بہشت سے بہشت تک 

تحریر: مولانا سید علی امیر رضوی

حوزہ نیوز ایجنسی | یہ بات رسول خدا ؐ پر پہلی وحی نازل ہونے کے پانچ سال بعد کی ہے۔ گلشن رسالت میں ایک ایسا پھول کھلا جس کی خوشبو سے آج تک کائنات معطر ہے۔ جس کے وجود کی برکتوں سے یہ دنیا باقی ہے۔ہوائیں چل رہی ہے، آفتاب  ومہتاب روشن ہیں، ستاروں میں چمک ہے، دریا میں روانی باقی ہے، سانسوں کی آمد و رفت قائم ہے، گردش لیل ونہارجاری ہے المختصر یہ کہ کائنات کی بقا اسی گل رسالت کی ایک  پنکھڑی کے وجود سے ہے جو نظروں سے غائب ہے۔

جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں بضعۃ الرسولؐ، عذرا و بتول، زہرا ء مرضیہ،حوراء انسیہ حضرت فاطمہ (س)کی۔ 

آئیے!عالمین کی عورتوں کی سردار بی بی زہرا(س) کی کتاب زندگی کے کچھ ورق پلٹ کر دیکھیں اور اس عظیم شخصیت کی زندگی سے کچھ درس حاصل کریں۔

یہ وہ ایام ہیں جب بی بی بسترشہادت پر ہیں، دُردانہئ رسالت، دنیا سے اپنا رخت سفر باندھ رہی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ایسے وقت میں وہ اپنے جو دنیا سے گزر گئے ہوں، ان کی یاد بہت آتی ہے اور پھر بی بی تو ابھی اپنے بابا کو ایک لمحے کے لئے بھی نہیں بھولی ہیں، جن کی وفات کو ابھی کچھ ہی دن تو گزرے ہیں اور رسول خداؐ کا کفن بھی ابھی میلا نہیں ہونے پایا ہے کہ امت نے آپ ؐکی لخت جگر سے نہ صرف رخ پھیر لیا ہے بلکہ اس پر مصیبتوں کے وہ پہاڑ توڑے ہیں کہ اس کا پہلو شکستہ ہو چکا ہے، اس کا رخسار نیلا پڑ گیا ہے، اس کے بال سفید ہو گئے ہیں، اس کی کمر خمیدہ ہو گئی ہے۔ اٹھارہ سال کی جوان خاتون پر پیری کے آثار طاری ہو گئے ہیں اور وہ مرثیہ پڑھتی ہے کہ بابا! آپ کے جانے کے بعد مجھ پر مصیبتوں کے وہ پہاڑ ڈھائے گئے ہیں کہ اگر وہ روشن دنوں پر گرتے تو تاریک راتوں میں بدل جاتے۔

یہ بی بی کامرثیہ نہیں ہے بلکہ امت مصطفی  ؐ کے درمیان بعض افراد کے سیاہ کارناموں کا  ایک مکمل باب ہے۔

یہاں سے ہم آپ کو تصورات کی دنیا میں لے چلتے ہیں۔ آپ کچھ دیر کے لئے تصور کیجئے کہ ان سخت حالات میں گویا رسول خداؐ اپنی بیٹی کو تسلی دے کر لینے آئے ہوں اور یہ ارشاد فرما رہے ہوں: آؤ!اے سیدہ یہ دنیا تمہاری قدر نہیں کر سکتی۔ آؤ!اے میری پارہئ جگر، تم جہاں سے آئی تھیں وہیں لوٹ چلو۔ تم کو تو میں نے اپنے آخری وقت میں یہی خوشخبری ہی سنائی تھی کہ میرے اہلبیت ؑ میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملاقات کروگی اور تم یہ سن کر خوش بھی ہوئی تھیں۔اے میری بیٹی!اب وہ وقت قریب آ گیا ہے۔

 پیاری بیٹی!یہ دن غربت کے دن ہیں اور دنیا تمہاری جگہ نہیں ہے۔ ویسے بھی دنیا کبھی تمہاری جگہ تھی بھی نہیں۔تم تو جنت سے آئی تھیں آؤ،وہیں واپس چلتے ہیں۔

لیکن تمہیں یاد دلاتا ہوں وہ دن کہ جب میں اپنے معبود ے ساتھ خلوت اختیارکئے ہوئے تھا کہ جبرئیل، عاشق و معشوق کے بیچ کا قاصد، عابد و معبود کے درمیان کا رابط، وہ پاک فرشتہ، وہ میرے اور خدا کے ما بین ردّ و بدل ہونے والے پیغامات اور رازوں کا امین، پیغام لے کر آیا تھا کہ تمہارے معبود نے تمہیں چالیس دن کے لئے طلب کیا ہے۔۔۔چالیس دن کی ایک مسلسل خلوت کا تم سے تقاضا کیا ہے۔

اور میں جو کہ اللہ کے پیغامات پر اپنی جان تک دینے کے لئے تیار رہتا تھا، اور میری آتشِ شوق اس معبود سے ملاقات کے لئے ہمیشہ شعلہ ور رہتی تھی۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ وہ خدا اپنی تمام عظمتوں کے ساتھ جیسے میرا ہو گیا ہو۔

ہاں بیٹی!خدا وجبرئیل اور تمہارے شوہر کے علاوہ کون جانتا تھا کہ غار حرا کیا ہے؟ کسے اندازہ تھا کہ خدا کے ساتھ خلوت کا مزہ کیا ہے؟!

 لیکن ہاں!اِس دنیا میں کوئی ایسا تھا جسے میں بہت چاہتا تھا، اللہ بھی اسے ہمیشہ دوست رکھے۔ آمین! میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا نازک دل ٹوٹے۔

وہی جو بے کسی کے عالم میں میری پناہ بنی، میری تنگدستی کے وقت میری مددگار بنی اور دشمنوں کی تکذیب کے وقت جس نے میری تصدیق کی۔۔۔ہاں!وہ تمہاری ماں خدیجہ تھیں۔خدا بھی انہیں پریشان نہیں دیکھنا چاہتا تھا،اس لئے پیغام بھیجا تھا کہ چالیس دن فراق کی اطلاع خدیجہ کو دے دو۔

میں نے اپنے وفادار صحابی عمار یاسر کو بھیج کر انہیں پیغام دیا تھا کہ اے خدیجہ!تم سے میری دوری کا سبب کچھ اور نہیں ہے، خدا بھی تمہیں چاہتا ہے اور میں بھی، خدا تو تمہیں اتنا دوست رکھتا ہے کہ بار بار وہ تمہارے ذریعہ اپنے فرشتوں پر فخر کرتا ہے۔ 

خدا سے میرا چالیس دن کا دیدار اور اس مدت میں تم سے دوری، اسی کا حکم ہے۔ ان چالیس دنوں میں صبر کرنا، پر سکون رہنا اور دیکھو کسی کے لئے دروازہ نہ کھولنا۔ میں چالیس روز تک اسی بی بی کے ہاتھوں کے بنے کھانے سے افطار کروں گا،جس نے میری پرورش کی ہے یعنی فاطمہ بنت اسد۔ یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور پھر سے تمہارا دیدار میسر آئے۔

جب میرا پیغام تمہاری ماں کے پاس پہنچا تھا تو ان کی آنکھوں میں آنسوؤں نے حلقہ کر لیا تھا اور وہ حلقہ آنکھوں کے دروازہ پر آکر ٹھہر گیا تھا، یہاں تک کہ چالیس دن گزرنے کے بعد شام کو میں نے وہ حلقہ ہٹایا تھا جس وقت خدیجہ کی دلنشیں آواز پشت در سے آئی تھی: میرے دروازہ پر کون دستک دے رہا ہے کہ فی الحال محمدؐکے علاوہ کسی کو اِس در پر دستک دینے کی اِجازت نہیں ہے؟ اورمیں نے اس کے جواب میں کہا تھا: میں ہی ہوں محمدؐ۔

 دروازہ کھلا اور اے فاطمہ(س)! اس دن تمہاری ماں چالیس روز کے فراق کے بعد میرے دیدار سے ایسا خوش ہوئی تھیں کہ ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ستاروں کی مانند چمک رہے تھے۔

اس دن میرا افطار جنت سے آیا تھا۔ غروب کے وقت جبرئیل، اللہ کا وہ پیارا فرشتہ، ہاتھ میں ایک طبق لئے آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا۔ میرے رب کا سلام مجھے پہنچانے کے بعد پیغام دیا تھا کہ آج کا افطار تمہارے محبوب نے تمہارے لئے جنت سے ہدیہ کے طور پر بھیجا ہے۔

جبرئیل کے پیچھے پیچھے میکائیل اور اسرافیل بھی آئے تھے۔ جبرئیل جنت سے جو ظرف لائے تھے اس کے ذریعہ میرے ہاتھوں پر پانی ڈال رہے تھے اور میکائیل میرے ہاتھ ُدھلا رہے تھے اور اسرافیل جنت سے لائی ہوئی ایک تولیہ کے ذریعہ میرے ہاتھ خشک کر رہے تھے۔

میری بیٹی!تمہارا بابا تم پر قربان!تمہاری ولادت کے سارے مقدمات جنت سے فراہم کئے گئے تھے۔

یہ بھی تمہیں بتاتا چلوں کہ تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگی اور بہشت کا دروازہ بہشتیوں کے لئے تمہارے ہاتھوں ہی کھلے گا۔

یہ اس وقت نہیں بتا رہا ہوں جبکہ تم اِس بے وفا دنیا سے سامان سفر باندھ رہی ہو، اپنی کنیز اسماء کو آواز دے کر کہہ رہی ہو کہ آؤ موت کا بستر میرے لئے بچھا دو۔ وضو ئے شہادت کر رہی ہو، یہ باتیں میں نے ہمیشہ کہی ہیں، ہر جگہ بتائی ہیں کہ میں فاطمہ (س)کے وجود سے جنت کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔ 

ایک بار میری ایک زوجہ نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ اِس قدر فاطمہ (س)کے جسم کو کیوں سونگھتے رہتے ہیں، اتنا کیوں بوسہ دیتے رہتے ہیں؟ ہر بار فاطمہ سے ملنے کے بعد آپ کے اندر ایک نئی جان کیوں آ جاتی ہے؟

میں نے جواب میں کہا تھا: خاموش!فاطمہ (س)میری جنت ہے، فاطمہ (س)میرا کوثر ہے، میں فاطمہ (س)کے وجود سے جنت کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔ فاطمہ (س)خود بہشت ہے۔ فاطمہ (س)جنت کا پروانہ ہے۔ میری رضا فاطمہ (س)کے راضی ہونے میں ہے۔ خدا کی رضا فاطمہ (س)کی رضا میں ہے۔ فاطمہ (س)کا غضب ہی خدا کی جہنم ہے اور اس کی رضا ہی خدا کی جنت ہے۔ میری بیٹی!میں تمہیں اِس لئے نہیں چاہتا ہوں کہ تم میری بیٹی ہو بلکہ اِس لئے تم سے اتنی محبت کرتا ہوں کیونکہ تم عالمین کی عورتوں کی سردار ہو۔ خدا نے تمہیں ایسا بنایا ہے اور خدا تم سے اتنی محبت کرتا ہے۔

یہ باتیں میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں اور کون سی بات ہے جو میں نے اپنی پوری زندگی میں اپنی طرف سے کہی ہو؟!

 جب میں معراج پر گیا تھا تو دیکھا کہ جنت کے دروازہ پر بیحد خوبصورت تحریر میں لکھا ہوا تھا: خدائے یگانہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، علی ؑخدا کے معشوق ہیں، فاطمہ (س)، حسن ؑاور حسین ؑخدا کے منتخب ہیں اور ان لوگوں پر خدا کی لعنت ہو جو اللہ کی ان محبوب ہستیوں سے کینہ اور بغض رکھیں۔

میری بیٹی!یہ اس وقت نہیں کہہ رہا ہوں کہ جب تم غسل شہادت انجام دے رہی ہو۔یاد ہے تمہیں وہ دن کہ جب میں ایک خیمہ میں بیٹھا ہوا تھا، تم اور تمہارے شوہر اور میرے دونوں نور چشم حسن ؑاور حسین ؑبھی بیٹھے ہوئے تھے اور میں نے کئی بار اعلان کیا تھا کہ اے مسلمانوں جان لو!جو بھی ان کے ساتھ یعنی تمہارے ساتھ-صلح و سلامتی رکھے اس کے ساتھ میری صلح و سلامتی ہے اور جو ان کے ساتھ جنگ کرے اس نے میرے ساتھ جنگ کی ہے اور میں بھی اس کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہوں، میں اسے دوست رکھتا ہوں جو اِن عزیزوں کو دوست رکھے اور ان عزیزوں سے صرف وہی لوگ محبت کرتے ہیں جن کی طینت اور خمیر پاک ہو اور ان سے دشمنی صرف وہی لوگ کرتے ہیں جن کی طینت آلودہ ہو۔ 

میری جا ن فاطمہ!آ ؤکہ میں تمہارے دیدار کے شوق میں بیتاب ہوں، آؤ کہ دنیا تمہاری جگہ نہیں ہے اور بہشت بھی تمہارے بغیر بہشت نہیں ہے۔ 

اچھا ہاں!اسما ء سے کہنا کہ وہ کافور جو جنت سے میرے لئے آیا تھا اور اس کا ایک تہائی حصہ میری وفات کے وقت استعمال ہوا ہے اور ا س کا دو تہائی حصہ تمہارے اور علی ؑکے لئے چھوڑ دیا تھا، اسی سے تمہیں حنوط کرایا جائے۔ میری بیٹی تمہاری ولادت بہشتی ہے تو شہادت بھی بہشتی ہونا چاہئیے۔

سلام ہو تم پر کہ جس روز تم دنیا میں آئیں، سلام ہو تم پر اُن چند دنوں میں کہ جو تم نے اِس دنیا میں گزارے اور سلام ہو تم پر اب جبکہ واپس آرہی ہو اور سلام ہو تم پر کہ جب تمہیں قیامت کے دن آواز دی جائے گی۔ 

جاری۔۔۔

تبصرے
Loading...