اتحاد امت اور علماء کی ذمہ داری

تحریر: سکندر علی بہشتی 

–। امت اسلامیہ کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضروت ہےوہ’’اتحاد امت‘‘ہے امت اسلامیہ سے مراد،قرآن کو آخری الٰہی کتاب،پیغمبر(ص)کو خاتم الانبیاءاور اسلام کو قیامت تک کے لئے اللہ کا آخری دین ماننے والا گروہ مراد ہے۔جیسا کہ حدیث میں ان چیزوں پر ایمان رکھنے والے کو مسلمان کہا گیا ہے،جو بھی ان اصولوں پر اعتقاد رکھتا ہو وہ امت اسلامیہ میں شامل ہے اور اسی گروہ کو خدا نے ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے:یقیناًتمام مومنین آپس میں بھائی ہیں،لہذا تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو،(الحجرات۔۱۰)
اور ایک جگہ دین اسلام کو حقیقی دین قرار دیتے ہوئے خدا فرماتا ہے:بے شک تمہارا یہ دین’’اسلام‘‘ایک ہی دین ہے اورمیں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کرو۔(انبیاء ۔۹۲)
اس امت کا ہدف اور منزل اسلام کی نگاہ میں ایک ہے لہٰذا اپنے اہداف کے حصول کے لئے امت کا اتحاد ایک دینی اصل اورعقلی ضرورت ہے،اسلام کے مایہ ناز علماء نے اسی کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا ہے اور عملی طور پر بھی کوشش کرتے رہے ہیں۔
اتحاد کا مقصد مسلمانوں کا اپنے افکار اور نظریات سے دستبردار ہو کر دوسروں کے افکار کو قبول کرنا نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا اپنی مذہبی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے،مشترکہ عقائد اور نظریات پر متحد ہونا،دشمنوں کے مقابلے میں مشترکہ مؤقف اپنانے اور ایک دوسرے کے مقدسات کا مکمل احترام کرناہے۔اختلافی موضوعات پر اپنے “مذہب کو نہ چھوڑیں اور دوسروں کے مسلک کو نہ چھیڑیں” کے اصول پر عمل پیرا ہوں یا احترام اوردلائل کے ساتھ اپنے نظریات کو دلیل، منطق اور دوسروں کے افکار کا احترام کرتے ہوئے دوستی اور بھائی چارگی کے ماحول میں گفتگو کی جانب قدم بڑھایاجائے۔
قرآن کریم نے واضح طور پر اتحاد پر زور دیا ہے!’’اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم جہنم کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں نکال لیا اور اللہ اسی طرح اپنی آیتیں بیان کرتا ہے کہ شاید تم ہدایت یافتہ بن جاؤ۔(آل عمران۔۱۰۳)
حبل اللہ سے مراد اللہ کی کتاب،رسول اکرمؐ اور دین اسلام ہے جو انسان کو خدا تک پہنچاتا ہے،جو انسان کے دلوں کو آپس میں جوڑتے ہیں اور سب کو ایک ہی آئین کا پابند بنا کر ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ عزت ،سربلندی اور سرفرازی ایسے معاشروں کے لئے ہے جہاں افراد ایک ہوں،تفرقہ اورجدائی سے پرہیز کرتے ہوں اور سینوں سے کدورتوں اور کینوں کو اکھاڑ پھینکتے ہوں۔

پیغمبر(ص)کی ایک حدیث میں تمام مسلمانوں کو جسد واحد قرار دیا گیا ہے جس کے ایک عضو کی تکلیف پورے جسم کو درد میں مبتلا کردیتی ہے ۔آپ ؐنے فرمایا کہ:
ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس کے اوپر ظلم نہیں کرتا ہے اور اسے تنہا نہیں چھوڑتا ہے جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں مشغول ہوتا ہے خدا اس کی حاجت پوری کرتا ہے اور جو کسی مسلمان کا کوئی غم دور کر دیتا ہے خداقیامت کے دن اس سے قیامت کا غم دور کر دے گا۔اور جو کسی مسلمان کو لباس پہناتا ہے خدا قیامت کے دن اس کو لباس پہنائے گا۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس کی تعلیمات کا احیا اور معاشرے میں فروغ اور ایک اسلامی معاشرے کا قیام مسلمانوں کی آپس میں ہم بستگی اور وحدت سے ہی ممکن ہے۔ 
استعمار اور اسلام دشمن عناصر کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور انتشار پھیلائے اور کبھی امت ایک نکتہ پر متحد نہ ہوجائے۔اس لئے مختلف جزوی مسائل اور اختلاف کے ذریعے مسلمانوں کو اپنے اعلیٰ اہداف اور اصلی مقصد سے دور رکھنے کی کوشش کی جس میں ایک حد تک وہ وہ کامیاب ہوئے۔
آج جب کہ ہر طرف سے اسلام دشمن طاقتیں مختلف طریقوں سے مسلمانوں کی جان، مال،عزت وآبرو کے ساتھ کھیلنے میں مشغول ہیں ، چاہے وہ اسلامی ممالک پر ناجائز قبضوں کی صورت میں ہو یا اسلام، قرآن کی توہین کے ذریعے اور مسلمانوں کے وسائل کو لوٹنے کے ذریعے۔ آج فلسطین سمیت بہت سے اسلامی ممالک دشمنوں کے چنگل میں گرفتار ہیں اور ہر قسم کی زیادتی وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ جاری ہے۔ ایسے میں امت کے درمیان اخوت،بھائی چارگی اور کفر کے خلاف متحد ہونے کے بجائے خود آپس میں دست وگریبان ہونالمحہ فکریہ ہے۔علماء اور دینی شخصیات کا امت کے درمیان،اتحاد ویکجہتی کی دعوت، صلح وصفائی اور حق وحقیقت پر مبنی دوٹوک مؤقف اپنانا بنیادی فریضہ ہے۔وحدت امت اور بھائی چارگی کی فضاء کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں،کیونکہ امت مسلمہ ایک نہایت مشکل دور سے گزر رہی ہے جہاں عالم استعمار نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ثقافتی اور عملی جنگ قائم کی ہوئی ہے.اس سے مقابلہ کے لئے واحد ہتھیار وحدتِ امت ہے۔ 
مسلمان معاشرہ میں جہاں مشترکہ نکات پر گفتگو کے ذریعے وحدت تک پہنچنے کی ضرورت ہے وہاں اختلافی مسائل پرمناظرہ سمیت مختلف  منطقی کوششوں سے نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش بھی مستحسن عمل ہے۔مگر زمانے کے تقاضوں ،معاشرے کی ذہنیت،مقام ومکان کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
فی الوقت داخلی اختلاف اور تنقید کافائدہ مسلمانوں کی کمزوری اور دشمن کے لئے فائدہ کاسبب بن رہاہے۔اس لئے قائدین کو ہوشیاری کے ساتھ اقدام اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔تاکہ امت مسلمہ اپنی توانائیوں کو امت کی سربلندی،مشترکہ دشمنوں کے عزائم کوناکام بنانے میں استعمال کرے۔اس وقت عالمی استکبار امریکہ اوراسرائیل کی شکل میں عالم اسلام کے خلاف برسر پیکار ہے۔

نوٹ: — پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں — اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.