بائسویں پارے کا مختصر جائزه

0 3

حوزہ نیوزایجنسیl
ترتیب و تحقیق: سیدلیاقت علی کاظمی الموسوی

بائسویں پارے کا مختصر جائزه

اس پارے کے ضمن میں سورهٔ سبا ،فاطر، یٰسین کا ذکر کیا جائے گا۔

34۔سوره سبا کا مختصر جائزه

سوره سبا قرآن کی 34ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 22ویں پارے میں واقع ہے اس سورت کو اس میں بیان ہونے والی قوم سبا کی داستان کی مناسبت سے اس نام سے موسوم کیا گیا ہے یہ سورت من جملہ ان پانج سورتوں میں سے ایک ہے جو خدا کی حمد سے شروع ہوتی ہے اس سورت میں مختلف موضوعات پر بحث کی گئی ہے جن کو تین کلی عناوین توحید، نبوت اور معاد میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔

اس سورت کی آیت نمبر 22 میں شفاعت اور 28 میں نبوت سے بحث کی گئی ہے جو اس سورت کی مشہور آیات میں شمار ہوتی ہیں پہاڑوں اور پرندوں کا حضرت داؤد کے ساتھ خدا کی تسبیح پڑھنا، حضرت داؤود کا زره‌ بنانا، قوم سبا کے باغات میں سیلاب(سیل عرم) اور جنّات اور ہوا کا حضرت سلیمان کی تابع داری کرنا اس سورت میں بان ہونے والی داستانوں میں سے ہیں

مضامین

اس سورت میں بھی اکثر دوسری مکی سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد توحید، نبوت اور معاد سے بحث کرتے ہوئے ان کے منکرین اور ان کے بارے میں شبہات اور اعتراضات کرنے والوں کی سزا سے متعلق گفتگو کرتے ہیں اس کے بعد ان شبہات کو دور کرنے کیلئے حکمت، موعظہ اور مجادلہ کا راستہ اختیار کرتے ہیں،اس سورت میں سب سے زیادہ معاد پر تاکید ہوتی ہے اسی لئے سورت کی ابتداء اور انتہاء دونوں میں اس مسئلے سے متعلق گفتگو ہوتی ہے، اس سورت میں ان کے علاوہ بعض فرعی موضوعات پر بھی بحث ہوئی ہے جو درج ذیل ہیں۔

خدا کی صفات اور کائنات میں میں خدا کی نشانیاں؛قیامت کے دن مستضعفین اور مستکبرین کا مناظرہ؛حضرت داؤد جیسے گذشتہ انبیاء کے بعض معجزات؛حضرت سلیمان کی داستان کے ضمن میں شاکرین اور کافرین کا انجام؛قوم سبأ کی داستان اور ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کے باغات میں آنے والا سیلاب(سیل عرم) جس نے سب کچھ ان سے چھین لیا؛خدا کے بعض نعمات کا بیان؛غور و فکر، ایمان اور عمل صالح کی دعوت۔

فضیلت اور خواص

سورہ سبا کی فضیلت میں بعض روایات نقل ہوئی ہیں۔ پیغمبر اسلام1فرماتے ہیں۔ “جو شخص سورہ سبا کی تلاوت کرے تو قیامت کے دن کوئی نبی ایسا نہیں ہو گا جو اس کا رفیق اور دوست نہ ہو”[1]۔

‌ امام صادقB فرماتے ہیں۔ جو شخص رات کے وقت سورہ سبأ اور سورہ فاطر جن کا آغاز خدا کی حمد سے ہے، کی تلاوت کرے تو پوری رات وہ خدا کی حفظ و امان میں رہے گا اور اگر دن کو ان سورتوں کی تلاوت کرے تو اس دن اسے کوئی رنج و مصیبت نہیں پہنچے گی اور دنیا اور آخرت کی بھلائی اس قدر اسے نصیب ہو گا جن کے بارے میں اسے نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا اور ان کی کبھی آرزو تک بھی نہ کی ہو گی[2]۔

35۔سوره فاطر کا مختصر جائزه

سوره فاطر یا ملائکہ قرآن پاک کی پینتیسویں35ویں سورت ہے جو قرآن کے 22 ویں پارے میں واقع ہے نیز یہ مَکّی سورتوں میں سے ہے حمد الہی سے شروع ہونے کی وجہ سے اس سورے کو حامدات میں سے قرار دیتے ہیں سوره فاطر میں معاد، قیامت کے حالات، کافروں کی ندامت و پشیمانی بیان ہوئی ہے نیز دنیا کے ظواہری فریب اور انسان کو شیطانی وسوسوں سے ڈراتی ہے اس سورے میں انعام الہی شمار ہوئے، تلاوت قرآن، اقامۂ نماز اور انفاق کو ایک ایسی تجارت کہا گیا ہے جس میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہے۔

اس سورے کی مشہور آیات میں سے پندرھویں ( 15ویں) آیت ہے جس میں خدا کی بے نیازی بیان ہوئی ہے اور لوگوں کو خدا کا نیازمند کہا گیا ہے اٹھارھویں آیت عدل الہی اور قیامت کے روز اس کی شدید پکڑ کی بیان گر ہےاس سورے کی تلاوت کی فضیلت میں رسول اللہ سے روایت مروی ہے۔ جو اس سور کی تلاوت کرے گا قیامت کے روز جنت کے تین دروازے اسے اپنی جانب بلائیں گے وہ جس سے چاہے وارد بہشت ہو جائے۔

مضامین

سوره فاطر ،دنیا کے ظاہری فریب، فتنوں اور شیطانی وسوسوں سے ڈراتی ہے، انسان کو فقیر اور خدا کو بے نیاز کہتی ہے انسان نعمتوں کے ولی کو پہچنوانے اور اس کی شکر گزاری کرنے کی خاطر خدا کی بعض نعمتیں بیان ہوئی ہیں، مثلا بارش کی نعمت، انتخاب زوج کا اختیار اور میٹھے اور کھارے پانی کے ذخیرے کہ جن سے لوگ فائدے حاصل کرتے ہیں۔اس سورے میں معاد اور قیامت کے بعض احوال، کافروں کی پشیمانی اور ندامت، کفار کے دنیا میں واپس لوٹ کر اپنے گذشتہ کے تلافی کرنے کی جانب اشارہ ہوا ہے، اسی طرح اس سوره کی آیات میں مشرکوں، جھوٹے خداؤں اور ان کی ناتوانی کا تذکرہ ہوا ہے تلاوت قرآن، اقامۂ نماز اور ظاہری اور مخفی انفاقِ کو ضرر کے بغیر تجارت کہا گیا ہے۔

مزید  ’وشوو گرو‘ بھارت میں کورونا کا قہر اور قومی سیاست

فضیلت اور خواص

تفسیر مجمع البیان میں پیغمبر1 سے مروی روایت کی بنا پر سورہ فاطر کی تلاوت کرنے والے کو قیامت کے دن بہشت کے تین دروازے اپنی جانب بلائیں گے یہاں تک کہ جس دروازے سے وہ چاہے گا بہشت میں داخل ہو جائے گا[3]۔ تفسیر نورالثقلین میں امام صادقB سے منقول ہے۔ جو کوئی رات کو اس کی تلاوت کرے گا خدا اس کی محافظت کرے گا اور جو کوئی اسے دن کو تلاوت کرے گا اسے کسی قسم کی کوئی ناراحتی نہیں پہنچے گی، اور خدا اسے دنیا و آخرت میں ایسی خیر سے ہمکنار کرے گا کہ اس نے ایسا سوچا بھی نہیں ہو گا اور نہ اس کی آرزو کی ہوگی[4]۔

36۔سوره یس کا مختصر جائزه

سوره یس (جسے یاسین پڑھا جاتا ہے) قرآن مجید کی 36ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 22ویں اور 23ویں پارے میں واقع ہےاور اس کا آغاز حروف مقطعہ «یا اور سین» سے آغاز ہوا ہے اور اسی نام سے مشہور ہوئی ہے اور روایات کے مطابق افضل ترین سورتوں میں شمار ہوتی ہے یہاں تک کہ یہ سورت “قلب القرآن” (قرآن کا دل) کے عنوان سے ملقب ہوئی ہے سوره یس میں اصول دین میں سے توحید، نبوت اور معاد کے بارے میں تذکرہ ہوا ہے اور قیامت میں مردوں کا زندہ ہونا اور بدن کے اجزاء کے کلام کرنے کا بھی تذکرہ ہوا ہے اسی طرح اصحاب قریہ کا اور مؤمن آل یس کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے ۔

مضامین

اس سورت میں اصول دین میں سے توحید، نبوت اور معاد کی طرف اشارہ ہے ابتدائی آیات نبوت اور اس کا فلسفہ اور لوگوں کا پیغمبروں کی دعوت پر عکس العمل کو بیان کیا ہے اس کے بعد توحید کے بارے میں بعض آیات آئی ہیں جن میں اللہ کی وحدانیت کی بعض نشانیاں بیان کی ہیں اس کے بعد معاد اور قیامت میں سزا پانے نیز پرہیزگاروں کو مجرموں سے الگ کرنے کے لیے مردوں کا زندہ ہونے کو بیان کیا ہےاور کہا گیا ہے کہ اس دن انسان کے اعضا اور جوارح بولنے لگیں گےسورت کے آخر میں تینوں اصول کا خلاصہ بیان کیا ہے اور ان پر استدلال کیا ہے۔

فضیلت اور خصوصیات

سورہ یس کی تلاوت کی فضیلت میں پیغمبر اکرم1سے روایت ہوئی ہے کہ جس نے بھی سورہ یس کی تلاوت کی گویا اس نے دس مرتبہ قرآن ختم کیا[5]۔ اگر کسی ایسے مریض پر پڑھے جو مرنے کے قریب ہوچکا ہے تو اس سورت کے ہر حرف کے عوض دس فرشتے اس کے پاس صف میں آئیں گے اور اس کے لیے استغفار کریں گے اور قبض روح کے وقت وہیں پر رہیں گے، تشییع جنازہ اور اس کی نماز میت میں شریک ہونگے اور دفن کے وقت بھی حاضر ہونگے[6]۔ابوبصیر، امام صادقB سے روایت کرتے ہیں کہ جو بھی سونے سے پہلے یا غروب سے پہلے پڑھے تو وہ غروب ہونے تک محفوظ رہے گا اور روزی زیادہ ہوگی، اور جو بھی رات میں سونے سے پہلے تلاوت کرے تو اللہ کے درگاہ سے نکالا ہوا شیطان اور دیگر آفات سے اس کی حفاظت کرے گا[7]۔ جابر جعفی، امام باقرBسے نقل کرتے ہیں کہ جو بھی سورہ یس کو عمر میں ایک بار پڑھے تو اللہ تعالی اس دنیا اور اُس دینا کی مخلوقات نیز جو کچھ آسمانوں پر ہیں ان کے ہر عدد کے مقابلے میں دو ہزار حسنہ اس کے نامہ اعمال میں درج کرے گا۔ اور اسی مقدار میں گناہ بھی معاف کرے گا نیز تنگ دستی، نقصان، قرضہ اور خانہ خرابی سے دوچار نہیں ہوگا، بدبختی اور پاگل پن نہیں دیکھے گا، جذام، وسواس اور دوسری بیماریوں میں مبتلا نہیں ہوگا اور اللہ تعالی اسے موت کی سختی اور مشکلات آسان کرے گا اور اللہ تعالی خود ہی اس کی روح قبض کرے گا۔ اور اس کا شمار ان لوگوں میں سے ہوگا جس کی زندگی کی سہولیات خود اللہ نے اپنے ذمے لیا ہے اور موت کے وقت اس کی خوشحالی کی ضمانت دی ہے اور آخرت میں بھی اس کی خوشحالی کی تضمین کی ہے نیز زمین اور آسمان کے فرشتوں سے کہتا ہے میں اس بندے سے راضی ہوں؛ پس اس کے لیے مغفرت طلب کرو[8]۔

مزید  عبادت بھی ضروری ہے اور سیاست بھی ضروری ہے!

پیغمبر اکرم1سے ایک روایت میں سورہ یس کی خصوصیات کچھ یوں نقل ہوئی ہیں۔ 1۔ اگر کوئی بھوکا ہو تو سیر ہوگا۔ 2۔ پیاسا ہو تو سیراب ہوگا؛3۔ عریان ہو تو لباس ملے گا؛ 4۔ غیر شادی شدہ ہو تو شادی ہوگی؛ 5۔ خوفزدہ ہو تو امن ملے گا؛ 6۔ مریض ہو تو صحت ملے گی؛ 7۔ مسافر ہو تو سفر میں مدد ہوگی؛ 8ـ کسی میت کے پاس پڑھا جائے تو اس پر آسانی ہوگی؛ 9۔ کوئی چیز گم ہوگئی ہو تو وہ ملے گی[9]۔ امام صادقBسے روایت ہے کہ اگر دل اور ذہن کو قوی اور مضبوط کرنا چاہتے ہو تو 9 شعبان کو سورہ یس کو گلاب اور زعفران سے لکھ کر پی لو[10]۔مفاتیح الجنان میں آیا ہے کہ نماز زیارت میں بہتر ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ رحمن اور دوسری رکعت میں سورہ یس پڑھیں[11]۔

بائسویں پارے کےچیدہ نکات

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴿٣٣﴾ سورة الأحزاب

صحیح مسلم ج ۲ ق ۱۱۶۲طبع ۳۴۸ اھ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہے جب رسول اکرمؐ نے زیر کساء علیB اور فاطمہ (س)اور حسنینؑ کو جمع کر لیا تھا یہی بات ترمذی اور مسند احمد میں بھی پائی جاتی ہے بلکہ تفسیر طبری میں تو ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ جناب ام سلمہ نے زبر کساءآنے کی درخواست کی تو رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ تمہارا انجام بخیر ہے لیکن چادر میں تمہاری گنجائش نہیں ہے ۔

اس مقام پر بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب آیت ازواج کے تذکرہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہے تو ان کے خارج کرنے اور دیگر حضرت کے مراد لینے کا جواز کیا ہے؟ لیکن اس کا واضح سا جواب یہ ہے کہ اول تو سیاق آیات سند نہیں ہوا کرتا ہے اس لئے کہ قرآن کوئی تصنیف یا تالیف نہیں ہے کہ اس میں ان باتوں کا لحاظ رکھا جائے ؛ اس میں ایسے بے شمار مقامات ہیں جہاں ایک تذکرہ کے بعد دوسرا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر بات پلٹ کر وہیں پہنچ جاتی ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ آیت تطہیر کا عنوان اہل البیتؑ ہیں جو از واج اور نساء سے مختلف عنوان ہے، اور تیسری بات یہ ہے کہ روایات صریحہ اور صحیحہ کے ہوتے ہوئے سیاق سے استدلال کرناعقل ومنطق کے خلاف ہے ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ  ﴿٥٣﴾ سورة الأحزاب

اصحاب کی عادت تھی کہ پرانے طریقہ کے مطابق گھروں میں گھس جاتے تھے اور انتظار کرتے تھے کہ کھانا پک جائے تو کھائیں اور پھر بیٹھ کر میٹنگ کریں، پروردگار نے منع کر دیا کہ یہ بات خلاف ادب ہے اور اس طرح پیغمبرؐ کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ از راہِ حیا تمہیں نکال بھی نہیں سکتا ہے۔

إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٥٦﴾ سورة الأحزاب

 صلوات خدا کی طرف سے رحمت ملائکہ کی طرف سے تو صیف و تزکیہ اور مؤمنین کی طرف سے دعائے رحمت کے معنی میں ہے،مالک کائنات نے رسول ؐ پر صلوات بھیجنے کا حکم دیا ہے ، اب یہ رسول کی ذمہ داری ہے کہ وہ طریقہ کی تعلیم دیں جیسا کہ صحیح  بخاری میں وارد ہوا ہے کہ آپ نے صلوات کا طریقہ تعلیم دیتے ہوئے آل کو بھی شامل فرمایا ہے اور مفسرین نے بھی اس حدیث کا اقرار کیا ہے، جس کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں صرف صلی اللہ علیہ وسلم کہنا اور آل کو خارج کر دینا ایک بدترین بدعت ہے جس کا ارشاد پیمبرؐ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

مزید  آواز انقلاب  

قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم ۖ بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ ﴿٣٢﴾ سورة سبإ

 یہ ہر دور میں بڑے لوگوں کا طرز عمل رہا ہے کہ پہلے جاہل افراد کو دھوکہ دے کر اپنے ساتھ کر لیتے ہیں اور جب کام بگڑ جاتا ہے تو اپنے کو بالکل بری الذمہ ثابت کر کے الگ ہو جانتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور یہ جاہلوں کی جہالت ہوتی ہے کہ اس کے باوجود ان کے پیچھے لگے رہتے ہیں لیکن یہ سب اس دار دنیا تک ہے، آخرت کا عذاب سامنے آنے کے بعد یہ سارے فلسفے ختم ہو جائیں گے اور کسی کی ہوشیاری یا بیوقوفی کام نہ آئے گی اور عذاب کی شدت دیکھ کر سب ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے اور جاہلوں کا دعوی یہ ہوگا کہ یہ بڑے لوگ نہ ہوتے تو ہم راہ راست پر آ جاتے ہمیں تو ان بڑے لوگوں نے گمراہ کیا ہے، دارِ دنیا میں اس صورت حال کا ایک نقشہ شہادت امام حسین ؑکے بعد دیکھا گیا ہے کہ قتل تک سب عید منا رہے تھے اور قتل کے بعد یزید، ابن زیاد، شمر، سب نے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا اور کوئی اس واقعہ کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہ تھا جب کہ قیامت میں سب کو اس کی سزا برداشت کرنا پڑے گی۔

أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا ۖ فَإِنَّ اللَّـهَ يُضِلُّ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۖ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿٨﴾ سورة فاطر

 شیطان کے گمراہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ برے اعمال کی دعوت نہیں دیتا ہے کہ انسان کسی وقت بھی متوجہ ہو گیا تو اس کے راستے سے برگشتہ ہو جائے گا اور اسے دوبارہ محنت کرنا پڑے گی بلکہ وہ پہلے برے عمل کو کسی نہ کسی شکل میں عمل خیر بنا کر پیش کرتا ہے اس کے بعد انسان کو دعوت عمل دیتا ہے کہ اس طرح انسان کو جس قدر بھی عمل خیر کا شوق ہوگا اسی راستہ پر چلتا رہے گا بلکہ تیز تر چلتا رہے گا اور شیطان کو مزید محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔

اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ عمل سے بڑا ہنر علم ہے اور علم کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں ہے، انسان کسی وقت بھی عمل قبیح کوعمل حسن تصور کر سکتا ہے اور اسی بنا پر اسے اختیار کر سکتا ہے اور اس طرح ساری زندگی گمراہی اور تباہی میں گزر جائے گی اور وہ اپنی دانست میں خوش اور خوشحال ہی رہے گا ۔

سورة يس۔ یہ وہ مبارک سوره ہے جسے روایات میں قلب قرآن سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے تلاوت کرنے والے سے خیر دنیاوآخرت کا وعدہ کیا گیا ہے بشرطیکہ تلاوت صرف برائے تلاوت نہ ہو اور انسان اس کے معنی و مفاہیم پر بھی نظر رکھے بلکہ اس عہد الہی کو بھی یاد رکھے جو اس کی فطرت سے لیا گیا ہے کہ شیطان کی عبادت نہ کرے گا اور رب العالمین کی عبادت سے انحراف نہ کرے گا ۔

وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ ﴿١٢﴾ سورة يس

 روایات میں امام مبین سے مراد ائمہ طاہرینF کی ذوات مقدسہ کو لیا گیا ہے جنہیں پروردگار عالم نے اپنے علوم کا مخزن اور اپنی مشیت کامحل و مرکز قرار دیا ہے۔


[1] طبرسی،‌ مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۲ش، ج ۸، ص۵۸۸۔

[2]  شیخ صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۱۰۔

[3] طبرسی، مجمع البیان، ج۸، ص۶۲۴۔

[4] عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۳۴۵۔

[5] سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۵، ص۲۵۶۔

[6]  طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۹۰ش، ج۸، ص۲۵۴۔

[7] حر عاملی،‌ وسائل‌الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۴، ص۸۸۶۔

[8] حر عاملی،‌ وسائل‌الشیعہ، ۱۴۱۴ق، ج۴، ص۸۸۶۔

[9]  کفعمی، مصباح کفعمی، ۱۴۰۳ق، ص۱۸۲۔

[10]  نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۳۱۳۔

[11]  مفاتیح الجنان، آداب زیارت، ادب ہفدہم، چاپ مشعر، ص۴۴۷۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.