی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ عرفان کی ان بلندیوں پر فائز تھے جن تک رسائی کی ہر شخص تمنا کرتاہے ، ان کی پوری زندگی درد والم ، شعور و آگاہی سے بھرپور نظر آتی ہے ، ذات خدا کے ساتھ آشنائی کے درد کے حوالے سے ان کے قریبی ساتھی بخوبی جانتے ہیں ، کہ وہ کتنے عبادت گزار تھے ، انہوں نے مشکل ترین وقت میں بھی نماز تہجد ترک نہیں کی ، اسکے ساتھ ساتھ ان کی پوری زندگی ذکر حقیقی کی ترجمان نظر آتی ہے ان کے بارے میں ارض بلتستان کے یر فرد جانتے ہیں کہ ہر معاملہ میں چاہے وہ ذاتی ہو ، یا گروہی عقلائی ہو یا مملکتی سیاسی ہو یا مذہبی صرف اور صرف رضائے الہیٰ کو مدّ نظر رکھا کرتے تھے۔ خدا پر ان کے توکل کا یہ عالم تھا کہ آپ انتہائی بے سر و سامانی کے عالم میں بھی کسی سے نہیں دبتے تھے ، نہ کسی قسم کی لالچ میں آتے تھے اور وہ خدا کے علاوہ کسی بھی دیگر طاقت سے خائف نہ ہوتے تھے ، وه خدا کے صفت ( غنی ) سے اس حدتک متصف تھےکہ آپنے لئے کسی چیزکی تمنا نہ کی تو یہ سب ان کی شخصیت کے عرفانی پہلو کے مظایر ہیں۔
جرائت و بہادری کے حوالے سے علامہ مرحوم میں باطل قوتوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود تھی ، آپ نے کبھی بھی کسی ظالم و جابر حکمران کے سامنے سر نہیں جکایا مظلوم کی حمایت اور ظالم و جابر کا مقالہ آپ کے سرشت میں شامل تھا کبھی بھی بیروکریسی کے سامنے دب کر بات نہیں کی باطل حکمرانوں سے مقابے کا انداز بڑا عجیب تھا جب مقابلے میں آتے تو مخالف کو شکست کا سامنا کرنا ہوتا تھا ، FCR کے زمانے میں پولٹیکل ایجنٹ بہرام گل خان سے مقابلے اور مراشل لا  درو میں ڈپٹی مارشل لاء ایڑ منسٹریٹر سے مقابلہ ان کی جرائت مندی و بہادری کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ کالے قانون FCR کے دور میں ظالم و جابر پولیٹکل ایجنٹوں نے ارض بلتستان کے علاقوں میں فرقہ واریت کی بنیاد ڈالنے کی مذموم کو ششیں شروع کئے جسمیں بہرام خان اور جبیب الرحمن جسیے کا نام آتے ہیں اپنی تمام تر توانائی اور اختیارات کے باوجود علامہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور حسرت دل میں لیکر گئے کہ کاش ہم تمام تر اختیارات کے باوجود علامہ مرحوم کو جھکا نہیں سکے ، خداوند عالم نے علامہ مرحوم کو وہ صلاحیت عطا کی تھی که خدا کے علاوہ کسی سے ڈرتے نہیں تھے ضیاالحق جسیے جابر حکمران سے ملنے کیلئے علامہ کی قیادت میں جب علماء کا وفد گئے تو علامہ کو دیکھ کر جب ضیاءالحق کی آنکھیں خون آلودہ ہوگئے تو اس سے زیادہ علامہ کی آنکھیں خود بخود سرخ ہونے لگے فرق اتنا تھا کہ وہ سرخی باطل کی تھی یہ سرخی حق کی تھی ، آپ اس سے اندازہ کرسکتے ہے جب علامہ مرحوم نے ضیاء الحق سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ ہم تم سے کچھ مطالبہ کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ صرف ایک بات پوچھنے آئے ہیں کہ ایک ہی کمشنری کے اندر ایک علاقہ اسلحہ سے لیس ہزاروں ایکڑز جنگلات پر مرضی کا مالک اور اس کے ساتھ ہی دوسرے علاقے میں ہتیار پر پابندی اور جنگلات پر پابندی یہ عوام کا سورں ہے تم ہمیں جوار دین ، ضیاء الحق نے گھٹنے دباتے ہوئے کہا که آپ اپنے علاقہ میں چار شعیوں اور چار سنیوں کو دیکھ کر بقول اس کے آپ کے آنکھیں کیوں سرخ ہونے لگے تو علامہ مرحوم نے فرمایا: تم پاکستان میں جہاں کہیں بھی چار شیعہ دیکھتے ہے تو آنکھیں خون آلودہ کیوں ہوجاتی ہے ، یہ انکی جرائت مندی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔
علامه کی شخصیت کو نکھارنے والا ایک اہم پہلو ان کا جذبہ اتحادبین المسلمین ہے جس کی وجہ سے ارضی بلتستان کے غیور عوام امن و سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں علامہ نے اپنی پوری زندگی میں اتحاد بین المسلمین کو اپنا شعار بنایا، اور ایک لمحے کیلے بھی اس پر عمل سے غافل نہ رہے یہی وجہ ہے کہ آپ ہر مسلک ہر فرقے اور ہر طبقہ زندگی میں ہر دلعزیز تھے آپ نے ہر طرح سے ارض بلتستان کے ہر جگہ امن و سکون کو بحال رکھنے کی کوشش کی ، جس کی مثال ہم ضیاء الحق کے دور کا وه  واقعہ لے سکتے ہیں جب چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر ضیاء الحق نے قومی کاموں کی انجام دہی کیلے آپ سے کچھ ڈیمانڈ دینے کو کہا تو آپ نے حکومت کا سیمنا گھر کو صفحہ ہستی سے مٹاکر اہلسنت والجماعت کو دینے اور باره لاکھ روپیئے کا مطالبہ کیا تو اہلسنت اس سیمناگھر کے جگے پر دکانیں بنائیں اور مسجد کے لئے آمدن ہو ،  اہلسنت، اہل حدیث اور اہل نوربخشی غرض جوبھی طبقہ فکر ہو آپ کے گردیده تھے اور آپ کے ہر حکم پر بلاچون و چرا تسلیم خم ہوتے تھے آپ کے نظر میں بھی ان کو بڑی عزت تھا ، 1988 کا ہنگامہ خیز واقعہ جو کہ پورے گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاه ترین واقعہ تھا اس ہنگامہ خیز واقعہ میں بھی آپ نے اتحاد بین المسلمین کے جذبه کو ہاتھ سے جانے نہ دیا نواجوانوں کو اتحاد کی تلقین کی اور خود آپ کی زات ان کی نگرانی فرماتے رہے آپ نے اپنی پوری زندگی میں ہر موڑ پر نوجوان کو اتحاد اور شراکت عمل کی تلقین کرتے رہے جس کی بدولت آج ارض بلتستان امن کا گہوارہ نظرآتاہے اور انشااللہ امن کا گہوراہ رہے گا۔
علامہ مرحوم نے کھبی سیاست کرنے اعلان نہیں کیا لیکں اس کے باوجود شمالی علاقہ جات کا ہر سیاسی شعور رکھنے والا اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ان کے بغیر طے ہی نہیں پاسکتا تھا ، علامہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی میں کھبی بھی اپنے آپ کو سیاست دان نہیں کہا لیکن علاقے کے سیاست کے بارے میں علاقے کی سیاست دان اس وقت تک کوئی بھی سیاسی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا تھا جب تک علامہ کی رائی معلوم نہیں کرلیتا ، ایوب خان کی حکومت کا جب خاتمہ ہوا تو قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی جمہوریت میں بر سراقتدار آیا تو انہوں نے اپنے سیاسی بصیرت کی بنیاد پر پیبلز پارتی ppp بنائی جب عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں کا میاب ہوگئی اور پورے پاکستان میں اس پارتی کو مقبولیت حاصل ہوگئی تو ذوالفقار علی بھٹومرحوم نے گلگت بلتستان میں بھی پارٹی کی قیام پر توجہ دی تو شمالی علاقہ جات کے مذہبی اور سیاسی اہمیت کے حامل شخصیت علامہ شیخ غلام محمد غروی مرحوم سے رابطہ کیلے اپنے دو معتمد ترین وزراء کو علامہ کے پاس بھیج کر پیپلز پارٹی شمالی علاقہ جات کی صدرات کی پیشکش کی مگر علامہ مرحوم نے یہ کہکر صدارتی پیشکش کو ٹھکرادیا کہ آپ کی پارٹی کمیونیزم کا پرچار کرتی ہے جو اسلامی نظام شریعت سے متصادم ہے ، جب بھٹو مرحوم کو یہ پیغام ملا تو انہوں خورشید حسن میر کو دبارہ علامہ مرحوم کے پاس بھیجا اور پیشکش کی که آپ صرف پارتی کی صدارت قبول کریں یہ مارے لئے اعزاز کی بات ہوگی نظام آپ اپنا شرعی چلائیں اس میں پارٹی کی مداخلت نہیں ہوگی ، علامہ مرحوم نے نظام شریعت میں پارٹی کی مداخلت  نه کرنے شرط پر پیپلز پارٹی ppp شمالی علاقہ جات کی صدارت کو قبول کیا ، اور شمالی علاقہ جات کی سیاست میں پہلا سیاسی صدر ہونے کابھی اعزاز حاصل کیا ، جو کہ علامہ کا ایک حقیقی اور سچے سیاستمدار ہونے کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ چند سال صدارت پر فائز رہنے کے بعد علامہ نے اپنی شرعی ذمہ داریوں کی بنیاد پر پیپلز پارٹی شمال علاقہ جات کے صدارتی عہدے سے استعفیٰ دیا ، اور اپنے شرعی اور دینی معاملات میں مشغول ہوگئے اسکے بعد قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ شریف نے بلتستان کا پہلا دورہ کیا تو علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم نے علامہ شیخ غلام محمد غروی پر اپنی سابقہ ذمہ داریوں کے علاوہ تحریک جعفریہ کی صدار ت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی اس اہم ذمہ داری کو علامہ مرحوم نے اپنی آخری حیات تک نھباتے رہے جب مسلم لیگ (ن ) کی ملک میں حکومت قائم ہوئی تو مسلم لیگ (ن) کے وزیر امور کشمیر نے ایک مرتبه پھر گلگت بلتستان میں مذہبی منافرت پہلانے کی مذموم کوشش کی اور اپنے منصب و اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد ایک حلقہ کو فرقہ واریت کی بنیاد پر تبدیل کیا جس کے نتیجے میں قائد شمال علاقہ جات علامہ شیخ غلام محمد غروی نے پورے شمالی علاقہ جات میں الیکشن سے بائیکاٹ کا ا علان کیا اور پورے گلگت بلتستان میں اسی فیصد (80) لوگوں نے الیگشن سے بائیکاٹ کرتے ہوئے قائد محبوب کے فرمان پر لبیک کہا ، شمالی علاقه جات کے یونین کونسل سے لیکر ناردرن ایریاز کونسل تک کل 600 سیٹوں میں سے 400 سیٹوں پر مکمل بائیکاٹ ہوا انتظامیہ پوری طاقت استعمال کی گئی لیکن اس کے باوجود اتنی نشتوں کا بالکل خالی ره جانا علامه کی سیاسی قوت ، اور بصیرت کا واضح ثبوت هے ، مگر علامہ کو ذہنی تکلیف دینے کے لیئے وقت کے جابر حکومت کل چند کارندوں ، مہتاب عباسی اور وزیر امور کشمیر نے کچھ بے ضمیروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دیکر الیکشن کو درست قرار دینے کی نا پاک کوشش کی گئی ، مگر ان کے بلا مقابلہ منتخب کرائے ہوئے لوگوں کو عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا اور مہتاب عباسی کو بھی رسوای نصیب ہوئی جلد ہی غبن کے الزام میں جیل جانا پڑا   اور کڑوروں روپیئے حکومت ادا کرنا پڑ ا، ادھر علامہ کے بائیکاٹ کے فیصلے کو عوامی مقبولیت حاصل هوئی جس کے نتیجے میں ناردرن ایریاز کونسل کے ایلکشن میں تحریک جعفر یہ کے امیدواروں کو  واضح اکثریت سے کامبیابی حاصل کی، جو آج تک ایک بڑ ی مذہبی تحریک کی حیثیت سے مذہب حقہ کی نشر و اشاعت کررہے ہیں۔
وفات
جمعہ 26 جون 1992 مطابق 24 ذی الحجہ 1410 ہجری کو 78 سال کی عمر میں علامہ مرحوم اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملے۔ خدا وند عالم سے ہماری دعا ہے مرحوم کو جوار ائمہ علیہم السلام جگہ عطافرما ( آمین ثم آمین)

نوٹ: — پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں — اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More